ایک گمشدہ سیاسی ڈائری سے اقتباس ۔۔۔ معاذ بن محمود

صبح صادق یعنی دو بجے دوپہر سے دل بوجھل ہے۔ وہ کہتی ہے صوم و صلواۂ کی پابندی “رکھ”۔ میں نے تمیز سے بات کرنے کا اصرار کیا۔ وہ چلہ کاٹنے کی دھمکی دے کر چلی گئی۔ اگلا ایک گھنٹہ پیر دبانے میں گزرا۔ ویسے تو میں خود پیر کے نیچے زیر ہوں مگر پچھلے فقرے میں پ کے نیچے زیر نہیں۔ مجھے لگتا تھا وہ میرے لیے مبارک ثابت ہوگی۔ اس نے گھر میں قدم رنجہ ہوتے ہی پہلی آزمائش پھیرو اور شیروانی میں سے ایک کو منتخب کرنے کی رکھ دی۔ میرے برے وقت کو خوبصورت بنانے والے پھیرو کو گھر سے بے گھر کرنے کی وعید سنائی۔ اک عہد کہ تمام ہونے کی نوید سنائی۔ یہ سب اس قدر آناً فاناً ہوا کہ یہاں میں اس کے نام اور وہاں پھیرو کا کام تمام ہوا۔ پھیرو میرا پہلا ٹائیگر جس میں مجھے اپنی یوتھ اپنی کمک کی شبیہ دکھائی دیا کرتی تھی۔ پھیرو جس نے میرا تب ساتھ دیا جب وہ بھی چھوڑ گئی جس سے مجھے محبت تھی، اور وہ بھی چھوڑ گئی جس کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا۔ وہ کہتی تھی میں اپنی خوابگاہ کسی کے ساتھ بھی شئیر نہیں کر سکتی۔ میں نے پوچھا پھیرو کے ساتھ تو ٹھیک ہے مگر کیا میرے ساتھ بھی نہیں؟ وہ کہنے لگی کیا فرق پڑتا ہے راج۔ تم اور پھیرو “یک” جان دو قالب ہی تو ہو۔ میں نے پوچھا سمرن تم بھی؟ میں اکیلا کیا کروں گا۔ اس نے مجھے کمرے سے باہر نکالتے ہوئے ستو کا سیر والا تھیلا میرے منہ پہ دے مارا۔ چیف آف سٹاف جنرل نعیم کہتا ہے اسے بھی چھوڑ دو۔ میں نے پوچھا تاکہ تو اسے بھی نکاح کی آفر کر دے؟

پھیرو کو نکالنے کے اگلے دن میں اس کے آگے آنکھیں میچتے بانچھیں کھلائے خود پھیرو ہوگیا۔ لیکن روحانیت امتحان مانگتی ہے۔ روحانیت مجھ سے دو گھنٹے میں نصف درجن امتحان دینے کا حوصلہ رکھنے والی پھیرو کی انسانی شکل سراد معید مانگ بیٹھی۔ سراد معید جس نے دوران ہجر میری وہ مرادیں بھی پوری کیں جو سعید بھی نہیں تھیں۔ سراد معید جس کی جانب سے ناموس سیاست کا دفاع کرنے کی گواہی پارلیمان دیتی ہے۔ سراد معید جس نے اچھے اچھوں کو ماپی مانگنے پر مجبور کیا۔ کہتے ہیں قربانیوں میں سب سے اعلی قربانی اپنے لیڈر کے آگے جھک کر اپنا تن من دھن وغیرہ سب کچھ دان کر دینا ہی ہے۔ بیشک سراد معید ناموس سیات میں اپنا “سب کچھ” لٹانے والا سپوت ہے۔ سراد معید کی قربانیوں کے آگے میں جتنے پنّے سیاہ کر دوں سیاہی ہٹ نہ پائے گی۔ روحانیت کے مطابق سراد معید بھی شیروانی کے راستے میں روڑا تھا لہذا مجبوراً اسے بنی گالا سے کوسوں دور جانے کا حکم دیا۔ یوں پھیرو کے برابر والا خاموش اور پرنم کوارٹر اپنے خوبصورت مکین سے خالی ہوگیا۔ محبت کا ایک باب تھا جو تمام ہوا۔ 

سراد معید اور پھیرو کے جاتے ہی میں نے روحانیت سے لو لگانے کی ٹھانی مگر روحانیت ہے کہ رہبانیت سے باہر آنے کو نہیں دے رہی۔ میں نے جب جب اہتمام کے ساتھ اصرار کیا وہ بولی اپنی نہیں تو میری عمر کا لحاظ کر لے۔ ایسی تو تڑاخ میری روح پہ وہ کچوکے مارتی ہے کہ روح لیک ہونے کے راستے ڈھونڈنے لگتی ہے۔ میں نے بیزاری اور بوریت کے ہاتھوں ڈرامے دیکھنے شروع کر دیے۔ پیارے افضل دیکھا۔ بڑا مزا آیا۔ گھنٹوں بیٹھا افضل کو دیکھتا رہتا۔ جنرل نعیم سے کئی بار کہا کہ ڈرامے کے مرکزی کردار افضل کو ڈھونڈو اور اس نشئی کو پاؤڈر کی لعنت سے نجات دلواؤ۔ جنرل نعیم نے پوری محنت اور جانفشانی سے آخرکار عباسی خاندان کا نشئی چشم و چراغ ڈھونڈ نکالا۔ خوب رگڑنے پہ افضل علی عباسی باہر نکلا۔ افضل زبان کا تھوڑا تیز ہے، جذباتی بھی ہے، جھوٹا بھی ہے، مکار بھی، فحش گو بھی ہے، منافقت بھری تبلیغ بھی کرتا ہے لیکن سب کچھ کے باوجود دل کا بڑا اچھا ہے۔ اتنا اچھا اتنا اچھا کہ جب پھیرو اور سراد معید ساتھ چھوڑ گئے تو پیارے افضل نے مجھ تنہائی کے مارے کو اپنے کمرے میں جگہ دی۔ میری دلجوئی کے لئے افضل اکثر میرے سامنے گھوڑا بنتا اور ہنہنا کر دکھاتا۔ 

ہمارا یہی پیار ہمارے مشترکہ دشمنوں کو پسند نہ آیا جو آج ہم پر کتاب چھاپنے کو ہیں۔ میں نے جی ایچ کیو کی جانب صلواۂ حاجت ادا کرتے عرضی بھی پیش کی کہ یہ کتاب میری شیروانی کو عنقریب لگنے والے کلف تک روکی جائے مگر خداوندانِ عساکر نے صاف انکار کر ڈالا۔ کہنے لگے تم لاکھ جاذب و حسین سہی زندگی جاذب و حسین نہیں، مت کرو بحث ہار جاؤ گے تم درانی کی کتاب جتنی بڑی دلیل نہیں۔ 

پیارے افضل نے مجھے بہت سمجھایا کہ خان صاحب کچھ تو بولیں۔ میں نے صاف بتا دیا کہ یہ ہنہنانے والا کام تو تم ہی خوب کرتے ہو، کرتے رہو۔ کتاب لکھنے والے دشمن پہ جس کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا، اپنی ریحام زدگی شروع کر دی ہے۔ مگر میں بھی کم نہیں۔ بڑے لڑکوں کی مدد سے اپنے اس دشمن کی گلی بھی پھڑکا کر چھوڑوں گا۔ 

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *