خوشحال زندگی کے لئے چھ باتوں میں عدمِ شراکت

خوشحال زندگی کے لئے چھ باتوں میں عدمِ شراکت
اسامہ نور میمن
حدیث شریف میں آتا ہے ((( مَنْ صَمَتَ نَجَا ))) جس نے خاموشی اختیار کی اس نے نجات پائی.
“بیشک خاموش رہنے والی زبان سینکڑوں زبانوں سے بہتر ہے”زبان تالے کی مانند ہے اور جب تالا کھلتا ہے تو لگ پتہ جاتا ہے کہ دکان سونے کی ہے یا کوئلے کی۔خوشحال زندگی کے لئے چھ باتوں میں عدمِ شراکت؟ یہ کیسا موضوع ہے..؟ ایسی بهی کونسی چھ باتیں ہیں..؟؟ جی ہاں یہی موضوع ہے اور ان (چھ باتوں) تک إیصال کے لیے مختصر سی تمہید ملاحظہ کیجیے –
دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں، کچھ متکلمین تو کچھ سامعین.
متکلمین کے دو گروہ ہیں: ایک گروہ ایسے متکلمین پر مشتمل ہے جو کلام میں مہارت کے ساتھ ساتھ فہم و فراست بهی رکهتے ہیں اور اپنے فوائد اور نقصانات کے متعلق خوب واقفیت بهی – جبکہ دوسرے گروہ کا تعلق ایسے لوگوں سے ہے جو بولنا تو جانتے ہیں پر تولنا نہیں، فن نطق میں تو لا ثانی ہوتے ہیں مگر انکی فہم و فراست حد بلوغ کو نہ پہنچنے کہ وجہ سے ہر بات ہرکس و ناکس کے سامنے بول کر زندگی کی حقیقت کهلی کتاب کی طرح رکھ دیتے ہیں جسکے نتیجے میں لوگوں کو اپنے ویک پوائنٹس (کمزوریوں) سے آشکار کردیتے ہیں –
سماعی صفات کے حامل لوگوں میں بعض ایسے شریرُ الطّبع لوگ ہوتے ہیں جو اسی کارِ شر پر پرمامور ہوتے ہیں کہ ایسے متکلمین کو پائیں اور پهر انکو کهائیں، چنانچہ ایسے نادانوں کو پاکر شکار کرنے میں چوکتے نہیں، یعنی بزبان عرف “ٹوپی پہنا ہی دیتے ہیں”
ایسے نادان متکلمین اگر ایسے فریبیوں سے خلاصی چاہتے ہیں اور خوش و خرم زندگی چاہتے ہیں تو زبان کو لگام دیں کیونکہ “ثیر گو وہی شخص ہوتا ہے جس کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا”پهر بهی اگر آپ کے حق میں خاموشی محال ہے تو درج ذیل چھ باتوں میں کسی کو اپنا شریک نہ بنائیں –
* اپنے تیار کردہ منصوبوں اور اہداف میں کسی کو شریک نہ بنائیں، کچھ کرنے کا جذبہ ہو تو تکمیل کے منتظِر رہیں. کام مکمل ہوجانے کے بعد بتائیں ۔
* اپنے لائف اسٹائل کے بارے میں کسی کو نہ بتائیں، محدود روابط نسبتاً تشہیر طرز زندگی زیادہ بہتر ہے -اپنی محنت اور کامیابی کا دوسرے کے سامنے بول بالا نہ کریں اپنی حد تک محدود رکهیں –
* اپنی قابلیت کا بلاضرورت اظہار نہ کریں ورنہ وقتاً فوقتاً آپکی قابلیت بے وقعت ہوتی چلی جائے گی- جہاں ضرورت ہو وہاں اظہار سے دریغ بهی نہ کریں –
* گهریلو مسائل میں غیر متعلقہ افراد کو شریک نہ کریں. کوئی مسئلہ درپیش ہو تو متعلقہ افراد باہمی اتفاق و مشورے سے حل نکال لیں –
* کسی شخص کی غیر ضروری باتیں اور عیوب معلوم ہوں تو انکو اپنی حد تک محدود رکهیں. لوگوں کے سامنے اشاعت کرتے نہ پهریں. پردہ پوشی کریں – کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے ((جس نے اپنے مسلمان بهائی کی پردہ پوشی کی اللہ قیامت کے روز اسکی پردہ پوشئ فرمائے گا))
عمل کرنے سے سدھار آتا ہے.. عمل کریں اور اثر دیکھیں علامہ اقبال کیا خوب کہہ گئے:

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

Avatar
اسامہ نور میمن
ابن السبیل

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *