بھوک

اسے اپنا گاؤں چھوڑے دو ماہ ہونے والے تھے، وجہ بھی اسکی اپنی ہی تھی نا جانے کیوں اس شام دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ایسی محفل میں چلا گیا جہاں شراب پی جا رہی تھی اور ایک رقاصہ محو رقص تھی وہ شراب کا نشہ تھا یا اس رقاصہ کی ادائیں وہ تمام وقت مدہوشی میں ہی رہا اور واپسی پر جب اس کے دوستوں نے اسے اسکے گاؤں چھوڑا تو اس وقت سویرا ہونے کے قریب تھا اور خواتین رفع حاجت کے لئے کھیتوں کی طرف جا رہی تھیں۔ چاروں طرف گندم کے کھیت تھے اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی جو کھیتوں کی طرف جا رہی تھی اچانک رقاصہ کا تھرکتا ہوا بدن سامنے آ گیا اور اسکے پاؤں خود بخود لڑکی کی پیچھے چل پڑے۔
وہ تقریبا ًدو ماہ سے بیلوں اور اجاڑ بیابان علاقوں میں لوگوں کی نظروں سے چھپ کر گذار رہا تھا، سارا سارا دن کسی چیز یا درخت کی کھوہ میں چھپا رہتا اور اندھیرا ہونے پر باہر نکل کر کھانے پینے کی چیزیں ڈھونڈتا، کافی دن ہو گئے تھے کھانے کو کچھ نا ملا تھا اور گرمی کی شدت بڑھنے کی وجہ سے پانی کا حصول بھی مشکل ہو گیا تھا۔ داڑھی اور سر کے بال مٹی و گند سے اٹے پڑے تھے بھوک و کمزوری کے باعث آنکھیں اندر دھنس چکیں تھیں گال پچک گئے اور چہرے کی ہڈیاں ابھر کر باہر آنے اور بے ترتیب اور بکھری ہوئی میلی داڑھی کی وجہ سے شکل کافی بھیانک ہو چکی تھی، اوپر سے جھاڑیوں میں پھنس پھنس کر کپڑے تقریبا ًتار تار ہو چکے تھے۔ قصہ مختصر یہ کے اس حلیہ میں کوئی اسکو پہچان نا پاتا لیکن احساس جرم و گناہ کے باعث وہ مسلسل چھپنے پر مجبور تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن بھوک و پیاس کی شدت سے بے حال ہو کر وہ دوپہر کو بیلے میں سے نکلا اور کھیتوں میں سے گزرنے والے پانی کے کھال کی طرف چلنے لگا،۔۔
اپریل کا مہینہ ختم ہونے والا تھا گرمی کی شدت کافی بڑھ چکی تھی اور تمام کاشتکار اپنے اپنے کھیتوں میں موجود گندم کی کٹائی میں مصروف تھے، وہ فورا ًہی نیچے بیٹھ گیا اور ان کے جانے کا انتظار کرنے لگا لیکن پیاس تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی ۔زبان سوکھ کر تالو کے ساتھ لگ گئی اور حلق میں کانٹے چھپ رہے تھے۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا تو تھوڑے فاصلے پر ایک بڑا کھال نظر آیا جسکے ساتھ ایک مٹی کا ٹیلہ سا تھا ۔وہ واپس ہوا اور گھوم کر اس ٹیلے پر چڑھنے لگا، اوپر پہنچتے پہنچتے وہ بے حال ہو گیا لیکن جیسے ہی اسکی نظر کھال پر پڑی اسکی آنکھوں میں ایک چمک سی آگئی۔ کھال کے تل میں پانی تھا شاید رات کو کسی کھیت میں پانی لگایا گیا ہو، وہ جلدی سے اس کی جانب بڑھا لیکن اسکا پاؤں پھسلا اور لڑھکتا ہوا نیچے آتا گیا، جیسے ہی وہ زمین پر پہنچا اور کھال کی جانب چلنے کی کوشش کی تو چل نا سکا کیونکہ اسکے دائیں پاؤں میں شدید تکلیف تھی اور وہ اسے زمین پر لگا بھی نا پا رہا تھا۔ وہ اپنی زخمی ٹانگ کو گھسیٹ گھسیٹ کو کھال کی جانب چل پڑا اسکا زخمی پاؤں ایک لمبی لکیر بناتا اسکے پیچھے پیچھے گھسیٹتا چلا آ رہا تھا۔ منزل تک پہنچتے پہنچتے اسکی ہمت جواب دے گئی جیسے ہی کھال کے کنارے پر پہنچا تو اپنا توازن برقرار نا رکھ سکا اور کھال میں جا گرا اور گرتے ہی بے ہوش ہو گیا۔
شام کے قریب گاؤں کی ایک لڑکی اپنے جانوروں کو پانی پلانے کے لیے کھال پر آئی تو اس نے ایک مفلوک الحال کو ادھر بے ہوش پڑا دیکھا، اسکے شور مچانے پر قریبی کھیتوں میں کام کرنے والے لوگ بھاگے بھاگ اس جگہ پہنچے جہاں وہ بے ہوش پڑا تھا۔۔۔۔۔۔جیسے ہی اسے ہوش آیا اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ایک نسوانی ہاتھ نے اسکے کندھے پر آہستہ سے دباؤ ڈال کر اسے دوبارہ چارپائی پر لٹا دیا، پاس ہی موڑھے پر بیٹھے ایک بزرگ نے کہا کہ بیٹا آرام سے لیٹے رہو تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے، تم آرام کرو یہ کہتے ہی اپنے بائیں ہاتھ کے سہارے سے اسکا سر اونچا کیا اور ٹھنڈے پانی کا پیالہ اس کے خشک لبوں کے ساتھ لگایا تو ندیدوں کی طرح پینا شروع کیا ابھی آدھا ہی پیا تھا کہ کھانسی شروع ہو گئی اور بے حال ہو کر دوبارہ چارپائی پر لیٹ گیا۔
اگلے دن گاؤں کا نائی آیا اس نے اسکے بال اور داڑھی بنائی اور ٹھنڈے پانی سے اچھی طرح نہلا کر اجلے کپڑے پہنا کر چلا گیا، چار پانچ دن بعد جب اس نے اچھی طرح کھانا پینا شروع کر دیا اور پاؤں کادرد بھی کافی کم ہو گیا تو اس نے چند قدم چلنے شروع کر دیے۔ ہفتے دس دن کے بعد خوراک اور دوائیوں کے اثر سے بھلا چنگا ہو گیا اور کسی سہارے کے بغیر آسانی سے چلتا پھر نا شروع کر دیا، اس اثنا میں تمام گاؤں والے گندم کی کٹائی سے فارغ ہو چکے تھے اور اب میلے کی تیاری شروع کر دی تھی، ایک دن اس بزرگ نے اس سے کہا کے تم سارا سارا دن کمرے میں بند رہتے ہو چلو میرے ساتھ میلے میں چلو ۔تمہارا دل بہل جاۓ گا اور طبعیت پر بھی اچھا اثر پڑے گا، لیکن وہ ڈر کے مارے اقرار نا کر سکا اور طبعیت کی خرابی کا کہہ کر انکار کر دیا۔
دوپہر کے وقت بزرگ کی بیٹی اسے کھانا دینے کے لیے آئی تو وہ چارپائی پر لیٹا چھت کی کڑیاں گن رہا تھا۔ اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہی اٹھ بیٹھا اور کھانے کی چنگیر لڑکی کے ہاتھوں سے لیٹے وقت اس کی انگلیاں لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ مس ہو گئیں تو ایک انجانہ سا کرنٹ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گیا۔ پیشانی پر ہلکے پسینے کے چھوٹے چھوٹے قطرے نمودار ہوگئے لیکن لڑکی اسکی اس کیفیت سے بے نیاز چارپائی کی پاہینتی پر بیٹھی اس سے باتیں کرتی رہی۔
کھانا کھا کر پانی کا پیالہ اس نے واپس چنگیر میں رکھا تو لڑکی اپنی جگہ سے اٹھی اور چنگیر اٹھانے کے لیے جیسے ہی اس کے ذرا قریب ہوئی اس نے لڑکی کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھنچ لیا۔ کچھ دیر کمرے میں کھنچا تانی کی آوازیں آتی رہیں اور اس کے بعد تیز اور بھاری سانسوں کے درمیاں لڑکی کی گھٹی گھٹی آواز آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر ایک گہرا سکوت۔
تپتی دوپہر میں سنسان گلیوں میں مٹی اڑ رہی تھی، جوہڑ کے کنارے ایک سوکھے ٹنڈ منڈ درخت پر نا جانے کہاں سے ایک گدھ آکر بیٹھ گیا اور اپنی گردن لمبی کر کے گاؤں کی جانب دیکھنا شروع کر دیا، گاؤں کے سب سے بڑے اور بوڑھے برگد کے درخت پر رہنے والے کوے ،جو کہ سخت گرمی کے باعث گھنی شاخوں میں چھپے ہوے تھے اچانک باہر نکل آۓ اور شور مچانا شروع کر دیا، درختوں کے نیچے چھپے کتوں نے باہر نکل کر رونا شروع کردیا، دور ایک مزار پر ایک بزرگ اپنے مریدوں کو سمجھا رہے تھے کہ
“جانور صرف اسی وقت شکار کرتا ہے جب اسکا پیٹ بھوکا ہو اور انسان اس وقت جب اس کے پیٹ کی بھوک مٹ چکی ہو ”
کمرے کا سکوت تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہلکی اور نم آلود سسکیوں کی آواز سے ٹوٹ رہا تھا۔

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *