ایران و سعود؛ بحران زدگان کا پاگل پن

گذشتہ دنوں خودکش بمباروں نے ایرانی پارلیمنٹ اور اسلامی جمہوریہ کے بانی آیت اللہ خمینی کے مزار پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں بارہ افراد قتل ہو گئے۔ داعش نے ذمہ داری قبول کی۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے سعودی عرب اور امریکہ پہ حملوں کے پیچھے ہونے کا الزام لگایا. پاسداران نے ایک بیان میں کہا کہ “علاقے کی رجعتی قوتوں کے ساتھ امریکی صدر کی ملاقات کے ایک ہفتے بعد ہی ہونے والے اِس حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہی لوگ اِس حملے کے پیچھے ہیں”۔ جبکہ امریکہ اور سعودی عرب نے اِس واقعے کی مذمت کی ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ “مجھے ایرانی مقتولین کا افسوس ہے مگر یہ وہی گڑھا ہے جس کو ایرانی ریاست نے خود کھودا تھا”۔
اِن دہشت گردانہ حملوں کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔ ایران کے امریکہ اور سعودی عرب پہ لگائے گئے الزام کی حقیقت کچھ بھی مگر ایران کی امریکہ، سعودی عرب اور علاقے کی دوسری سنی بادشاہتوں کے ساتھ کشیدگی کو ہوا ملے گی۔ خمینی کے دربار پہ حملے کا مطلب ہے کہ شیعہ ایران کے دل پہ حملہ کیا گیا ہے۔ خمینی ایرانیوں کے دل میں بستے ہیں جبکہ سالانہ لاکھوں لوگ خمینی کی محبت میں اِس جگہ پہ حاضری دیتے ہیں جہاں دھماکہ کیا گیا ہے۔
اگر ایران کے ماضی کو دیکھا جائے تو اِن حملوں کا سفاکانہ ردِعمل بہت جلد دیکھنے کو ملے گا۔ پانچوں حملہ آوروں کا قتل ہو جانا ایرانیوں کا غصہ ٹھنڈا نہیں کرے گا۔ بلکہ مستقبل میں ایسے حملے روکنے کیلیے ایرانی اپنے تئیں بہت سفاکی کا مظاہرہ کریں گے۔ ایرانی حکام خاص طور پہ پاسداران اپنا ردعمل خارجی پالیسی تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ اعتدال پسند طبقہ خاص طور پر اصلاح پسند طبقہ بھی پابندیوں کا شکار ہو گا۔ پاسداران ،آزادی اظہارِ رائے کو کچلنے کیلیے اِس حملے کو بطور بہانہ استعمال کریں گے۔
بلاشبہ آلِ سعود اور ایران ایک دوسرے کے سخت گیر حریف ہیں۔ امریکہ چونکہ آلِ سعود کا یار ہے، اِس لیے امریکہ ہمیشہ سعودی عرب کا ساتھ دیتا ہے۔ عراق اور شام میں ایران اور آلِ سعود ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ آلِ سعود مقدس مقامات کے نام پہ سادہ لوح مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں مگر حقیقت میں آلِ سعود حرمین شریفین کو ایک کاروبار کے سوا کچھ بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی ایرانی ملائیت اپنے اقتدار کیلیے اسلام اور حسینیت کے نام پہ ایرانیوں کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔
آلِ سعود دنیا بھر میں چند امیر ترین خاندانوں میں سے ایک ہے۔ اِس خاندان کی مجموعی دولت 1.5 ٹریلین امریکی ڈالر ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال اور امیر ترین بادشاہت والے سعودی عرب کی ایک چوتھائی آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ مشہور سعودی سکالر رضی بشیر کے مطابق “حکمران ،سعودی شہریوں کی غربت کو چھپانے میں ماہر ہیں، اشرافیہ کو عوام کی غربت سے کچھ سروکار نہیں ہے۔ جبکہ عوام بھوک سے نڈھال ہے”۔ انسانی آزادی کی مخدوش صورتحال ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ یونینز اور احتجاج کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ بدترین اور گھٹیا طرز کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ سیاسی مخالفت یا سعود خاندان سے اختلاف کا مطلب موت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
ایران میں کارخانے مسلسل مکمل بندش کا شکار ہیں۔ ریاست ورکروں کو اجرتیں ادا نہ کرنے کو معمول بنا چکی ہے۔ لوگ چاول اور روٹی پر گزارا کر رہے ہیں کیونکہ گوشت عوام کی دسترس سے باہر ہے۔ تہران میں گوشت 30 ڈالر فی کلو ہو چکا ہے۔ گزشتہ دو ماہ میں روٹی کی قیمت میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور چاول کی قیمت 5 ڈالر فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ گیلپ سروے کے مطابق 48 فیصد ایرانی ایسے ہیں جو سال میں ایسے دن بھی دیکھتے ہیں کہ اُن کے پاس کھانے کیلیے کچھ بھی نہیں ہوتا ہے۔ انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے کی حالت بھی مخدوش ہے۔
سعودی عرب میں بیروزگاری کی شرح 29 فیصد اور ایران میں بےروزگاری کی شرح 18 فیصد ہے مگر دونوں ممالک اپنے ہی ملک سے باہر بڑی پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں۔ عوام کو روزگار دینے کے پیسے نہیں ہیں مگر جنگ لڑنے کے ہیں۔ دونوں ممالک کے اسلحے اور فوجی اخراجات دن بہ دن بڑھ رہے ہیں۔
عام شیعہ اور عام سنی میں کوئی نفرت کوئی بغض نہیں ہے۔ اگر کہیں ہے بھی تو ریاستوں کا پیدا کردہ ہے تاکہ اُن کو اپنی حکومت کا جواز ملتا رہے۔ پہلے جنگوں کے لیے اسلحہ بنایا جاتا تھا جبکہ آج اسلحہ بیچنے کیلیے جنگیں کروائی جاتی ہیں۔ یہ جنگیں نہ مذہبی بنیاد رکھتی ہیں نہ ہی کوئی مسلکی، بلکہ یہ سرمائے کی جنگیں ہیں۔ ایک سبزی فروش کی خواہش ہو گی کہ تمام لوگ انڈے، دال اور گوشت ترک کرکے صرف سبزیاں کھانا شروع کر دیں۔ ایسے ہی دنیا بھر میں اسلحہ سازوں کی کوشش ہے کہ جنگیں چلتی رہیں اور اُن کا اسلحہ بکتا رہے۔ بہانے کیلیے شیعہ سنی وغیرہ جیسا ڈرامہ رچایا جاتا ہے اور عوام ایک دوسرے کو جانے بغیر نفرت کرتے رہتے ہیں۔
شام کی حالت سب کے سامنے ہے۔ لاکھوں قتل، معذور اور بےگھر ہو چکے ہیں مگر کسی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ آخر یہ اشرافیہ عوام کو کس بنیاد پہ مروا رہی ہے؟ اللہ رسول اور اہل بیت کے نام لیوا قاتل بنے پھر رہے ہیں۔بیرونی جنگیں درحقیقت داخلی سیاست کا ہی تسلسل ہوتی ہیں۔ دونوں حریف ممالک کی اشرافیہ اپنے اپنے سماج میں حمایت کھو چکے ہیں۔ بیشک دونوں اپنے اپنے ممالک میں بظاہر مضبوط دکھائی دیتے ہیں مگر اندر سے کمزور اور خوف زدہ ہیں۔ دونوں ممالک میں عوامی تحریکوں نے جنم لیا مگر ناکام ہو گئیں بلکہ اُن کو کچل دیا گیا۔ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک؟
دونوں ملکوں کی اشرافیہ کے پاس عوام کو دینے کیلیے کچھ بھی نہیں ہے۔ مزید جنگیں بھڑکا کر دونوں اپنا اپنا چمن بچانا چاہتے ہیں مگر تاریخ ایسے ایسے انقلابات کے نام یاد رکھے ہوئے ہے جن کا آغاز جنگ سے ہی ہوا تھا۔ ایران، سعودی عرب، مصر، ترکی اور مشرق وسطیٰ کا مستقبل عوام کے ہاتھ میں ہے۔ عوام کو اٹھنا ہو گا۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *