یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے

پاکستانی قوم کو 69 برس سے جاری اقتدار کے کھیل کی نئی قسط مبارک ہو۔ اگر غور کیا جائے تو یہ شاید دنیا کا طویل ترین سوپ سیریل کہلائے گا۔ جو کچھ اس وقت پنجاب اور خیبر پختون خوا کی صوبائی سرحد پر ہو رہا ہے، اسے دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ ملک میں جمہوری حکومتیں قائم ہیں۔ ہمارے جمہوری سیاسی رہنماؤں کی دن رات کی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں اور جمہور پسند طبقے کو جو غالب اکثریت میں ہے، شرمندہ کرانے کا باعث بن رہی ہیں۔ رہی سہی کسر ہمارے بے لگام ٹی وی نیوز چینلز پوری کر رہے ہیں، جن کے نیوز ریڈرز کے لہجے اور رپورٹرز کے کیمرے اس معاملے کو ایک خانہ جنگی کے طور پیش کرنے کی پوری سعی میں مصروف ہیں۔
<br>
تاہم اگر آپ اپنے اعصاب پر قابو رکھیں اور حواس کو مختل ہونے سے بچائے رکھیں تو یہ سمجھنے میں چنداں دشواری نہیں ہو گی کہ کوئی قیامت نہیں آرہی، صرف ایک طویل سلسلہ وار ڈرامے کی نئی قسط جاری ہوئی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جو مناظر آپ اس نئی قسط میں دیکھ رہے ہیں، وہ چند اقساط قبل بھی کرداروں کی معمولی تبدیلی کے ساتھ پیش کیے جا چکے ہیں۔
<br>
اس لیے خود کو پرسکون رکھیے اور اگر ہو سکے تو اس مشہور غزل کا ساؤنڈ ٹریک تلاش کرکے سماعت فرمائیے۔۔۔
لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے
یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے
مجبور کر رہی ہے پھر گردش زمانہ
ہم چھیڑ دیں وہیں سےگزرا ہوا فسانہ
لیکن کوئی بتا دے بھولے تھے ہم کہاں سے
یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے

ژاں سارتر
ژاں سارتر
کسی بھی شخص کے کہے یا لکھے گئے الفاظ ہی اس کا اصل تعارف ہوتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *