سٹیفن ہاکنگ،عظیم سائنسدان کی موت۔۔ثنا اللہ خان احسن

SHOPPING
SHOPPING

نوبل    انعام یافتہ عظیم سائنسدان اورطبیعات کےپروفیسر اسٹیفن ہاکنگ 76برس کی عمر میں انتقال کرگئے ۔

عالمی شہرت یافتہ سائنسدان8جنوری1942کوآکسفورڈمیں پیدا ہوئے۔

اسٹیفن کی طویل عمر جسمانی معذوری میں گزری وہ ایک خطرناک بیماری کا شکار تھے وہ نہ ہی بول سکتے تھے اور نہ ہی چل پھر سکتے تھے لیکن دماغی طور پر مکمل صحتمند تھے ۔

اسٹیفن ہاکنگ کو آئن سٹائن کے بعد دوسرا بڑا سائنس دان قرار دیا گیا ہے ، ان کا زیادہ تر کام بلیک ہولز اور تھیوریٹیکل کاسمولوجی کے میدان میں ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب ‘بریف ہسٹری آف ٹائم’ ایک شہرہ آفاق کتاب ہے جسے ایک انقلابی حیثیت حاصل ہے۔

گزشتہ برس برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی نے اسٹیفن ہاکنگ کے 1966ء میں کیے گئے پی ایچ ڈی کا مقالہ جاری کیا گیا جس نے چند ہی دن میں مطالعے کا ریکارڈ توڑ دیا ۔ ان کے مقالے کو 20 لاکھ سے زائد مرتبہ پڑھا گیا اور 5 لاکھ سے زائد لوگوں نے اسے ڈاؤن لوڈ کیا۔

اسٹیفن ہاکنگ کو غیر معمولی ذہانت کی بدولت آج آئن اسٹائن کے ہم پلہ سائنسدان قرار دیا جارہا ہے۔ اس عظیم سائنسدان نے کائنات میں ایک ایسا ” بلیک ہول ” دریافت کیا جس سے روزانہ نئے سیارے جنم لیتے ہیں، اس بلیک ہول سے ایسی شعاعیں خارج ہوتی ہیں جو کائنات میں بڑی تبدیلیوں کا سبب بھی ہیں۔ ان شعاوں کو اسٹیفن ہاکنگ کے نام کی مناسبت سے ” ہاکنگ ریڈی ایشن ” کہا جاتا ہے۔
ہاکنگ فزکس اور ریاضی میں بام عروج پر ہیں۔بڑے سائنسدان ان کے سائنسی کارناموں پر حیرت زدہ ہیں۔ عظیم کام اور عظیم نام اسٹیفن کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو ہے، ان کی زندگی کا ایک اور منفرد اور المناک پہلو ایک عجیب بیماری بھی ہے۔ وہ ایم ایس سی تک درمیانے درجے کے طالبعلم، سائیکلنگ، فٹ بال اور کشتی رانی کے شوقین تھے۔روزانہ پانچ کلومیٹر دوڑ معمول تھی۔ 1963ءمیں جب وہ کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے تھے ایک دن سیڑھیوں سے پھسل گئے ۔طبی معائنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ پیچیدہ ترین بیماری ” موٹر نیوران ڈزیز ” میں مبتلا ہیں۔
طبی زبان میں ” اے ایل ایس ” کہلائے جانے والی یہ بیماری دل کو متاثر کرتی ہے۔ دل پر چھوٹے عضلات جسم کے مختلف افعال کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس بیماری کی تشخیص سے پہلے سائنسدان صرف دماغ کو ہی جسم کا مالک خیال کرتے تھے۔ بیسویں صدی کے آغاز پر ” اے ایل ایس ” کا پہلا مریض سامنے آیا تو پتہ چلا جسمانی سرگرمیوں کا مرکز صرف دماغ نہیں دل بھی ہے۔
دل کے عضلات ” موٹرز ” کہلاتے ہیں۔اگر یہ ”موٹرز“ مرنا شروع ہو جائیں تو جسم کے تمام اعضا ایک، ایک کر کے ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں۔ انسان خود کو آہستہ آہستہ موت کی وادی میں اترتا محسوس کرتا ہے۔ اے ایل ایس کے مریض کی زندگی دو سے تین سال کی مہمان ہوتی ہے، ابھی تک اس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا۔
ہاکنگ 21 سال کی عمر میں اس بیماری کا شکار ہوئے۔ پہلے انگلیاں مفلوج ہوئیں، پھر ہاتھ، بازو،بالائی دھڑ، پاﺅں، ٹانگیں اور آخر میں زبان بھی ساتھ چھوڑ گئی۔ 1965ء میں وہ وہیل چیئر تک محدود ہو کر رہ گئے۔ اس کے بعد گردن دائیں جانب ڈھلکی اور دوبارہ سیدھی نہ ہو سکی۔ وہ خوراک اور واش روم کیلئے بھی دوسروں کے محتاج ہو گئے۔ آج ان کا پورا جسم مفلوج ہے، صرف پلکوں میں زندگی کی رمق باقی ہے، جی ہاں اسٹیفن صرف پلکیں ہلا سکتے ہیں۔
طبی ماہرین نے 1974ء میں ہاکنگ کو ” الوداع” کہہ دیا لیکن اس عظیم انسان نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ مفلوج جسم کے ساتھ اسٹیفن نے اپنی نیم مردہ پلکوں پر ہی زندہ رہنے، آگے بڑھنے اور عظیم سائنسدان بننے کا خواب دیکھا۔ ویل چیئر پر بیٹھے اس شخض نے کائنات کے رموز کھولے تو دنیا حیران رہ گئی۔ کیمبرج کے سائبر ماہرین نے ہاکنگ کیلئے ”ٹاکنگ“ کمپیوٹر ایجاد کیا۔کمپیوٹر ویل چیئر پر لگا دیا گیا، یہ کمپیوٹر ہاکنگ کی پلکوں کی زبان سمجھتا ہے، اسٹیفن اپنے خیالات پلکوں سے کمپیوٹر پر منتقل کرتے ہیں۔ خاص زاویے، توازن اور ردھم کے ساتھ ہلتی پلکیں کمپیوٹر کی اسکرین پر لفظ ٹائپ کرتی جاتی ہیں،ساتھ ساتھ اسپیکر یہ الفاظ نشر بھی کرتا رہتا ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ واحد انسان ہیں جو اپنی پلکوں سے بولتے ہیں اور پوری دنیا سنتی ہے۔
اسٹیفن نے پلکوں کے ذریعے بے شمار کتابیں لکھیں، ”کوانٹم گریویٹی“ اور کائناتی سائنس (کاسمالوجی) کو نیا فلسفہ نئی زبان دی۔ ان کی کتاب ”اے بریف ہسٹری آف ٹائم“ نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا، یہ کتاب 237 ہفتے دنیا کی بیسٹ سیلر کتاب رہی جسے “ادبی شاہکار” کی طرح خریدا اور پڑھا گیا۔
ہاکنگ نے 1990ءکی دہائی میں منفرد کام شروع کیا۔ مایوس لوگوں کو زندگی کی خوبصورتی پر لیکچر دیئے۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں، ادارے اور فرمز اسٹیفن کی خدمات حاصل کرتی ہیں، انہیں ویل چیئر سمیت سیکڑوں، ہزاروں افراد کے سامنے اسٹیج پر بٹھا دیا جاتا ہے اور وہ کمپیوٹر کے ذریعے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں۔
“اگر میں اس معذوری کے باوجود کامیاب ہو سکتا ہوں، اگر میں میڈیکل سائنس کو شکست دے سکتا ہوں، اگر میں موت کا راستہ روک سکتا ہوں تو تم لوگ جن کے سارے اعضاء سلامت ہیں، جو چل سکتے ہیں، جو دونوں ہاتھوں سے کام کر سکتے ہیں، جو کھا پی سکتے ہیں، جو قہقہہ لگا سکتے ہیں اور جو اپنے تمام خیالات دوسرے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں وہ کیوں مایوس ہیں۔

کسے کا دین ایمان اور عقیدہ اس کے ساتھ لیکن آپ اس کی ذہانت اور خداداد صلاحیت سے انکار نہیں کرسکتے۔ سائنسدان حقیقی معنی میں انسانیت کے خادم ہوتے ہیں ۔ کم علمی کی بنیاد پر ہم مسلمان شدید کنفیوژن کا شکار ہیں۔ ہم کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھانے والوں کو وہ احترام نہیں دیتےجس کے وہ مستحق ہیں ۔ ۔ دنیا کے بارے میں ایک مدت سے ہم مسلمانوں کا رویہ ٹھیک نہیں اس لیے ہم آج اقوام عالم میں سب سے پچھلی سیٹ پر براجمان ہیں ۔ سائنسی علم میں زندگی زندگیاں صرف کرنے والے کو جب یہ کہا جائے گا کہ تم نے ساری زندگی ضائع کی تو پھر ہماری درسگاہوں سے گرد ہی اڑے گی ۔ کنفیوژن کا شکار لوگ کبھی کچھ مثبت نہیں کر سکتے۔
وہ خدا کو مانے یا نہ مانے لیکن اس نے زمان و مکان اور کائنات کے اسرار اور رموز سے جو پردے اٹھائے بخدا ان کو جان کر میرا ایمان اس قادر مطلق پر مزید مضبوط ہوگیا۔
مریخ اور چاند پر جانا ہی سب کچھ نہیں لیکن اس تگ و دو میں انسان جو کچھ سیکھتا ہے اور اس کو جو حاصل ہوتا ہے اس سے انسان کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔ چاند پر جانے اور زمین کی کشش سے نکلنے کی تگ و دو میں انسان نے مصنوعی سیارے بنانے سیکھے جن کی بدولت آج پوری دنیا ایک ریموٹ کنٹرول کے اشارے پر آپکے سامنے ہوتی ہے۔ ہزاروں میل دور ہونے والے واقعات لائیو دیکھنا ایک معمول بن چکا ہے۔اس کی بدولت ہی انٹرنیٹ ایجاد ہوا اور اس کے ہوشربا فوائد آپ کے سامنے ہیں۔ خلا میں جانے والے خلانوردوں کے جسم پر کشش ثقل ختم ہونے سے جو انتہائ شدید بد اثرات پیدا ہوتے ہیں ان سے نمٹنے کے لئے روسی سائنسدانوں نے ایسی دوائیں اور ٹیکنیکس ایجاد کیں کہ آج بھی روسی خلا باز دوسرے کسی بھی ملک کے خلا بازوں سے زیادہ عرصہ خلا میں گزار سکتے ہیں اور آج وہی دوائیں اور ٹیکنیکس روسی طرز کی فزیو تھراپی اور ھڈیوں و پولیو زدہ مریضوں کے علاج میں استعمال ہو رہی ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں ک روسی ڈاکٹر کس مہارت سے ھڈیوں اور جوڑوں اور مہروں کی خرابی کا علاج کرتے ہیں کہ انسان کی ہڈی کا سائز بڑھا کر اس کا قد بڑھا دیتے ہیں۔ اس کے جوڑوں و مہروں کے مسائل کا علاج کردیتے ہیں۔ کمزور ھڈیوں کو مضبوط و طاقتور کردیتے ہیں۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا۔ کیا ایسا لگتا ہے کہ یہ سب خلائ ریسرچ سے وجود میں آیا؟ دنیا میں اکثر ایجادات اتفاقی طور پر وجود میں آئیں۔ کام کسی اور چیز پر ہو رہا تھا، جستجو کچھ اور تھی لیکن بدلے میں ایسا کچھ مل گیا جو انسانیت کے لئے بہت مفید اور کارآمد تھا۔
لیکن شرط ہے جستجو اور تلاش اور علم۔ پھر خود بخود راز اور اسرار کھلتے چلے جاتے ہیں۔
واقعہ معراج کے بارے
میں کفار ہمیشہ جھٹلاتے رہے لیکن آئن اسٹائن کی تھیوری آف ریلیٹوٹی کے بعد سب کے منہ بند ہوگئے اور یہ ثابت ہوگیا کہ یہ ممکن ہے۔ آج کوئ بھی کافر واقعہ معراج کی حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا۔
تو بھائیو کسی کا ایمان عقیدہ اس کے ساتھ لیکن آپ اس کے علم اور خداداد صلاحیت سے انکار نہیں کرسکتے۔

SHOPPING

جس وقت شدید تکلیف سے جان نکل رہی ہوتی ہے، سانسیں جسم کا ساتھ چھوڑ رہی ہوتی ہیں، ھارٹ اٹیک کا شدید حملہ کہ بس سمجھو کہ گئے۔۔۔ ایسے میں بھاگم بھاگ ڈاکٹر کے پاس ھسپتال پہنچ کر اپنا آپ اس کے حوالے کرتے قت کیا اس سے پوچھتے ہو کہ تو مومن ہے یا کافر؟ ہندو ہے یا مسلمان؟ خدا پر یقین رکھتا ہے کہ نہیں؟ وہ جتنے بھی آلات و ادویات آپ پر استعمال کرتا ہے وہ انہی کافروں کے ایجاد کردہ ہیں۔ کہ ایجاد و دریافت کوئی بھی کرے لیکن عطا تو ساری اس قادر مطلق کی ہے۔ اگر ایک ہندو ڈاکٹر آپ کی جان بچاتا ہے تو کیا صحتیاب ہونے کے بعد اس کا شکریہ ادا کرو گے یا لعنت بھیجو گے کہ بدبخت میں تیرے علم کو نہیں مانتا کہ تو کافر ہے؟ جب تو خدا کو نہیں مانتا تو بھلا میرا علاج کیا کرےگا؟چل دفع ہو!!

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *