وفا کی موت۔۔۔ روبینہ فیصل

بیک یارڈ کی طرف کھلنے والی کھڑکی پر زور زور سے دستک ہو رہی تھی،گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ سے قلم چھوٹ گیا، نہیں، اس سے پہلے اس کے قلم کی نوک پر رکھی کہانی، جو صفحے کے سینے میں اترنے ہی والی تھی، پھسل کر زمین پر گر ی تھی۔ وہ کہانی بہت سالوں سے اس کی منت سماجت کر رہی تھی،وہ دنیا کی نظروں میں آنا چاہتی تھی۔ قلم والی لڑکی، خوفزدہ تھی، وہ نہیں چاہتی تھی کہ دنیا ایسا کڑوا سچ،اس کے قلم سے سنے، اس طرح اس کی اپنی آبرو خطرے میں پڑسکتی تھی۔آبرو؟ اس کی آبرو، تو اس کی اپنی کہانی سے بھی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔اسی لئے اس آبرو کے چکر میں وہ کئی سالوں سے اس کہانی کو اور اپنی کہانی کو ٹال رہی تھی، اسے اپنی عزت بڑی پیاری تھی۔۔

ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔ وہ گھبرا گئی، قلم پکڑے، یا کہانی، یا وہ دستک۔۔؟
ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔۔۔۔دستک کا زور بڑھنے لگا اور وہ سب سوچیں وہیں چھوڑ چھاڑ کر ادھر کو بھاگی۔ کیا دیکھتی ہے، وہاں ایک اور کہانی سیاہ بال بکھرائے کھڑی ہے، اس کی آنکھوں میں کاجل پھیلا ہوا تھا اور وہ فریادی انداز سے پکاررہی تھی؛ مجھے اندر آنے دو، خدا کا واسطہ ہے مجھے اندر آنے دو۔
قلم والی لڑکی سہم کر اسے تکے جا رہی تھی، ابھی وہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ دروازہ کھول کر ایک اور روتی پیٹتی کہانی کو اندر آنے کا راستہ دے دے یا وہیں سے واپس کر دے۔ کہا نی رو رو کے کہہ رہی تھی: میلوں دور سے آئی ہوں، صدیوں کی مسافت ہے،مجھے اپنے قریب آنے دو۔لڑکی نے گھبرا کر زمین پر بکھری کہانی کو دیکھا، جو اس کے قلم سے پھسل کر فرش پر گر گئی تھی۔ یہ فرش پر پڑی کہانی اور یہ باہر کھڑی کہانی، یہ دونوں ایک جیسی شکل کی کیوں لگ رہی ہیں۔ کیا یہ جڑواں کہانیاں ہیں؟ لیکن غور کر نے پر اسے دونوں کہانیوں میں عمر کا بڑا واضح فرق محسوس ہوا۔

باہر کھڑی مسافر کہانی عمر میں کم تھی، اس کی جلد ملائم اور چمکدار تھی، فرش پر بکھری عمر کا تین چوتھائی گذار چکی تھی، اس کے چہرے کی جلد کھردری اور ڈل تھی۔یکا یک لڑکی نے باہر کھڑی کہانی کے ہونٹوں پر پیاس سے جمی ہو ئی پپڑیوں کو شدت سے اپنے دل میں محسوس کیا۔اس کا نرم دل کانپا اور اس نے جھٹ سے کھڑکی کے پٹ کھول دیئے، باہر کھڑی کہانی نے ایک جست لگائی اور لڑکی کے سینے سے آ کر لپٹ گئی۔ لڑکی کے اندر اس مسافر کہانی کا درد اترنے لگا اور وہ نجانے  کیوں رونے لگی۔ زمین پر بکھری کہانی، بھی رونے لگی، لیکن اس کے رونے کی وجہ مسافر کہانی کا درد نہیں تھا بلکہ وہ اس وہم میں پڑ گئی کہ کہیں لڑکی کے دل میں نئی کہانی کا درد، اس کے درد سے زیادہ مقام نہ حاصل کر لے اور وہ اسے بھول کر مسافر کہانی کو لکھنے نہ بیٹھ جا ئے اور وہ سوچ رہی تھی:

“یہ دونوں تو جوان ہیں، میں تھک گئی ہوں، مجھے فوری توجہ اور پھر علاج کی ضرورت ہے ورنہ میرا بچنا مشکل ہے۔۔۔” وہ شک بھری نظروں سے دونوں کو دیکھتی رہی مگر خاموش رہی اور صرف روتی رہی۔کسی کے ساتھ مل کر رونے کا یہ فائدہ ہو تا ہے کہ دکھ اپنے پر بھی رو رہے ہو ں تو دوسرے سمجھتے ہیں کہ ہمارے غم میں برابر کے شریک ہو رہے ہیں۔
اسے روتا دیکھ کر مسافر کہانی کو بھی یہی گمان ہوااور اس نے بڑھ کر اسے زمین سے اٹھاکر سینے سے لگالیا اور پھر جو دونوں مل کے بچھڑی سہیلیوں کی طرح اس طرح روئیں کہ برسوں سے چھپے آنسو بھی اس برسات میں بہہ گئے۔

یہ سب دیکھ کر لڑکی جلدی سے اپنی لکھنے والی میز پر جا بیٹھی اور دونوں کہانیوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور اکھٹی ہو کر اس کے قلم کی نوک کے نیچے، صفحے کے اوپر، جا بیٹھیں۔۔لڑکی مسکرانے لگی، اس نے دونوں کو اپنے دائیں بائیں بیٹھنے کا اشارہ کیا:
اب تم دونوں فیصلہ کر لو کہ کاغذ پر پہلے کسے اتارنا ہے؟
دونوں کہانیاں یک زبان ہو کر بولیں: “مجھے۔۔۔” لڑکی آنسوؤں کی اوٹ سے پھر سے ہنس دی۔
“ہم دونوں کو ایک ساتھ۔۔ اتار سکوں گی ایک ساتھ، ہم دونوں کو، اکھٹے؟دونوں نے لڑکی کی طنزیہ ہنسی کو دیکھ کے فورا بیان بدل دیا۔

“ہم ایک دوسرے سے میلوں دور تھیں، مختلف براعظموں میں، مختلف موسموں میں، مختلف دن اور راتوں میں مگر ہمارا ظہور ایک ساتھ ہو ا ہوگااسی لئے تو مجھے الہام ہوا تو میں سمندر اور صحرا پار کر کے یہاں آگئی، مجھے تمھارے دروازے کا راستہ نہیں مل رہا تھا، اس لئے پیچھے کی کھڑکی سے سر ٹکرا رہی تھی، مگر جانتی تھی کہ میری ہم  زاد کہانی اسی گھر میں پناہ لئے ہو ئے ہے۔”
“جانتی ہو اے لڑکی!! میں جس پر بیت رہی تھی، اسے یہاں تک آنے کے لئے ویزے کی ضرورت تھی، مجھے نہیں۔۔اس لئے میں بس آگئی، اپنے دل کے نیویگیٹر سے راستہ پوچھتے پو چھتے۔۔۔۔۔۔”

قلم والی لڑکی متاثر ہو ئے بغیر نہ رہ سکی “تو تم دونوں ایک ساتھ پیدا ہو ئی ہو، مگر مختلف جگہوں پر۔۔مگر کیا تم دونوں ایک جیسی ہو؟مجھے دیکھتے ہی لگا تھا کہ جیسے تم لوگ  جڑواں ہو ۔۔مشابہت ناقابل ِ یقین ہے حتیٰ  کی تم دونوں کے بال بھی ایک ہی طرز پر بکھرے ہو ئے ہیں اور آنکھوں میں کاجل بھی بالکل ایک جیسا۔۔بولو؟ تم دونوں ایک جیسی ہو؟ ”
دور سے آئی کہانی نے اپنی آنکھوں میں پھیلے کاجل کو پاس پڑے ٹشو سے صاف کیا اور بولی:” اس کا فیصلہ تم خود کر نا۔۔پہلے ہمیں سن لو۔۔ ہم باری باری اپنی بات کہیں گی۔۔ پہلے میری سن لو کیونکہ مجھے یہی طویل سفر طے کر کے واپس بھی جا نا ہے۔۔۔”

لڑکی اور پہلے سے موجود کہانی کی خاموشی کو اس نے رضامندی جا نا اور شروع ہو گئی:
“تو سنو!!میں وہ کہانی ہوں جس میں تنہائی اور جدائی ہے اور ان دونوں کے کرب نے میری روح کو چاروں طرف سے اندھیرے سے ڈھانپا ہوا ہے۔ میں روشنی لانا بھی چاہوں تو نہیں لا سکتی۔میں جس دیس سے آئی ہوں،تم دونوں کا آبائی وطن بھی وہی ہے۔ اس دیس کی خاص بات تو تم دونوں کو پتہ ہی ہو گی کہ وہاں کوئی کسی کی بات نہ سنتا ہے اورنہ سمجھتا ہے اور میں تو ایک لڑکی کی کہانی ہوں، اس لئے اور بھی  ز یادہ گونگی اور بے بس ہوں۔ میرا بدن ابھی تک کنوارا ہے مگر محبت کی رسمیں نبھائے بغیر ہی اس عمر میں ہی محبت میں ناکامی کا سب سے بڑا اور شاید  آخری دھوکہ یا دکھ اٹھا چکی ہوں۔میرے اندر محبت کے حمل کا سب سے بڑا اسقاط،وقو ع پذیر ہو چکا ہے۔

فرش پر بکھری کہانی، جو اب، قلم والی لڑکی کے بائیں ہاتھ بیٹھی تھی، دائیں طرف بیٹھی اس مسافر کہانی کو حیرانی سے تکنے لگی   اور قلم والی لڑکی کو مخاطب کر کے بولی: میری محبت کا بھی تو اسقاط ہو گیا ہے، عمر بھر کے لئے، رہتی دنیا تک۔۔ کیا نہیں ہوا؟ اسی لئے تو میرے بال بھی بکھرے ہو ئے ہیں اور آنکھوں کا کاجل پھیل چکا ہے۔۔ ہاں اسی لئے یہ میری ہم  زاد نظر آرہی ہے مگر نہیں۔۔ نہیں اے قلم والی لڑکی نہیں، میرا دکھ زیادہ بڑا ہے،اس نے تو محبت کی رسمیں ادا ہی نہیں کیں، اور میں اس مندر کے باہر کسی داسی کی طرح اپنا تن من دھن سب لٹا بیٹھی ہوں۔ اس کی تو فقط روح گھائل ہے، میرا نقصان تو جسمانی بھی ہوا ہے۔”
مسافر کہانی ہڑ بڑا کر بولی:” اے قلم والی!! اے کاغذ والی!!محبت کے سودے میں،جسم تو بس ایک اضافی چیز ہو تی ہے، مفت کا ایک چونگا سا، جومہربان دکاندار کبھی کبھار خوش ہو کر بچوں کو دے دیا کرتے ہیں۔۔ ویسا ہی چونگا، اسی طرح جسم کو، روح دینے والا، خوش ہو کر ایسے ہی ساتھ باندھ دیتا ہے۔نقصان کی صورت میں،جسم کا نقصان بھی کوئی نقصان ہے؟ اصل سودا تو روح کا ہے، وہ تباہ تو سب تباہ۔”مسافر کہانی نے اسے ان سنا کرتے ہو ئے اپنی بات جاری رکھی:

“میری محبت یک طرفہ  تھی۔ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا تھا، مگر میں یہ سوچ کر مطمئن تھی کہ وہ مجھے نہیں چاہتا تو کیا ہوا، کسی اور کو بھی تو نہیں چاہتا۔میرا نہیں ہو تا تو کسی اور کا بھی تو نہیں ہے نا۔ اس میں ایک” آس” زندہ تھی کہ ایک دن جب اس کو میری محبت کی سچائی کا احساس ہو گا تو وہ بھی مجھ سے محبت کر نے پر مجبور ہو جائے گا۔اس کا دن بھر میں ایک ٹیکسٹ میسج، ہفتے بھر میں ایک ای میل، مہینے بھر میں ایک فون کال، اور سال میں ایک دفعہ پہاڑوں کی اس وادی میں ملنے آنا اور ایک گھنٹہ میری نذر کرنا۔۔بس میں اتنے میں ہی خوش تھی۔وہ کافی کا مگ تھامے، بہتے چشمے کو دیکھتا، تو میں اسے دیکھنے اور یہ دعا کر نے میں مشغول رہتی کہ کاش! یہ وقت یہیں رک جائے۔ یہ پانی اپنے ساتھ ساری دنیا کو بہا لے جائے اور بس ہم دونوں کو یہیں ایسے ہی اسی وقت میں چھوڑ جائے۔۔”

لڑکی نے قلم کی نوک سے لفظوں کو کاغذ کے سینے پر اتارتے ہو ئے پو چھا:” اور تب ہی وہ کم بخت محبت کے وہ وعدے کرتا ہو گا، جو اس کا نبھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہو گا؟”
مسافر کہانی نے لمبی سانس اپنے اندر کھینچی اور سسکی: “نہیں اس بختوں والے نے مجھ کم بخت سے کبھی جھوٹا وعدہ بھی نہ کیا تھا۔ میں تو ترستی تھی کہ کاش وہ جھوٹ ہی سہی، محبت کے نام پر کچھ تو بول دے۔ وہ تو بس تاریخ، فلسفہ اور آرٹ و ادب کی سچی سچی باتیں کرتا رہتا۔ دنیا کو بدلنے کی، دنیا کو رہنے کے لئے اچھی جگہ بنانے کے نت نئے منصوبے بناتارہتا۔ وہ تو بس میرے ذہن سے باتیں کرتا تھا، میرا جسم اسے پکارتا ہی رہا مگر اس نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔۔۔مجھ کم بخت سے جھوٹی موٹی ہی کی محبت کر جا تا۔۔ ”

بائیں ہاتھ بیٹھی کہانی اور لڑکی دونوں نہ چاہتے ہو ئے بھی کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔۔۔۔
مسافر کہانی کی آنکھیں بھیگ گئیں “بالکل ایسے ہی ہماری باتوں کے ڈھیر پر بیٹھ کر پرندے میرا مذاق اڑایا کرتے تھے، جیسے کہہ رہے ہوں,صرف باتیں ہی باتیں۔۔؟ اس طرح تو ہم پرندے بھی اپنی ملاقات میں نہیں کرتے۔۔۔”
دونوں پھر سے ہنس پڑیں۔۔۔

مسافر کہانی بولتی گئی: وہ چلا جا تا تو میں روز اس جگہ پر جا کر بیٹھتی جہاں وہ بیٹھ کے گیا ہو تا، اس کی باتوں کا لمس اپنے  گالوں پر محسوس کرتی اور وہاں کی ہواؤں میں گھلی اس کے بدن کی خوشبو میں گم رہتی۔ اس کا چھوڑا ہوا کافی کا مگ اپنی الماری میں سنبھال کے رکھ دیتی۔میری بلیاں میری توجہ کے لئے بے چین ہو جاتیں تو میری گود میں آ کر لیٹ جا تیں اور ان کی آنکھیں مجھ سے شکوہ کرتیں: “بس کردو، ہمیں دیکھو، ہم تم سے محبت کرتی ہیں جو محبت نہیں کرتا اس کو یاد کرتی رہتی ہو، جو تم پر جان دیتی ہیں ان کی طرف دیکھتی تک نہیں۔۔ ایسے نہیں ہو تا۔ایسے نہیں کرنا چاہیے ۔۔” میں ان سے شرمندہ ہو جاتی، مگر ان کے لئے کچھ کر نہ پاتی، محبت شاید ایسی ہی ہوتی ہے،منت سماجت سے حاصل نہیں کی جاسکتی، نہ رعب ڈال کے۔۔ ہے نا؟”
وہ دونوں چپ رہیں۔۔ وہ اس کی بات ختم ہونے کا بے چینی سے انتظار کر رہی تھیں۔۔۔۔

“پھر اس کا ایک دن میں ایک میسج آجاتا تھوڑا سکون مل جاتا، ایک ہفتے میں ای میل آنے پر تھوڑی اور پرسکون ہو جاتی اور مہینے بعد جب ایک فون کال آجاتی تو مجھ میں اگلے سال ایک گھنٹے کی ملاقات کا انتظار کر نے کی طاقت آجاتی۔اور ایک دن یوں ہو ا، بالکل غیر متوقع طور پر،کہ مہینے میں اس کی دوسری فون کال آگئی۔۔ میں تو خوشی کے مارے پاگل ہی ہوگئی کہ شاید  میری یاد نے اسے بھی بے تاب کر دیا۔وہ بھی بہت خوش تھا، زندگی میں پہلی دفعہ میں نے اس کے قہقے سنے۔۔ بات بے  بات ہنس رہا تھا۔ وہ سدا کا سنجیدہ انسان، ایکدم شوخی سے بولا: لو سنو!! میں شادی کر رہا ہوں۔۔ میں جو تمھیں کہتا تھا، میں شادی کر ہی نہیں سکتا۔۔ میں جو تنہا رہنے کا اتنا عادی ہو چکا تھا،میں شادی کر رہا ہوں۔۔میں یعنی کہ میں۔۔وہ سنجیدہ سے شوخ ہو چکا تھا،وہ بدل چکا تھا۔۔میرا محبوب بدل چکا تھا۔ میری یک طرفہ محبت کو آگ لگ چکی تھی۔۔۔میرے ہاتھوں سے فون پھسل کر زمین پر گر گیا۔۔ میں نے اسے وہیں پڑا رہنے دیا، اور چشمے کی طرف بھاگی، وہاں پانی میں آگ لگی ہو ئی تھی اور گھاس جس پر وہ بیٹھتا تھا، وہ بھی جل چکی تھی۔”
قلم والی لڑکی نے سہمی آواز میں پو چھا: اور پرندے۔۔۔۔”

وہ دھاڑے مار مار کر رونے لگی۔۔” پرندے بھی سب ہجرت کر چکے تھے۔۔۔ بڑے چالاک تھے، میرے آنسو نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔۔ ان کا موسم تو وہی تھا، بہا ر کا موسم، لیکن میرا موسم بدل چکا تھا،وہ میرے بدلے موسم کے صدقے، اڑ گئے تھے۔۔۔اس سنگدل سے زیادہ تو انہیں میرے درد کا احساس ہو گیا تھا۔۔ کیا پرندے انسانوں سے زیادہ دوسرے کی تکلیف کا احساس رکھتے ہیں؟اگر وہاں میرے دوست پرندے موجود ہو تے تو میں نے انہیں سمجھا دیتی کہ سنو تو سہی، اس نے مجھ سے کوئی جھوٹا وعدہ نہیں کیا تھا، وہ اسی لئے ملاقات میں صرف باتیں کرتا تھا، کہ میرے جسم پر کوئی ناسور نہ بن جائے لیکن وہاں اس “سنگدل” کی صفائی سننے نہ کوئی پرندہ تھا، اور نہ وہ خود۔۔ میں اکیلی خود کو تسلیاں دیتی، اپنے آنسو صاف کرتی رہی۔قلم والی لڑکی۔۔مجھے کاغذ پر اتار دو۔۔۔۔مجھے مکتی دلا دو۔۔۔۔”

قلم والی لڑکی کا سانس رکنے لگا جو ایک بھرپور بے وفائی کا زخم سینے میں دبائے بیٹھی تھی مگر لکھنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔وہ اپنی کہانی کو سب کے سامنے ننگا نہیں کر سکتی تھی، وہ گوٹے کناری والے کپڑے سے دھوکے کو ڈھانپے بیٹھی تھی کیونکہ اس کی عزت کا سوال تھا لیکن اس یک طرفہ محبت کی کہانی کا منہ بند کروانے کے لئے اسے بولنا ہی ہو گا ورنہ وہ بے وقوف یہی سمجھتی رہے گی کہ دنیا میں سب بڑا ظلم اس کے ساتھ ہی ہوا ہے۔ اسے بتانا ہی پڑے گا کہ یک طرفہ محبت کا غم ایسے ہی ہے جیسے پیٹ میں ہی بچہ مر جائے۔ لیکن جو بچہ پیدا ہو اور اسے دو جی مل جل کر پال پوس رہے ہوں،اس کے مستقبل کے خواب دیکھ رہے ہوں عمر بھر ساتھ نبھانے کا، وعدے کررہے ہوں او رپھر اچا نک ایک جی نظریں چرا نا شروع ہو جائے اور پھر ایک دن مشترکہ بچہ شروع میں ہی چھوڑ دے۔۔ نامکمل بچے کی طرح ہی۔

وہ ابھی بھی چاہ رہی تھی کہ اپنی کمزوری عیاں نہ کرے، قلم کی نوک سے اپنی کہانی نکلنے نہ دیں،اور توجہ صرف دائیں بائیں بیٹھی کہانیوں پر دے۔وہ تو اور وں کا دکھ لکھنا جانتی تھی، اپنا کیسے کہہ دے اور اپنا تو اسے بھرم بھی رکھنا تھا، آخر کو سارے خاندان سے جھگڑا مول لے کے اس شخص سے شادی کی تھی۔۔۔ نہیں نہیں میری کہانی نہیں۔۔کبھی نہیں۔
اس نے اپنی کہانی کو پو را زور لگا کے دماغ سے جھٹکا اور دھیان مکمل طور پر بٹانے کے لئے، بائیں طرف بیٹھی کہانی کی طرف متوجہ ہو ئی: تم بولو، تمھاری شکل اس پردیسن سے کیوں مل رہی ہے؟ تمھیں کس نے چھوڑا؟ محبوب نے یا خاوند نے؟

میں اتنی سیدھی نہیں ہوں یعنی میں کوئی سادہ کہانی نہیں ہوں،میرا مسئلہ ذرا پیچیدہ ہے۔ اس میں میرا “جرم “بھی شامل ہے لیکن پہلے سنو!! پھر تم لوگ خود ہی فیصلہ کرنا، میں چور ہو ں یا ساہوکار،میری بربادی کا آغاز خاوند کی لا تعلقی سے شروع ہوا، نہیں اس سے بھی پہلے مجھے، ہجرت کا غم اور گھر کی تنہائی کھا رہی تھی۔۔ جانتی ہو نا ہجرت اور ہجر کا کرب جب کسی کے اندر اکٹھا اُگ آئے تو کیسی چھوٹی بڑی پھپھوندیاں پورے بدن پراگ آتی ہیں؟ میری موت ہجرت کے بعد سے شروع ہو چکی تھی، مجھے اپنے گھر کا آنگن یاد آتا تھا،مجھے وطن کی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو چین نہیں لینے دیتی تھی۔ مجھے اپنا بچپن، جوانی،کالج، گلیاں اور وہاں رہ جانے والے گندے مندے لوگ، غریب رشتے دار، نٹ کھٹ سہیلیاں سب سانس رکنے کی طرح یاد آتے رہتے تھے۔ میں مضبوط رہنے کی کوشش میں لگی رہتی، بچوں کو بھی تو پالنا تھا، شوہر اپنے آپ کو یہاں کے نظام میں اپ ڈیٹ کر نے میں لگ گیا، ظاہر ہے گھر کا خرچہ اسی کی تو ذمہ داری تھا، وہ ترقی کرتا تو ہی ہمیں عزت کی روٹی اور سر چھپانے کا ٹھکانہ مل سکتا تھا، غلطی کسی کی بھی نہیں تھی، بس میں سکڑتی گئی۔۔مجھ سے بات کہنے سننے والا کوئی نہ تھا۔

اور پھر ایک منحوس دن” وہ” کم بخت آگیا میرے تابوت پر آخری کیل ٹھونکنے۔ مجھے یاد ہے جب اس نے میری تنہائی اور آنکھوں میں چھپی اداسی کو بھانپ کر میری طرف پہلا جال اچھالا تھا تو میں بچ گئی تھی۔ مگر پھر نہ جانے کب کہاں کیسے ، میں اس کے بار بارپھینکے جانے والے جالوں میں سے کسی ایک جال میں بری طرح پھنس گئی۔ شروع شروع میں،میں نے نکلنے کے لئے بہت ہاتھ پاؤں مارے، مگر پہلے میرا دل اور پھر دماغ بھی بے بس ہو گیا۔ صدیوں کی تنہائی مٹنے لگی۔میں زندگی کی طرف لوٹنے لگی۔یہ زندگی ادھار کی اور ناجائز ضرور لگتی تھی مگر زندگی تو زندگی ہی ہے۔۔اس میں کیا جائز اور کیا ناجائز۔۔ ہے نا؟”

پردیسن کنواری کہانی نے جھٹ سے جواب دیا “ہاں!! میں نے بھی یہی سوچ کر دل کو تسلی دے رکھی تھی کہ محبت میں جائز ناجائز کچھ نہیں ہو تا۔ اور ویسے بھی اس کے پاس بیٹھ کے دین و دنیا کے سب قاعدے قانون، سب بھول جاتی تھی اور ویسے بھی “محبت میں سب جائز ہے” کے نعرے بچپن سے سن رکھے تھے۔۔ہڈیوں تک اتری تنہائی سب حلال بنا دیتی ہے اور مذہب بھی تو یہی کہتا ہے کہ جب جان کے لالے پڑے ہوں تو حرام کھا یا جا سکتا ہے۔۔ ہے نا؟ ”

دونوں کہانیوں کے غیر متوقع ایک جیسے سوال نے، قلم کار لڑکی کو سوچنے کی مہلت نہ دی۔۔ اس کا سر نہ انکار میں ہلا اور نہ اقرار میں۔۔وہ بس انہیں دیکھتی رہی جیسے کوئی بھی رائے دینے کی پوزیشن میں نہ ہو۔۔۔اس کو خاموش بیٹھے دیکھ کر بائیں ہاتھ والی کہانی پھر سے بولنا شروع ہو گئی:”میں نے اپنا سب کچھ اس پر وار دیا، اپنی اور اپنے گھر کی عزت، اپنامان،برسوں کا جوڑا ہوا اعتماد، سب ایک جھٹکے میں اس کے سپرد کر دیا۔ میری محبت پردیسن کی طرح یک طرفہ نہیں تھی۔ کاش!! اللہ کی قسم!!یک طرفہ ہی ہو تی، تو جھوٹے وعدوں کی کرچیاں میرا کلیجہ تو نہ چھلنی  کر تیں۔۔۔اس نے میرے تنہائی کے مارے جسم کے ایک ایک سیل میں محبت کا شیرہ بھر دیا۔وہ مجھے احساس دلاتا کہ دنیا میں بس وہ ہی ہے جوسب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔اور میرا خاوند تک تو میری قدر نہیں کرتا۔۔ اس نے میری نظروں میں مجھے اوپر اٹھانا شروع کر دیا ”

تو کیا ایسا نہیں تھا۔۔؟قلم والی لڑکی ابھی تک اپنی ہی کہانی کو سب سے دردناک کہانی سمجھ رہی تھی مگر یہاں تو۔۔۔
نہیں!۱ ایسا کیوں نہیں تھا ،ایسا ہی تھا، میں کوڑیوں کے مول وہاں پڑی تھی، مٹی ہوئی ذات کے ساتھ۔۔لیکن اس سے پہلے اس کی شدت کو سنو، وہ مجھے کہتا تھا کہ میں اس کی روح ہوں اور میں صرف اس کی ہوں، نکاح والے کاغذ پر دستخط کسی اور کے ہیں تو کیا ہوا دل پر اور جسم پر تو میری مہر ثبت ہے۔۔ میں خوش ہو تی رہی اور وہ میرے ماتھے پر پڑنے والی تیوری سے اپنا ٹائم ٹیبل سیٹ کرتاتھا۔۔ بے نشان چیز کو کوئی کھوج تو لے بڑی بات ہو تی ہے۔ میں اور میری خوشی آپے سے باہر ہو نے لگیں۔ پھر نہ جانے کیوں اچانک مجھے ایک عجیب سی انٹیوشن ہو نے لگی،کھو دینے کا اضطراب بڑھنے لگا کہ نہ جانے کب یہ بے بنیاد رشتہ ختم ہوجائے، اورمیں زمین پر آگروں۔۔ مجھے لگنے لگا کہ وہ کبھی بھی مجھے چھوڑ کر چلا جائے گا ۔۔ جیسے ابلنے سے پہلے دودھ میں ایک دم ابال آتا ہے اور وہ فرش پر جا پڑتا ہے، مجھے لگا یہ ابال بیٹھنے والا ہے،ا س کی یہ شدت ختم ہو نے والی ہے۔۔۔ ”

پردیسن کہانی جو ملاپ کی اس کہانی میں اپنی ادھوری محبت کا دکھ بھول کر لمس کے لمحات تطہیر کر رہی تھی چونک اٹھی: تو کیا وہ وہم درست تھا؟”
“محبت میں وہم نام کی کوئی چیز نہیں ہو تی، اضطراب کی کیفیت جھوٹی نہیں ہو تی، جس کے دل میں سچی محبت ہو تی ہے اس کے دل میں جدائی کی گھنٹی قبل از وقت بالکل اس طرح بجنے لگتی ہے جیسے مرنے والے کے کان میں موت کے فرشتے کا گھنگورو بجنا شروع ہو جاتا ہے اورمیرے کانوں میں وہ گھنگرو زور زور سے بجنے لگا، میں چڑچڑی ہو نے لگی، کھو دینے کا ڈر میرے جسم میں پھیلنے لگا۔۔

تم مجھے چھوڑ تو نہیں جا ؤ گے؟کیا تم مجھ سے یونہی محبت کرتے رہو گے؟تم بدل تو نہیں جا ؤ گے؟ تم ہمیشہ میرے ہی رہو گے نا؟ اور وہ بڑے مضبوط انداز میں مجھے کہتا تھا:میں نے اب کہاں جانا۔میں تمھارے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتا۔۔ میں کسی اور سے محبت کر ہی نہیں سکتا۔ میں تمھارا غلام ہوں،ایسے ہی رہوں گا۔۔ہمیشہ،تمھاری قسم، اپنی ماں کی قسم، اپنے پیدا کرنے والی کی قسم۔۔۔۔۔اور میں ان قسموں کے سحر میں کھو سی جاتی۔۔۔۔مگر ایکدن وہ ساری قسمیں اسی طرح بیچ راہ میں چھوڑ کر، بھاگ گیا۔ اور پتہ ہے جب اس کا آخری پیغام آیا تو اس میں کیا لکھا تھا: میں کب تک تمھاری اداسیوں کو دور کرتا رہوں گا، مجھے کوئی ایسا چاہیے  تھا جو مجھے سنبھال لے۔ تم تو خودٹوٹی پھوٹی ہو تم کسی کو کیا سنبھال سکتی ہو۔۔ میں تمھاری روز روز کی لڑائیوں سے تنگ آگیا ہوں۔۔ مجھے اب جانا ہی ہو گا۔۔ موو آن کرنا ہے مجھے۔۔ ”

پردیسن کہانی اور قلم والی لڑکی کا دل دھک سے رہ گیا، تو کیا اسے کوئی اور مل گیا تھا؟ ”
“ہاں!! ایسا ہی ہوا تھا، مگر وہ محبت کے سب غداروں کی طرح اپنی غداری کا سارا الزام مجھ پر ڈال کر فرار ہو ا تھا، میری ذات میں اتنے کیڑے ڈال کے گیا، کہ اپنا وجود کیڑے جیسا لگنے لگ گیا تھا۔ میں وہ تھی جس نے اپنا گھر بار جسم پیار سب اس پر لٹا دیا،اسے کوئی اور ملا تو وہ کتنے سکون سے کسی اور کی ذات میں جا گم ہوا۔۔ جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔ جیسے میں کبھی تھی ہی نہیں۔ بولو!! دور پہاڑوں سے آنے والی لڑکی بولو!! جب شدت سے پیار کر نے والی نظریں بدل جائیں تو قبر میں بے جان جسم پر جیسے کیڑے رینگتے ہو نگے، بالکل ویسا احساس مردہ دل میں پیدا ہو تا ہے نا؟ایسا لگتا ہے نہ جیسے کسی کی یہ بددعا کہ تمھیں سانپ کاٹ جائے اور پینے کو پانی نہ ملے،وہ پو ری ہو گئی ہو؟، جیسے جسم پر فالج گر جائے،انسان سارے کا سارے بے حرکت ہو جائے۔۔ یہی ہوتا ہے نا؟بڑے بڑے وعدوں کے ٹوٹ جانے کے بعد؟ یہی ہو تا ہے نا؟۔۔۔

تمھیں کیسے پتہ ہو گا؟تمھارا محبوب تو بہت قابل ِ ستائش نکلا، نہ اس نے تمھارے دامن میں جھوٹے وعدوں کے ڈھیر لگائے اور نہ انہیں بعد میں ہتھوڑے سے کوٹ ڈالا،نہ تمھارے اندر مصنوعی آکسیجن بھری کہ جس کے نکل جانے کے بعد تمھارا دم بھی نکل جائے۔اس کی سنجیدگی جب ٹوٹی تو تمھیں لگا وہ بدل گیا۔ میرے محبوب کی تبدیلی زیادہ زہریلی تھی،وہ میرے ساتھ جھوٹے قہقے لگاتا رہا اور جا نے سے پہلے اس کی آنکھوں میں ایسی بے رحمانہ سنجیدگی تھی کہ آج تک نظروں سے دنیا کا وہ مکروہ ترین منظر نہیں ہٹتا۔۔سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے، کیا کوئی دوائی ایسی نہیں بنی، جو ایسے ڈراؤنے مناظر یاداشت سے ڈیلیٹ کر دے؟تو اے پہاڑن کہانی!!یکطرفہ محبت کا ماتم نہ کر، جھوٹی محبت کے ڈسے انسان کی اذیت کا اندازہ کر۔۔۔”

مسافر کہانی ہار ماننے کو تیار نہ تھی،بھیگی آنکھوں سے بولی:” کم بخت مجھ سے جھوٹی محبت ہی کر جاتا۔۔ کچھ لمحے اس کے لمس کے، اس کے پیار کے، کچھ تو میرے دامن میں ہو تا، تم، جسے بے وفائیوں کی کر چیاں کہہ رہی ہو، میں انہیں محبت کی حسین یادیں سمجھ کر کسی قیمتی خزانے کی طرح دل میں دبا کر رکھتی اور کنجیاں دور کہیں سمندر میں پھینک آتی۔۔۔ اور یو نہی زندگی گذار دیتی۔۔ تم۔۔۔ ”
“چپ کرو کم بختو! قلم والی لڑکی دونوں کی تکرار سے تنگ آکر چلا اٹھی: تم دونوں ہی فضول کہانیوں ہو۔۔ ایک بدبخت اس محبوب کو بیٹھی رو رہی ہے جس نے اس سے محبت کی ہی نہیں اور دوسری اس دھوکے کو رو رہی ہے جو خود کھانے سے پہلے کسی اور کو دے چکی تھی۔یہ بھی کوئی دکھ ہیں؟ سنبھالو خود کو، فضول میں دکھی کہانیاں بنیں، بال بکھرائے، آنکھوں کو گلائے بیٹھی ہو۔۔ لعنت ہو تم دونوں پر۔۔۔دکھ تو میرا ہے، جو اتنا معتبر ہے کہ اس قلم سے نکلتا ہی نہیں، اس صفحے پر اترتا بھی نہیں۔میری کہانی کے الفاظ میرے سینے کے اندر دم توڑ رہے ہیں مگر میری ہمت نہیں پڑتی کہ میں انہیں دنیا کے سامنے لے آؤں اور اپنا تماشا بنا دوں۔۔۔جانتی ہو؟

وہ میری زندگی کا پہلا مردتھا، اس سے پہلے کسی غیر مرد کی طرف اس نظر سے دیکھا تک نہیں تھا، بات کرنا تو دور کی بات ہے۔۔ میری سوچ کہانیوں والی پریوں اورحوروں کی طرح پاک اور صاف ہو ا کرتی تھی اور میرے گھر والے آنکھیں بند کر کے میرے کردار کی گواہی دیتے تھے۔۔ جس لڑکے سے شادی ہو ئی اسی سے محبت ہو گئی، شدید محبت۔ جیسے بائیں بیٹھی کہانی نے کہا تن من دھن لٹا دیا، تو اس نے تو ناجائز محبت پر لٹایا، میں نے تو جائز محبت پر لٹا یا۔

محبت کوئی بھی ناجائز نہیں ہو تی۔۔ ابھی کہا تو تھا۔۔ بائیں ہاتھ بیٹھی کہانی نے دبے لفظوں میں احتجاج کیا۔
قلم والی لڑکی نے سنی ان سنی کر دی اور کہتی گئی: اسے تو وہ چھوڑ گیا تو دل کو تسلی دی جا سکتی ہے کہ مکافات عمل ہو گیا، کارما ہو گیا، مگر میں نے کیا کیا تھا؟ معصوم سی اور مختصر سی اس زندگی میں، میں نے کیا گناہ تھا؟ مجھے ایسا دھوکہ کیوں مل گیا، جس کا میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ جو کبھی میرے کسی ڈروانے ترین خواب میں بھی نہیں آتا تھا۔۔۔ ”
“دھوکہ؟ شوہر سے دھوکہ؟ “دونوں اکٹھی چلا اٹھیں۔۔

“ہاں!! شوہر سے، سوچو جس کے بچے کی میں ماں بن رہی تھی، وہ انسان مجھے کچھ کہے بغیر ہفتہ بھر کے لئے غائب ہو گیا۔ میں فون کرتی تو کہتا مصروف ہوں بعد میں بات کرتا ہوں۔ ویڈیو کال کرنے کی کوشش کرتی تو جو دور جا کر مجھ سے چوبیس گھنٹے ویڈیو ٹاک کے لئے تیار رہتا تھا، اس بے وفائی کے ہفتے میں مجھے کبھی کہتا سگنل نہیں آرہے اور کبھی کہتا فون ٹوٹ گیا ہے۔۔۔ جب کہ ان دس دنوں میں وہ کسی مردود عورت کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہا تھا۔ایسے جھوٹ ایسی مکاری؟ لیکن مجھے یہ بتاؤ۔۔تم دونوں بتاؤ مجھے کس بات کی سزا ملی۔۔؟کیا قدرت نے جو پاکیزگی اور سچائی کا پرچار کر نے میں لگی رہتی ہے،اس کے ہاں میری معصومیت، میری پاکیزگی، کا یہ انعام تھا؟

دونوں کہانیاں گم سم اسے دیکھتی رہیں۔۔۔۔ ان کی آنکھوں میں اداسی کی جگہ خوف اتر آیا تھا۔
ان کو یوں اداس ہو تے دیکھ کر قلم والی لڑکی غصے میں بھیگنے لگی، اس نے دائیں بیٹھی کہانی کی طرف دیکھتے ہو ئے کہا:
“تم یک طرفہ محبت کرتی رہی اور تمھاری شکل میری شکل سے ملنے لگی،مگر وہ تو مجھ سے محبت کے دعوے کرتا تھا، اور میرا شوہر تھابالکل اس طرح جیسے اس بائیں طرف  بیٹھی کہانی کا جھوٹا محبوب کرتا تھا۔۔ تو میری شکل اس پردیسن کہانی جیسی ہے جس کا محبوب اسے چھوڑ گیا تھامگر میری قسمت اس بائیں کہانی جیسی ہے، جس کا محبوب تھا ہی جھوٹا، رشتہ جائز ہو یا ناجائز، معصوم اور سچی محبت، جھوٹی محبت کے ہاتھوں کہیں بھی برباد ہو سکتی ہے۔۔

مانا کہ اس بے وقوف کا ڈیمیج اور کولٹرل ڈیمج سب سے زیادہ ہے کہ، اس نے اپنے گھر کی عزت بھی اس جھوٹ پر وار دی تھی مگر دکھ۔۔دکھ تو میرا ہی زیادہ ہے۔۔ کیونکہ تمھیں تو تمھارے گناہ کی سزا ملی اور اس پردیسن کو اس کی بے وقوفی کی۔۔بن موت تو میں ماری گئی۔۔اور دکھ پر دکھ یہ کہ میں اپنی ماں تک کو اپنی تکلیف نہیں بتا سکتی، میں کہانی کار ہو کر اپنے آنسو کاغذ پر نہیں اتار سکتی۔ لوگ مجھ پر تھو تھوکریں گے کہ لعنت ہے تجھ پر ایسے آوارہ اور ٹپوری لڑکے کے لئے سارے گھر والوں کی مخالفت مول لی تھی؟

میں یہ ذلت برداشت نہیں کر سکتی، یہ اس کمینے کی چیٹینگ سے بھی بڑی ذلت ہے۔ جانتی ہوکسی معصوم کو جب بے وفائی کا زہر پہنا پڑے تو کیا ہو تا ہے؟جب مجھے اس کی بے وفائی کا پتہ چلا تھا تو میرا معدہ ایک دم سے سکڑ گیا تھا، حلق خشک ہو گیا تھا،بدن سے سارا خون نچڑ گیا تھا، میں لٹھے کی طرح سفید پڑ گئی تھی،آنکھوں کی پتلیاں مڑ گئی تھیں، ٹانگوں سے جان نکل گئی تھی اور میں پاگلوں کی طرح زمین سے سر ٹکرانے لگ گئی تھی۔۔ مجھے اپنی بے حرمتی اور تذلیل کا احساس شدت سے ہو ا۔تم لوگ اپنی روح اور جسم کی تباہی کو رو رہی ہو۔۔ میرا تو سمجھو خود پر اعتماد، میری پہلی محبت کا غرور، اپنی پاکیزگی پر مان، اپنی معصومیت پر فخر، سب بکھر گیا تھا، ٹوٹے ٹوٹے ہو گیا تھااور جب یہ سوچتی ہوں کہ کسی کو پتہ چل جائے تو کیا ہوگا تو لگتا ہے بس میری موت ہی ہو گی اور باقی تو کچھ نہیں بچا ہو نے والا۔۔”

دائیں بیٹھی کہانی ڈرتے ڈرتے بولی: “میری بھی پہلی محبت تھی، پہلی محبت یک طرفہ ہو یا دو طرفہ، نہ ملے یا دھوکہ دے جائے تو گھاؤ ایک سا ہی ہوتا ہے۔۔ صبر کرو، تم مجھے دیکھ کر صبر کر لو، میں تمھیں دیکھ کر کر لیتی ہوں۔۔ آؤ صبر کر لیں۔۔۔آؤ خدا سے صبر کی دعا مانگیں۔۔”
“کیا خدا صبر دے دیتا ہے؟لڑکی نے اپنا قلم دور پھینک دیا، اسے لگ رہا تھا آج کے بعد اس سے ایک بھی لفظ اب نہیں لکھا جائے گا۔
“مرنے کے بعد جب مردے کو دفنا کر آتے ہیں تو کہا جاتا ہے قبر سے دور جاتے قدموں کے ساتھ ساتھ دل کو صبر آنا شروع ہو جاتا ہے۔بائیں بیٹھی کہانی نے اپنے تجربے اور علم کے زور پر انہیں آگاہ کیا۔

“تمھارا تجربہ بہت ہے اس کے باوجود نقصان تمھارا سب سے زیادہ ہے۔۔کیونکہ تم یہ نہیں جانتی کہ اعتماد مر جائے تو اسے کہاں اور کیسے دفنایا جائے کہ صبر آجائے؟سکون مل جائے؟ جانتی ہو؟”بائیں ہاتھ بیٹھی کہانی نے لڑکی کے اس چھبتے فقرے کو نظر انداز کیا اور پو چھا؛ کیا اب تم دنیا کے خوف سے، اس دھوکے باز کے ساتھ رہتی جاؤ گی؟ اور اس دھوکے باز کے بچے پیدا کرتی جاؤ گی؟”
“نہیں چھوڑ دوں گی۔۔ پتہ نہیں۔۔۔ شائد۔۔ ہاں, پکا چھوڑ دوں گی۔۔ “لڑکی کے چہرے پر گھبراہٹ صاف نظر آرہی تھی ۔
“میں بتاتی ہوں اے لڑکی تم اسے نہیں چھوڑو گی اور اس کے بچے بھی پیدا کرتی جاؤ گی اور اسی قلم کی نوک کو کاغذ کے سینے میں اتار کر تم اپنی کہانی کا وہی انجام لکھو گی جو میری کہانی کا ہوا ہے۔۔ “بائیں ہاتھ والی کہانی نے کسی جج کی طرح اپنا فیصلہ سنایا۔
“نہیں۔۔۔لڑکی خوف سے چلا اٹھا۔۔

“ہاں!! بائیں ہاتھ بیٹھی کہانی، جو پہلے فرش پر گر گئی تھی، زور دے کر بولی۔۔” ہاں، کیونکہ میرا پہلا مان بھی ایسے ہی ٹوٹا تھا، میری معصومیت اور سچائی کے کھونے کا عمل بھی کچھ ایسے ہی شروع ہوا تھا، کسی کا دیا دھوکہ، آپ کے اندر جو تبدیلی لاسکتا ہے اس کا انسان عام حالات میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔ میں آخری چوٹ کھا چکی ہوں، اور تمھارا سفر ابھی شروع ہوا ہے۔۔مگر یاد رکھنا ہر بے وفائی کا سفر ایسے ہی شروع ہو تا ہے۔ ”

قلم والی لڑکی کے ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں ابھر آئیں، وہ زور زور سے دائیں سے بائیں سر ہلاتی جا رہی تھی “ایسا کبھی نہیں ہو گا، مجھے اپنی سچائی اور وفاداری پر غرور ہے، کسی اور کی بے وفائی میری ذات کو بد ذات نہیں کر سکتی۔۔”
اب بائیں بیٹھی کہانی کا چہرہ آنسوؤں سے لبریز ہو نے لگا او ر دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھیں گہرا تالاب بن گئیں:
” اور میں کیا کہہ رہی تھی؟ کیوں مسلسل بھونک رہی ہوں کہ میرا دکھ تم دونوں سے بڑا ہے اسی لئے نا کہ مجھ سے میری زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ؛ میری سچائی، میری وفا۔۔چھن گیا ہے۔ سب زخم،سب کھائے ہو ئے دھوکے، سب کچھ بھر جا تا ہے نہیں بھرتا تو ایک سچے انسان کے اندر اس کی سچائی کی موت کا زخم۔۔ یہ کبھی نہیں بھرتا۔۔۔۔یہ ناسور سچے انسان کی جان لے کے چھوڑتا ہے اور دوسری طرف جھوٹ پھلتا پھولتا رہتا ہے ”

قلم کار لڑکی اور دائیں بیٹھی کہانی نے بڑھ کر اسے سینے سے لگا لیا اور تینوں مل کر صرف اور صرف اس کی سچائی اور وفا کی موت کا ماتم کر نے لگیں۔۔ باقی کے سب زخم شایدبھر چکے تھے۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *