اسلامسٹ، لبرل اور مغرب

ایک عمومی رویہ جو ہم سب نوٹ کرتے ہیں کوئی کھل کے کہتا ہے اور کوئی کھل کے یہ تسلیم نہیں کرتا۔ وہ جدیدیت اور مغرب کے بارے میں ہمارا منفی رویہ ہے۔ مغرب سے آنے والے ہر نظریہ کو ہم شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں خاص طور پہ دائیں بازو کے لوگوں میں یہ رویہ بہت عام ہے۔
شومئی اتفاق سے نظریہ سازی اور خاص طور پہ سیاسی نظریہ سازی کا عمل صرف مغرب میں ہی جاری ہے اس لئے ہمارا یہ رویہ جدیدیت کی مخالفت کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔
ہمارا جدید مغرب کے ساتھ سابقہ نوآبادیاتی دور سے پڑا۔ مغرب کے مقابلہ میں مسلسل ناکامی اور شکست کی وجہ سے شک اور بداعتمادی کی فضا قائم ہونا فطری بات تھی۔ یہ صرف مسلم معاشروں میں ہی نہیں ہوا بلکہ تمام افروایشیائی معاشروں میں یہ رویہ پیدا ہوا۔ جاپان بھی اس کا شکار رہا چین آج بھی بہت حد تک مغرب کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔
لیکن مسلم معاشروں اور افریقہ و ایشیا کے غیرمسلم معاشروں میں فرق ہے۔ غیرمسلم معاشروں نے اس عمومی بداعتمادی سے چھٹکارا حاصل کر لیا اور بہت جلد یہ سیکھ لیا کہ مغرب سے درآمدہ کونسا نظریہ ضرر رساں ہے اور کونسا فائدہ مند ہے اور کیا غیر اہم ہے جسکا ہونا نا ہونا ایک برابر ہے۔
انکے مقابلے میں ہم یہ نہ کرسکے ہمارے ہاں آج بھی عمومی بداعتمادی کا ماحول قائم ہے اسی لئے ہم غیر اہم چیزوں پہ بھی بہت حساسیت کا مظاہرہ کررہے ہوتے ہیں۔ مثلا اپریل فُول یا ویلنٹائن ڈے پہ ہمارے رویہ جات جن کی سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں ہے ہمارے ہاں باقاعدہ بحث کو جنم دے رہی ہوتی ہے۔
جب عالم یہ ہوگا تو اہم سیاسی نظریات مثلا سیکولرزم یا جدید ریاست کے اہم اور عملی نظریات کے بارے میں ہمارے رویوں کی شدت اور انکار کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔
آخر کیا ایسی بات ہوئی کہ مغرب سے آزادی پانے والے غیرمسلم معاشروں نے اس ردعمل سے چھٹکارا پالیا اور ہم نہ پاسکے؟
ہوا یہ کہ جہاں غیرمسلم معاشروں نے مغربی ریاستوں کے محرکات کو درست طور پہ سمجھا ہم اس میں بنیادی مغالطہ کھا گئے۔
انہیں نے درست طور پہ سمجھا کہ مغرب کا مقصد انہیں ان کی ساورنٹی سے محروم کرکے ان پہ سیاسی غلبہ حاصل کرنا ہے تاکہ مغرب کے لئے معاشی مفاد حاصل کیا جاسکے۔
ہمارے ہاں یہ سمجھا گیا کہ مغرب کا مقصد ہماری ساورنٹی کو غصب کرکے ہم سے ہمارا مذہب چھیننا ہے۔ اس طرح ہماری سوچ اور بحث کا ڈسکورس ہی مغالطہ کا شکار ہوگیا۔ شائد اس کی وجہ یہ تھی کہ مغرب کی آمد پہ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ محض مذہبی تعلیم کا حامل تھا لہذا قدرتی طور پہ انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ مغرب سے مذہب کو خطرہ ہے۔ اس کی ایک دلچسپ مثال مالی ہے۔ جہاں قدیم بغداد اور دمشق کے دور کی قلمی کتابوں کا عالم اسلام کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ اسے لوگوں نے فوراً چھپا لیا۔ تمام نوآبادیاتی دور میں اسے زیر زمین رکھا گیا اور فرانسیسیوں سے چھپایا گیا۔ لوگ اسے خفیہ رکھنے کے عادی ہوگئے۔ حالیہ سالوں میں وہ ظاہر ہوا اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ فرانسیسی حکومت ان قدیم کتابوں کی سکیننگ کرکے ڈیجیٹل لائبریری بنانے میں مالی اور فنی مدد کررہی ہے۔
مغالطہ کی اس سے بڑی مثال شائد ہی کہیں ملے۔
ہمارا مذہبی اور دائیں بازو کا طبقہ آج بھی اس مغالطہ کا شکار ہے کہ مغرب کا ہدف ہمارا مذہب اور تہذیب ہے۔
یہاں جاپان کی مثال بہت دلچسپ ہے۔ جاپانی معاشرہ میں انکے کلچر کا وہی مقام تھا جو ہمارے ہاں مذہب کا ہے۔ لیکن انکا ردعمل اس لئے زیادہ منطقی اور عملی تھا کہ ان کی بحث کا ڈسکورس درست تھا اور وہ یہ سمجھ چکے تھے کہ سیاسی اور معاشی آزادی لازم وملزوم ہیں لہذا انہوں نے روایتی جاپانی کیمونو کی کوٹ پتلون پہ قربانی دیتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی کیونکہ عملی تقابلہ میں کوٹ پتلون کی افادیت واضح تھی۔ ان کے ہاں کوئی ایسی بحث نہ چلی کہ جاپانی کلچر خطرے میں پڑجائے گا۔ ہاں انہوں نے جاپانی کھانا بھی نہیں چھوڑا کیونکہ اس کی ضرورت نہ تھی۔
اس کے برعکس ہمارے ہاں مغربی لباس کی طبقہ علماء کی طرف سے انیسویں صدی میں جو مخالفت ہوئی وہ سب کو پتہ ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ لباس کا مذہب سے کوئی تعلق ہی نا تھا اور کیمونو کا کلچر سے تعلق مسلم تھا۔
یہاں ایک اور دلچسپ بات پہ غور کرتے ہیں کہ بطور سیاسی رہنما قائداعظم دیگر مسلم سیاستدانوں کے مقابلے میں کیوں کامیاب ہوئے ؟ وجہ اسکی یہی ہے کہ وہ اس بنیادی مفروضہ کا حصہ نہیں بنے کہ مغرب کا ہدف مذہب ہے۔ اسی لئے وہ اس نکتہ پہ واضح تھے کہ معاشی آزادی کے بغیر سیاسی آزادی بے معنی ہے اور انہیں مغربی لباس یا علوم پہ کوئی اعتراض ہی نا تھا۔
انکی جدوجہد مسلم قوم کے سیای اور معاشی مفادات کو یقینی بنانے کے گرد گھوم رہی تھی۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہمارا دایاں بازو چاہے اس کا کھل کے اعتراف نہ کرے لیکن مغرب کے بارے میں اس کی بحث کا ڈسکورس آج بھی یہی ہے کہ مغرب سے مسلمانوں کے مذہب کو خطرہ ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے لبرل کی بحث کا ڈسکورس بھی یہی ہے۔ وہ صرف یہ ثابت کرنے کو جتا ہے کہ مغرب سے یہ خطرہ ہے ہی نہیں یا اگر ہے بھی تو اس پہ لچک ضروری ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسلامسٹ ساورنٹی کے بارے میں حساس ہے تاکہ مذہب کا دفاع ممکن ہو تو لبرل اس کے ردعمل میں ساورنٹی کو خاص اہمیت نہیں دیتا۔ اسلامسٹ اگر یہ بتاتا ہے کہ الگ ملک کا قیام مذہبی آزادی کے لئے ضروری تھا تو لبرل یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ مذہبی آزادی وہاں بھی تھی۔ بلکہ لبرل کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مغرب سے سرے سے ہی کوئی خطرہ نہیں۔
اس سب نے مغرب اور جدیدیت کے بارے میں ہماری بحث کو بہت زیادہ سطحی رنگ دے دیا ہے جس کی عملی افادیت سرے سے ہی نہ ہے تماشا یہ ہے کہ ہمارے لبرل کا بیانیہ بھی سطحی اور غیر عملی ہوگیا ہے۔ اور یہ بنیادی نقطہ کہ سیاسی اور معاشی آزادی لازم و ملزوم ہیں تب تک ہماری نظر سے اوجھل ہی رہے گا جب تک ہماری بحث کا ڈسکورس درست جگہ پہ نہ ہو کہ مغرب کی ریاستوں کے آج بھی معاشی مفادات اور دلچسپیاں ہیں نوآزاد ممالک میں اور مغرب کے محرکات معاشی ہیں ناکہ مذہبی۔
اس کے بعد میں جدیدیت اور مغرب کے بارے میں حقیقت پسندانہ اور عملی رویہ اپنانے کے قابل اور عادی ہوں گے۔

Facebook Comments

عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply