شمالی کوریا ،امریکی سامراج اور سوویت یونین ۔۔۔مشتاق علی شان

گزشتہ دنوں عوامی جمہوریہ کوریا (شمالی کوریا) کے صدر کم جون اُن اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان سنگاپور میں ہونے والی ملاقات اور جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے اعلامیے پر دستخط کی بازگشت ابھی فضاؤں میں ہے اور اس پر خامہ فرسائیوں کا سلسلہ جاری ہے. واضح رہے کہ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ کوریا(جنوبی کوریا)کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اس کی طرف سے جنوبی کوریا میں موجود امریکی افواج کی واپسی اور فوجی اڈے ختم کرنے کا اور نہ ہی شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا کوئی عندیہ دیا گیا ہے.

“مشترکہ دفاعی اخراجات” کے نام پر کی جانے والی فوجی مشقوں پر، جن میں گوام کے اڈے سے اڑان بھرنے والے بی باون طیارے امریکی “طاقت، سطوت اور رعونت” کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں، سالانہ ایک ارب ساٹھ لاکھ امریکی ڈالرز خرچ کیے جاتے ہیں جسے خود ٹرمپ نے اشتعال انگیز اور مہنگی قرار دے کر شمالی کوریا کے دیرینہ موقف کی تائید کی ہے. دوسری جانب کل سیؤل میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپئو نے اپنے جنوبی کوریائی اور جاپانی ہم منصبوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فوجی مشقوں کے خاتمے کے اعلان کے باوجود امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کے”آہنی اتحادی” ہونے پر اصرار کیا ہے جس کے معنی ابھی مستقل کے پردے میں مستور ہیں.

طرفہ تماشا کہ ٹرمپ نے امریکہ  پہنچتے ہی ٹویٹ  کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ “شمالی کوریا کی طرف سے امریکہ  پر ایٹمی حملے کا خطرہ ٹل گیا ہے اور اب امریکی چین کی نیند سو سکتے ہیں.” ٹرمپ کے اس مضحکہ خیز بیان سے نہ صرف سرد جنگ کے زمانے میں یورپ و امریکہ  میں کیے جانے والے اس اینٹی سوويت پروپیگنڈے کی یاد تازہ ہوتی ہے جس کے بموجب سوویت یونین کسی بھی وقت یورپ اور امریکہ  پر ایٹم بموں کی بارش کرنے والا ہے بلکہ ٹرمپ کے اس بیان سےاس امر کی نشاندہی بھی ہوتی ہے کہ سوویت یونین اورسوشلسٹ بلاک مخالف پروپیگنڈہ خوراکوں پر نصف صدی پلنے والے امریکی و یورپی عوام کو آج بھی وہی خوراک “مرغوب غذا” کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے. ورنہ ان سے کوئی پوچھے کہ حضور سوویت یونین یا کسی اور سوشلسٹ ملک نے تو کسی ملک کو کبھی ایٹمی آگ کا سمندر نہیں بنایا بلکہ یہ آپ ہی تھے جن کے برسائے ہوئے ایٹم بموں سے ہیروشیما اور ناگی ساکی ناحق پیوندِ خاک ہوئے. آپ کے ایٹم بموں اور ہلاکت خیز ہتھیاروں سے بڑھ کر بھلا امنِ عالم کے لیے کون سا خطرہ ہے؟ آپ کے جنگی جنون کی موجودگی میں، آپ کی دنیا بھر میں مسلسل جارحیت اور تجاوزکاری کے ہوتے ہوئے کون ہے جو چین کی نیند سو سکتا ہے؟.

بہر کیف جزیرہ نما کوریا میں امریکی مداخلت گزشتہ صدی کے نصف سے شروع ہونے والا قضیہ نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں انیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں پیوست ہیں جب1866میں ’’جنرل شرمن‘‘ نامی پہلا امریکی بحری جہاز ’’سفارتی روابط‘‘ کے نام پر کوریا کے دریائے تائی دونگ میں داخل ہوا تھا اور جس کے خلاف کوریائی عوام نے شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے مار بھگایا تھا۔20ویں صدی کی چوتھی دہائی میں جب جاپانی سامراج کے خلاف پندرہ سال طویل گوریلا جنگ کے بعد کامریڈ کم ال سنگ کی قیادت میں اہلِ کوریا نے آزادی حاصل کی تو اسے تقسیم کرنا اور اس کے جنوبی حصے کو اپنا عسکری مرکز بنانا امریکی سامراج کے لائحہ عمل، اس کے اہدافات کا حصہ ٹھہرا۔

عوامی جمہوریہ کوریا ( شمالی کوریا) کے اعلانِ آزادی کے تناظر میں اگر امریکی سامراج کے کردار کو دیکھا جائے تو ملک کے جنوبی حصے میں داخل ہونے والی امریکی افواج کا مسلط کردہ مارشل لا ء جبر وتشدد اور انقلابیوں کے قتل عام کے جلو میں مقبوضہ کوریا( جنوبی کوریا) میں الگ سے انتخابات کرانے اور کٹھ پتلی حکومت کے قیام کی سازش زوروں پر نظر آتی ہے ۔ امریکیوں نے مقبوضہ کوریا( جنوبی کوریا) میں داخل ہوتے ہی نہ صرف جاپانیوں سے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا، تمام جاپانی املاک لوٹ لیں بلکہ جو چیز بھی ان کے ہتھے چڑھی اسے ضبط کر لیا گیا ۔ ایک کوریائی مصنف ’’بائیک بونگ‘‘ کے الفاظ میں’’ امریکی سامراجیت نے ایک ہی جست میں خود کو کوریائی عوام اور کوریائی انقلاب کا دشمن بنا لیا‘‘۔

کوریا میں سوویت یونین اور امریکہ  کے کردار، دونوں کے مقاصد اور ان کے جوہر میں بنیادی فرق کو سمجھنے کے لیے وہ تاریخی بیانات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں   جو دونوں ممالک کی افواج نے وہاں داخل ہونے کے موقع پر دیے تھے۔ان بیانات کا ذکر کوریائی انقلاب کے روحِ رواں کامریڈ کم ال سنگ نے28مارچ1948کو کوریائی ورکرز پارٹی کی دوسری کانگریس میں مرکزی کمیٹی کی کارگزاریو ں کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کچھ یوں کیا تھا ’’ جیسا کہ مغرب کے عوام کو سوویت یونین کے فیصلہ کن کردار کی بدولت فسطائی تسلط سے آزادی ملی تھی اسی طرح مشرق میں بھی عظیم سوویت یونین کے فیصلہ کن فتح کے طفیل جاپانی سامراجیوں کو شکست اور کوریائی عوام کو آزادی ملی تھی۔تاہم بین الاقوامی حالات کے پیش نظر اور کوریا کی آزادی کے وقت فوجی حکمتِ عملی کے تقاضوں کے مطابق سوویت یونین اور امریکہ  کی افواج ہمارے ملک میں داخل ہوئیں اور اڑتیسویں خطِ متوازی کو ان کے مابین حدِ فاضل قرار دے دیا گیا۔

جنوبی کوریا میں بھی امریکی افواج کی آمد سے قبل جاپان نوازعناصر اور قوم کے غدار مضبوط جمہوری قوتوں کے سامنے دبکے بیٹھے تھے ۔پورا ملک ایک آزاد قوم کی بے پناہ مسرتوں اور حب الوطنی کے جوش وخروش سے موجزن تھا ۔ہمارا ملک عوامی خواہشات کے مطابق آزادی اور قومی تعمیر نو کے راستے پر پیش قدمی کر رہا تھا لیکن8ستمبر1945کو جنوبی کوریا میں امریکی افواج کے داخلے سے ہمارے ملک پر سیاہ بادل دوبارہ چھا گئے۔

سوویت فوج جسے عظیم بالشویک پارٹی کی رہنمائی حاصل ہے جو چھوٹی اور کمزور عوام کی آزادی اور خود مختاری کا احترام اور حفاظت کرتی ہے اس نے ہمارے ملک میں داخلے کے پہلے دن کوریائی عوام سے یوں خطاب کیا کہ

’’کوریائی لوگو!کوریا ایک آزاد ملک بن گیا ہے تاہم یہ کوریا کی تاریخ میں پہلا باب ہے۔ پھلوں سے بھرے باغات انسانی کوششوں اور ہمت وحوصلے کا نتیجہ ہوتے ہیں لہذا کوریا کی خوشحالی بھی صرف آپ کوریائی عوام کی بہادرانہ کوششوں سے حاصل ہو سکتی ہے۔کوریائی لوگو یاد رکھو خوشحالی آپ کے اپنے قدموں کے نیچے ہے ،آپ لوگوں نے آزادی اور خوشحالی حاصل کر لی ہے اب ہر چیز کا انحصار آپ پر ہے ۔ آزاداور تخلیقی محنت کی جس راہ پر آپ کوریائی عوام نے گامزن ہونا ہے سوویت فوج اس کے لیے تمام سازگار حالات مہیا کرے گی۔کوریائی عوام کو خود اپنی خوشحالی کا خالق بننا چاہیے۔‘‘

یہ ہے وہ بیان جو سوویت فوج نے ہماری سرزمین میں داخل ہوتے وقت پہلے دن دیا تھا۔سوویت فوج نے اپنے اس بیان میں کیے گئے وعدوں کو کس طرح پورا کیا یہ کسی بیان کا محتاج نہیں ۔کیونکہ آج شمالی کوریا کے حقائق اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں جہاں کوریائی عوام نے اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے رکھا ہے اور وہ کلی طور پر اپنی خواہشات کے مطابق اپنے ملک کی تعمیر کر رہے ہیں۔لیکن دوسری طرف امریکی فوج جس دن جنوبی کوریا می داخل ہوئی تواس نے کوریائی عوام کے سامنے یہ اعلان کیا کہ
’’بحرالکاہل میں امریکی بحری و بری افواج کے کمانڈر انچیف ہونے کی حیثیت سے مجھے جو اختیارات حاصل ہیں انھیں بروئے کار لاتے ہوئے میں اڑتیسویں شمالی ارض بلد کے جنوبی حصے میں کوریا اور اس کے باشندوں پر فوجی کنٹرول قائم کرتا ہوں اور قبضے کی ان شرائط کا اعلان کرتا ہوں۔اڑتیسویں شمالی ارضِ بلد کے جنوب میں کوریا کی سرزمین اور اس کے عوام پر حکومت کے تمام اختیارات آئندہ میرے اختیار کے تحت جاری ہوں گے ۔تمام افراد میرے احکامات اور میرے اختیارات کے تحت جاری ہونے والے احکامات کی اطاعت کریں گے۔قابض افواج کے خلاف مزاحمت یا عوام کی امن وسلامتی کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کی سخت سزا دی جائے گی۔ فوج کے کنٹرول کے دوران تمام مقاصد کے لیے انگریزی زبان دفتری زبان ہو گی ‘‘( اعلامیہ نمبر1،از جنرل میکارتھر)

یہ ہے وہ فسطائیت پر مبنی اعلان جو امریکی افواج نے جن پر کامریڈ کم ال سنگ کے بقول ’’امریکی بازارِ حصص‘‘ کے ارباب کا تسلط تھا ،نے کوریائی سرزمین میں داخل ہوتے وقت کیااور اس کے بعد کوریائی خطے کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ وہاں سب کچھ اسی فسطائی اعلامیے کے مطابق ظہور پذیر ہوتا رہا۔
یادش بخیر کہ امریکی سامراج کی قیادت میں 16ممالک کی 18لاکھ کیل کانٹے سے لیس افواج کے جلو میں کوریا میں قصاب کا کردار ادا کرنے والا یہی امریکی جنرل میکارتھر تھاجو عوامی جمہوریہ کوریا (شمالی کوریا) کو فتح کرنے چلا تھا اور مانچوریا کی سرحد پر کھڑے ہو کر چین میں داخل ہونے کی بڑ ہانک رہا تھا لیکن اسے شدید ناکامی اور اس کے نتیجے میں اپنے تمام تر ٹائیٹلز سے محرم ہوتے ہوئے برطرف ہونا پڑا تھا۔27جولائی1953کو جب امریکی سامراجیوں نے پانمو نجوم کے مقام پر جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تو ’’اقوام متحدہ کی افواج‘‘ کے امریکی کمانڈر انچیف نے ان الفاظ میں اپنی ذلت آمیز شکست کا اعتراف کیا ’’اپنی حکومت کی ہدایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے مجھے یہ یہ ناقابل رشک اعزاز ملا ہے کہ میں تاریخ میں امریکی افواج کا پہلا ایسا کمانڈر بن گیا ہوں جس نے فتح حاصل کیے بغیر جنگ بندی تسلیم کی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر چیز ناکام ہوئی ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ میرے پیش رو جنرل ڈگلس میکارتھر اور جنرل میتھور جوے کی بھی یہی رائے تھے‘‘۔

ایک مدت تک امریکی سامراج نے عوامی جمہوریہ کوریا ( شمالی کوریا)کے خلاف سرد اور گرم جنگوں کے تمام تر حربے آزمائے ،اس نے 27جولائی 1953کو ہونے والے اس معاہدے سے مسلسل روگردانی کی جس میں طے کیا گیا تھا کہ کوریائی خطے کو اسلحے سے پاک کیا جائے گا بلکہ اس کے برعکس عوامی جمہوریہ کوریا (شمالی کوریا) کا مسلسل گھیراؤ جاری رکھا گیا، مقبوضہ کوریا ( جنوبی کوریا) میں کبھی فوجی مارشل لا تو کبھی بنام ’’ جمہور‘‘ نہ صرف 30ہزار سے زائد امریکی فوجی مستقل بنیادوں پر رکھے بلکہ وہاں اپنے جارحانہ سامراجی عزائم کے پیش نظردرجنوں فوجی اڈے بھی قائم کیے اور مسلسل جنگی مشقیں جاری رکھیں۔موجودہ کوریائی صدر کم جون اُن اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے نتائج تو خیرابھی مستقبل کی اوٹ میں ہیں البتہ کوریائی انقلابیوں کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ مقبوضہ کوریا سے امریکی افواج کا انخلا، فوجی اڈوں کا خاتمہ اوردونوں کوریاؤں کا متحد ہونا ہی خطے میں دیرپا امن کی ضمانت ہے. مگر امریکی سامراج راج اور اس کی کاسہ لیس کٹھ پتلی جنوبی کوریائی حکومتیں کبھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہوئیں جو کہ سامراجی منافقت کی بہت بڑی مثال ہے ۔دوسری عالمگیر جنگ کے بعد دنیا بھر میں امن قائم ہو گیا تھا مگر اس کے باوجود کوریا کو مسلسل حالتِ جنگ میں رکھا گیا۔ان تمام کوششوں کا مقصد کوریائی محنت کشوں پر وہ مردم خور سرمایہ دارانہ نظام کسی طور مسلط کرنا ہے جس نے کرہ ارض پر ہر انسان کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *