شام سوشل میڈیا اور ہم

اس وقت سوشل میڈیا پر شام کے متعلق ہونے والی بحثوں اور تجزیوں کا بازار گرم ہے۔ جس میں ہر کوئی اپنے اپنے علم اور ایمانی جذبے کے ساتھ بھرپور حصہ لے رہا ہے۔ اس لیے میں نے سوچا میں بھی اپنا حصہ ڈال دوں۔میرے نزدیک اس سارے معاملے میں پاکستان کارول ڈفینسیو ہونا چاہیے۔دیکھیں شام ہمارا برادر اسلامی ملک ہے جہاں ایک طرف بشار کی حکومت ہے اور شیعہ پس منظر رکھتی ہے۔ تو دوسری طرف النصرہ جو سنی پس منظر رکھتی ہے۔ ہمارے ہاں اس موضوع پر بھرپور بحث جاری پر ہے کہ پاکستان کا اس میں کیا کردار ہونا چاہیے۔
میرے نزدیک فی الوقت پاکستان کے پاس کوئی ایسی اتھارٹی نہیں ہے کہ وہ اس سارے قضیے میں ٹانگ اڑائے۔ کیونکہ اس گیم میں ایک طرف وہ ہیں جن سے ہم لے کر کھاتے ہیں امریکہ و عرب۔ جبکہ دوسری طرف وہ ہیں جنکی ہمیں آئندہ بدلتی صورتحال میں اشد ضرورت ہو گی جیسا کہ ترکی، روس، ایران۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کمزور بھی اگر سمجھانا چاہے تو وہ بھی اپنی بات سمجھا سکتا ہے۔ لیکن میرے نزدیک ظالم اور جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے کیلئے جو جرات درکار ہوتی ہے۔ ہماری قیادت میں اس کا بہت فقدان ہے۔ اس لیے میرے نزدیک ہمیں آرام سے بیٹھ کر اس سارے مسئلے کو دیکھنا اور اس سے سبق لیتے ہوئے اپنے تحفظ کا لائحہ عمل بنانا چاہیے۔
دوسرا بہت سے شیعہ اور سنی پاکستان سے جا کر شام میں لڑ رہے ہیں۔ ان کو لے جانے والے لوگوں پر نظر رکھ کر ہمیں اس کو روکنا ہو گا تا کہ معصوم اور ایکسپلائٹڈ کیے ہوئےذہنوں کو اس آگ سے دور رکھ کر بہت سے گھروں کو اُجڑنے اور برباد ہونےسے بچایا جا سکتا ہے۔ جس کی اشد ضرورت ہے۔ باقی مذہب کو بیچ کر جذبات بھڑکائے جاتے رہے ہیں۔ اب بھی بھڑکاۓ جا رہے ہیں اور جاتے رہیں گے۔
شام کی صورتحال اتنی گنجلک ہوئی ہے۔ کہ اگر ہم اسکو جیو پالیٹکس یا جیو سٹریجٹیک حوالے سے دیکھیں تو یہ ایک اچھی خاصی طویل اور سیر حاصل بحث ہو سکتی ہے۔ لیکن میں بس یہی کہنا چاہوں گا،کہ جب بات انٹرنیشنل لیول پر ہو تو پھر اپنے مذہبی جذباتیت اور وطن پرستی سے باہر نکل کر سوچیں اور بحث بھی کریں۔اور اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو آرام کریں۔
ایک ادارہ ہے آرمی۔ جس پر ہمارے بجٹ کا غالب حصہ استعمال ہوتا ہے۔وہ ہماری سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اور اسکے انڈر چلنے والی ایجنسیاں خاص اسی کام کے لیےبنائی گئی ہیں۔ جو اپنا کام بخوبی کر رہی ہیں۔ آپ آرام سے بیٹھ کر وہ پنجابی والے "رنگی دے رنگ ویکھو بس" اور کوشش کرو کہ خود کو اور اپنے دوستوں کو اس جنگ سے دور رکھ سکو۔
نوٹ میرے نزدیک فوج غلطیوں سے ماورا ادارہ نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی ہے کہ وہ ہی ایک واحد ادارہ ہے۔ جس پر ہماری اکثریتی عوام کا اعتماد ہے۔

Avatar
بلال حسن بھٹی
ایک طالب علم جو ہمیشہ کچھ نیا سیکھنے کی جستجو میں رہتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *