غصہ ۔۔۔ تعلیمات اسلامیہ کی روشنی میں/شہلا نور

جس طرح باغ میں انواع و اقسام کے پھول اپنی اپنی بہاریں دکھا رہے ہوتے ہیں لیکن انکے ساتھ خار بھی موجود ہوتے ہیں اسی طرح اللہ رب العزت نے انسان کو مختلف جذبات کا مجموعہ بنایا ہےان جذبات میں جہاں پیار،محبت، خلوص وغیرہ خوشبو بکھیرتے ہیں وہیں مثلِ خار غیظ و غضب کے جذبات بھی ہیں ۔ اللہ تعالی نے انسان کو جتنی قوتیں اور صلاحیتیں عطا کی ہیں ان میں سے ایک بھی لا یعنی ، بیکار اور فالتو نہیں بلکہ ہر ایک کا ایک صحیح اور جائز مصرف رکھا ہے اور ان میں سے ایک صفت بھی بندے میں نہ ہو تو انسان کو ناقص سمجھا جائے گا۔غصہ و غضب کے بارے میں بھی یہی بات ہے یہ صلاحیت جو ودیعت کی گئی ہے فضول نہیں کیونکہ اسکے ذریعے انسان اپنے دین ‘ اپنی جان کی حفاظت کرتا ہے۔ مکروہات و ناگوار امور کے خلاف مشتعل ہو کر اقدام کرنے خود کو اور اپنے پیاروں کو تحفظ دلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ لیکن اسکا غلط استعمال قطعاً درست نہیں ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں اپنے مومن و مخلص بندوں کی متعدد صفات بیان کی ہیں وہیں انکی یہ صفت بھی بیان کی ہے کہ :
“والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس ” (آل عمران : 134)
” غصہ پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے”
اس لیے نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا :
“لیس الشدید بالصرعۃ انما الشدید الذی یملک نفسہ عند الغضب ”
(صحیح مسلم کتاب البر ، باب فضل من یملک نفسہ عند الغضب ، رقم الحدیث : 6614)
” پہلوان وہ نہیں جو لوگوں کو پچھاڑودے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔۔”
آئیے ! اب غصہ کی حقیقت پر نظر ڈالتے ہیں۔

غصہ کی حقیقت:۔
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
” غضب یعنی غصہ نفس کے اس جوش کا نام ہے جو دوسرے سے بدلہ لینے یا اسے دفع کرنے پر ابھارے ۔ غصہ اچھا بھی ہے اور برا بھی ۔ اللہ کے لیے غصہ اچھا ہے جیسے مجاہد غازی کو کفار پر یا کسی واعظ عالم کو فساق و فجار پر یا ماں باپ کو نافرمان اولاد پر آئے ۔اور برا بھی ہوتاہے۔جیسے وہ غصہ جو نفسانیت کے لیے کسی پر آئے۔”
( مرأۃالمناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ، مفتی احمد یار خان نعیمی ، باب الغضب والکبر،الفصل الاول،جلد: 6 صفحہ :441)
امام غزالی علیہ الرحمہ غصے کی حقیقت پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
“آدمی کی تخلیق اس انداز میں کی گئی ہے کہ اسکی فنا ا ور بقا مقصود تھی لہذا اس میں غصہ رکھ دیا گیا ۔ یہ حمیت و غیرت کی قوت ہے جو انسان کے باطن سے پھوٹتی ہے۔”
(لباب الاحیاء، مجلس مدینۃالعلمیہ، ص: 248، مکتبہ المدینہ)
مزید فرماتے ہیں:
“انسان کی بعض اوقات آتش غضب اتنا بھڑک اٹھتی ہے کہ اس سے انسان کے دل کا خون بھی کھولنے لگتا ہے۔ پھر وہ خون بدن کی دیگر رگوں میں پھیل جاتا ہے اور جب دماغ تک اس طرح پہنچتا ہے جیساکہ کھولتا ہوا پانی تو وہ خون وہاں پھیلنے کے بعد چہرے میں سرایت کرجاتاہے جس سے غصہ کرنے والے کا چہر ہ اور اسکی آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں۔اور کھال کا ظاہری حصہ صاف ہونے کی وجہ سے اپنے اندر موجود خون کی سرخی ظاہر کردیتا ہے۔ایسا اسوقت ہوتا ہے جب انسا ن یہ سمجھ لے کہ وہ اپنے مغصوب(جس پر غصہ آیا) پر قدرت رکھتا ہے ورنہ اگر انسان کو اپنے سے زیادہ طاقتور پر غصہ آئے اور انتقام لینے کی امید بھی نہ ہو تو اسکا خون کھال کے ظاہری حصے سے سمٹ کر دل کے اندر چلا جاتا ہے اور الٹا خوف پیدا ہوجاتا ہے ۔جس سے اسکا رنگ زرد ہوجاتا ہے ۔ اور اگر ہم پلہ شخص پر غصہ آئے اور اس پر قدرت پالینے میں شک ہو تو اسکا خون پھیلنے اورسمٹنے کے درمیان متردد ہوتا ہے جسکی وجہ سے کبھی اسکا رنگ سرخ اور کبھی زرد ہوتا ہے۔ نیز وہ بے چینی محسوس کرتا ہے۔”
(جہنم میں لے جانے والے اعمال ترجمہ الزواجر عن اقتراف الکبائر، ص: 200، مکتبۃالمدینہ)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ غصہ کی قوت کا مقام دل ہے ۔ جب انسان کسی چیز کو پسند یا ناپسند کرتا ہے تو غضب و غصہ سے بھی پاک نہیں رہ سکتا ۔ غصہ ایک فطری عمل ہے عمومًا ہم ایک جملہ سنتے ہیں کہ غصہ حرام ہے لیکن اسکے پینے پر ثواب ہے تو درست بات یہ ہے کہ غصہ مطلقا حرام نہیں بلکہ غصہ اگر کسی باطل کی وجہ سے ہو تو قابل مذمت ہے اور اگر باطل کی بجائے حق کی وجہ سے ہو تو قابل تعریف ہے۔یہی وجہ ہے کہ محبوب رب کائنات ﷺ نے اگر کسی پر غضب فرمایا تو اللہ رب العزت کی خاطر۔ ۔۔ چنانچہ:
“رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں ایک شخص نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ میں فجر کی نماز تاخیر سے پڑھتا ہوں (جماعت کے بعد) کیونکہ امام طویل قرات کرتا ہے۔(راوی کہتے ہیں) میں نے رسول اللہ ﷺ کو جتنے غصے میں اس دن نصیحت کرتے ہوئے دیکھا اس سے پہلے کبھی اتنی شدت نہیں دیکھی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! تم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ جو لوگوں کو منتشر کرتے ہیں لہذاٰ جب تم میں سے کوئی لوگوں کو جماعت کروائے تو نماز کو مختصر رکھے کیونکہ اس کے پیچھے بچے،بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں ۔”
(صحیح مسلم، کتاب الصلوت، باب امر الائمہ، رقم الحدیث: 1044)
بہرحال غصہ ایک ایسا ردعمل ہے جو کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے سامنے آتا ہے۔ لیکن جب ہم غصے میں برس پڑنے کی بجائے اس پر قابو رکھتے ہیں اسے مناسب طریقے سے ظاہر کرتے ہیں تو یہ فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

یادرہے!
غصہ میں افراط و تفریط ہر و حالتیں ناپسندیدہ و نقصان دہ ہیں۔ امام غزالی علیہ الرحمہ اپنی مایہ ناز تصنیف “احیاء العلوم” میں اس حوالے سے تین اقسام بیان فرماتے ہیں:
1)قوت غصہ میں تفریط
2)قوت غصہ میں افراط
3)قوت غصہ میں اعتدال
اب ہم ان پر مختصر بحث کرتے ہیں

1۔ قوتِ غصہ میں تفریط:-
غصہ میں تفریط یعنی اس قدر کم آنا کہ بالکل ختم ہی ہوجائے یا پھر یہ جذبہ ہی کمزور پڑ جائے تو یہ ایک مذموم صفت ہے۔ کیونکہ ایسی صورت میں بندے کی مروت اور غیرت ختم ہوجاتی ہے۔ اور جس شخص میں یہ دونوں صفات نہ ہوں وہ کسی قسم کے کمال کا اہل نہیں ہوتا۔ایسا شخص حشرات الارض کے مشابہ ہوتا ہے۔
اما م شافعی علیہ الرحمہ کے اس قول کا یہی معنیٰ ہے کہ :
“جسے غصہ دلایا گیا اور وہ غصہ میں نہ آیا تو وہ گدھا ہے۔”
(لباب الاحیاء ، مجلس مدینۃ العلمیہ ، ص:249، مکتبۃ المدینہ)
اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام علیھم الرضوان کی حمیت و شدت پر تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
“اذلۃ علی المومنین اعزۃ علی الکافرین ” (مائدہ: 54)
اس معاملے میں غصے کی اس کمی کا نتیجہ یوں ظاہر ہوتاہے کہ انسان اپنے حرم یعنی محرم عورتوں مثلا بیٹی، بہن، بیوی وغیرہ سے چھیڑ چھاڑ کئے جانے کے معاملے میں غیرت کی کمی کا شکار ہوجاتا ہے۔جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“غیرت ایمان کا حصہ ہے۔”
(السنن الکبریٰ للبیھقی ، کتاب الشھادات، باب الرجل یتخذ القلام، الرقم الحدیث:21023)

2۔ قوتِ غصہ میں افراط:-
افراط یعنی اضافہ بھی غصہ میں مذموم ہے۔کیونکہ یہ قوت جب انسان پر غلبہ پاتی ہے تو وہ معقول و منقول ہر دو چیزوں کی سوجھ بوجھ سے عاری ہوجاتا ہے۔ا ور اسکے پاس کسی قسم کی دانش وفکر اور اختیار نہیں رہتا۔ اس شخص کو جس کے اندر یہ آگ بھڑک رہی ہوتی ہے ہر قسم کی نصیحت سننے، سمجھنے سے اندھا اوربہرہ ہوجاتا ہے۔چنانچہ :
“حضرت وھب بن منبہ رضی اللہ عنہ اپنی ایک طویل روایت بیان فرماتے ہیں جسکا خلاصہ یہ ہے کہ: ایک راہب اپنی عبادت گاہ میں مصروف عبادت رہا کرتا تھا ۔شیطان نے ہر چند اسے گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا ۔۔۔ آخر کار اس نے اپنا شیطان ہونا ظاہر کردیا تو راہب نے اس سے پوچھا مجھے ابن آدم کی ان خصلتوں کے بارے میں بتا جو انکے خلاف تیری مددگار ہیں؟ شیطان بولا: “وہ غصہ ہے آدمی جب غصہ کرتا ہے تو میں اسے اسطرح الٹ پلٹ کرتا ہوں جیسے بچے گیند سے کھیلتے ہیں۔”
( جھنم میں لے جانیوالے اعمال ترجمہ الزواجر عن اقتراف الکبائر، مترجم مجلس مدینۃ العلمیہ، ص:185، مکتبۃ المدینہ)
غصہ کی زیادتی کا نتیجہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ چیزوں کے نقصان کے علاوہ بعض اوقات انسا ن اس حالت میں ناصرف دوسروں کی بلکہ اپنی جان بھی لے لیتا ہے۔ معاشرے میں غصہ کی اس لہر نے نظام کو بیحد متاثر کیا ہے ۔ چھوٹے سے لیکر بڑے تک ہر بندہ اس کے زیر اثر ہے۔جسکا جہاں بس چل رہا ہے وہ اپنے غصے کا اظہار کرتا ہے۔اور عجیب بات یہ ہے کہ غصہ آنے کی وجہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی ہیں ۔ گھریلو معاملات دیکھیں یا دفاتر و کمپنیوں کے حالات، یا پھر شاہراہیں اور عوامی مقامات ہر جگہ ذرا سی بات پر بھڑکتےہوئے لوگ ملیں گے۔ حالانکہ اس بات کو خذ العفو پر عمل کرتے ہوئے برداشت اور حسن اخلاق سے درگزر بھی کیا جاسکتا ہے۔ معاشرے میں جو رواج عام طور پر رائج ہیں مثلا غیرت کے نام پر قتل، برادری سے باہر نیز پسند کی شادی کرنے پر قتل وغیرہ یہ سب افراط کی شکلیں ہیں۔اسلام کسی انسان کو یہ ا ختیار نہیں دیتا کہ وہ اس طرح دوسرے کی جان لے۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جو زیادہ تر پریشانیاں اور بے سکونی ہے وہ غصہ بھرے رویے کی وجہ سے ہے۔ کسی بات کو جب انا کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے تو لڑائی دو افراد سے بڑھ کر دو خاندانوں پھع اس سے آگے بڑھ کر تھانہ، عدالت اور لاکھوں روپے کے ضیاع تک پہنچ جاتی ہے۔ غصے کے افراط سے متعدد مقامات پر قرآن پاک میں بھی روکا گیا ہے۔ اسے برداشت اور درگزر کرنے والوں کو احسان کرنے والوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جیساکہ سورہ آل عمران کی آیت 134 کے آخر میں فرمایا “ان اللہ یحب المحسنین” یعنی یہ عمل اللہ پاک کے نزدیک پسندیدہ ہے۔قرآن پاک کی تفسیر یعنی حدیث مبارکہ میں بھی غصہ کو برداشت کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے:
“عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال ان رجلا قال للنبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اوصنی قال لا تغضب فردد مرارا قال لا تغضب”
(صحیح بخاری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، رقم الحدیث:6116)
” حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
ایک شخص نے نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم سےعرض کی : مجھے وصیت (نصیحت) کیجیےفرمایا : غصہ نہ کیا کرو۔اس نے یہ سوال بار بار دہرایا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی فرمایا غصہ نہ کیا کرو۔”
اس حدیث مبارکہ میں غوروفکر کرنے سے بہت سے فوائد و حقائق سامنےآتے ہیں۔جن میں سے یہ بھی ہے کہ غصہ تمام برائیوں کی جڑ ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جامع اور مختصر نصیحت یہی فرمائی کہ غصہ سے اجتناب کیا جائے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنے سارے کیے کرائے پر اور برسوں کی محنت پرایک لمحہ غصہ پر قابو نہ رکھ سکنے کی وجہ سے برباد کر بیٹھتا ہے۔بہت سے قابل اور باصلاحیت لوگ اس بنا پر ناکام ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے۔ اور لوگ بھی ان سے کما حقہ استفادہ نہیں کر پاتے۔
چنانچہ۔۔۔۔۔
اب ہم غصے کے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔
(غصے کے اثرات)
1۔ جسم پر اثرات:
غصے کے جسم پر اثرات جو مرتب ہوتے ہیں وہ یہ ہیں۔۔۔ رنگ کا متغیر ہونا، کاندھوں پر کپکپی طاری ہونا، اپنے افعال پر قابو نہ رہنا، حرکات و سکنات میں بے چینی کا پایا جانا نیز جھاگ نکلنے لگتی ہے۔ ۔۔آنکھوں کی سرخی حد سے بڑھ جاتی ہے۔ ناک کے نتھنے پھول جاتے ہیں بلکہ ساری صورت ہی بدل جاتی ہے۔۔۔ اگر کوئی غضبناک شخص اس حالت میں اپنی ہی شکل دیکھ لے تو شرم کے مارے خودبخود ہی اسکا غصہ ختم ہوجائےگا۔
2۔ زبان پر اثرات :
زبان پر غصہ اور غضب کے اثرات اسطرح ظاہر ہوتے ہیں کہ اس سے بری باتیں نکلتی ہیں مثلا ایسی فحش اور گندی گالیاں وغیرہ کہ جن سے ہر صاحب عقل انسان کو حیا آتی ہے۔ اور غصہ کرنے والا خود بھی بعد از غصہ اپنے رویئے پر شرمندہ ہوتا ہے اور بعض اوقات پچھتاتا بھی ہے۔
3۔ اعضاء پر اثرات:-
اعضاء پر اسکے اثرات اس طرح ہوتے ہیں کہ نوبت مار پیٹ بلکہ بعض اوقات قتل تک پہنچ جاتی ہے ۔ اگر کوئی شخص بدلہ نہ لے سکتا ہو تو وہ اپنا غصہ خود پر نکالتا ہے وہ اسطرح کے اہنے ہی کپڑ ے پھاڑ ڈالتا ہے۔ اپنے آپ کو اور دوسروں کو یہاں تک کہ جانوروں اور دیگر چیزوں کو بھی نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتا۔
دل پر اثرات:-
دل پہ اسکے اثرات یوں مرتب ہوتے ہیں کہ جس پہ غصہ ہو اسکے خلاف دل میں کینہ اور حسد پیداہوجاتا ہے۔اس کی
مصیبت پر خوشی اور خوشی پر غم کا اظہار کرتا ہے اسکا راز فاش کرنے اور مذاق اڑنے کا عزم مصمم کئے ہوتا ہےاوراسکے علاوہ دیگر برائیاں بھی جنم لیتی ہے۔
(جھنم میں لے جانے والے اعمال ترجمہ الزواجر عن اقتراف الکبائر، مترجم مجلس مدینۃ العلمیہ، ص202/203، مکتبۃالمدینہ)
لہذاٰ ۔۔۔ جو شخص افراط و تفریط کا شکار ہو اسے چاہیئے کہ اپنے نفس کا علاج کرے انسان کو چاہئے کہ غصہ پینے ، عفو و درگزر اور صبر کرنے کی فضیلت پر وارد روایات پر غور کرے۔ کیونکہ اسطرح انسان اللہ عزوجل کے میں اعتدال:- تیار کردہ ثواب میں رغبت کرتا ہے اللہ تعا لیٰ نے قرآن پاک میں ایمان والوں کی نشانی
” الکاظمین الغیظ” ( آل عمران، آیت :134)
یعنی غصہ پی جانے والے ۔۔۔۔بیان فرمائی ہے۔۔۔
3) قوت ِغصہ میں اعتدال:-
انسان کا کمال یہ ہے کہ اسکی قوت غضب معتدل (درمیانی) ہو یعنی نہ تو اس میں افراط (زیادتی) ہو اور نہ ہی تفریط(کمی)۔۔۔ بلکہ وہ قوت دین و عقل کے تابع ہو صرف اسی وقت بھڑکے جہاں حمیت و غیرت کی ضرورت ہو اور وہاں بجھی رہے جہاں بردباری سے کام لینا مناسب اور زیبا ہو۔ یہ وہی حالت اعتدال ہے جس کی تعریف نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان الفاظ میں فرمائی ہے:
“امور کی بھلائی انکا اعتدال یعنی درمیانہ پن ہے۔
( المصنف لابن کثیر، کتاب الزھد، الرقم الحدیث:13، ج:8)
یہی اسلام نے پسند کیا ہے اور ہر ایک مسلم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غصے میں اعتدال برتے اوروہیں غصے کا اظہار
کرے جہاں اسلام نے حکم دیا ہے ۔ چنانچہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا:
“من احب للہ وابغض للہ واعطیٰ للہ ومنع للہ فقد استکمل الایمان۔”
( سنن ابی داود، سلیمان بن اشعث ، 2/287)
“جس نے اللہ کے لئے محبت کی اور اللہ کے لیے بغض رکھا اور اللہ کے لیے عطا کیا اور اللہ کے لیے روکا اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا۔”
غصے کا خاتمہ:-
غصہ کا بالکل ختم ہوجانا ممکن نہیں ہاں ایسا ہو سکتا ہے کہ بعض امور میں اور بعض اوقات غصہ ظاہرنہ ہو اور لوگ سمجھیں کہ غصہ ختم ہو گیا ہے۔ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو توحید الٰہی میں اسقدر مغلوب ہوتے ہیں انکا دل کسی امر عظیم میں مشغول ہوتا ہے ایسے موقع پر بھی غصہ دب جاتا ہے یا چھپ جاتا ہے۔۔۔ کچھ واقعات ملاحظہ کیجیے:
1: کسی نے شیخ ربیع بن ہیثم کو گالی دی انھوں نے کہا میر اور بہشت کے درمیان ایک گھا ٹی حائل ہے جسے میں طے کر نے میں مصروف ہوں اگر طے کرلوں تو تیری اس گالی کی مجھے کیا پرواہ اگر طے نہ کر سکوں تو تیری یہ گا لی مجھے کافی نہیں بلکہ اور زیادہ گالیوں کا میں مستحق ہوں۔
2: امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کسی نے گالی دی فرمایا: “میر ے ایسے بہت سے عیوب ہیں جو تجھے معلوم نہیں۔”
3: ایک شخص نے امام شعبی علیہ الرحمہ کو کوئی بری بات کہی انھوں نے جواب دیا : اگر تو سچ کہتا ہے تو اللہ میری مغفرت فرمائے اور اگر تو جھوٹ کہتا ہے تو اللہ تیری مغفرت فرمائے۔
(شاہراہ ہدایت ترجمہ کیمیائے سعادت ، مولانا فیض احمد اویسی،ص:494، زاویہ پبلشرز)
چنانچہ۔۔۔ اگر ہم آخرت کی فکر کریں نیز یہ مدنظر رکھیں کہ اللہ و رسول عزوجل و ﷺ اس بات سے خوش ہوتے ہیں کہ بندہ انکی محبت ورضا کی خاطر جب کوئی ناپسندیدہ بات پہنچے تو غصہ نہ کرے بلکہ انکی محبت اس پر غالب رہے۔۔۔۔ تو اس سوچ سے ہم بھی اپنے غصے کے بڑھتے ہوئے زور کو توڑسکتے ہیں۔
اس تفصیل کے بعد غصہ کو دور کرنے کے چند اور طریقے درج ذیل ہیں:
٭ پہلا طریقہ:
انسان اللہ تعالیٰ کی قدرت پہ غور کرے کہ اللہ اس پہ غضب فرمانے پر قادر ہے اور انسان قیامت میں عفو و درگزر کا زیادہ محتاج ہوگا۔ اس لیے وہ دوسروں پر غصٰہ نہ کرے انھیں معاف کرے تاکہ اسے بھی معاف کیا جائے۔
٭ دوسر اطریقہ:
انسان خود کو سامنے والے کے انتقام سے ڈرائے ۔اگر کوئی انسان اس سے انتقام لینے پر مسلط ہوجائے اسکی عزت دری کرے ،اسکی مصیبت پہ خوشی کا اظہار کرے تو اس پر کیا گزرے گی؟ چنانچہ وہ خود بھی اس سے باز رہے۔
٭ تیسرا طریقہ:
انسان غصے کی حالت کی بری صورت پہ غور کرے اور اپنے نزدیک غصے کی قباحت اور غضب ناک شخص کو کاٹنے والے کتے سے مشابہ اور بردبار شخص کی انبیاٰء و اولیاء سے مشابہت تصور کرے۔۔اور پھر غور کرے اسے کس کے مثل بننا ہے۔
٭ چوتھا طریقہ:
وہ شیطان مردود سے اللہ عزوجل کی پناہ چاہے۔ تعوذ یعنی اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھ لے،پانی پی لے، غسل کرلے،اسے چاہیئے کہ وہ بیٹھ جائے پھر بھی غصہ ختم نہ ہو تو لیٹ جائے تاکہ اسے جس زمین سے پیدا کیا گیا ہے
اس کےقریب ہوجائے۔
نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کا فرمان عالیشان ہے:
“غصہ دل میں دہکنے والا انگارہ ہے۔کیا تم گصے والے شخص کی رگوں کا پھولنا اور آنکھوں کا سرخ ہونا نہیں دیکھتے؟ لہذاٰ تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہئے کہ بیٹھ جائے اگر بیٹھا ہو تو لیٹ جائے اور اگر پھر بھی غصہ زائل نہ ہوتو اسے چاہیئے کہ وضو یا غسل کر لے کیونکہ آگ کو پانی ہی بجھا تا ہے۔”
( اتحاف السادۃ المتقین، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، باب بیان الغضب بعد ھیجانہ، ج:9ص:425)
٭ پانچواں طریقہ:
یہ ہے کہ انسان خاموش ہوجائے اس میں عافیت ہی عافیت ہے۔
رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
“جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے خاموشی اختیار کر لینی چاہیئے”
( مسند امام احمد بن حنبل، الرقم الحدیث: 2136)
نیز اس جگہ سے ہٹ جانا یا کسی اور کام میں مشغول ہوجانا بھی مفید ہے۔
بہرحال!
مجموعی طور پر اللہ عزوجل کے نزدیک معاف کرنا اور غصے کو پی جانا ہی پسندیدہ ہے۔ اگرچہ وہ دوسرے پر قدرت رکھتاہو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ گھونٹ غصے کا ہے جو پی لیا جائے۔ جیساکہ روایت میں آیا:
“عن ابن عمر رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ ما تجرع عبد افضل عند اللہ عزوجل من جرعۃ غیظ یکظمھا ابتغاء وجہ اللہ تعالیٰ”
(مشکٰوۃ المصابیح، علامہ ولی الدین محمد بن عبداللہ الخطیب التبریزی، الرقم الحدیث: 4883)
“حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کا سب سے افضل غصے کا گھونٹ ہے جسے اللہ کی رضاکے لیےپی لیاجائے۔”
چنانچہ۔۔۔۔
قرآن و حدیث نیز بزرگان دین کے واقعات کی روشنی میں ہمیں اپنے غصے پر قابو پاکرایک نارمل اور کارآمد انسان و مسلمان ہونے کا ثبوت دینا چاہیئے۔
بہادر شاہ ظفر نے کیا خوب کہا:
ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا ہو وہ کتنا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
اللہ کریم ہمیں غصے کی تباہ کاریوں سے بچنے اور اس متعلق اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *