• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سیاسی بساط پرسیاسی جمعہ اورنوازشریف کے لئے فیصلہ کن صورتحال۔۔۔ اجمل شبیر

سیاسی بساط پرسیاسی جمعہ اورنوازشریف کے لئے فیصلہ کن صورتحال۔۔۔ اجمل شبیر

ایون فیلڈ ریفرنس کیس کے فیصلے کے بعد ملکی سیاست میں بظاہرتیزی دکھائی دے رہی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ جمعہ کے دن نوازشریف اور مریم نواز وطن واپس آجاتے ہیں اور گرفتاری دے دیتے ہیں تو اس کے بعد سیاست کیا نیا موڑ اختیار کرسکتی ہے؟گرفتاری کے بعد لاہور اور پنجاب کی سڑکوں پر کیا عالم ہوگا؟کیا جمعہ کے دن مسلم لیگ ن بہت بڑی سیاسی تحریک کو جنم دے سکے گی یا کوئی بہت بڑا پاور شو کر سکے گی ؟ان تمام سوالات کے جواب تب ہی ملیں گے جب سابق وزیر اعظم نوازشریف ملک واپس آجائیں گے اور گرفتارہو جائیں گے؟

مبصرین کا تو یہ کہنا ہے کہ نوازشریف جدہ جیسی جلاوطنی اب قبول نہیں کریں گے،سیاسی ماہرین کے مطابق جب نوازشریف والد کے کہنے پر جدہ چلے گئے تھے تو اس سے وہ اور  ان کی سیاسی جماعت کمزور ہو گئی تھی ،سیاست میں وہ بہت پیچھے چلے گئے ۔اسی لئے مبصرین کہتے ہیں کہ نوازشریف اس مرتبہ ضرور وطن واپس آئیں گے اور ڈٹ کر مخالف قوتوں کا مقابلہ کریں گے ۔
مبصرین کہتے ہیں کہ اگر جمعہ کے دن نوازشریف واپس نہیں آتے ،اور مزاحمتی تحریک کا آغاز نہیں کرتے ،گھر کے عیش و آرام کو ترجیح دیتے ہیں تو پھر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سیاست سے آوٹ ہو سکتے ہیں۔اب سیاست میں اسی صورت ہی وہ اپنی سیاسی عزت بچا سکتے ہیں،اگر وہ واپس آجاتے ہیں اور مقدمات کا سامنا کرتے ہیں۔مقدمات کا سامنا کرنا اب نوازشریف کی مجبوری بھی ہے اور ضرورت بھی۔

الیکشن کے بعد جمہوریت کا جنازہ۔۔۔۔نذر حافی

نوازشریف کے وطن واپس نہ آنے کی وجہ سے مسلم لیگ ن کو الیکشن تک ہر گزرے دن کے ساتھ دھچکے لگیں گے ،پاکستانی ووٹر کی یہ نفسیات کا وہ آنے والی حکومت کے ساتھ ہوتے ہیں یا پھر ان کا ساتھ دیتے ہیں جو لیڈر مزاحمت کرتے ہیں۔وطن واپس نہ آنے  کی صورت میں مسلم لیگ ن کا ووٹر الیکشن کے دن مشکل سے پولنگ اسٹیشن پر جائے گا ۔مبصرین کہتے ہیں جیل جانے کے بعد نوازشریف ولن سے ہیرو بن سکتے ہیں اور ہمدردی کو کیش کراسکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسا نہیں ہوگا کہ نوازشریف کے جیل جاتے ہی  حالات بدل جائیں گے اور لاکھوں کا مجمع سڑکوں پر ہوگا ۔لیکن شہباز شریف نے ہمت کی تو اس صورت میں وہ ٹمپو بن سکتا ہے جس سے مسلم لیگ ن اور اس کے ووٹرز پر مایوسی کے بادل چھٹ سکتے ہیں ،لیکن ایسا ہونے میں بہت وقت بھی لگ سکتا ہے ۔

نوازشریف کے آنے سے جمہوریت کے لئے قربانی کا ایک نیا واقعہ ہوگا جس سے آئندہ کے لئے پاکستان میں جمہوریت کے ارتقائی سفر میں بہتری پیدا ہونے کی توقع ہے ۔مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ کیونکہ مسلم لیگ ن کی سپورٹر بزنس کلاس ہے ،جو کہ قربانی کے جذبے سے عاری ہوتی ہے،لیکن یہ لوگ الیکشن کے دن باہر نکلتے ہیں اور ووٹ ضرور ڈالتے ہیں۔مبصرین کے مطابق اب نواز شریف کے لئے کچھ کرکے دکھانے کا وقت آگیا ہے۔

مبصرین کا یہ بھی   کہنا ہے   کہ احتجاجی سیاست کا  ڈی این اے مسلم لیگ ن کے ڈھانچے میں کہیں نہیں ہے ،لیکن جب لیڈر اور اس کی بیٹی جیل میں ہوں گے تو بہت بڑا احتجاج ہو سکتا ہے ،لوگوں کے جذبات میں آگ سی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے اور وہ گلیوں اور گھروں سے سڑکوں پر بھی آسکتے ہیں۔نوازشریف کے پاس وطن واپس آنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔
مبصرین ان خدشات کا بھی اظہار کررہے ہیں کہ شہباز شریف زندگی بھر good coup کا کردار ادا کرتے آئے ،احتجاجی اور انقلابی سیاست کا وہ کبھی بھی حصہ نہیں رہے ،اس لئے ایسا بھی ممکن ہے کہ شہباز شریف وہ راستہ اختیار نہ کریں جو نوازشریف چاہتے ہیں؟ان دونوں کی سوچ کے حوالے سے ایک واضح خلیج ہے ۔لیکن ایک بات شہباز شریف کو یاد رکھنی چاہیے  کہ انہوں نے احتجاجی تحریک نہ چلائی تو وہ بھی سیاست سے ریٹارڈ ہوسکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کہاں ہے؟۔۔۔آصف محمود
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت تمام ادارے عمران خان کی مدد کررہے ہیں،لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ  عمران خان اور پی ٹی آئی اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے ،انہیں اب بھی یقین نہیں کہ وہ اتنی سیٹیں نکال پائیں گے ،جتنی انہیں ضرورت ہے ۔اس لئے عمران خان کی آسانی کے لئے کام کو مزید ٹھیک کیا جارہا ہے ۔کچھ قوتوں کو یہ شبہ ہے کہ پی ٹی آئی کو مطلوبہ سیٹیں نہ مل سکی تو زرداری اور نوازشریف مل کر نئی حکومت بنا سکتے ہیں ،اس لئے اب زرداری صاحب اور پاکستان پیپلز پارٹی کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جارہا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *