آن لائن نظام تعلیم اور جامعہ رفاہ۔۔حسان عالمگیر عباسی

تعلیم کے حصول کے لیے گاؤں چھوڑ کر شہر کے لیے رخت سفر باندھ ہی پایا تھا اور بستر بوریا گول کر ہی رہا تھا کہ اتنے میں بچوں کی آواز سنائی دی کہ ان کے امتحانات کی منسوخی یا تاخیر پہ غور ہو رہا ہے۔ بچے بہت مسرور تھے کیونکہ ان کے مطابق ان کا وہ بوجھ ہلکا ہونے لگا تھا جو میرے مطابق اپنی انتہائی بھیانک شکل و نتائج کے ساتھ قلابازیاں لیتے ہوئے جلد یا بدیر پلٹے گا۔ دراصل ‘پریکٹیکلز’ ہمارے نظام تعلیم میں محدود بلکہ مفقود ہیں۔ ‘تھیوری’ ہی اس تعلیم کی آخری سانسیں ہیں۔ یہ خیال یقین میں تب بدلا جب طالب علموں کو وقت کی بہتات میں ایسے بہتے ہوئے دیکھا جیسے سمندر کا بے حساب ہونا ایک پیاسے کی پیاس کو ویسے نہیں بجھا سکتا جیسے چشمے سے حاصل کیے گئے میٹھے مشروب سے ممکن ہے۔ جب اس ‘سوچ’ سے چھٹی ملی تو سوچنے لگا میں نے تو لاہور کے لیے نکلنا ہے۔ نکلنے سے پہلے موبائل فون نکالا اور پیغام موصول ہوتے ہی خوشی سے جان نکلنے لگی۔ پیغام تھا کہ ‘جامعہ’ اب اشرف المخلوقات کی علمی مالامالی سے مرغوب ہونے کی بجائے بھوتوں کی بھیانک اور ڈراؤنی آوازوں سے مرعوب ہونا چاہتی ہے۔

یہ خوشی زیادہ دیر نہ رہی کیونکہ اندر کا وہ ‘پن’ نیند سے بیدار ہوا جو دوسروں کو امتحانات کی منسوخی یا تاخیر پہ ڈھول بجانے پر ڈانٹتا ڈپٹتا رہا تھا۔ یہ خوشی عارضی تھی اور اس مسرت کی ستیاناسی ہو گئی جب چند دنوں بعد یہ پیغام موصول ہوا کہ رفاہ یونیورسٹی آن لائن کلاسز کا اجراء کرنے کی بھرپور سکت رکھتی ہے۔ رنگ میں مزید بھنگ ملنے لگا جب دیگر جامعات کی معذرت اور مناسب وقت اور انتظام تک انتظار کی گھڑیاں پہننے کے باوجود ‘جامعہ رفاہ’ بضد اور اصرار کرتی رہی کہ وہ بحرانوں میں الجھنے کی بجائے مشکلات سے نجات کا گر اچھے سے جانتی ہے۔ منتظم صاحب اس وقت طلباء کو اکسا رہے تھے جب وہ الجھاؤ میں رہتے ہوئے پڑھائی معطل کرنے پہ بضد تھے۔ جامعات خاص طور پر طلباء پر انحصار کرنے والی جامعات کے لیے ان کا سب کچھ طلباء ہی ہوا کرتے ہیں۔ یہ جامعات کورسز کی پیشکش کم ،ان کو فروخت زیادہ کرتے ہیں۔ ان جامعات کی ہڈی بھی طلباء ہی ہیں اور پسلی بھی اور وہ نہیں چاہتے کہ ہڈیاں پسلیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں۔

اصل وجہ بلا شبہ یہی ہونے کے باوجود رفاہ یونیورسٹی طلباء کو مناتی رہی کہ ان کے پاس اس ‘انتخاب’ کے علاوہ اور کوئی صورت باقی نہیں رہی۔ اب جبکہ سمسٹر ‘قریب المرگ’ ہے اور باقی مقفل جامعات بھی یہی طرز اپنانے لگی ہیں تو احساس ہو رہا ہے کہ شاید ‘رفاہ یونیورسٹی’ کا اکسایا جانا ٹھیک ہی تھا یا اس کی بھوک نے پیٹ پر پتھر باندھنے کی بجائے طلباء کو نچوڑنا ہی بہتر سمجھا تھا ،جس میں کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔ کامیابی اس کا مقدر ہوئی کیونکہ دیگر ادارے بھی وہی کریں گے جو ‘رفاہ’ پہلے دن ہی سے کرتی آ رہی ہے۔ بہتر ہوتا اگر طلباء کی حیثیت اور کرونا وبا کی وجہ سے مخصوص صورتحال کی پیدائش کو مدنظر رکھتے ہوئے نظر کرم فرمایا جاتا اور وہی مطالبہ کیا جاتا جو گھروں میں رہتے ہوئے جامعہ کی تمام سہولیات سے محرومی تقاضا کر رہی تھی۔ بہرحال اس مصنوعی کامیابی پہ جامعہ مبارکباد کی مستحق ہے۔ مزید بہتری لانے کے لیے طلباء سے جائز ‘فیسوں’ کا مطالبہ مطلوب ہے۔

کلاسز کا آغاز ہوتے ہی طلباء اور اساتذہ تذبذب کا شکار رہے۔ ‘آف لائن’ یا بلا واسطہ تعامل و تفاعل سے یکدم ‘آن لائن’ یا بلواسطہ تعلقات کی استواری سے علم کے چناؤ تک اور اس کے پھیلاؤ سے تصورات کی وضاحت و صراحت تک مشکلات راہ کا کانٹا بنی رہیں۔ جب کانٹے کی چبھن سہنا عادت بن رہی ہے تو سوچتا ہوں کہ اب کلاسز میں جا کر سیکھنا بھی قدرے مشکل ہوجائے گا۔ طلباء کو ایسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن کچھ اساتذہ کی موجودگی کانٹ چھانٹ کا کام کرتی رہتی ہے۔ ہمارے اساتذہ نے اس نئے نظام اور اس کے مطالبات کو ہضم کرنے میں ہماری انتہائی مدد کی ہے۔ وہ ہر طرح سے ہماری رہنمائی فرماتے رہے۔

یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ شاید اساتذہ چونکہ گھر پہ رہتے ہوئے ہی پڑھا رہے ہیں تو غالباً آسانیاں ان کا مقدر ہو گئی ہیں لیکن جو رفتاری ،مستعدی ،تسلسل ،محنت و لگن ،دلچسپی ،صرف وقت اور چستی اب دیکھنے کو مل رہی ہے اساتذہ کی بے انتہا ہمدردانہ کاوشوں اور دردمندانہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔

انھوں نے پہلے ہی دن سے ہمیں اتنا مصروف رکھا کہ محنت سے محبت ہونے لگی ہے۔ انھوں نے تحقیقی نقطہ نظر سے چیزوں کو ہضم اور نگلنے کے ساتھ ساتھ ضرورت سے زیادہ اور غیر اہم چیزوں کو اگلنے کا فن سکھانے میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اساتذہ سے براہ راست نہ پڑھنا محرومی ضرور ہے لیکن ایک محبت کرنے والے اور بوجھ لادنے کی بجائے بانٹنے والے معلمین سے تعلق کی استواری بالکل کچھ نہ ہونے اور محرومی سے کہیں بہتر ہے۔

ایک اچھا معلم وہی ہوتا ہے جو کم وقت میں تھوڑے وسائل ہوتے ہوئے اپنے ‘فن معلمی’ کے ساتھ بہت سے طلباء سے اگر بہت زیادہ نہیں تو اطمینان بخش کام ضرور لے لیتا ہے۔ وہ معلم جو پیار سے چیزوں مثلاً علم ،حکمت ،وعظ ،نصیحت ،بھلائی و رحم دلی دیتے ہوئے طلباء سے خیر سمیٹتا ہے وہی دراصل ان کے دلوں کے قریب ہوتا ہے۔ طلباء سے بہت سا کام لینا جہاں ایک اچھے معلم کی مہارت ہے وہیں آگے دوڑتے ہوئے چیزیں پیچھے چھوڑنا اس جامعہ کے اساتذہ کی ‘اپروچ’ سے میل نہیں کھاتا۔ وہ کم وقت میں زیادہ کام تو لیتے ہیں لیکن آگے دوڑتے ہوئے جب طلباء کچھ چھوڑنے لگتے ہیں تو وہ پڑھانا ہی چھوڑ دیتے ہیں اور تب تک آگے نہیں بڑھتے جب تک ‘متروک’ حاصل نہ ہو جائے۔

اگر چند طلباء ہی آگے دوڑتے چھوڑتے آ رہے ہوں تو ان کے لیے وہ خود لے کر حاضر ہوتے ہیں جس کا حصول دیگر طلباء تک پہنچنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اساتذہ سے کسی بھی وقت اور کوئی بھی الجھن دور کرنے کے لیے آفس تک رسائی آسان ہے۔ ان کا دفتری دروازہ مقفل نہیں ہوتا۔ مخصوص صورتحال کے پیش نظر دل کا دروازہ سب طلباء کے لیے کھلا ہے۔ کبھی علمی غرور یا علمی پوشیدگی یا اس کو مخفی نہیں رکھا گیا۔ وہ جو جانتے ہیں دوسروں کو بتانے میں وقت نہیں لیتے۔ ان مخصوص حالات میں تمام چیلینجز اور رکاوٹوں کو دم بخود اور جستجو لیے عبور کرتے چلے جا رہے ہیں۔

ایک اچھا معلم ایک اچھا انسان ہوتا ہے کیونکہ وہ دوسروں کو انسان بناتے ہوئے انسانیت سکھاتا ہے۔ انسان وہی ہے جو انسیت یعنی محبت والا ہوتا ہے۔ یہی محبت اور ہمدردی کسی بھی انسان کو معلم بنا دیتی ہے کیونکہ جو اسے معلوم ہے وہ جب کسی کے علم میں آ جائے تو وہ معلمی کے فرائض کو علمی خیانت کی بجائے اعانت کے طور پر ادا کرتا ہے۔ یہی وہ ذمہ داری ہے جو اساتذہ ادا کر رہے ہیں اور خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں۔ اب چاہے بہار ہو کہ خزاں ،آن لائن نظام ہو یا آف لائن ،بہرحال اساتذہ نے اپنی بڑی ذمہ داری ادا کرنی ہے۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں چھوٹی رکاوٹیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ یہی کام ہے جو نبیوں نے کیا اور اب جبکہ کوئی نبی نہیں آئے گا تو یہ ورثہ ان حضرات نے نسل انسانی تک منتقل کرنا ہے جو انبیاء کرام کے وارث ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ‘میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میں اس لیے بھیجا گیا ہوں تاکہ مکارم اخلاق کو تمام کر دوں۔’

شاعر کا ماننا ہے کہ :

شیخِ مکتب ہے اک عمارت گر
جس کی صنعت ہے رُوحِ انسانی

Avatar