ٹرک کی بتی اور ہم

میرے مضمون کا موضوع سنجیدہ مگر عنوان مضحکہ خیز ہے۔۔۔مگر کیا کروں، نوحہ گری بھی کر کے دیکھ لی، حاصل کچھ نہیں ۔بے حسی کی انتہا ہو چکی ہےہم پاکستانی حیرت و استعجاب کے سمندر میں روزانہ کی بنیاد پر غوطہ زن ہو کر انگشت بدندان ہیں ۔کب تلک ہم سب کا نہ ختم ہونے والا سفر یونہی جاری رہے گا۔کب تلک ہم ٹرک کی بتی کے پیچھے پیچھے چلتے رہیں گے ۔قوم کی رہبری کے دعویداروں کی منافقانہ پالیسیوں کا تسلسل کب تک جاری و ساری رہے گا ۔۔ریاست ماں جیسی ہوتی ہے مگر ہم بدنصیب پاکستانیوں کی ماں سوتیلی ماں سے بھی بد تر ہو چکی ہے۔ہماری ریاست کے کرتا دھرتا ہم سب کے سودوزیاں سے بے نیاز ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے ارمانوں کا خون کیے جا رہے ہیں ۔ ہماری ریاست کیسی ماں ہے جس کا دل سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لمحہ بھر کے لیے بھی پشیماں نہیں ہوتا ۔ ہم لہو کا خراج دے کر تھک چکے ہیں ۔ پاکستان کے قیام کے لیے پہلے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں مگر یہ پاکستان جس کے حصول کے لیےہمارے پرکھوں نے تن من دھن کی بازی لگائی اور نئی نسل کو یہ باور کرایا کہ یہی وہ ملک ہے جہاں سب سپنے حقیقت کا روپ دھاریں گے،عشروں سے ہمارا دیس مقتل گاہ بنا ہوا ہے۔کتنا خراج دیں ہم ،خوگر حمد سے گلہ سننے کے لیے کب رضامند ہوں گے اس دیس کے کرتا دھرتا ۔
کتنی لاشیں کتنا خون چاہیے ۔۔۔سکول کے معصوم بچوں کا قتل عام ہوا پشاور میں تو محسوس ہوا کہ اب ہمارے مقتدر ادارے گہری نیند سے بیدار ہو چکے ہیں ۔اب ہمارے معصوم ننھے فرشتوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔اب وطن کے رکھوالے ان خونی درندوں کو چیر کے رکھ دیں گے۔اس سانحہ کے بعد اور کربلا برپا نہیں ہوگی ۔وقت کے یزیدوں کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی ۔ اس درندگی کے بعد ہماری ریاست نے ہم سب کو یہ باور کروایا کہ اب کوئی چھوٹ نہیں دہشت گردوں کے لیے۔۔۔مگر شومئی قسمت آج ایک بھیڑیا جو خون کا پیاسا تھا اور معصوموں کا خون چوس کر پورے کروفر سے اطلاع دیتا تھا کہ ہم ہیں وہ خون آشام بھیڑیے جو بے گناہوں کا خون پیتے ہیں اور آج ایک سو پچاس ننھے فرشتوں کے خون سے اپنی پیاس بجھائی ہے مگر ہماری پیاس بجھی نہیں مزید بڑھ گئی ہے۔دو سال بعد ٹی وی انٹرویو دے رہاہے ،اعترافات کر رہاہے ،والدین جن کی کل کائنات ان کے بچے ہوتے ہیں ،حیرت سے گم صم ہیں کہ اب ہماری ریاست سنگدلی کے کس مقام پر فروکش ہے ۔کس منہ سے نیست ونابود کے دعوے کرنے والے احسان اللہ احسان کو قوم کے سامنے بٹھا کے زخموں پر نمک کے ساتھ مرچیں بھی چھڑک رہے ہیں اور بے حس میڈیا سپیس سپیس کا کھیل کھیل رہاہے ۔قوم کو ٹرک کی بتی کا نیا سفر مبارک ہو۔
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *