وزیراعلی کی لعنت۔۔۔ عائشہ فیصل

الیکشن کی آمد آمد ہےووٹ مانگنےوالوں کاچورن انتہائی تیزی سےبک رہا ہےاورمیری محب وطن قوم وہ چورن ہمیشہ کی طرح آنکھیں بند کرکےخریدرہی ہے۔بندآنکھوں سےاعتمادکرناتو کوئی پاکستانیوں سےسیکھے۔۔۔!
مراد علی شاہ جب نئےنویلےدلہا کی طرح وزارت اعلیٰ کےمنصب پرفائزہوئےتھےتب جوش میں آکرایک دوکام اورکئی اعلانات کئے،ہمیں اچھی طرح یادہ کہ ان کے اس قسم کے بودے اوربوسیدہ اعلانات سن کرلوگوں کولگاکہ انکامسیحا آگیاہے،گزرتے وقت کے ساتھ مراد علی شاہ جہانگیر پارک صدر سے باہر ہی نہ نکل سکے۔۔
خیرایساہی کچھ مذاق ہمارے چیف جسٹس صاحب نےکیا۔نہ ہی اسکولوں میں جون جولائی کی فیس ختم ہوئی نہ 92 روپے فون کابیلنس آیا نہ رمضان ٹرانسمیشن ختم ہوئی اور نہ ہی وقت افطارانٹرنیٹ بندہوامگر لوگوں کولگا کہ اب کچھ ہوگالیکن ہوا ککھ وی نا۔۔
امید باندھنا اور آس لگاناہمارے قومی فرائض میں شامل ہے اور اس بات کافائدہ اٹھاتے ہوئے سیاستدان الیکشن کے نزدیک آتے ہی اپنے اپنے کارڈز استعمال کرتے ہیں اور سب سے مزے کی بات ان کایقین پختہ ہوتاہےکہ ہماراڈالاہوادانہ رائگاں نہیں جائےگا
ایساہی کچھ 2روز قبل اسمبلی فلورپرہواجہاں مراد علی شاہ کسی چانڈیو کیطرح ان ایکشن نظرآئےاورہمیشہ کی طرح سندھ کواپنی دھرتی ماں کہاجذبات کی رو میں بہہ کرخاصہ برا بھلا بھی بول گئےمگرحقیقت کویکسرنظراندازکرگئےمرادچانڈیو صاحب کہ وہ صوبےکےسب سے بڑے انتظامی عہدے پر براجمان ہیں جس ٹچے پن کامظاہرہ آپ نےفلور پرکیاوہ آپ کےمنصب کےخلاف ہےآپ کوبردباری اورسمجھداری سےکام لیتےہوئےمناسب الفاظ کاچناو کرناچاہیے تھا اوراعدادوشمار کےسہارے آپ اس دعوے کوغلط قراردےسکتےتھےمگرافسوس طاقت کے نشےمیں بدمست وزیر اعلیٰ کوبتاتی چلوں کہ صوبےکامطالبہ توموجودہےنواب مظفرکےزمانے سےجوکہ دلائل دےکریااعدادوشمارسےکی مدد سے رد کیا جاسکتا تھا مگرجب دلیل اور اعدادوشمار ہی آپ کےخلاف ہیں توآپ نےنفرت کاسہارالیا۔عام سندھی کواس آگ میں جھونک کراگلے5سال ٹھنڈی ہواجوسمیٹی ہےسائیں اپنی عوام میں شعور بیدارکیجئےانکو بتائیےکہ جتنےچھوٹے انتظامی یونٹس ہونگےاتنےہی احسن طریقےسےسنبھالےجائیں گے
آپ کی اس زہرفشانی سےآپ کےووٹرزکاتوسیروں خون بڑھ گیاساتھ ہی ساتھ آپ نےمہاجروں کےڈرکوپختہ یقین میں تبدیل کردیاصوبہ کتنی اہم ضرورت ہےوہ اب زیادہ سمجھ آگیالگےہاتھ تھوڑی سی بات ان نام نہاد غیرت مندوں کی بھی کر لیتے ہیں جومہاجروں کےووٹ لیکر اسمبلی فلور پربیٹھ کرانتہائی عاجزی سےلعنتیں سمیٹ آئے۔۔۔
یہ کیسے محسن ہیں جو اپنی نسلوں کو آپ زندہ جلا رہے ہیں
یہ کیسے رہبر ہیں نا کوئی راستہ نا کوئی منزل دکھا رہے ہیں
ان لوگوں کوکن الفاظ میں تنقید کانشانہ بناوں میری سمجھ سےباہرہےجناب والاجن سیٹوں پر آپ براجمان ہیں وہ سیٹیں آپ لیکر پیدا نہیں ہوئےتھےبلکہ مہاجروں نےآپ کوووٹ دیاتھا اسی لئےآپ وہاں انکی آواز بن کر بیٹھے تھے مگر آپکی تو آواز ہی نہیں نکل رہی تھی کتنے عرصے سے ان سیٹوں کا مزہ لوٹ رہے ہیں شاید آپ لوگوں کی غیرت کسی نے انجیکشن کے ذریعے نکال لی گئی کیونکہ مرادچانڈیو کی ہربات کاجواب موجودہوتےہوئےبھی آپ کی خاموشی معنی خیزلگ رہی تھی ایسالگ رہاتھاجیسےالیکشن نزدیک ہوں آپ نےمظلومیت پلس معصومیت اورپیپل پالٹی نےمرسوں مرسوں سندھ ناڈیسوں والےپلےکارڈاٹھارکھےتھے
دیکھنےمیں ایسامحسوس ہورہاتھا کہ آپ ذلیل کئےنہیں جارہےبلکہ ہوناچاہ رہےہیں تاکہ مظلومیت کاڈھونگ برقراررہےاورعوام اسی غصےمیں آکرآپ ووٹ دےجائے۔۔۔اپوزیشن لیڈرجوکہ موجودہ نام نہاد ایم کیوایم کے مرکزی رہنما بھی ہیں انہیں اب ووٹ لینے سے قبل بتانا ہوگا کہ قوم کے ساتھ بھونڈا مذاق کیوں کیا گیا۔۔۔ قوم نے انہیں الطاف حسین کی ایما پر اسٹیک ہولڈربنایا تھالیکن انہوں نے کراچی کے دئیے ہوئے مینڈیٹ کو قبضہ کیا۔ آپ کا کہنا یہ بھی تھا کہ آپ کراچی اوراس میں بسنے والی مہاجرقوم سے مخلص ہیں تو جناب اب یہ بتائیں کہ اگر آپ اس قوم سے مخلص ہیں تو آپ نےفلور پر کتنی مرتبہ لاپتا شہریوں کےلئے آواز اٹھائی، کتنی مرتبہ آپ نے یا آپ کے ہم نوالہ ہم پیالہ فاروق ستار نے شہدا کے گھر کے چکر لگائے، آپ ایک آفتاب احمد کو انصاف دلوا نہ سکے یہ صوبہ کہاں سے دلوائیں گے؟ جناب صوبے کا مطالبہ خون مانگتا ہے، سردینے ہوتے ہیں، نہ تو آپ وہ لیڈر ہیں کہ جس کے کہنے پر قوم آپ کے لئے سر دے اور نہ آپ وہ لیڈر جو مشکل گھڑی میں قوم کے ساتھ کچھ دیر کھڑے ہوسکیں۔۔ لہذا یہ ایک دوسرے کو چور کہہ کر اپنی اپنی قوموں کو جوش دلانے کاسلسلہ بند کیا جائے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ نہ تو پیپلزپارٹی لاڑکانہ کو پیرس بناسکتی نہ آپ کراچی کو اس کا حق دلواسکتے۔۔۔!!!!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *