استدراک

روزہ ترک کرنے کے شرعی اعذار پر علامہ جاوید غامدی اور بعض دیگر اہل علم کے تازہ موقف کا شرعی جائزہ!

چند روز قبل مذکورہ بالا موضوع پر ایک پوسٹ لکھی تھی . اس حوالے سے چند معروضات اور پیش کرنی تھیں۔
میں نے اس پوسٹ میں جب یہ لکھا کہ فقہا قیاساً حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو مریض کے حکم میں داخل کرتے ہیں اور انہیں بھی روزہ قضا کرنے کی رخصت دیتے ہیں تو میرے پیش ِ نظر یہ بات بار بار رہی کہ بظاہر یہ بات درست نہیں لگتی کیونکہ روزہ کی فرضیت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو سال صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما رہے تو ایسا کیونکر ممکن ہے کہ آپ کا خیال اس جانب نہ گیا ہو اور آپ نے اس بارے میں کچھ ارشاد نہ فرمایا ہو لیکن جب کتب فقہ کو دیکھا تو صاحب ِ ہدایہ و دیگر فقہائے کرام نے جہاں حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کیلئے روزہ قضا کرنے کی رخصت کا ذکر فرمایا وہاں کسی حدیث شریف کا تذکرہ نہ فرمایا ، جس سے ذہن اس طرف گیا کہ یہ معاملہ قیاسی ہو گا ۔

اس کے علاوہ کچھ اہل علم کی تحریریں بھی نظر سے گذریں جن میں انہوں نے بھی یہی تصریح کی تھی کہ فقہا نے ایسا قیاساً کیا ہے , لہذا یہی بات میں نے بھی بیان کر دی لیکن قلبی اطمینان نہ حاصل ہو سکا اور آج پھر جستجو جاری رکھی . چنانچہ بالآخر ایک حدیث شریف مل گئی جس میں صراحت موجود ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاملہ اور روزہ دار خواتین کو رخصت فرمائی کہ وہ روزہ قضا کر سکتی ہیں. یہ حدیث شریف صحاح میں سے ابو داوُد , ابن ِ ماجہ , ترمذی اور نسائی میں معمولی الفاظ کے تغیر سے موجود ہے اور محدثین نے اس پر صحت کا حکم لگایا ہے .
“ان اللہ وضع عن المسافر شطر الصلوة و الصوم عن المسافر و عن المرضع و الحبلیٰ ”
ترجمہ . اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز ساقط کر دی ہے اور اسے روزہ چھوڑنے کی اجازت بھی دے دی ہے . اسی طرح دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو بھی روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے .

اس روایت کے یہاں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو دی گئی روزہ قضا کرنے کی رخصت کو منصوص سمجھا جائے گا نہ کہ قیاساً . جن جن صاحبان علم نے ایسا لکھا وہ بھی اصلاح فرما لیں . دوسرا اہم معاملہ یہ ہے کہ اس روایت بیان کرنے سے قیاساً رخصت دینے کا دائرہ محدود نہیں بلکہ وسیع ہو جاتا ہے لہذا شراکت علت کی بنیاد پر بعض صورتوں کو منصوص رخصت کی مختلف صورتوں پر قیاس کیا جا سکتا ہے . بالفاظ دیگر میں نے جو منصوص رخصت پر قیاس کرنے کی بات کی تھی اس میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا کیونکہ بھٹہ خشت اور فرنس کے مزدور نانبائی اور لوہار وغیرہ کو فقہا نے روزہ قضا کرنے کی رخصت قیاساً ہی دی ہے .

دوسری اہم بات یہ ہے کہ الدکتور سید بن حسین العفانی کی تالیف فقہ الصوم کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک استفتا اور فتویٰ نظر سے گذرا جو ہمارے موضوع سے براہ راست متعلق ہے اور اس سے ہماری رائے کی تائید ہوتی ہے . اسے کتاب کی جلد سوم کے صفحہ 1000 پر دیکھا جا سکتا ہے جسے مولف نے”الافطار من اجل الامتحانات ہل یجوز” کے عنوان سے لکھا ہے , یعنی کیا امتحانات کے وقت روزہ ترک کرنا جائز ہے . لہذا سوچا کہ وہ بھی نذر ِ قارئین کر دوں . یہ استفتا سعودی علما کی کمیٹی لجنة الدائمہ یعنی دائمی فتویٰ کمیٹی کے سامنے رکھا گیا اور اس کا جواب بھی اسی کمیٹی نے دیا .استفتا میں مستفتیہ نے سوال کیا کہ۔۔۔
“میں ایک خاتون ہوں مجھے رمضان کے مہینے میں چھ دن اوقات نے روزہ چھوڑنے پر مجبور کیا کیونکہ ان دنوں میرے امتحانات کا وقت تھا جو ماہ رمضان میں ہی شروع ہوئے تھے اور نصاب بڑا مشکل تھا اگر میں ان دنوں میں روزہ نہ چھوڑتی تو میرے لئے مشقت کی وجہ سے اس امتحان کی تیاری ممکن نہ تھی . میں امید کرتی ہوں کہ آپ میری راہنمائی کریں گے کہ میں اس حوالے سے کیا کروں کہ اللہ مجھے معاف کر دیں ؟”
اب فتویٰ پڑھ لیجئے۔۔۔۔۔

اولاً کسی شئے کی اوقات کی طرف نسبت کرنا خطا ہے ۔ بہتر یہ ہے کہ ایسا کہا جائے کہ میں مجبور تھی . ثانیاً رمضان میں امتحانات کے سبب روزہ چھوڑنا بھی خطا ہے اور جائز نہیں کیونکہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ رات کو تیاری کر لی جائے اور اس کے لئے روزہ چھوڑنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ اب وہ اللہ سے توبہ کرے اور اس پر ان روزوں کی قضا ہے کیونکہ وہ تاویل کرنے والی ہے نہ کہ کاہلی کے سبب روزہ چھوڑنے والی ہے .تیسری اہم بات یہ ہے کہ گرمی کی شدت کو بنیاد بنا کر رمضان کے روزے ترک کرنے اور ان کی جگہ سہولت کے دیگر ایام سے قضا کرنے کے حوالے سے یہود و نصاریٰ کے احبار و رہبان کے طرز عمل سے متعلق ایک روایت بھی نظر سے گذری جو حضرت حسن بصری سے مروی ہے . اس روایت کو امام رازی علیہ الرحمہ نے” یا ایھا الذین آمنو کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین منکم” کے تحت تفسیر کبیر میں بیان کیا ہے اور امام حسن بصری نے نصاریٰ کی طرف سے یہ تبدیلی اور تحریف ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ رب العزت کے اس( درج ذیل ) ارشاد کا یہی مطلب ہے ۔
“اِتَّخَذُوٓا اَحْبَارَهُـمْ وَرُهْبَانَـهُـمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّـٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَـمَۚ وَمَآ اُمِرُوٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوٓا اِلٰـهًا وَّاحِدًا ۖ لَّا اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهٝ عَمَّا يُشْرِكُـوْنَ (31)”
ترجمہ۔انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو اللہ کے سوا خدا بنا لیا ہے اور مسیح مریم کے بیٹے کو بھی، حالانکہ انہیں حکم یہی ہوا تھا کہ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے!

چنانچہ سوچا کہ وہ روایت بھی آپ کے سامنے رکھ دوں کہ اس میں کئی اسباق ہیں .
ترجمہ ۔ نصاریٰ پہلے ( اصل شریعت کے مطابق ) رمضان کے مہینے میں روزے رکھتے تھے ۔ پھر ایک دفعہ رمضان شدید گرمی میں آیا تو انہوں نے روزوں کو ایسے وقت میں رکھنا شروع کر دیا جب موسم معتدل تھا ۔ ( یعنی انہوں نے قمری مہینے رمضان کی بجائے معتدل شمسی مہینے کا انتخاب کر لیا ) ۔ پھر یہ تبدیلی کرتے وقت انہوں نے اللہ کی شریعت میں تغیر پیدا کرنے کی تلافی کے طور پر دس روزوں کا اضافہ کر لیا اور یوں انہوں نے چالیس روزے رکھنے شروع کر دئیے ۔ پھر ان کا ایک بادشاہ شدید بیمار ہوا تو انہوں نے سات روزوں کی نذر مانی اور یوں انہوں نے سات روزوں کا مزید اضافہ کر دیا ۔ پھر ایک اور بادشاہ آیا اور اس نے کہا باقی تین کو کیوں چھوڑ رکھا ہے . اس طرح ان کے پچاس روزے مکمل ہوئے ۔

اس روایت سے پہلا سبق یہ ملتا ہے کہ گرمی کے روزوں کو شدت موسم کی وجہ سے قضا کرنے کا طریقہ یہود و نصاریٰ نے اختیار کیا تھا , یہ اہل ِ اسلام کا طریقہ نہیں ہے . پھر انہوں نے ان کی قضا کیلئے معتدل موسم کا انتخاب کر لیا . پھر وہ وحی الہی کے خلاف اپنے تئیں ان کی تعداد بڑھاتے رہے , پھر منت کے روزے بھی شامل کرتے رہے , حتیٰ کہ ا ن کی تعداد پچاس تک لے گئے .دوسرا یہ کہ اللہ رب العزت نے روزوں کی عبادت کو قمری مہینے سے جوڑا ہے نہ کہ شمسی کیلنڈر سے تاکہ روزے ہر موسم میں آتے رہیں . یہ اس کی رحمت ہے اور یہ سابقہ شرائع کیلئے بھی تھی . سوچئے کہ اگر وہ روزوں کیلئے شمسی مہینہ مقرر کر دیتا اور وہ بھی جون یا جولائی کا تو اس کے آگے کسی کا زور تھا بھلا ؟ پھر تو پوری زندگی گرمیوں کے روزے ہی رکھنے پڑتے یا یہود و نصاریٰ کے احبار و رہبان کی پیروی کرتے ہوئے ہمارے مجتہدین بھی ایسے اجتہادات کرتے کہ روزوں کو دسمبر میں رکھ لیتے ہیں اور اللہ کو بزعم خویش خوش کرنے کیلئے جنوری کے دس روزے اضافی طور پر شامل کر لیتے ہیں ۔

تیسرا اہم سبق یہ ملتا ہے کہ ہمیں حضور ﷺ نے یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیا ہے ۔ جب حضور ﷺ کو صحابہ ُ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے یہ بتایا کہ عاشورہ کا روزہ یہود و نصاریٰ بھی رکھتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ آئندہ سال آپ یوم عاشور سے ایک روز قبل یا بعد بھی روزہ رکھ لینا ۔ یہ تو نفلی روزے کا معاملہ ہے کہ اس میں بھی یہود و نصاریٰ کی مطابقت سے بچنے اور مخالفت اختیار کرنے کا حکم دیا اور یہ کتنی بد قسمتی کی بات ہو گی اگر ہم ان کے احبار و رہبان کی پیروی کرتے ہوئے گرمی کے شدید موسم میں روزے ترک کرنے کیلئے انہی سے ملتا جلتا طریقہ اختیار کرنے کا سوچنے لگیں جس کی مذمت صراحتاً قرآن حکیم میں وارد ہوئی ہے ۔ ۔چوتھا سبق ان حضرات کیلئے ہے جو شریعت کی تصریحات کے بر عکس اجتہاد کرنے والے مجتہدین کی پیروی کرتے ہیں کیونکہ ان کے اس عمل کو اللہ رب العزت نے احبار و رہبان کو اپنا رب بنانا قرار دیا ہے ۔

Avatar
محمدخلیل الرحمن
بندہ دین کا ایک طالب علم ہے اور اسی حیثیت میں کچھ نہ کچھ لکھتا پڑھتا رہتا رہا ہے ۔ ایک ماہنامہ کا مدیر اعلیٰ ہے جس کا نام سوئے حجاز ہے ۔ یہ گذشتہ بائیس سال سے لاہور سے شائع ہو رہا ہے ۔ جامعہ اسلامیہ لاہور کا ناظم اعلیٰ ہے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا ممبر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *