علماء حق اور علماء سوء

ویسے یہ دنیا یہ کائنات اور اﷲ کا سارا نظام قدرت ہی علم کا گہرا سمندر ہے۔جو جتنی طلب رکھتا ہے اﷲ اس کو اتنے ہی علم سے فیضیاب کرتا ہے۔جس نے اس دنیا کے جس علم میں محنت اور مشقت کی اس نے اس کی معراج پا لی اور وہ اپنا نام تاریخ میں اچھے یا برے لفظوں میں درج کروا گیا۔مغربی اقوام نے علم کو مادیت اور اس کی تحقیق کا جز سمجھا اور وہ دنیاوی علوم میں یکتاء روزگار ہو کر دنیا میں عزت اور قدرومنزلت کے مزے لوٹنے لگے کہ اﷲ کے ہاں کافر یا غیر مسلم کی جنت یہ ہی دنیا ہے۔جبکہ مسلمان کی جنت توا ﷲ نے الگ مزین کی ہے۔مسلمان کو اﷲ نے دنیاوی علوم کا راستہ تو دیا مگر انبیاء بلخصوص آخری نبی صلﷲ علیہ والہ وسلم اور ان کے صحابہ و تبع تعبین کی روش اور الہامی علم کی دولت سے بھی نوازا،لیکن علم کی کمی جس طرح انسان کو عمل سے روکتی ہے اور وہ کم علمی کی وجہ درست فعل انجام نہیں دے پاتا اسی طرح علم کی زیادتی بھی انسان سے عمل چھین لیتی ہے اور پیچھے فقط رہ جاتی ہے پر مغز تحقیق اور مناظروں کی محفلیں۔

کم علم انسان, علم نہ ہو تو خاموشی اختیار کرلیتا ہے اگر وہ عقل مند ہو تو،اور اگر عقل سے بھی عاری ہو تو کم علم و کم عقل انسان کی زبان فتنوں کو جنم دیتی ہے خواہ وہ بات علوم دینیا سے متعلق ہو یا علم دنیا کے متعلق۔لیکن کیا وہ عقل مند لوگ جو علم حاصل کرکے اور بڑے بڑے القابات کو اپنے ناموں کے ساتھ جوڑ کر معاشرے میں روحانیت و مذہب کے ٹھیکیدار بن کر عمل سے کوسوں دور صرف بحث مباحثے,تفرقہ بازی, ریاکاری, مناظروں اور تقریر و واعظ کی فصل بو کر دنیا اور دین کو کوئی مثبت پیغام دے رہے ہیں،کیا وہ ہر بات ہر سزا سے مستثنی ٰ ہیں جو فتوؤں کی فیکٹری وہ دوسروں پر تھوپ کر دن رات چلا رہے ہیں۔کیا ہیں وہ پیرا میٹرز جو علماء حق اور علماء سوء میں واضح فرق کی لکیر کھینچ کر دونوں کو الگ کرتے ہیں۔

جہاں تک میرے ناقص علم کی بات ہے تو مجھے تحقیق و تفتیش سے جو باتیں معلوم ہوئیں ا ن کی روشنی میں علماء حق کا کردار اجلا و صاف ہوگا۔اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات سے متصادم کوئی بات نہ کرتے ہوں گے اور نہ کسی ایسی تعلیمات کی تائید و تقلید کرتے ہوں گے۔اپنے علم پر کوئی تفاخر کوئی غرور نہیں کریں گے بلکہ اﷲ کے بندوں میں عاجز اور متقی انسان ہوں گے۔فتنہ و فساد کو مٹانے والے علم کی ترویج و تبلیغ کا سہارہ لیں گے۔وہ تفرقہ بازی اور ریاکاری سے کوسوں دور رہنے والے لوگ ہوں گے۔اہل شرک و اہل بدعہ کی تردید و اصلاح کرنے والے ہوں گے۔دین اور دنیا کے علوم میں مسابقت ختم کرکے معتدل راستہ دکھانے والے ہوں گے۔سچائی اور علم سے محبت ان کا شیوہ ہوگا،عوام کو وہ ہی بات بتائیں گے جو الہامی و دنیاوی طور پر مستند ہوگی۔حسن اخلاق میں بہترین ہوں گے۔گفتار اور کردار دونوں کے غازی ہوں گے۔انسانیت کی قدر کرنے والے ہوں گے اور مجسم اس آیت کا چہرہ ہوں گے کہ۔۔
“جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا” (مفہوم آیت)۔

جہاد و قتال فی سبیل ﷲ اور فساد فی الدنیا کا فرق دین کی دلیلوں سے باور کروانے والے ہوں گے۔اِن کی دوستیوں اور دشمنیوں کا میعار اﷲ اور اس کے رسولﷺ سے منسلک ہوگا۔جو اُن کا دشمن خواہ علمی یا عملی طور پر وہ اِن کا بھی دشمن اور جواُن کا دوست خواہ علمی یا عملی طور پر وہ اِن کا بھی دوست ہوگا۔الغرض علماء حق کا کردار ہی ان کے علم و عمل کی گواہی ہوگا اور ان کی ذات سے پھوٹتا امن و آشتی کا دریا ہی معاشرے کو ان کی پہچان کروانے کو کافی ہوگا۔جنت کی بشارتیں اورا ﷲ و رسول ﷺ کی محبتیں ایسے علماء حق کا مقدر ہیں ا ﷲ کے ہاں ، لیکن علماء سوء کی بات کریں تو وہ علماء حق کا بالکل الٹ چہرہ پیش کرتے ہوئے نظر آئیں گے دنیا میں۔

وہ علم تو خوب خوب رکھتے ہوں گے مگر عمل سے عاری فقط گفتار کے غازی ہوں گے۔ا ن کی ذات بذات خود ایک چلتا پھرتا فتنہ ہوگی۔تفرقہ بازی اور بدعات و اختراعات کے دھنی عالم ہوں گے۔فساد اور جہاد کا فرق نہیں جانتے ہوں گے۔الغرض اوپر بیان کردہ علماء حق والی ایک خوبی کے بھی مالک نہیں ہوں گے۔اور ان کی دنیا میں ان حرکتوں پر نبیﷺ کی طرف سے بیان کی گئی آخرت کی وعیدیں بھی بہت سخت ہیں۔یہاں چند ایک بیان کر رہا ہوں تاکہ آپ قارئین علماء حق اور علماء سوء کے مابین فرق اور ان کے کردار کو سمجھ لیں۔
(حدیث)حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا:
تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحَزَنِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جُبُّ الْحَزَنِ قَالَ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَدْخُلُهُ قَالَ الْقُرَّاءُ الْمُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ(ترمذی،باب ماجاء فی الریاء والسمعۃ،حدیث نمبر۲۳۰۵)
(ترجمہ)اﷲ تعالی سے جُبّ الْحزن سے پناہ طلب کرو ـــ صحابہ کرامؓ نے پوچھا جُبّ الْحزن کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:جہنم کی ایک وادی ہے جس سے روزانہ سو مرتبہ خود جہنم پناہ مانگتی ہے،صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول ا ﷲﷺ اس میں کون جائیں گے؟ فرمایا اپنے عملوں کی ریا اورنمود کرنے والے قاری جائیں گے۔
عمران القصیر کہتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جہنم میں ایک وادی ہے جس سے خود جہنم روزانہ چار سو بار پناہ مانگتی ہے اس خوف سے کہ اسے اس میں نہ ڈال دیا جائے کہ وہ اسے کھاجائے،یہ وادی ا ﷲ نے ریاکاروں کے لئے تیار فرمائی ہے۔(کتاب الزھد امام احمد)
حضرت معروف کرخی فرماتے ہیں کہ حضرت بکر بن خنیس نے فرمایا جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم روزانہ سات سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے پھر اس وادی میں ایک کنواں ہے(جب الحزن)اس سے یہ وادی اورجہنم روزانہ سات سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے پھر اس کنویں میں ایک سانپ ہے جس سے یہ وادی،جہنم اور وہ کنواں پناہ مانگتے ہیں اس میں سب سے پہلے نافرمان قاریوں کو ڈالا جائے گا تو وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار بت پرستوں سے بھی پہلے ہمیں اس میں ڈالا جارہا ہے؟ تو انہیں کہا جائے گا عالم جاہل کے برابر نہیں ہے۔(مراد ان قراء سے وہ علماء اورقراء ہیں جو دین کا علم رکھنے کے باوجود خدا کے نافرمان ہوں گے اور علم کو دنیا کے کمانے کا ذریعہ بنایا ہوگا اورظالم حکمرانوں کی حمایت کرتے اوران سے حاجتیں مانگتے ہوں گے)

(فائدہ) مذکورہ روایات میں جہنم کی وادی جب الحزن میں سو مرتبہ چار سو مرتبہ یا سات سو مرتبہ پناہ مانگنا آیا ہے اس اختلاف میں موافقت کی صورت یہ ہے کہ دوزخ کا جو درجہ جب الحزن کے قریب ہے وہ اس سے سات سو مرتبہ اور جو دور ہے وہ چار سو مرتبہ اور جو بہت دور ہے اورجہنم کے سخت ترین گرم طبقات سے نہیں ہے وہ سو مرتبہ پناہ مانگتا ہے کیونکہ کم گرم طبقہ میں آگ کا اضافہ زیادہ ہوگا تو گرمی کی تکلیف بھی بڑھ جائے گی۔(وﷲ اعلم)
حضرت کعب رض نے فرمایا جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں بہت سے تنور ہیں اور وہ اس طرح تنگ ہیں جیسا نیزہ کو زمین میں گاڑنے سے نیزہ تنگ ہوجاتا ہے اس کا نام جب الحزن ہے دوزخیوں کو ان کے اعمال کے حساب سے اس میں ڈالا جائے گا اس کے بعد انہیں بند کردیا جائے گا۔(ابن ابی حاتم)
(حدیث)بلال بن ابی بردہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جہنم میں ایک کنواں ہے جس کا نام جب الحزن ہے متکبروں کو پکڑا جائے گا اورآگ کے بنے لوہے کے تابوتوں میں ڈالا جائے گا پھر ان تابوتوں کو اس کنویں میں پھینک کر اوپر سے جہنم کو ملادیا جائے گا۔ (مسند احمدوغیرہ،التخویف:۸۹)

یہ احادیث دونوں طرح کے علماء سوء مطلب دنیاوی علوم اور دینیاوی علوم کے علماء پر ثبت ہوتی ہے۔علم کا فتنہ اس کا غرور ہے۔جس کسی کا علم عملی ہوگا اور وہ غرور وتفاخر سے پاک ہوگا وہ جنت کا حقدار ہوگا بصورت دیگر انجام جہنم کا وہ خانہ ہوگا جس سے جہنم کے دیگر حلقے تک اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں۔اﷲ ہمیں علماء حق کی صحبت سے نوازے جبکہ علماء سوء کی صحبت سے محفوظ رکھے۔
استغفر ﷲ ربّ من کـُــلِّ ذَنْبٍ واَ تُوبُ اِلیہ
اللّھمہ اَجِرنا مِنّ النّار یا مُجیـــــرُ یا مُجیــــرُ یا مُجیــــــ !!

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *