شبِ زفاف اور میری چیخیں۔۔ کوئنہ ملک

قارئین کو آداب۔ اک لمبی غیر حاضری کے لئیے معذرت خواہ ہوں۔ گو اپنی داستاں سنانے کو میں تو بے قرار ہی تھی مگر میرا تخلیق کار بہت مصروف رہا۔ کائنات کی عجب پہیلی ہے کہ تخلیق کو جب تخلیق کار کے پردے کے پیچھے رہنا پڑے تو اسکی آواز فقط ایک سسکی بن کر اس کے اپنے ہی کانوں میں گونجتی ہوئی رہ جاتی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے میری سہاگ کی پہلی رات میری اپنی سسکیاں۔

ابھی آٹھویں میں تھی کہ اک دن فطرت نے میرے نازک بدن میں تغیر برپا کر دیا جو سفید کلی کے لال گلاب بننے کی ابتدا کرتا ہے۔ چھوٹی سی عمر میں اتنا خون دیکھ کر جو گھبرائی تو اپنے بابا سئیں کے پاس دوڑی کہ اک بیٹی کیلئیے ماں سے زیادہ احساسِ پناہ باپ پیدا کرتا ہے۔ مگر وہاں سے ایسی سخت جھڑکی پڑی کہ روح تک کی تاریں سنسنا گئیں۔ بابا سئیں نے

فورا اماں کو آواز دی جو مجھ ہکا بکا کو فورا کمرے میں لے گئیں اور اک میلے سے کپڑے نے میری داد رسی کی۔ آج جب سکولوں کی بچیوں کو دیواروں پہ پیڈ چپکاتے اور امریکہ میں زیر تعلیم اپنے بیٹے کو اپنی چھوٹی

بہنوں کو نے نئے برانڈز کے نام سجسٹ کرتے دیکھتی ہوں تو اپنے دور کی وہ “خاموشیاں” یاد آ جاتی ہیں جن میں مہینے بعد بدن کی سسکیاں اور آنسو بہت خاموشی سے دم توڑ جاتے تھے۔

جسم سے نکلا خون تو جیسے میرے ارمانوں کا خون بن کہ نکلا تھا۔ میں جو ابھی بہت زیادہ پڑھنا چاہتی تھی، اماں کی نظر میں اتنی جوان ہو گئی کہ میرے رشتے کی تلاش شروع ہو گئی۔ میں جو ابھی اپنا بدن سنبھالنا بھی پوری طور پہ سیکھ نا پائی تھی اماں اسے کسی اور کے بدن کا بوجھ بانٹنے کو تیار پا رہی تھیں۔ مجھ کو لگتا تھا کہ میرے بابا سئیں میری مدد کو آئیں گے مگر انکے سجدے اور وظیفے بھی لمبے ہو گئے اور مناجات میں میری شادی کی دعا بھی شامل۔ گو آس پاس لڑکے تو بہت تھے مگر “کفو” کا خیال بھی تو رکھنا تھا۔ برادری کا ہو، برابری کا ہو۔ ایسے میں جو بر ملا وہ مجھ سے چودہ برس بڑا تھا۔ آج جس کے نام سے میرا نام جوڑا جا رہا تھا کل تک میں اسے بھا عدنان کہتی تھی۔ ہم لڑکیوں کی بھی کیا قسمت ہے، بھائی کہتے کہتے اک دن جانو کہنا سمجھنا پڑ جاتا ہے اور ایسے میں اکثر جانو اور بھائی گڈ مڈ ہو جاتا ہے اور پھر مولوی صاحب سے فتوے لیتے اور کفارے دیتے ہیں۔
ایک سال کی تیاری کے بعد ابھی پندرہ کودی ہی تھی کہ میرے ہاتھوں پہ مہندی سجی تھی۔ سہیلیاں چھیڑ خانی کرتی تھیں مگر خود انکی بھی کتنی عمر تھی کہ انکو چھیڑنے کیلئیے بہت کچھ معلوم ہوتا۔ جب سب مہمان گھر کو چلے گئے یا بستروں میں پڑ گئے تو میں اپنی تایا زاد سائرہ کے ساتھ جو مجھ سے تین سال بڑی اور کچھ ماہ کی شادی شدہ تھی، کمرے میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگی، آنکھوں میں آنسو لئیے اس کو بتانے لگی کہ بابل کا گلیارہ چھوڑنا مجھے کس قدر مشکل لگ رہا ہے۔ اتنے میں اماں کمرے میں آئیں اور میری کزن سے بولیں،”سیرہ اینو پاکی پلیتی دس دے” اور فورا کمرے سے نکل گئیں۔ میں نے استفہامیہ نظروں سے سائرہ کو دیکھا تو وہ شرارت سے مسکرا رہی تھی۔ اب جو سائرہ نے مجھے “پاکی پلیتی” بتائی

تو میری تو جیسے آنکھیں باہر آ گئیں۔ میں نے فورا کہا نا سائرہ باجی میں ایسے گندے کام نہیں کروں گی۔ وہ ہنس کر بولی کوڑ مت سارے ہی کرتے ہیں، ایسے ہی تو نسل آگے چلتی ہے۔ میں نے غصے سے کہا بکواس نا کرو، میری بابا سئیں ایسی گندی حرکتیں نہیں کرتے۔ سائرہ ہنسنے لگی۔ اتنے میں سعدی نائین آ گئی جو ہماری برادری کی سمجھئیے ریڈیو، ٹی وی اور نہ جانے کیا کیا تھی۔ سعدی نے جو معاملہ سنا تو پیار سے مجھے گلے لگا لیا اور پھر سمجھانے لگی کہ پتر یہ تو اللہ کا حکم ہے جنور بھی پورا کرتے ہیں۔ تو نے مج لگتے دیکھی ہے نا بس ایسے ہی عورت لگتی ہے۔ جیسے مج سوتی ہے ویسے عورت بھی گابھن ہوتی ہے اور مج کو اللہ سوہنا کٹا کٹی دیتا ہے اور عورت کو دھی پتر۔ اسکے بعد سعدی نائین نے اپنی سہاگ رات کے قصے سنا سنا کر مجھے سمجھایا کہ مجھے کیا کرنا ہے، کتنا کرنا ہے، کیا نہیں کرنا اور کیا بالکل نہیں کرنا۔ آخر بولی کہ پتر بس اک نصیحت پلے باندھ لے، درد نا بھی ہو تو چیخ ضرور مارنی ہے ورنہ بندے کو اپنے

بندہ ہونے کا یقین نہیں آتا۔ اور جو عورت بندے کو اسکے مرد ہونے کا یقین دلا دے، وہ پھر بندے کے ساتھ جو چاہے کرے۔

شادی کا دن بھی عجب تھا، اک جانب گھر چھوٹنے کا غم تھا تو دوسری جانب اک نئے گھر کا شوق بھی اور وہاں پہ اپنے مستقبل کا خوف بھی۔ یوں لگتا ہے جیسے میں کسی خواب میں تھی۔ میں نے خود کو ہی اپنے گھر سے وداع ہوتے، اماں اور بابا سئیں کے گلے لگ کر دھاڑیں مارتے

اور نئے گھر داخل ہوتے ہوے دیکھا۔ مجھے ایک سجی ہوئی مسہری پہ بٹھا دیا گیا اور عورتیں “نوی ملکائین” کو دیکھنے آنے لگیں۔ جب شاید سارے قصبے کا مجھے دیکھ دیکھ کر دل بھر گیا تو مجھے اکیلا چھوڑا گیا۔ میری ساس آئیں اور مجھے دودھ کا ایک گلاس پکڑا کر کہا یہ عدنان کیلئیے ہے۔ دل تو کیا پوچھوں کہ میں بھی پہ لوں مگر اماں نے سختی سے کہا تھا کہ پہلے دو مہینے کوئی سوال نہیں کرنا اور بس ہاں جی اچھا جی کرنا ہے۔

کچھ دیر گزری تو عدنان کمرے میں آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے۔ جی کیا کہ انکو دیکھوں مگر روایت کے مطابق انکو گھونگھٹ اٹھانا تھا۔ انھوں نے مگر سگریٹ سلگائی اور ایک تقریر شروع کر دی، تقریر جس میں انکے والدین کا خیال، انکی بہنوں کا خیال، انکے بھائیوں کا خیال، گھر کے نوکروں اور جانوروں کا خیال رکھنے کا حکم تھا۔ تقریر اور سگریٹ ختم ہوے تو انھوں نے گھونگھٹ اٹھایا اور مجھے دیکھنے لگے، “سوہنی ہے تو” یہ کہ کر انھوں نے مجھے ایک انگھوٹھی بطور منہ دکھائی دی اور میرے ہونٹ چوم لئی اور مجھے گلے سے لپٹا لیا۔ مجھے لگا جیسے میں اک جلتا ہوا انگارہ بن گئی ہوں۔ میں منتظر تھی کہ اب وہ سب ہو گا جو سعدی نائین نے چسکے لے لے کر سنایا تھا مگر عدنان کچھ دیر مجھے چومتے رہے اور پھر سامنے پڑی کرسی پہ بیٹھ کر سگریٹ لگا لیا۔ کتنے ہی خیال تھے جو ذہن میں آ گئے اور کتنے ہی سوال ابھرے مگر ہونٹوں نے زبان کی تالہ بندی کر دی۔

عدنان سامنے پڑی میز سے کاجو کھانے لگے اور کن اکھیوں سے دیکھا تو گہری سوچ میں تھے۔ اتنے میں دروازے کے پاس سے کھسر پھسر کی آوازیں آئیں تو وہ چونکے اور جیسے لپک کر کمرے کی بتی بند کر دی۔ نیم اندھیرے میں ان کے سائے کو میں نے بے لباس ہوتے دیکھا۔ سایہ میرے پاس آ گیا اور مجھے میرے غیر فطری لباس سے آزاد کر دیا۔ انکا جسم بھی جیسے بھڑکتی آگ تھا، انگارہ بھڑکتی آگ میں مزید دہکنے لگا اور پہلے لمس کی حدت جیسے انگارے کو پگھلانے لگی۔ میں نے خود کو ذہنی طور پہ درد سہنے کیلئیے تیار کر لیا مگر اچانک جیسے لاوہ پھوٹ پڑا اور آگ ٹھنڈی ہو گئی گو انگارہ تو ابھی دہکنا شروع ہی ہوا تھا۔ عدنان کچھ دیر بعد دوبارہ آگ کی تلاش کو نکلے مگر شاید بارود کم تھا یا شاید موسم نا موزوں۔ انھوں نے سگریٹ لگا لیا۔
سگریٹ شاید آدھے سے زیادہ ہوا ہو گا کہ دروازے کے باہر پھر کھسر پھسر ہوئی۔ عدنان تڑپ کر اٹھ بیٹھے اور دروازے کی جانب دیکھنے لگے۔ اچانک میری طرف مڑے اور سگریٹ میری ران پہ لگا دیا۔ میری تیز چیخ نکلی جسے انھوں نے فورا ہتھیلی سے دبا دیا اور میں سسسک کر رونے لگی۔ سسکیوں کے درمیان بس انکی اتنی سرگوشی سنی، کچھ کہنا مت وہ سب باہر کھڑے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”شبِ زفاف اور میری چیخیں۔۔ کوئنہ ملک

  1. ایک ناہموار معاشرے کی عکاسی کرتی ناہموار قلم سے لکھی گئی ایک فضول تحریر ۔

  2. لکھنے کو الفاظ نہیں ہیں بہرحال ہمارے معاشرے میں ابھی اتنی شرم باقی ہے کہ دروازے کے باہر کان لگا کر کوئی کھڑا نہیں ہوتا۔ایک ناہموار معاشرے کی عکاسی کرتی تحریر

  3. ●قصد تحریر یہ بتانا ہے کہ روایتی سماج کی ترتیب ایسی بنادی گئی ہے کہ عورت کی اذیتوں کے پیچھے مرد کی کمزوریاں چھپائی جاتی ہیں.
    ●باقی تڑکا قارئین کو تحریر پہ راغب کرنے کیلیئے ہے جسے وہ اپنے تبصرے میں ثابت بھی کرتے ہیں.
    ● مگر افسوس اس پہ کہ اگر عدنان کی طرح قاری بھی نفس تحریر پہ آنے سے قبل محض تڑکے پہ ہی ادراکی قوت منتشر کر بیٹھے.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *