• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سرزمین بے آئین گلگت بلتستان کی سیاسی محرومیاں اور نوجوان نسل۔۔۔محمد حسین

سرزمین بے آئین گلگت بلتستان کی سیاسی محرومیاں اور نوجوان نسل۔۔۔محمد حسین

گلگت بلتستان کے بارے میں بہت ساری غلط فہمیوں کا  بنیادی سبب  عام شہریوں خصوصا ً سکول کے طلبہ  سے لے کر یونیورسٹیوں کے محققین و اساتذہ تک کو علاقے سے متعلق  درست معلومات کی فراہمی نہ ہونا ہے کیونکہ آئین پاکستان سمیت  کسی بھی  سرکاری  دستاویز، قومی نصاب  سمیت  دیگر لٹریچر میں گلگت بلتستان کا ذکر  کہیں نہیں  کیا جاتا نیز قومی پالیسیوں اور ذرائع ابلاغ میں بھی گلگت بلتستان کے  وسائل و مسائل، اور حقوق  اور احوال پر بحث نہیں ہوتی۔مقامی صحافت بہت سی  قدغنوں کی شکار ہے جبکہ علاقے کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے سیاسی و سماجی کارکنوں کو اٹھا لیا جاتا ہے اور پابند سلاسل کیا جاتا ہے۔  اسی  طرح عملی طور پر  قومی اسمبلی، سینٹ،  بین الصوبائی مفادات کونسل، این ایف سی ایوارڈ سمیت کسی بھی آئینی فورم پر گلگت بلتستان کی نمائندگی نہیں ہے۔  اس لیے گلگت بلتستان سے متعلق عوام و و خواص دونوں کی عمومی آگاہی کا معاملہ ناگفتہ بہ ہے۔ بدقسمتی سے گلگت بلتستان ہماری اسٹبلشمنٹ کی بے حسی، حکمرانوں کی بے حمیتی ،  جمہوریت پسند، ترقی پسند دانشور  طبقات کی گلگت بلتستان سے متعلق کم علمی  جبکہ  قومی میڈیا پر کاروباری مفاد یا قومی مفاد کے چکر میں  گلگت بلتستان جیسے اہم سرحدی و سٹریٹجک علاقے کی آواز نظر انداز ہوتی ہے۔

پاکستان کے شمال مشرق میں موجود قدرتی وسائل سے مالا  مال علاقہ گلگت بلتستان ہے ، جس کی آبادی تقریباً  دو ملین  ہے جس میں سے ایک چوتھائی آبادی تعلیم اور روزگار کی خاطر کراچی، راولپنڈی اسلام آباد اور لاہور سمیت دیگر شہروں میں بستی ہے۔ ساٹھ کی   دہائی میں علاقے  کا کچھ حصہ  (شقصم اور اقصائے چین) چین کو دیے جانے  اور معاہدہ تاشقند کے تحت کچھ  حصے بھارت کو دیے جانے نیز  سن اکہتر اور اٹھانوے میں کچھ سرحدی علاقے بھارت کے قبضے میں چلے جانے کے  باوجود بھی  گلگت بلتستان کا موجودہ  رقبہ تقریباً  خیبر پختونخوا کے برابر اور  آزاد جموں کشمیر سے تقریباً  چھ گنا بڑا  یعنی  28174  مربع میل  یا تقریباً 73000مربع کلومیٹر پر مشتمل  ہے۔  موجودہ گلگت بلتستان دس انتظامی اضلاع دیامر، استور،گلگت،  ہنزہ، نگر، غذر، سکردو، شگر، گنگچھے اور کھرمنگ  پر مشتمل ہے. گلگت صدر مقام اور سکردو سب سے بڑا شہر شمار ہوتے ہیں، ان دونوں شہروں میں‌ائیرپورٹس موجود ہیں.

دنیا  کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو  ،  دنیا کی  14  بلند ترین چوٹیوں میں سے 5 چوٹیوں کے علاوہ چھ  ہزار میٹر بلندی کی   کئی درجن  برف پوش اور فلک شگاف چوٹیوں،  ہمالیہ، قراقرم، ہندوکش کے عظیم ترین پہاڑی سلسلوں ، دنیا میں  گلیشئرز کا دوسرا   بڑا ذخیرہ، دنیا کی  سب سے زیادہ بلندی پر موجود  سب سے بڑا میدان دیوسائی (پانچ ہزار مربع کلومیٹر کا  سرسبز رقبہ)، سطح مرتفع پر پہاڑی سلسلوں کے درمیان دنیا کا سب سے بلند ترین صحرا بھی اسی علاقے میں موجود ہے۔  پاکستان   کو سب سے زیادہ سیراب کرنے والے دریائے سندھ کا  آبی ذخیرہ  نیز درجنوں  خوب صورت جھیلیں  اور آبشاریں اور چشمے اسی علاقے  میں موجود ہیں۔ نادر آبی  و جنگلی حیات کے علاوہ طرح طرح کے پھولوں، پھلوں اور قدرتی معدنیات  اور قیمتی پتھروں کا  ذخیرہ بھی  یہاں پایا  جاتا ہے۔ یہ علاقہ  دنیا کے  بڑے آبی ذخائر میں سے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ جبکہ بلند  پہاڑی ندیوں سے گرنے والے پانی سے براہ راست  یا  ڈیم  بنا کر   اس  سے ہزاروں  میگاواٹ  نہایت سستی بجلی پیدا کرنے کی  پوٹینشل موجود ہے۔

مختلف پہاڑی وادیوں میں آباد گلگت بلتستان  تاریخی  و ثقافتی طور پر مختلف تہذیبوں ، مذاہب، نسلوں اور زبانوں کا مرکز رہا ہے۔ اس میں اسلام  سے قبل کے مذاہب بدھ مت اور بون مت کے تہذیبی آثار آج بھی محفوظ  ہیں۔  آج بھی مختلف نسلی گروہ، زبانیں، اور متنوع ثقافتی روایات سے یہ علاقہ اپنی قدرتی  خوبصورتی  کو تہذیبی رنگوں سے رنگا رنگ کر رہا ہے۔  بلتی، شینا، بروشاسکی، واخی، کھوار سمیت  ہندکو، کشمیری، پشتو  زبانیں یہاں بولنے والے موجود ہیں۔تعلیمی اداروں کے فقدان کے باوجود شرح خواندگی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی شرح پاکستان  کے دیگر علاقوں سے زیادہ بلند ہے ، سماجی طور پر جرائم  کی شرح بہت کم ہے ۔ جبکہ مذہبی ہم آہنگی اور امن کا  گہوارہ یہ علاقہ پاکستان بھر کے لیے مثال ہے ۔ یہاں شیعہ سنی، اہل حدیث، اسماعیلی اور نوربخشی سبھی بھائیوں کی طرح رہتے ہیں ۔  پاکستان کی  بڑی قومی سیاسی جماعتیں یہاں کی  مقامی سیاست میں حصہ لیتی ہیں جبکہ چند قوم پرست سیاسی جماعتیں بھی ہیں۔

گلگت  کے چند بنیادی مسائل!

گلگت بلتستان  کے تقریباً  عمومی طور پر لوگ اوسط درجے کے ہیں جن کا ذریعہ معاش  زراعت،  مال مویشی، یا ملازمت    ہے۔ جبکہ تجارت و سیاحت کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ تعلیم، صحت، صنعت  و تجارت  اور سیاحت  کے لیے انفراسٹرکچر کا شدید فقدان ہے۔ 2002 میں قراقرم یونی ورسٹی بننے تک علاقے میں ایک بھی قابل  ذکر  اعلیٰ تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا گیا۔  جبکہ ابھی بھی کوئی  میڈیکل کالج، انجیئنرنگ کالج سمیت کوئی بھی پروفیشنل ادارہ قائم نہیں ہے۔   معدنیات، کوہ پیمائی، سیاحت، تحقیق، زراعت  اور معدنیات سمیت اہم شعبوں  میں کوئی  قابل ذکر سرمایہ کاری نہیں گئی۔

جعرافیائی طور پر  یہ متنازعہ علاقہ اپنے اطراف میں چار  ممالک  (پاکستان، چین، انڈیا اور افغانستان جن میں سے تین ایٹمی طاقتیں ہیں کے درمیان گھرا ہوا ہے، جبکہ ترکمانستان کے راستے روس سے بھی قریب تر ہے۔ دنیا کی ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت چین کا ون بیلٹ ون روٹ  منصوبے کے تحت چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)  اسی متنازعہ خطے سے گزر رہا ہے۔راہداری کے ذریعے  چائنہ کو  پاکستان  سے ملانے  کے لیے  پانچ سو کلومیٹر  سے زائد کا راستہ  گلگت بلتستان سے ہی گزر کر بن رہا ہے۔  سنگلاخ پہاڑی سلسلے میں سی پیک کے لیے یہی واحد راستہ ہے۔   مگر اس اہم منصوبے کے نہ کسی اہم بین الممالک اجلاس میں گلگت بلتستان کو سٹیک ہولڈر کے طور پر حیثیت دی گئی اور نہ ہی یہاں  باقی صوبوں کی طرح    منصوبے لگائے جا رہے ہیں۔  جو لوگوں کے احساس محرومی  کو مزید بڑھاوا دے رہا ہے۔

انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ بھی انتہائی سنگین ہے۔  قانون و انصاف کی فراہمی کے لیے موجود  نظام  جس میں  چیف کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹ اور سیشن کورٹ شامل ہیں بہت ہی ناقص، سست اور  ریاستی جبر   سے متاثر  ہے اور علاقے میں عوام کے لیے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ قانون و انصاف  کے کمزور اور طرفدار نظام کے باعث  علاقے میں  ہزاروں ایکڑ  اراضی پر  بلا معاوضہ پاکستان کے  سول و عسکری اداروں کا قبضہ کرنا، آزادی اظہار پر قدغن لگاتےہوئے سیاسی مسائل  و  حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے  دسیوں  سماجی کارکنوں  کو جھوٹے مقدمات میں  پابند سلاسل  کرنا   اس کی چند واضح مثالیں ہیں۔    ان مسائل پر انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی کئی رپورٹوں میں تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

کورٹس کا بنیادی کام آئین کی تشریح کرتے ہوئے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے مگر آئین پاکستان گلگت بلتستان کو اپنا آئینی حصہ تسلیم ہی نہیں  کرتا  لیکن اس کے باوجود گلگت بلتستان میں آئین پاکستان اور تعزایرات پاکستان  اور پاکستانی قوانین کے مطابق ہی فیصلے کیے جاتے ہیں  اور ان کا اطلاق بھی ہوتا ہے   ۔ انسداد دہشت گردی کے قانون   کا استعمال ہر اس شخص کے خلاف کیا جاتا ہے جو علاقے کے حقوق کی آواز اٹھائے چنانچہ بابا جان، حسنین رمل، افتخار احمد سمیت اہم سماجی کارکنوں پر گزشتہ کئی  سالوں سے  قید میں رکھا ہوا ہے۔ مگر اس کے  برعکس گلگت بلتستان  کے مفلوج کورٹس کے فیصلوں کا اطلاق پاکستان کے شہریوں پر نہیں ہوتا جس کے کئی نظائر موجود ہیں۔

چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے برعکس گلگت بلتستان میں  پبلک  سروس کمیش  نہ ہونے کے باعث کلیدی عہدوں کے لیے غیر مقامی اور نچلے گریڈ کی ملازمتوں  کے لیے مقامی افراد    کا کوٹہ مختص کرنے کے مسائل تسلسل  کے ساتھ  پیش آ رہے ہیں۔

سن اکہتر اور  اٹھانوے کی جنگوں سے متاثر ہونے والے سرحدی مہاجرین  کے لیے حکومتی اقدامات نہ ہونے کے باعث سینکڑوں مہاجرین بے گھر  ہو کر در بدر ہو  رہے  ہیں۔   واہگہ بارڈر اور آزاد کشمیر  بارڈر پر سرحد کی دونوں طرف تجارت بھی اور آمد و رفت بھی جاری ہے مگر  بلتستان   کے سرحدی علاقے  کھرمنگ کرگل بارڈر  مکمل طور پر تجارت و  آمد و رفت کے لیے بند ہے جس کے باعث آزادی  اور جنگوں کے دوران بچھڑنے والے خاندان دونوں طرف  بہت ہی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔

سوست بارڈر  کے محصولات سمیت تمام اہم  محاصل وفاق لے جاتا ہے جبکہ  شاہراہ  قراقرم، دریائے سندھ،  دیامر بھاشا ڈیم اور سالانہ  لاکھوں بین الاقوامی  سیاحوں سے لیے جانے والے ریونیو سے گلگت بلتستان کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتا جبکہ متنازعہ علاقے ہونے کے باعث ان سب پر اولین حق علاقے کا ہی بنتا ہے۔ حالانکہ ان سارے وسائل کا باقاعدہ رائلٹی علاقے کو ملنی چاہیے۔

حالیہ احتجاج کی شدت کی بنیادی وجہ یہی وہ سارے عوامل ہیں جو علاقے کے احساس محرومی میں اضافہ کرنے اور لوگوں کے غم و غصے کو بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں۔ وفاق کو  گلگت بلتستان کی داخلی خود مختاری کے لیے فوری طور پر  سیاسی اصلاحات کے عمل کو تیز کر کے اس حساس سرحدی اور تزویراتی علاقے کو مستحکم کرنے میں ستر سال گزرنے کے باوجود مزید تاخیری حربوں سے کام نہیں لینا چاہیے، کیونکہ خطے  کی تعمیر و ترقی کے لیے اہم ترین عنصر سمجھی  جانے والی چین پاکستان اقتصادری راہداری  مضبوط و مستحکم اور پُرامن گلگت بلتستان  میں ہی مضمر ہے۔  ہر احتجاج  اور تحریک کو سازش کے کھاتے میں ڈال کر  پاکستان  کے کسی بھی  آئینی صوبے سے بڑھ کر اس کے لیے ہزاروں افراد کی قربانی دینے والے علاقے کی بے لوث  محبت  و وفاداری  پر سوال اٹھانے کے بجائے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق گلگت بلتستان کے سنجیدہ  مسائل کو فوری حل کرے۔ پاکستان کو گلگت بلتستان کے صرف وسائل اور خوبصورتی  سے دلچسپی رکھنے  کے علاوہ  یہاں بنیادی مسائل و حقوق  پر توجہ دینی ہوگی۔

 

گلگت بلتستان   میں آئینی بحران کس طرح ہے؟

بھارت اور پاکستان کے مابین  متنازعہ  کشمیر کے تین حصے ہیں۔ پہلا حصہ بھارت کے زیر انتظام  جموں  و  کشمیر  ہے جس کو بھارت  کے آئین میں  عبوری طور پر  خصوصی  خودمختاری کا درجہ حاصل  ہے جس کے تحت اسے  راجہ سبھا اور لوگ سبھا  یعنی پارلیمنٹ اور سینٹ دونوں میں نمائندگی حاصل ہے۔  دوسرا حصہ پاکستان کے زیر انتظام خود مختار ریاست آزاد جموں و کشمیر  ہے  جسے  داخلی خود مختاری حاصل ہے  جبکہ تیسرا حصہ گلگت بلتستان ہے جسے نہ پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل ہے اور نہ ہی داخلی خود مختاری بلکہ ایک غیر آئینی صوبے کا لولی  پاپ  دے کر علاقے کے بیس لاکھ  عوام  کو  بے وقوف بنا  کر رکھا گیا ہے۔ الغرض گلگت بلتستان ایسے تمام حقوق سے محروم ہے جو ایک متنازعہ علاقے کے لیے حاصل ہیں۔  جبکہ پاکستان  ہی کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر ریاست کو دفاع، خارجہ اور کرنسی کے علاوہ تقریباً  تمام  دیگر  ریاستی  امور  میں  داخلی  خودمختاری  حاصل  ہے۔ ان کا اپنا صدر، وزیر اعظم، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ، پبلک سروس کمیشن  وغیرہ موجود اور فعال ہیں  اسی طرح سٹیٹ سبجیکٹ رول کے تحت سرزمین کشمیر کا تحفظ کیا جاتا ہے اور کوئی بھی غیر مقامی وہاں زمینوں کی خرید و فروخت نہیں کر سکتا۔

اگرچہ آئین پاکستان میں گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت  کا بھی ذکر موجود نہیں ہے مگر اقوام متحدہ  کے مسئلہ کشمیر  کے مطابق گلگت بلتستان متنازعہ کشمیر کا حصہ ہے۔ پاکستان کے پاس موجود دو حصوں میں سے ایک حصےیعنی آزاد کشمیر کو خود مختاری دی گئی ہے لیکن دوسری طرف گلگت بلتستان کو یہ خود مختاری حاصل نہیں ہے۔

گلگت بلتستان کے سیاسی حقوق کے حل کے لیے ممکنہ آپشنز!

گلگت بلتستان کے سیاسی حقوق کے مستقل  کے لیے ممکنہ طور پر  کئی حل موجود ہیں،

پہلا  آپشن: پانچواں صوبہ!

گلگت بلتستان کو   ملک  کا پانچواں  آئینی صوبہ بنایا جائے۔  مگر  اسے آئینی صوبہ بنانے کے لیے حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر سے متعلق جمع قرارداد میں اپنے اصولی موقف میں تبدیلی اور پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم  لانی ہوگی جس کے بعد  علاقے میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کرایا جانا ہے۔  پاکستان  نے یہ امید بھی لگا رکھی ہے کہ جب بھی مسئلہ کشمیر پر پیش رفت ہو اور پورے متنازعہ خطے میں استصواب رائے کیا جائے تو اٹھائیس ہزار مربع میل  سے زائد رقبے کے بیس لاکھ باشندے یعنی گلگت بلتستان کا ووٹ مکمل طور پر  پاکستان کے حق میں ہوگا جس سے مجموعی  صورت حال پاکستان کے حق میں جائے گی۔   ایک بہانہ یہ بھی   پیش  کیا جاتا ہے کہ  پاکستان جی بی کو فی الحال آئینی صوبہ نہیں بنانا چاہتا تاکہ بھارت کشمیر پر اپنا موقف مضبوط نہ کر لے۔  بھارت سے کئی جنگیں لڑنے، ہزاروں جانیں دینے اور کھربوں ڈالر کے قومی وسائل  خرچ کرنے کے بعد  کشمیر کی قیمت پر  شاید پاکستان  گلگت بلتستان کو کبھی بھی مکمل ٓئینی  صوبہ  نہ بنائے، اس کے علاوہ کشمیری قیادت بھی اس کی شدید  مخالفت کرتی ہے۔ چنانچہ آئینی صوبہ نہ بنانے کے عزم  کا اظہار   مختلف وفاقی وزراء،  سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور رہنماؤں نے متعدد بار کیا ہے۔

گلگت بلتستان  میں موجودہ صوبائی شکل کسی طور پر آئینی صوبہ نہیں ہے۔ موجودہ اسمبلی، گلگت بلتستان کونسل،  وزیر اعلی اور گورنر خالصتاً  نمائشی عنوانات  ہیں۔ ان کے   اختیارات دونوں ہی مقامی کونسلر سے بڑھ کر نہیں ہیں۔ موجودہ سیٹ اپ آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے جس میں گلگت بلتستان کے نام کا کوئی صوبہ وجود ہی نہیں رکھتا،  کسی بھی آفیشل دستاویز، قومی نصاب   سمیت  دیگر لٹریچر میں گلگت بلتستان کا  صوبے کے طور پر  ذکر  کہیں نہیں  کیا جاتا۔ اسی  طرح عملی طور پر  قومی اسمبلی، سینٹ بین الصوبائی مفادات کونسل، این ایف سی ایوارڈ سمیت کسی بھی آئینی فورم پر گلگت بلتستان کی نمائندگی نہیں ہے۔  وفاق اپنے ایک وزیر اور اپنی بیوروکریسی کے ذریعے اس علاقے کو انتظامی طور پر  کنٹرول کرتا ہے۔ چنانچہ گلگت بلتستان کے تمام کلیدی عہدوں پر وفاق ہی اپنے بندے بھیجتے ہیں۔ چنانچہ  علاقے کے معاملات میں وزیر اعلیٰ سے زیادہ چیف سیکٹری  کی حیثیت  فیصلہ کن اور اہم ہوتی ہے جسے وفاق تعینات کرتا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر طرز کی داخلی  خود مختاری!

دوسرا حل  داخلی خود مختاری  دینے کا ہے۔ جی بی عوام زمینی حقائق کا ادراک کرتے  ہوئے  مسئلہ کشمیر کے تصفیے تک  اب کشمیر طرز کی خود مختار ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کو داخلی ریاست کا درجہ ملنے کی صورت میں یہاں آزاد کشمیر کی طرح کرنسی، خارجہ پالیسی ، دفاع  اور مواصلات وغیرہ کے معاملے میں پاکستان کے زیر انتظام ہو گا  جبکہ دیگر معاملات میں  گلگت بلتستان خود مختار ہوگا۔ گلگت بلتستان کی مقامی  قوم پرست سیاسی تنظیموں کا دیرینہ مطالبہ و موقف یہی رہا  ہے جسے اب عوامی حلقوں میں بھی بڑی پذیرائی مل رہی ہے۔

آزاد  جموں و کشمیر ریاست میں انضمام!

تیسرا ممکنہ مگر علاقے  کی عوام کے نزدیک انتہائی نا مطلوب آپشن یہ  بھی ہے  کہ گلگت بلتستان کو موجودہ آزاد کشمیر ریاست میں ضم کیا جائے۔  مگر ستر سالوں سے  کسی طرح تعامل نہ رہنے، جغرافیائی  دوری اور   وسائل و اختیارات میں تقسیم نیز سب سے بڑھ کر گلگت بلتستان کے عوام کے اس آپشن کے لیے غیر آمادگی کے باعث یہ حل انتہائی نامطلوب ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ!

لہذا گلگت بلتستان کے بنیادی انسانی و سیاسی حقوق کے مسئلے پر حکومت پاکستان اسے مسئلہ کشمیر کے تصفیے تک آزاد کشمیر کی طرز پر داخلی خود مختاری دینے کے عزم کا اظہار کرے اور علاقے میں استصواب رائے (ریفرنڈم) کرانے کے لیے اقوام متحدہ  کے مبصرین کو ریفرنڈم کی نگرانی کرنے کی درخواست کرے۔۔ اس حل میں مسئلہ کشمیر پر بھی فرق نہیں پڑتا اور علاقے کو اس کی خواہش کے عین مطابق سیاسی حقوق پر مبنی خود مختاری بھی حاصل ہو جائے گی۔ یہی آسان ترین اور  ہر ایک کی جیت (win-win) حل ہے۔  پاکستان کے لیے بہتر یہی ہے کہ ستر سال سے پکتے ہوئے لاوے کو پھٹنے سے پہلے حل کرے۔  گلگت بلتستان میں سیاسی اصلاحات کی کمیٹیاں بناتے رہنا اور عوام  کی مرضی کے بغیر ا ن پر کوئی بھی نظام تھونپنا  اب کسی طرح دانشمندی نہیں ہے۔ اس کی تازہ مثال سرتاج عزیز کمیٹی کے سیاسی اصلاحات بعنوان ’’گلگت بلتستان آرڈر  ۲۰۱۸  کے منظر عام پر آنے والے ڈرافٹ پر سامنے آنے والاگلگت بلتستان کا  عوامی رد عمل ہے۔

اس پورے تناظر میں گلگت بلتستان کے باشعور جوانوں کی جانب سے ستر سالوں سے پاکستان کے آئینی فریم ورک سے باہر اور آئینی حقوق سے محروم گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت و حقوق سے متعلق آگہی کے لیے  پاکستان کے مختلف بڑے شہروں میں قومی سطح کے سیمیناروں کا اہتمام کیا جا رہا ہے، لاہور، راولپنڈی  میں کامیاب سیمیناروں  کے بعد سکردو میں تیسرے سیمینار کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔ جبکہ کراچی سمیت دیگر شہروں میں بھی سیمینار کے انعقاد کا اعلان عنقریب کیا جائے گا۔ گلگت بلتستان کی مختلف سیاسی، مذہبی و سماجی تنظیموں کا  ۲۰۱۳ سے  مسلسل سرگرم   عوامی اتحاد ’’گلگت بلتستان عوامی ایکشن کمیٹی‘‘ اس آگہی مہم کو عوامی حلقوں تک پہنچا رہی ہے۔

مختلف تعلیمی، صحافتی، سیاسی، سماجی، مذہبی، قانونی تزویراتی اور تحقیقاتی اداروں، تنظیموں اورانجمنوں سے وابستہ احباب سے ہم درخواست کرتے ہیں کہ وہ بے آئین و بے آواز گلگت بلتستان کے لیے آواز اٹھانے میں گلگت بلتستان کے مہذب و باشعور جوانوں کا گلگت بلتستان کے باشعور جوانوں کی جانب سے ستر سالوں سے پاکستان کے آئینی فریم ورک سے باہر اور آئینی حقوق سے محروم گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت و حقوق سے متعلق آگہی کے لیے مختلف شہروں میں قومی سطح کے سیمیناروں کا اہتمام کیا جا رہا ہے، لاہور، راولپنڈی کے بعد سکردو میں تیسرے سیمینار کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔ جبکہ کراچی سمیت دیگر شہروں میں بھی سیمینار کے انعقاد کا اعلان عنقریب کیا جائے گا۔

مختلف تعلیمی، صحافتی، سیاسی، سماجی، مذہبی، قانونی تزویراتی اور تحقیقاتی اداروں، تنظیموں اورانجمنوں سے وابستہ احباب سے ہم درخواست کرتے ہیں کہ وہ بے آئین و بے آواز گلگت بلتستان کے لیے آواز اٹھانے میں گلگت بلتستان کے مہذب و باشعور جوانوں کا ساتھ دیں اور گلگت بلتستان کو آئینی بحران اور سیاسی و معاشی محرومیوں سے نکالنے کی جدو جہد میں اپنا حصہ ڈالیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

Save

Facebook Comments

محمد حسین
محمد حسین، مکالمہ پر یقین رکھ کر امن کی راہ ہموار کرنے میں کوشاں ایک نوجوان ہیں اور اب تک مختلف ممالک میں کئی ہزار مذہبی و سماجی قائدین، اساتذہ اور طلبہ کو امن، مکالمہ، ہم آہنگی اور تعلیم کے موضوعات پر ٹریننگ دے چکے ہیں۔ ایک درجن سے زائد نصابی و تربیتی اور تخلیقی کتابوں کی تحریر و تدوین پر کام کرنے کے علاوہ اندرون و بیرون پاکستان سینکڑوں تربیتی، تعلیمی اور تحقیقی اجلاسوں میں بطور سہولت کار یا مقالہ نگار شرکت کر چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply