مرے قبیلے کا آخری بہادر۔۔۔۔کامران نفیس

گواہ رہنا۔۔۔۔

یہ “پست قامت”….کریہہ چہروں، گھمنڈ لہجوں، سسکتی سرگوشیوں کے حامل۔۔۔
مرے قبیلے کے سورما سب۔۔۔۔۔
نجس اکھاڑوں میں اپنے لاغر نحیف جسموں کو چاٹتے ہیں!
مرے قبیلے کے فلسفہ گر۔۔۔۔
غلیظ، فاسد رطوبتوں سے بھری ٹپکتی سراب سوچوں سے کام لیکر عجیب منطق تراشتے ہیں!!!
یہ فلسفہ گر صدا و آہنگ و حرف و معنی کو زخم دیکر، لہو کی کچی کھرنڈ دانتوں سے نوچتے ہیں!

گواہ رہنا
کہ شہرِ بے فیض میں نمو کا کوئی حوالہ بھی معتبر نئیں
لہو میں لتھڑی بریدہ لاشوں کا غم اٹھاتے
اداس چہروں، غبار جسموں سے زندگی کا  ذرا گزر نئیں…!
کہ ایسے بے مہر آب و گل میں،
بلکتے لہجوں، اچاٹ نیندوں، ادھورے خوابوں کے دکھ اٹھائے
فصیلِ شورش پہ سانس روکے، قدم جمائے
افق کے متوازی چلنے والوں میں ایک تھا وہ۔۔۔
اور ایک ہی تھا۔۔۔۔۔!
جو پست وبالا کے سب مناظر نظر میں رکھے،
گھٹن بھرے حبس موسموں کی سیاہ سازش سے
شہرِ بے فیض کو بچانے نکل پڑا تھا۔۔۔

قبیلے والو!!! گواہ رہنا۔۔۔
ابد سے امکانِ بے مکانی،
شروع و آخر سے اپنی پہچاں کی جستجو کا وہ ایک وارث ۔۔۔
فصیل شورش کے خستہ زینے، خراب گنبد،
تباہ میناروں، ٹوٹے برجوں کے اس کھنڈر میں۔۔۔
افق کے متوازی چار اطراف چلنے والے
عذاب تیروں کو اپنے سینے پہ سہتے سہتے
نڈھال ہجرت کی آخری حد پہ جا چکا ھے۔۔۔.
وہ اپنے اجداد کی روایت کا نام لیوا
بہت بلندی پہ جا چکا ھے!!!
قبیلے والو!! گواہ رہنا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *