نظم اور غزل کا فرق جان کر جیو۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ظفر اقبال صاحب شاید ابھی تک انیسویں صدی میں سانس لے رہے ہیں۔ مجھے علم ہے کہ وہ انگریزی اور اس کے وسیلے سے یورپ کی دیگر زبانوں کے ادب سے نا آشنا ہیں۔ مجھے یہ باور کرنے میں بھی کوئی دقت پیش نہیں آتی کہ وہ اس مقولے میں قطعیت کی حد تک یقین رکھتے ہیں ۔۔

؎ مستند ہے میرا فرمایا ہوا !

یہ بات ان کے ہاڈ اور مانس میں رچی بسی ہو ئی ہے۔میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اخبار میں روزانہ ایک کالم لکھنا ان کا مشغلہ نہیں، روزی روٹی کا ذریعہ ہے ، اور آخر میں مجھے یہ بھی علم ہے کہ ان کے حواری دنگل کے پہلوانوں کے ’’پٹّھوں ‘‘ کی طرح ان کے ارد گرداپنے ڈنڈ پیلتے رہتے ہیں۔

میں صرف قارئین سے یہ پوچھنے کی جرات کرتا رہا ہوں کہ آج تک ، یعنی اکیسویں صدی کے اٹھارہ برس گذر جانے کے بعد بھی،موصوف و ممدوح کی قبیل کا غزل گو شاعر نظمیہ شاعری کو پڑھتے ہوئے غزل کی روایت کے اس مکروہ اثر سے کیوں آزاد نہیں ہو سکتا کہ وہ سطروں کی تراش خراش میں رن آن لائنز کے چلن کو دیکھ سکے۔اور نظم کی’ سطر‘ کو سطر ہی سمجھے، ’ ’مصرع‘‘ نہیں۔ ان دو باتوں کو الگ الگ پلڑوں میں رکھ کر بھی تولنے کی اہلیت مجھ میں ہے ۔

(الف) کیا مقفےٰ اور مسجع نظموں کی غنائیت اور نغمگی، حسن قافیہ کی سحر کاری اور بندش الفاظ نگینوں میں جڑی ہوئی شوکت و رعنائی اس صنف کو ’’آزاد نظم‘‘ یا ’’نظم معرا‘‘ سے ممتاز بناتی ہے؟
(ب) کیا غزل کے روایتی ’’فارمیٹ‘‘ سے مستعار اردو شاعروں کی یہ عادتِ ثانیہ کہ وہ نظم کی ’سطر‘ کو بھی ’مصرع‘ سمجھتے ہیں اور ایسا کرنے سے وہ نظم کی آزادی، یعنی اس کے مضمون اور اس کے شعری اظہار کی لسّانی اور اسلوبیاتی تازہ کاری کی قربانی نہیں دیتے؟ اور ۔۔
(ج) کیا مقفےٰ اور یکساں طوالت کی سطروں پر مشتمل پابند نظموں میں یا ان آزاد اور معرا نظموں میں جن میں ’سطر‘ مصرع کی صورت میں وارد ہوتی ہے، اور رن آن لائنز کا التزام اس لیے ممکن نہیں ہے کہ ’سطر‘ کے بیچ میں ایک جملے کے مکمل ہونے سے حسن شاعری کو ضرب پہنچتی ہے، ان امیجز images کی قربانی نہیں دینی پڑتی، جو رمز و ایمایت کی جمالیات سے عبارت ہوتے ہیں اور علامت و استعارہ کے حسین جھالروں والے پردے کے پیچھے سے نیمے دروں نیمے بروں حالت میں پوشیدہ یا آشکارہ ہوتے ہیں۔

آخری بات فارسی عروض کے بارے میں ہے جو اردو کے گلے میں ایک مردہ قادوس Albatross کی شکل میں لٹک رہا ہے۔ ( اس استعارے کو سمجھنے کے لیے کالریج کی نظم The Ancient Mariner دیکھنی پڑے گی)۔۔۔مجھ جیسے کم فہم اردو دان کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ صوتی محاکات کے حوالے سے یہ عروض اردو کی جملہ سازی کے لیے ناقص ترین ہے۔ کیونکہ عربی اور فارسی کی نسبت اردو کی جملہ سازی واحد و یگانہ ہے۔ غالب کے صرف ایک مصرعے کی تقطیع سے اس بات کا اندازہ ہو سکتا ہے

؎سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں ۔(فاعلاتن، فاعلاتن، فاعلاتن فاعلن ۔ بحر رمل)

آئیے میرے ساتھ ، ظفر اقبال صاحب قبلہ، تاکہ ہم دونوں صوتی محاکات کو دیکھ کر تقطیع کا جوکھم اٹھائیں۔

سب کہاں کچھ (فاعلاتن) یعنی اگر نثر میں لکھا گیا ہوتا تو یہ جملہ یوں ہوتا، سب کہاں؟ کچھ۔۔۔ ’کچھ‘ ہندوی ہے اور صفت کے طور پر تعداد میں ’چند‘ کے معنی میں آتا ہے۔ ’’سب کہاں کچھ‘‘ کو ’فاعلاتن‘ کی ایک ہی بریکٹ میں اکٹھا کرنے سے ایک پیہم، لگاتار، دوڑ لگاتا ہوا جملہ، ’’سب کہاں کچھ؟‘‘ بن گیا ،’ اور ’ یعنی ‘‘سے ’’لا یعنی ‘‘ ہو گیا۔

جملے کا بقایا حصہ یہ ہے۔ ’’لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں‘‘۔ اس جملے میں ’’لالہ و گل‘‘ کے بعد کا لفظ ، یعنی ’’میں‘ ‘، گرائمر کی زبان میں ، ہمیشہ (ظرف مکان ہو، یا ظرف زمان)، مفعول فیہ کے بعد آتا ہے۔ یعنی ’’میں ‘‘ کا تعلق مابعد کے لفظ سے نہیں ، بلکہ ما قبل کے لفظ سے ہے۔ گویا ’’لالہ و گل میں‘‘ ایک قابل فہم جزو ہے، نہ کہ ’’میں نمایاں‘‘ جو کہ لا یعنی ہے۔ اب پھر ایک بار تقطیع کریں۔ لالہ و گل (فاعلاتن) میں نمایاں (فاعلاتن) ہو گئیں (فاعلن)۔۔۔گویا جس بدعت کا ڈر تھا، وہی ہوئی۔ عروض کے اعتبار سے ہم نے مفعول فیہ کے بعد آنے والے اور اس سے منسلک لفظ ’’میں‘‘ کو اس سے اگلے لفظ کے گلے میں باندھ دیا۔ عروض کی ضرورت تو پوری ہو گئی لیکن جملے کا خون ناحق ہو گیا اور اس قتل عمد کی ذمہ داری ان سب پر ہے جنہوں نے ہندوی چھند اور پِنگل سے منہ موڑکر فارسی عروض کواپنایا۔

ایک سچا واقعہ یاد آتا ہے جو خاکسار نے لندن  میں فیض احمد فیض ؔ سے سنا، (اور شاید مرحوم فیض نے کہیں لکھا بھی ہے) کہ ترقی پسند مصنفین کی ایک کانفرنس میں جب فیضؔ ترکی کے شہرہ آفاق شاعر ناظم حکمت سے ملے تو باتوں باتوں میں (ترکی زبان پر فارسی کا اثر دیکھتے ہوئے)، بزعم خود فیض نے کہا کہ اردو شاعری فارسی عروض کے مطابق لکھی جاتی ہے تو ناظم حکمت نے طنزیہ لہجے میں پوچھا، ’’تو کیا ہندوستان کی اتنی قدیم تہذیب اور لٹریچر میں شاعری کا اپنا کوئی عروض نہیں ہے جو آپ اردو والوں کو ایک بدیسی زبان کے عروض پر انحصار کرنا پڑا ہے؟‘‘ یہ سوال سن کر فیض ؔ کی جو حالت ہوئی ہو گی وہ مجھ پر عیاں ہے۔وہ اردو عروض کی بڑائی کرتے ہوئے دو باتیں بھول گئے، ایک تو یہ کہ وسط مشرق اور خلیج کے ممالک کے بارے میں ترک لوگ بے حد منفی اثرات رکھتے ہیں، اور دوئم یہ کہ ایران اور عراق کے کلچر اور ثقافت سے ترک اشرافیہ اور عوام کو خدا واسطے کا بیر ہے۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *