میری زندگی کے تجربات اور مشاہدات کا خلاصہ

ہمیشہ آگے بڑھتے رہو۔سماج اور معاشرے کی تندو تیز اور تلخ باتیں فقط عارضی رکاٹوں کے اور کوئی اہم کارنامہ انجام نہیں دیتیں۔تجربے اور مشاہدے کو زندگی سے بے دخل مت کرو۔ناکامی سے ہمیشہ مثبت سبق لو،کوشش جاری رکھو اور کچھ نیا کرنے سے کبھی مت گھبراؤ،اپنا نقطہ نظر واضح رکھو اور گاہے بگاہے اسکی تجدید کرتے رہو،دنیا قدامت کو بطور تفریح اور جدت کو بطور نشہ محسوس کرنے کی عادی ہو چکی ہے۔۔۔اس لیئے ماضی سے جڑے رہو اور حال کی پہیلیاں وقت رہتے سلجھاتے رہو تاکہ تمہارے پاس مستقبل کے لیئے خیرہ کرنے والی باتیں اور کاموں کا ڈھیر اکٹھا ہوتا رہے،جب کبھی کسی اختلافی بحث میں پھنسو تو دو حرف “مجھے معاف کرو” کہہ کر نکل جاؤ ورنہ شدید بحث کے بعد تو صرف گالیاں اور بے عزتی ہی رہ جاتی ہے طرفین کے پاس ایک دوسرے کے لیئے۔جب آسمان کی وسعتوں میں خود کو کھوجتے ہو تو وقت نکال کر زمین کی تہوں میں بھی اپنی جگہ تلاش کیا کرو۔عقل کل بننا کامیابی نہیں اور نہ ایسا ہونا ممکن ہی ہے لیکن عقل اور سوجھ بوجھ کی تلاش میں رہنا ایک اچھی عادت ہو سکتی ہے۔تم ممکن ہو تو جھٹکا برداشت کرنے والے بنو کہ لوگوں کے رویے اور لہجے ایسے جھٹکے ہوتے ہیں جن کو بدراشت کیے بغیر تم زندوں کی طرح زندہ نہیں رہ سکتے۔آئینہ دیکھنا ظاہری صورت کو نکھارنے کا ایک ذریعہ ہے بالکل ایسے ہی کتاب کا مطالعہ کرنا تمہاری باطنی صورت نکھارنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
تم خوبصورت ہو اس سے لوگوں کو وقتی فرق پڑتا ہے لیکن اگر تم خوب سیرت ہو تو لوگ تمہارے صدیوں تک گرویدہ رہتے ہیں۔غلطی پر کبھی شرمندہ اور پشیمان ایک حد سے زیادہ مت ہو ورنہ غلطی سدھارنے کا جواز اور توانائی کھو بیٹھو گے۔تم روزانہ بے شمار اچھے کام کرو اور نیکیاں کمالو لوگ ان کو دو دن سے لے کر دس دن تک یاد رکھتے ہیں لیکن اگر تم سے صرف ایک غلطی ایک گناہ ایک برا کام سر زد ہوجائے تو لوگ اس کو اگلے دس سال تک نہیں بھولتے یہ کہلاتا ہے دیکھنے اور سوچنے کا نظریہ یا وژن۔تم اگر کسی کی غیبت اور برائی یہ سوچ کر کرو کہ میں اصلاح کے پہلو سے بات کررہا ہوں تو میرے محترم تمہیں فوری اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔جو لوگ الزام اور تہمت میں فرق نہیں جانتے وہ لاشعوری طور پر مجرمانہ ذہنیت کے مالک ہوتے ہیں۔تعلیم اور علم کا فرق کیا ہوگا تمہارے نزدیک؟ یہی کہ دونوں کا کام انسان کو انسانیت سکھانا ہے, تو اچھی بات ہے۔۔۔مگر سن لو، تعلیم سوال کرنے کا جواز دیتی ہے اور علم تو ہوتا ہی مرہون مطالعہ و مشاہدہ اور سوال کے جواب کی صورت۔تعلیم سوال ہے اور علم جواب،تعلیم طریقہ ہے اور علم نتیجہ،تعلیم سوچ ہے اور علم عمل،تعلیم مشاہدہ ہے اور علم تجربہ،تعلیم دین ہے اور علم عبادت،تعلیم محنت ہے اور علم عوضانہ،تعلیم دنیا ہے اور علم جنت،اس لیئے تعلیم کے حصول کے لیے ضرور کوشاں رہو، کہ یہ راستہ ہے اور اس کی منزل علم ہے۔
تمہارا وقت اس وقت دولت بن جاتا ہے جب تم معلم اور استاد بن جاتے ہو علم کی بدولت، مگر یاد رکھو شہرت وہ دیمک ہے جو تمھاری دولت کو شکستہ حال کردیتی ہے اندر سے بالکل خاموشی اور روانی کے ساتھ۔اگر حلال رزق کی چاہ ہے تو شہرت سے کنارہ کشی اختیار کرو خواہ وہ شہرت اچھی ہو یا بری۔دونوں طرح کی شہرت حرام رزق کی طرف جانے والے راستے کا اشارہ ہے۔اگر برائی کا سوچنے پر بھی تمہارا دل زور سے دھڑکے تو فوراً سجدہ شکر ادا کرو کہ ا ﷲ تم پر راضی اور خوش ہے جو نہیں چاہتا کہ تم برے بنو اور برائی کرو۔اسی طرح نیکی کا سوچنے پر بھی اگر طمانیت محسوس کرو تو دیر مت کرو اور وہ نیکی کر گزرو ورنہ اس کی لذت کھو دوگے۔اپنے ارد گرد لوگوں کے رویے شدت سے محسوس مت کرو ورنہ گھٹ گھٹ کر مر جاؤ گے۔لوگوں کو ہمیشہ اپنے متعلق سوچنے پر مجبور کرو،دل میں نہیں دماغ میں براجمان ہوکر بیٹھو۔اگر دماغ میں رہو گے تو دھوکے سے بچ جاؤ گے لیکن اگر دل میں جگہ بنالی تو ایک دن بہت بڑا دھوکہ تمہارا منتظر ہوگا۔بھیڑ چال مت چلو مگر ریوڑ کا حصہ ضرور بنو۔سنو ہر ایک کی لیکن کرو وہ جوا ﷲ کے ہاں منظور نظر اور قبول و معروف ہو۔تمہارا ضمیر بیک وقت تمہارا وکیل اور جج دونوں ہوتا ہے۔بہتر ہے وکیل کی مت سنو بلکہ جج کا فیصلہ مانو۔خوش رہو، اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ لوگوں میں خوشیاں بانٹو اور لوگوں کی خوشی کا باعث بنو۔
غم کرو، اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ لوگوں کے غم بانٹو اور کبھی کسی کے غم کا سبب نہ بنو۔وقت کی ریت ہاتھ سے ہر حال میں پھسل جانی ہے تو پھر ا س کا مطلب یہ نہیں کہ ہاتھ جھاڑ کر وقت کو ضائع کردو۔بلکہ مٹھی کو اور تنگ کردو اور ریت کو پھسلتا ہوا محسوس کرو مطلب وقت کا ایک ایک لمحہ وقت رہتے اچھی یادوں اور کامیابیوں کی صورت محفوظ کرلو اس وقت کے لیئے جب یہ تم پر ختم ہو جائے گا اور لوگ تمہارے وقت کی مثالیں دیا کریں گے۔دعا میں اس فقیر کو یاد رکھیے گا کہ دعا ہی اس دنیا میں انمول میراث ہے انبیا کی طرف سے تحفہ ہے ۔شکریہ!

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *