عید، میٹھی سویاں اور پھیکی مسکراہٹیں۔۔۔ثاقب اکبر

وقت کے ساتھ ساتھ ہماری اصطلاحیں بھی تبدیل ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ ہم چھوٹے تھے تو عیدالفطر کو چھوٹی عید اور اور عیدالاضحٰی کو بڑی عید کہا جاتا تھا۔ عیدالفطر کو سویوں کی عید بھی کہا جاتا تھا۔ اب بھی بعض گھروں میں عید فطر کے موقع پر سویوں کا رواج باقی ہے، لیکن آہستہ آہستہ کم ضرور ہوتا چلا جارہا ہے، کیونکہ کھانوں اور پکوانوں کے انداز اور لچھن تبدیل ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ کبھی تو سویاں اس عید پر اتنی ضروری سمجھی جاتی تھیں کہ ایک صاحب کے بارے میں لطیفہ مشہور ہوگیا کہ اس نے نہ روزے رکھے، نہ نماز پڑھی یہاں تک کہ بیگم نے کہا کہ نماز عید پڑھنے تو چلے جاﺅ، لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ گھر میں سویاں تیار ہوئیں تو اس نے بیگم سے فرمائش کی کہ میرے لئے سویاں لے کر آﺅ۔ بیگم نے کہا نماز پڑھنے تو گئے نہیں اور سویاں مانگ رہے ہو، تو صاحب نے کہا کہ اب بالکل ہی کافر ہو جاﺅں اور سویاں بھی نہ کھاﺅں۔ بہرحال اب کافر ہونے کے لئے سویاں نہ کھانے کے علاوہ اور بھی کئی باتیں اور کئی راستے موجود ہیں بلکہ اس کا سلسلہ تو رمضان شریف میں بھی جاری رہا ہے۔ جہاں تک عید منانے کا تعلق ہے تو جن بے رحم تاجروں اور بے خدا سرمایہ داروں نے رمضان کو عید کی طرح منایا ہے، وہی عید کے دن بھی داد عیش و عشرت دیں گے کیونکہ جس ملک کی آبادی کا ساٹھ فیصد حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہو، وہاں ایک جیسی عید کا تصور کون کرسکتا ہے۔ عالمی طور پر غربت کی لکیر کے لئے پیمانہ دو امریکی ڈالر روزانہ آمدنی ہے، جسے موجودہ حساب سے دو سو چالیس روپے ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان کی 21 فیصد آبادی 1.25 امریکی ڈالر سے کم روزانہ آمدنی کی حامل ہے۔

دوسری طرف دنیا بھر میں مذہبی تہواروں کے مواقع پر عام استعمال کی اشیاء کی قیمتیں کم کی جاتی ہیں، ایسا کرنے میں حکومت کے علاوہ دیگر افراد اور طبقے بھی شریک ہوتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں کرسمس کے دنوں میں عام اشیاء کی قیمتیں اسی لئے کم ہو جاتی ہیں۔ مذہبی سفر کے لئے ہوائی جہاز کا کرایہ بھی کم ہو جاتا ہے، لیکن ہمارے ہاں جیسے ہی کوئی موقع یا مذہبی تہوار آتا ہے تو چیزوں کی قیمتیں بڑھا دی جاتیں اور اور مذہبی سفر کے لئے حج کے دنوں میں اور رمضان المبارک میں عمرے کے سفر کے لئے ہوائی جہاز کا سفر عام دنوں کی نسبت مہنگا ہو جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں روزمرہ کی ضرورت کی چیزیں رمضان شریف اور عید کے موقع پر دو سے تین گنا مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ عید کے موقع پر میٹھی سویاں کھانے والا طبقہ اور ہوگا اور اپنے چہرے پر پھیکی مسکراہٹیں سجانے والا طبقہ اور ہوگا۔ تاہم یہ اچھا ہوا کہ اب کہ رمضان المبارک ایسے موقع پر آیا جب انتخابات کی گہما گہمی شروع ہوچکی تھی اور انتخابی امیدوار میدان میں اترنے کا فیصلہ کرچکے تھے، لہٰذا ہر طرف افطار پارٹیوں کی بہار تھی۔ عموماً افطار پارٹیاں امراء کی طرف سے ہوتی ہیں اور امراء کے لئے ہوتی ہیں، لیکن انتخابی معرکہ نزدیک آنے کی وجہ سے غریبوں کے لئے بھی بہت سی افطار پارٹیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ پاکستان میں اہل خیر کی ایک بڑی تعداد رمضان المبارک میں زکوة اور عید کے موقع پر فطرہ ادا کرتی ہے اور صدقات و خیرات کے لئے ان ایام کو اہم سمجھا جاتا ہے بلکہ ایک اندازے کے مطابق گذشتہ برس پاکستان میں زکوة فطرہ اور خیرات کی مد میں چھ سو ارب سے زیادہ غریبوں، مسکینوں اور بے سہارا لوگوں میں تقسیم کئے گئے، لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ پاکستان میں پسماندہ لوگوں کے دکھ درد دور ہوگئے ہیں۔ بعض لوگوں کو وقتی طور پر ضرور کچھ ریلیف مل جاتا ہے، لیکن اس طرح کی امداد عموماً بے روزگاروں کو روزگار مہیا نہیں کرتی۔ اس سے مستقل رنج و غم دور نہیں ہوتا، اے کاش اس رقم کو اس انداز سے تقسیم کیا جاسکے کہ اس کا ایک بڑا حصہ بے روزگاروں کو باروزگار بنانے میں خرچ ہوسکے، لیکن حکومتوں کے کرنے کے کام بہرحال عام لوگ نہیں کرسکتے اور حکومتوں پر ابھی ہمارے عوام و خواص کو اعتماد پیدا نہیں ہوا۔ جن حکمرانوں کے لوٹ مار کے اپنے قصے ہوشربا ہوں اور جن کی دھاندلیوں اور کرپشن کی داستانیں گلی کوچوں میں سنی اور سنائی جا رہی ہوں، چھ سو ارب روپے اگر ان کے حوالے کر دیئے جائیں تو پھر غریب عوام اس وقتی ریلیف سے بھی محروم ہو جائیں جو لوگ اپنے تئیں فیصلہ کرکے خرچ کرتے ہیں۔
روزے اور عیدالفطر کا تعلق اسلام کے مجموعی نظام اور مزاج سے ہے۔ عید الفطر کی اصطلاح بھی اسلام کے اسی مزاج کو آشکار کرتی ہے۔ ”عید“ لوٹ آنے اور واپسی کے معنی میں ہے اور ”فطر“ فطرت سے ماخوذ ہے۔ دراصل انسان اللہ کی خاطر ایک ماہ کے روزے رکھ کر اور اس کی قربت کی آرزو میں بھوک اور پیاس برداشت کرکے اپنی مادی خواہشات کو قابو کرنے کا طریقہ سیکھ لیتا ہے اور بھوکوں اور پیاسوں پر جو گزرتی ہے اس کا احساس اس کے سینے میں جاگ اٹھتا ہے تو گویا اس کی فطرت بیدار ہو جاتی ہے اور وہ اپنی حقیقی فطرت پر لوٹ آتا ہے۔ اسی مناسبت سے رمضان شریف کے فوری بعد عید الفطر کو رکھا گیا ہے، جس کے ساتھ ”فطرہ“ کا حکم دیا گیا ہے۔ جب انسان کی انسانی فطرت بیدار ہو تو معاشرے کے پچھڑے ہوئے اور پسماندہ طبقوں کے لئے دل پسیج جاتا ہے، جس کے اظہار کا ایک طریقہ نماز عید سے پہلے کسی ضرورت مند کی حاجت روائی ہے، جسے” فطرہ“ کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ روزے کا کمال زکواة فطرہ کی ادائیگی میں ہے، جس طرح نماز کا کمال پیغمبر اکرم اور آپ کی آل پر صلوات بھیجنے میں ہے، کیونکہ جس نے بھی روزہ رکھا لیکن عمداً فطرہ ادا نہ کیا تو گویا اس نے روزہ رکھا ہی نہیں، اسی طرح جس نے نماز تو ادا کی لیکن پیغمبر اکرم اور آپ کی آل پر صلوات بھیجنے کو ترک کیا تو گویا اس نے نماز پڑھی ہی نہیں۔ آیئے جن لوگوں کے چہروں پر پھیکی مسکراہٹیں سجی ہیں، ان کے دسترخوان کو میٹھا کرنے کے لئے بروقت کچھ اقدام کریں کہ شاید اس سے ہمارے روزے قبول ہو جائیں اور روزوں کے بعد کا پہلا دن پروردگار کے حضور گواہی دے کہ تیرے اس بندے کی فطرت روزوں کے نتیجے میں اپنی اصل صورت میں لوٹ آئی ہے۔
بشکریہ اسلام ٹائمز!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *