کیا ہم انسان کہلانے لائق ہیں؟۔۔۔۔سانول عباسی

ہمارا سماج جس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے وہ ناقابل بیان ہے یعنی من حیث القوم ہمارے تمام کے تمام افعال انسانیت کے گراف کی نچلی سطح سے بھی نیچے گر چکے ہیں, بےحسی و درندگی اس حد تک سرائیت کر چکی ہے کہ ہمیں کسی کے ساتھ زور زبردستی ظلم ہوتے دیکھ کر بھی کوئی احساس نہیں ہوتا ،ایک انسان کی جان وعزت اتنی ارزاں کبھی نہ   تھی ،ہوس کے پجاری اپنی نفسانی خواہشات کی تسکین کے لئے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔

دنیا میں ایسا کوئی درندہ نہیں جیسا انسان ہے۔

پچھلے دنوں ایک اور بیٹی معاشرتی بےحسی کی بھینٹ چڑھ گئی ایک اور کلی کو بڑی بےدردی سے کچل دیا گیا مگر ہمارے سماج میں ہلچل تو دور کی بات ہے کوئی ہلکی سی جنبش بھی دیکھنے کو نہیں ملی، شاید ہم سب منتظر ہیں مگر خدا ایسا وقت کسی پہ نہ لائے ۔۔۔۔ سوچتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہونا شروع ہو جاتے ہیں ،بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں ظالمو!

میں نے سوچا تھا اس بارے میں کچھ نہیں لکھنا اس آگ کو اندر ہی اندر پکنے دینا ہے مگر یہ واقعہ حواس پہ سوار ہو جیسے، اٹھتے بیٹھتے اس بچی کی ویڈیو آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے کہ اکیلی جان ایک بھیڑیے سے نبردآزما ہے اور سارے تماشائی ہیں ،ایک انسان نما کتا ایک معصوم سے دست درازی کر رہا ہے اور کسی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی کہ کوئی اٹھ کے اس ظالم کا ہاتھ روک لے کیا کہوں، کیا لکھوں، کیسے لکھوں ۔۔۔ایک بیٹی جس نے ایک درندے کی ہوس کا سامان بننے سے انکار کیا، موت کے گھاٹ اتر گئی ،کبھی بیٹیوں کے چہرے تو دیکھیے کیا کوئی لفظ لکھا جا سکتا ہے ایسی صورتحال کے لئے، اوپر سے ان آسمان سے ٹپکی مخلوق کا رویہ کیا کہے کوئی، ہم مرد ذات ۔۔۔۔گھن آتی ہے اتنی بھری بس میں سب بےحس و بے غیرت  تھے کسی کو احساس نہیں ہوا کہ میری بہن ہے میری بیٹی ہے۔

سب والدین اپنے سینوں پہ ہاتھ رکھ کے سوچیں کہ  آپ کی بیٹی ہے جس نے اپنی زندگی ابھی شروع ہی نہیں کی جو ابھی گڑیوں سے کھیل رہی تھی جس کے لئے کائنات کا مطلب گڈے گڑیوں کے سوا کچھ نہیں تھا جس کے لئے زندگی کے تمام کردار ماں باپ کی طرح مجسم محبت ہیں جو دنیا کی بےحسی و درندگی کی ہوا سے ہی بالکل بے خبر ہے اور وقت نے ایسی کروٹ لی کہ نوبت فاقوں تک آ جائے حالات کے بےرحم تھپیڑے جینا دوبھر کر دیں اور زندگی اک عذاب مسلسل کے سوا کچھ نہ ہو ۔۔۔اور ان حالات سےتنگ ہو کر وہ بیٹی جو ابھی گڑیوں سے کھیل رہی تھی آن واحد میں اپنی عمر سے بڑی ہو جائے اس کے چہرے کے تاثرات معصومیت کی بجائے سنجیدگی اور احساس ذمہ داری کی سلوٹوں میں بدل جائیں ،حالات کی کسمپرسی سے تنگ آ کر زندگی کی عفریت سے مقابلے کے لئے کمربستہ ہو جائے اور جب وہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے گھر سے باہر سلسلہ روزگار کے لئے نکلے تو درندہ صفت گدھ اسے راستے میں اپنی ہوس زدہ نظروں سے رال ٹپکاتے ملیں،   کیا حالت ہو گی۔۔ اور پھر منظر بدلے اور کوئی کتا اس پہ پل پڑے اور اس کی زندگی چھین لے تو کیا حالت ہو گی۔۔

دیکھ دیکھ آنسو بہانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، سمجھ نہیں آتی خود کو کہاں رکھیں، بحیثیت انسان ہم کہاں کھڑے ہیں، ہمارا معیار انسانیت کیا ہے، کیا ہم واقعی انسان کہلانے  کے لائق بھی ہیں۔ ہم سب اس قسم کی تمام وارداتوں میں برابر کے شریک ہیں مگر مچھ کے چار آنسو مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی طلب پہ لفظوں کا بیوپار اور اس پہ بلے بلے اور بس۔۔۔عملی میدان میں آئے روز کے یہ واقعات ہماری چرب زبانی کی قلعی کھولنے کے لئے کافی ہیں۔

کبھی سوچا ہے کہ کوئی بیٹی جب روزگار کے سلسلہ میں گھر سے نکلتی ہے تو اسے کیا مجبوری ہوتی ہوگی ایسے کون سے  حالات ہیں جو رانیوں جیسی بیٹیوں کو درندہ صفت بے رحم معاشرے میں لے آتے ہیں؟۔۔ مگر کیسے سوچیں، ہمارے ہوس کے مارے ذہنوں میں بےہودگی کے علاوہ کیا آ سکتا ہے ،کیوں اس مرد زدہ معاشرے میں عورت کی حیثیت سوائے جنس کے کچھ بھی نہیں، میرا ماننا ہے کہ جو شخص بھی اپنی بیٹی کو بیٹی سمجھتا ہے اس کے لئے تمام بیٹیاں سانجھی ہو جاتی ہیں ساری بیٹیوں کو اپنی بیٹی سمجھتا ہے مگر افسوس! ہم ہوس کے مارے   بےحس لوگ ہم احساس کے نچلے درجے پہ بھی نہیں ہیں۔

دنیا میں ریاست عوام کو تحفظ اور ان کے انسانی حقوق کی پاسداری کی ضامن ہوتی ہے ،ایسا ماحوال فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے جہاں تمام لوگ   حفاظت کے ساتھ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں ،تبھی ریاست ماں کے مترادف کہلاتی ہے مگر ہمارا المیہ کچھ مختلف ہے ہماری ریاست ہی چوروں ڈاکوؤں اور لٹیروں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے ،یہاں ہر ظالم کو حق حاصل ہے کہ جسے چاہے اپنے ظلم کی بھینٹ چڑھا دے، کسی کی جان ،کسی عزت کچھ بھی محفوظ نہیں سوائے ان کے جو غاصبین کے آلہ کار یا کسی بھی حوالے سے ان ظالموں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہوں ،ان ریاستی اداروں کی قلعی کھولنے کے لئے پے در پے ہونے والے بےرحمانہ واقعات ہی کافی ہیں جہاں ایک ماں یہ کہہ کے اپنا کیس نہ  لڑے کہ میری اب صرف بیٹیاں ہیں ،جہاں زینب کے لواحقین تو منہ چھپاتے پھرتے ہوں مگر دو سو بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد اپنی فحش حرکات کا کاروبار کرنے والے کے ہاتھ میں زمام اختیار ہو ،جہاں ایک خدیجہ جو بدقسمتی سے بچ جائے اور اپنے جسم کے نشانات دکھا کے بھی ظالم کی نظروں میں ظلم ثابت نہ کر سکے اور مجرم باعزت بری ہوں اور مظلوم بےبسی کی دلدل میں ڈوب جائیں ،جہاں ایک مظلوم طیبہ کسی زنجیر عدل کے علمبردار کی عدل گردی کا شکار ہو جائے وہاں بیچاری مہوش یا اس طرح کی ہوس پرستی کی دلدل میں گرنے سے انکار کرنے والی بیٹیوں کو کون انصاف دے گا، ہنوز دلی دور است۔

ہمارا خون ہے ہی ارزاں ،ہماری کوئی وقعت نہیں، ہم مرنے کے لئے ہیں ہم ظالمین کی ظرافت کا سامان ہیں، ہمیں رکھ کے نشانہ بازی سیکھیں یا ہماری کھال کے جوتے پہنیں ،کون پوچھنے والا ہے، ہم انسان تھوڑی ہیں مگر ایسا کوئی گرا ہوا جانور بھی تو نہیں جسے استعارہ بنا کے ان ظالموں پہ تبرابازی کی جا سکے۔

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *