عرب امارات کے عیاش مزدور

پچھلے دنوں دبئی تھا، سوچا العین اپنے رشتہ داروں سے ملنے جاؤں مگر بس پکڑی ابوظہبی کی اور سیدھا پہنچا اپنے گاؤں کے ان جوانوں کے پاس جن کے ہم نے بڑے ششکے دیکھے تھے۔ گاؤں میں بوسکی کی شلوار قمیض کیساتھ عربی چپل اور انکھوں پر سیاہ ربن چشمہ چڑھائے جب مغرور قدموں سے ھمارے سامنے گزرتے تو کلون کی مہک ہمیں پاگل کردیتی تھی اور ھم اپنی ڈگریوں کو ایک غلیظ گالی دے بیٹھتے کہ ھم سے اچھے تو یہ جوان ہیں۔ سکول کی شکل نہیں دیکھی اور سال مزدوری کرنے کے بعد ایس ایچ او بادشاہ کیطرح گھومتے ہیں. سال پیشتر، گرمیوں کے سخت دوپہر میں یہ بانکے سجیلے جوان جو ھمارے ساتھ کھوتیوں کو بھگاتے تھے، سال بعد آکر کہنے لگتے کہ اب ھمارا اسٹنڈرڈ رشئن بچیوں تک پہنچ چکا ھے. الغرض ہر لحاظ سے ھمیں احساس کمتری کا شکار بناتے اور مجبوراً ھمیں پھر کھوتیوں کے ساتھ راز ونیاز کرکے خود کو ھلکا کرنا پڑتا.

ابوظہبی پہنچ کر جب ان سجیلوں کو فون کیا تو فوراً ایڈریس سمجھا دیا گیا اور میں ابوظہبی سے نکل کر افغانستان کے کسی گاؤں پہنچ گیا. ایک بوسیدہ تین منزلہ مکان تھا اور پلستر ایسے اکھڑا ھوا کہ کچھ دیر کیلئے مجھے لگا کہ شاید میں حلب پہنچ گیا ھوں. مگر شناسا چہرے دیکھ کر خود کو یقین دلانا پڑا کہ نہیں ابوظہبی ھی ھوگا. بلڈنگ میں چھوٹے چھوٹے ڈربے بنائے گئے تھے اور ہر ڈربے کے اگے چپلوں کا ایسا ڈھیر لگا ھوا تھا کہ مجھے شک پڑا کہ شاید یہاں چھوٹی چھوٹی مساجد ہیں جن میں نماز جمعہ پڑھائی جارھی ھے. کمرے میں داخل ھوا تو کچھ پندرہ بیس افراد سہہ چھتی چارپائوں پر بیٹھے ھوئے تھے اور نسوار تھوکنے کا شدید مقابلہ جاری رکھے ھوئے تھے. مجھے ایسا لگا کہ شاید طالبان امریکن قید میں ہیں. پھٹے کپڑے، بدحواس اور مستقبل سے بے نیاز چہرے مجھے جھنجھوڑے جارھے تھے. شام کا کھانا زبردستی ٹھونسنے کے بعد وہ کلیوال بھی آگئے جو دور صحراؤں میں رہ رھے تھے. رات کو جب میں ان سے رخصت ہونے لگا تو سب نے ایک ایک شاپر پکڑانا شروع کردیا اور میں ھونقوں کیطرح انکا منہ دیکھنے لگا. کہنے لگیں کہ اپنی اپنی اوقات کے مطابق اپکے لئے تحفے تحائف لیکر آئیں ہیں اور میں اپنے آنسو ضبط نہیں کرسکا اور ھر ایک کا ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگاتا رھا اور بنا کسی شاپر کے عازم سفر ھوا……………….
یار آجاؤ اتنی روکھی سوکھی تو اپنی گاؤں میں ہی مل جائیگی، جسے مل بانٹ کر ساتھ کھا سکیں.

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”عرب امارات کے عیاش مزدور

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *