آئن سٹائین اور جنگل کا بادشاہ

آئن سٹائین نے فرمایا، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچےذہین ہوں تو انہیں کہانیاں سنائیے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے مزیدذہین ہوں تو مزید کہانیاں سنائی جائیں۔ فکشن کے ان فوائد سے میں واقف نہ تھا۔ لہذا میرے بچوں کے لیے چند کہانیاں۔۔۔

کہانی1۔ ایک سرد رات ، ایک بدُو اپنے خیمے میں آرام کر رہا تھا۔ باہر سے اس کے اونٹ نے خیمے کے اندر تھوتھنی گھسائی اور پوچھا کہ مالک، اگر اجازت ہو تو اپنا منہ اور گردن خیمے کے اندر کر لوں؟ باہر ریگستانی رات کی ٹھنڈ سے جان نکلی جاتی ہے۔ بدُو نے اجازت دے دی۔ کچھ دیر بعد اونٹ نے دوبارہ پوچھا کہ حضور، اگر تکلیف نہ ہو تو محض اگلی ٹانگیں بھی خیمے کے اندر کر لوں؟ بدُو مان گیا ۔چند لمحوں بعد اونٹ نے عرض کی کہ جناب، اس طرح مجھے سرد گرم ہونے کا خطرہ ہے۔ کرم فرمائیں کہ میں مکمل ہی اندر آجاؤں۔ بدُو نے کہا، ٹھیک ہے۔ یہ سننا تھا کہ اس دروازے سے اونٹ مکمل اندر اور بدُو خیمے سے باہر۔ یوں اونٹ آرام سے خیمے کے اندر سویا اور بدُو نے بقیہ رات اس قصہ پر غور کیا۔

کہانی2۔ ایک شیر بوڑھا ہوجانے کی وجہ سے شکار کرنے کے قابل نہ رہا۔ اس نے اپنی بیماری کی افواہ پھیلا دی۔ جو بھی جانور حال احوال پوچھنے آتا، شیر اس کو وہیں اپنی غار میں کھا لیتا۔ ایک دن لومڑ بھی بیمار شیر کاحال جاننے آیا تو غار کے باہر سے ہی سلام دعا لینی چاہی۔ شیر نے کہا بھائی، اندر تو آؤ۔ لومڑ بولا، بادشاہ سلامت، کیا کروں۔ مجھ سے پہلے آنے والے تیمارداروں کے کُھر وں کے نشان اندر تو جاتے نظر آتے ہیں، لیکن واپسی کا کوئی نشان نہیں۔ لہذا، مجھے یہیں سے واپسی کی اجازت! یہ کہہ کر لومڑ واپس آگیا اور شیر نے بیٹھ کر اس جواب پر غور کیا۔

کہانی3۔ وہی پچھلی کہانی والے شیر کا راز فاش ہوگیا اور جانوروں نے غار میں آنا چھوڑ دیا۔ مجبوراً اس نے ایک لومڑ اور ایک گیڈر کو ساتھ ملایاکہ وہ شکار کو گھیر کر، ہانک کر شیر کی غار تک لے آئیں۔ شیر دوڑنے کے قابل نہ سہی، شکار کو مار تو سکتا ہی ہے۔ پھر مل بانٹ کے کھا لیں گے۔ سو، لومڑ اور گیڈر نے ایک بیل کو کسی طرح ڈرا، بھگا کر غار تک پہنچا دیا اور شیر نے اپنا کام کر دکھایا۔ اب حصے کرنے کی باری آئی تو شیر نے کہا، کہ اس گوشت کے تین حصے ہوں گے۔ ایک تو میرا حصہ اس لیے کہ میں نے شکار کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ دوسرا حصہ بھی میرا اس لیے کہ میں جنگل کا بادشاہ ہوں، اور باقی رہا تیسرا حصہ تو میں بھی تو دیکھوں اس کو کون ہاتھ لگاتا ہے؟ لومڑ اور گیڈر نے اس بات پر غور کیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔
بچوں کے بڑے ہونے میں وقت ہے۔تب تک ہم بھی ان پر غور کر سکتے ہیں۔ہمیں کس نے روکاہے؟

کاشف محمود
کاشف محمود
طالب علم ہونا باعث افتخار ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *