• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہیئت پسندی، ساختیات اور نئی تنقید کے قطبی افتراقات اور انسلاکات۔۔احمد سہیل

ہیئت پسندی، ساختیات اور نئی تنقید کے قطبی افتراقات اور انسلاکات۔۔احمد سہیل

جدید ادبی تنقید اور بالخصوص ساختیات کے نظری انتقادات مباحث میں ہیت پسندی اور نئی تنقید میں مختلف جہت ہوتے ہوئے باہم بھی لگتی ہیں۔ جو تخلیقی عمل میں لکھنے والوں کی ذاتی زندگی اور تاریخی متن یا اس کے پس منظر سے دلچسپی نہیں لیتا بلکہ تخلیق یا تحریر کے جوہر کو زیر مطالعہ لاتا ہے اسی سبب ہیئت پسندانہ تنقید ،تنقید کے متن کی باریکیوں میں اترتی ہے۔ اس سبب اس رجحان کو ” قریبی قرات” {CLOSE REDING}، بھی کہا گیا۔

ہیئت پسندی کے ڈانڈے ارسطو کی تنقیدی مباحث سے شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ ” بوطیقا” میں “المیہ” کے تصور کو عمیق رسائی کے ساتھ لسانی نمونوں، قراِین کی تلاش، ثقافت، معاشرت کی ہیت اور متنییات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ایک زمانےمیں ہیت پسندی کے وساطت سے کئی المیاتی تخلیقات کے وظائفی اجزا سے بحث کی گئی جس سے” المیے” کے نظرئیے کی   یاد پڑی۔ اور کئی نظریاتی اور انتقادی سوالات ابھرے۔ جدیدیت پسندانی تنقید کی ابتدا سموئل ٹیلر کولرج کی انتقادات کے بعد شروع ہوئی جب انھوں  نے روس ورتھ کا شاعری کو عمیق متنی مطالعہ کیا۔ اور ان کے شعری نطریئے کی بازیافت کی۔ کولرج کے خیال میں یہ “shaped from with not imposed from without ” ہے۔

ادبی نظریہ میں ہیت پسندی متعدد نقطہ نظر کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ جو ایک متن کی معنوی خصوصیات کا تجزیہ، تفسیر یا تشخیص کرتے ہیں. ان خصوصیات میں قواعدیات اور نحو نہ صرف شامل ہیں بلکہ کئی ادبی پیمانوں جیسے صوتیات، آینگ، اوراقسامیت بھی اس میں شامل ہیں جو روایتی نقطہ نظر ایک متن کی تاریخی، حیاتیاتی اور ثقافتی تناظر کی اہمیت کو کم کرتی ہے.

بیسوی صدی کی  ابتدا میں مقبول رومانیت پسندی کے نظریات کے خلاف ایک ردعمل کے طور پر بحِ ہیت پسندی ابھر کر سامنے آئی۔  جو فنکار اور انفرادی تخلیقی بہبود پر مبنی ہے،جس میں  متن کو نشان زد اور ظاہر کرنے کے لئے متن کی ہیتوں کو دیگر ادبی تخلیقیات اور تنقیدوی نظریوں کے ساتھ باہم بھی کردیا گیا۔ جو پہلے کہیں نہ کہیں موجود تھے۔ ہیت پسندی دوسری جنگ عظیم کے بعد نصابی ادبی مطالعوں میں اہمیت حاصل رہی۔ ۔ ستر /۷۰ کی دہائی میں رینے ویلک اور آسٹن نے اپنی کتاب ” ادب کا نظریہ” Theory of Literature ” لکھی۔

ہیت پسندی کو جمہوریت کا نظریاتی مجموعہ بھی کہا جاتا ہے ۔ جس میں بنیادی طور پر فن ، ادب اور فلسفہ کی تعلیمات و فکریات کا مطالعہ کیا جاتا ہے – اس کے ساتھ ساتھ ریاضیاتی علوم میں ہیت پسندی کے اطلاقی ، آپریشن اور عملیاتی عمل دخل اور اثرات نظر آتے ہیں۔ان ریاضیاتی اصولوں اور کلیات پر ہیت ” فارم” کسی نہ کسی طرح حاوی ہوتی ہے۔ اوران اصولوں زرو بھی دیتی ہے جوکی اس کے بجائے مواد / مادہ، فعل، معطیات یا ان کے درمیان تعلقات اور انسلاک کے بجائے. رسمی تنازعات میں تنقید اس دلیل پر مبنی ہوتی ہے۔ کہ خاص طور پر انفرادی طور پرمعاشرتی اور تاریخی مفادات سےاسے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جس میں ان کا وجود پایا جاتا ہے اورجو اس نوع کے معتبر محاذوں یا قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں اور نہ ہی وہ اپنا فکری، علمی یا تنقیدی جواز پیش نہیں کرسکتا۔ ہوسکتا ہے لکین یہ ممکن ہےکہ اس کی مقررہ پرتین” تہہیں” فکری طور پر اس کے تخلیقی اور انتقادیات کے جوہر کی تشریح و تفہیم کرتی ہیں۔

ساخت کا نظام عمرانیات، بشریات لسانیات، ادبیات، نفسیات اقتصادیات ، فن تعمیرات کے ساتھ ساتھ فلسفہ کی تعلیم کے ذریعے قائم نظریاتی نظریات کا ایک مجموعہ کی ہیت و مجموعے کی صورت اختیار کرلیتے ہیں. یہ نظریہ، اگرچہ اس کے متغیر نظم و ضبط کے استعمال میں مختلف، اس بات کا مستحکم یقین ہے کہ چیزوں کے درمیان تعلقات و انسلاکات اس لیے ہوتے ہیں کہ مجموعی حیثیت کی انفرادی عناصر کا تعین کیا جائے گا. ساختیاتی پر تنقید اس دلیل پر مبنی ہے کہ رشتے میکانی طور پر طے شدہ، حصوں، یا انفرادی انسانوں کے مطابق ہوسکتے ہیں، ان کی ساخت سے باہر کوئی فکری ارادے”ایجنسی” نہیں ہوتے جو اس میں نفوذ، حلول اورسرایت کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ تعلقات اور ان کے طریقوں اور مناجہیات پر کم توجہ مرکوز ہونے کے باوجود ایک فیصلہ کن منطق کی تنقید روایت پسندی کے خلاف بھی انھیں اس سطح پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مگر ان میں ساختیاتی موضوعات جیسے ۔۔۔” قریبی قرات، تاریخ و ثقافت، مرکوز متن، نامیاتی وحدت، تناقص ، ابہام ، علامات ، آبلہ فریبی، ثنوئی تصادات، افتراقات ، لسان، مولول، دال، صوریت، بیانیات، تفھیمات، آزاد مخاطبہ، استعاریت اور مجازمرسل ” ۔۔۔ سے نہ سے نظریں چرائی جاسکتی ہیں اور نہ ان موضوعات کو فکری اور تنقیدی لغت سے باہر نکالا جاسکتا ہے۔ ہیت پسندی کا اثر روسی ہیت پسندی اور پراگ سرکل کے دبستانون پر بھی ہے۔

ہیت پسندی کی فکری اور تنقیدی مطالعات اور مباحث میں یہ کتابیں ممد اور معتبر تسلیم کی گئی ہیں:
Lemon, Lee T., and Marion J. Reis. Russian Formalist Criticism: Four Essays. Lincoln: U of Nebraska P, 1965.
Shklovsky, Viktor. Theory of Prose. Trans. Benjamin Sher. Elmwood Park: Dalkey Archive, 1990.
Trotsky, Leon. Literature and Revolution. New York: Russell and Russell, 1957.
Wellek, René, and Austin Warren. Theory of Literature. 3rd. rev. ed. San Diego: Harcourt Brace Jovanovich, 1977.
Erlich, Victor. Russian Formalism: History—Doctrine. 3rd ed. New Haven: Yale UP, 1981.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *