مولوی اسلامو کا کچا کوٹھا۔۔۔ شکیل احمد چوہان/افسانہ

مولوی جی۔۔۔! چلانی کے پانڈے ختم ہو گئے، پر چووئے کے تھاں ختم نہ ہوئے (رسوئی کے برتن ختم ہو گئے پر پانی ٹپکنے والے مقام ختم نہ ہوئے)۔‘‘ پروین نے غصے اور بیزاری سے کہا۔
’’کچا کوٹھا ہی سہی اپنا تو ہے، تیرے بھائیوں کی طرح کرائے دار تھوڑی ہیں۔‘‘ مولوی اسلام دین نے فخر سے جواب دیا جو کہ ڈھیلی چارپائی پر لیٹا ہوا تھا۔ پھٹا ہوا کھیس اُس کے اوپر تھا۔
’’پھر وہی طعنے۔۔۔ کرائے پر ہی سہی رہتے تو لاہور شہر میں ہیں۔ مولوی جی اس پنڈ کا نام کلخانہ نہیں۔۔۔ خصماں نوں خانہ۔۔۔ ہونا چاہیے تھا یا پھر کل کھانا۔۔۔ جب بھی کھانے کو کچھ مانگا۔۔۔ کل کھانا… کلخانہ۔۔۔ خصماں نوں خانہ۔‘‘ پروین نے کرخت لہجے کے ساتھ حساب چُکتا کر دیا۔
’’شکر کر پینو۔۔۔! شکر کر۔۔۔ کھا کے سوتی ہے۔۔۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ تو بھوکی سوئی ہو۔‘‘ مولوی اسلامو نے اپنی چارپائی سے اُٹھتے ہوئے کہا۔ مولوی اسلامو پر چھت سے پانی ٹپکنا شروع ہو گیا اُس نے اپنی چارپائی کھسکائی۔۔۔ پینو کی بتیسی نکل آئی تھی مولوی اسلامو کو دیکھ کر۔
’’مولوی جی۔۔۔! اور کرو شکر۔۔۔ شکر سے نہ تو پانی ٹپکنا بند ہوتا ہے اور نہ ہی خالی پیٹ بھرتا ہے۔شُکر ہے۔۔۔ شَکر نہیں کہ منہ میٹھا ہو جائے۔۔۔ اب تو زبان سارے سواد ہی بھول گئی ہے۔۔۔ کیا میٹھا۔۔۔ کیا کھٹا۔۔۔ سوجی کا حلوہ کھائے ہوئے صدیاں ہو گئیں، چونگی امرسدھو میں ہمارے گھر کے سامنے گندے نالے کے اوپر کھٹے آلو چھولے ملتے ہیں۔ پا رشید ہر روز گھر آتے ہوئے میرے لیے آلو چھولے لے کر آتا تھا۔ یہاں صرف آلو ہی آلو ہیں۔‘‘
پینو کے منہ سے آلو سن کر مولوی اسلامو کو یاد آیا جب وہ صدیق آرائیں سے اپنی سیپ (اُجرت) کی گندم لینے گیا تو صدیق آرائیں نے آلو سستے ہونے کی وجہ سے ایک من گندم کی جگہ ایک من آلو دے دیے۔
’’مولوی صاحب! آپ کی مسجد کی کمیٹی بھی نالائق ہے، بھلا یہ بھی کوئی گل ہے ۔ مربعوں والے بھی ایک من اور ہم ٹھیکے والے بھی ایک من گندم اور مونجی۔‘‘ مولوی اسلامو خیال کی آنکھ سے صدیق آرائیں کو بولتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
’’تو بھی شروع ہو جا… تیری کسر باقی تھی۔‘‘ پینو کی آواز سن کر مولوی اسلامو کی خیال کی آنکھ بند ہو گئی۔ کمرے کے ایک کونے میں پڑی ہوئی آلوؤں کی بوری سے اُس کی آنکھیں ہٹ کر پینو کے چہرے پر جا ٹھہری تھیں۔
’’تیری کسر باقی رہ گئی تھی۔‘‘ پینو کی نظر اپنے دو سال کے بیٹے پر پڑی جس کے کھیس کے اوپر پانی ٹپک رہا تھا۔
’’ہفتے میں تین دن تو ہم لوگ شورے والے آلو کھاتے ہیں، تین دن لسی کی کڑی، ساتواں دن دال کا ہوتا ہے، گوشت عید کے عید وہ بھی کوئی دے گیا تو ٹھیک ورنہ منہ تکتے رہو۔‘‘
پروین نے اپنے بیٹے کو چھاتی سے لگاتے ہوئے دوسری چارپائی پر لٹایا تھا۔ کڑی بنانے کے لیے لسی جانی گجر کے گھر سے مل جاتی۔ دوپہر کو تنور کی روٹی کے ساتھ لسی میں نمک ڈال کر سالن کا کام لیا جاتا جو لسی بچ جاتی وہ رات میں کڑی بنانے کے کام آ جاتی تھی۔
بادل گرج رہے تھے اور کچے کوٹھے کے اندر مولوی اسلامو کا دل تڑپ رہا تھا اپنی غربت پر۔ ساون کی جھڑی تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ جمعرات کی جھڑی تھی کبھی ہلکی اور کبھی تیز رُک نہیں رہی تھی۔
’’مولوی جی۔۔۔! یہ امامت شمامت چھوڑو یہ کچا کوٹھا بیچ دو لاہور چلتے ہیں وہاں پا رشید آپ کو فیکٹری میں لگوا دے گا۔‘‘
پینو نے مولوی اسلامو کی طرف دیکھ کر کہا جو اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو تھامے ہوئے تھا ۔ مولوی اسلامو کے جسم کا بایاں حصہ پولیو کی وجہ سے کمزور اور ٹیڑھا تھا۔ وہ چل تو سکتا تھا مگر لنگڑا کر جس کی وجہ سے لوگ اُسے مولوی لنگڑا بھی کہتے ، کچھ بدتمیز لونڈے مولوی ڈانسر بھی کہتے تھے۔
مولوی اسلام دین امام مسجد تھا، وہ بھی کلخانہ گاؤں کی جامع مسجد کا۔ پورا محلہ کھاتے پیتے لوگوں کا پھر بھی مولوی اسلامو کا کوٹھا کچا ہی تھا۔
’’چھوٹے چوہدری صاحب۔۔۔! نماز پڑھا کرو۔‘‘ ایک دن مولوی صاحب نے چوہدری ظہور سے کہا تھا۔
’’مولوی تجھے کس کام کے لیے رکھا ہے، تو نمازیں پڑھ ، بانگیں دے۔ یہ جو مسجد پر پچیس تیس لاکھ لگائے ہیں، سب محلے والوں نے، تُو اس مسجد کا کرتا دھرتا ہے جو مرضی کر۔۔۔!‘‘ چوہدری ظہور نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
’’مولوی جی۔۔۔! میں تم سے کچھ بک رہی ہوں، تم پتہ نہیں کہاں کھوئے ہو، چھوڑو یہ امامت کوئی کام شام کرو۔‘‘ پینو نے سخت لہجے میں کہا۔ مولوی اسلام دین اپنے خیالوں میں گم تھا۔ مولوی نے پروین کی بات سن کر جواب دیا:
’’امامت تو ویسے ہی چھوٹ جائے گی، ممبر خلیل ہاتھ میں فتویٰ لیے گھوم رہا ہے سارے پنڈ میں کہتا پھر رہا ہے معذور مولوی کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔‘‘ مولوی اسلام دین نے ٹھنڈی سانس بھری۔
’’تو کیا ممبر خلیل تمھاری جگہ مولوی لگنا چاہتا ہے۔‘‘ پینو نے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا تھا۔
’’وہ جامع مسجد میں مولوی نہیں لگ سکتا، وہ دوسرے فرقے کا بندہ ہے پر مجھے ضرور فارغ کروا دے گا۔‘‘
’’تم نے بھی مولوی جی۔۔۔! ہر ایک سے ویر (دشمنی) ڈالا ہوا ہے، بھلا کیا ضرورت تھی اسپیکر میں اُن کے فرقے کو گالیاں دینے کی۔‘‘ پینو نے سمجھانے کی کوشش کی۔
’’کافر کو کافر نہ بولوں، مرتد ہو گئے ہیں دوسرے محلے والے، سب کچھ چھوڑ بیٹھے ہیں۔ ناختم نا نیاز ایک دم شودے کمینے کہیں کے۔‘‘مولوی اسلامو چارپائی سے اُٹھتے ہوئے بولا۔اُس کے چہرے پر غصہ نمایاں نظر آ رہا تھا وہ لنگڑاتے ہوئے اپنے کچے کوٹھے کے دروازے پر گیا، بارش زور وشور سے جاری تھی۔
’’پھر کیا سوچا مولوی جی۔۔۔!‘‘ پینو ہولے سے بولی رُک رُک کر۔
’’پینو دماغ نہ کھا میرا، سو جا تجھے پتہ ہے میں کام نہیں کر سکتا ایک ہاتھ اور ٹانگ سے کام نہیں ہوتا ویسے بھی ابّا گاؤں سے جانے نہیں دے گا۔‘‘
’’ابّے کا کیا ہے، اپنا کوٹھا تو پکا کر لیا اور ہمارا چھوڑ دیا۔‘‘ پینو شکوے کے انداز میں بولی۔
’’نا ابّاکیوں بناتا ہمارا کوٹھا تو نے ہانڈی جو وکھری کر لی اماں سے، دو ہی جی ہیں اماں اور ابّا، پر تو اُنھیں بھی دیکھ نہ سکی۔‘‘ مولوی اسلامو چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’سلمیٰ نے بھی طلاق اس بڈھے اور بڈھی کی وجہ سے لی تھی۔ تمھارا ساتھ چھوڑ کر اچھی رہی ہے۔ اب کامونکی میں رہتی ہے، گھر والا فروٹ کی ریڑھی لگاتا ہے۔ فروٹ کھا کر سوتی ہے، کیا ہوا اُس کا گھر والا پندرہ بیس سال بڑا ہے۔ میرے لیے بھی باگڑیاں سے مٹھو ویلڈر کا رشتہ آیا تھا پر میری مت ماری گئی تھی جو میں نے انکار کر دیا۔ بھابھی باوی نے بڑا سمجھایا: ’’پینو دفعہ کر مولوی کو، مولوی ہے تو گورا چٹا پر تیرے نصیب کالے ہو جائیں گے کیا ہوا مٹھو ویلڈر کالا دوس ہے چار پیسے کماتا ہے چٹی چمڑی سے پیٹ نہیں بھرتا۔‘‘ پینو نے اپنے آنسو صاف کیے ۔ مولوی اسلامو اُٹھا اور پینو کے ساتھ بیٹھ گیاچارپائی پر اس کا ہاتھ پکڑ کر پیار سے بولا:
’’دیکھ پینو۔۔۔! ہمارے حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘
’’مولوی جی۔۔۔! بیس من گندم اور بیس من مونجی سے حالات ٹھیک نہیں ہوتے۔‘‘
’’دوہزار مہینہ بھی تو دیتے ہیں۔‘‘ مولوی اسلامو نے یاد کرایا۔
’’مولوی جی 2015ء میں دو ہزار مذاق لگتا ہے۔‘‘ پینو نے دُکھی آواز میں کہا۔
’’آج کھنڈی عیسائی کی بیوی ملی، بتا رہی تھی اب وہ لوگ بھی اپنے کچے مکان پکے بنانے والے ہیں۔ اس کے بعد سارے پنڈ میں ہمارا گھر کچا رہ جائے گا۔تمھاری مسجد کی کمیٹی تیس لاکھ مسجد پر لگا سکتی ہے، اپنے امام کو تیس ہزار بھی نہیں دے سکتی کہ وہ اپنا کچا کمرہ ہی پکا کر لے۔‘‘
’’کمیٹی والے کہتے ہیں یہ مسجد کے پیسے ہیں اس میں سے نہیں دے سکتے۔‘‘ مولوی اسلام دین نے تفصیل بتائی۔
’’بھوکے ننگے تھوڑی ہیں اُس محلے والے، سارے پنڈ کے تگڑے لوگ اُسی محلے میں رہتے ہیں، گھر پرتی (فی کس) دو ہزار بھی دیں تو ہمارا کچا کوٹھا پکا بن جائے گا۔‘‘ پینو نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا تھا۔
’’پر… دے کون۔۔۔؟ چھ مہینے بعد فصل پر گندم اور مونجی دیتے ہوئے موت پڑتی ہے، دو ہزار دے دیں۔‘‘ مولوی اسلام دین نے غصے سے کہا۔
’’اللہ کی قسمیں۔۔۔! اگر میرا بازو اور ٹانگ ٹھیک ہوتے تومیں کب کا کوئی دوسرا کام کر لیتا۔‘‘یہ کہتے ہوئے مولوی اسلام دین کی آواز میں درد اور آنکھوں میں نمی تھی۔
’’مولوی جی۔۔۔! مجھ سے پوچھو تو سارا قصور تم مولویوں کا ہی ہے، تیس سال پہلے تو تم پولیو کے قطرے نہ پی سکے اور اب اپنے بچوں کو بھی نہیں پینے دیتے۔ بکری، مرغی گواچنے (گم ہونے) کا اعلان مسجدمیں کر دیتے ہو پر پولیو والوں کا اعلان نہیں کرتے۔‘‘
پینو نے چارپائی سے اُٹھتے ہوئے کہا پرات اُٹھائی جو کہ پانی سے بھر چکی تھی۔ اُس نے دروازے میں کھڑے ہو کر پانی باہر پھینکا اور خالی پرات پانی ٹپکنے کی جگہ پر رکھ دی اور خود اپنے بیٹے کے ساتھ لیٹ گئی۔
’’یہ اس مسجد والے مارتے پھرتے ہیں پولیو والوں کو، ہر جگہ تباہی مچا دی ہے اس فرقے نے اور بدنام ہم سارے مولوی ہوتے ہیں۔‘‘ مولوی اسلام دین نے اپنے گھر کے پاس والی مسجد کی طرف اشارہ کیا تھا۔
’’مولوی جی۔۔۔! اللہ ایک، اُس کا رسول ایک، قرآن ایک، تم مولوی پھر بھی ایک نہیں ہوتے۔ ایک دوسرے کو کافر کہتے رہتے ہو۔ تمھیں پتہ ہے مولوی جی اس مسجد والا مولوی جنید وہ وڈی (بڑی) پگ والا اس عید پر سارے محلے میں گوشت دے کر گیا صرف ہمارے اور چاچے کے گھر گوشت نہیں دیا۔ میں نے خود اپنے کانوں سے سنا تھا، کہہ رہا تھا یہ دو گھر مشرکوں کے ہیں شرک کرتے ہیں۔ بدعتی ہیں یہ لوگ۔۔۔ دسویں فیل ہی سہی مجھے سمجھ نہیں آئی میں نے کون سا شرک کیا ہے اور یہ مولوی جنید ساتھ والی ماسی بتا رہی تھی کہ وہ دو تین جماعتیں ہی پڑھا ہوا ہے پھر بھی فتوے دیکھو مسلمانوں کو مشرک بنا رہا ہے۔‘‘
’’یہ سارا محلہ مرتد ہو گیا ہے، بے ادب گستاخ ۔۔۔ وہ اونچی مسجد والے وہ تو تھے ہی بھٹکے ہوئے گمراہ لوگ دین سے دور اب اس محلے کا بھی بیڑا غرق ہو گیا ہے۔‘‘ مولوی اسلام دین کی آنکھوں میں انگارے تھے۔وہ غربت کی آگ تھی یا تفرقے کی ۔۔۔ تھی آگ ہی۔
’’اونچی مسجد والا حافظ اختر جب جی چاہتا ہے ہمارے مسلک کے بارے میں بکواس کرتا ہے ۔اُسے کوئی کچھ نہیں کہتا۔‘‘ مولوی اسلام دین نے گھن گرج سے کہا، پھر جواب بھی خود ہی دے دیا۔
’’وہ کہہ سکتا ہے۔۔۔اُس کے پیچھے کشمیریوں کا ہاتھ ہے۔۔۔ ایک ہماری مسجد والے سب ڈرپوک ، بزدل کہیں کے۔۔۔ نا خود حافظ اختر کو جواب دیتے ہیں نہ مجھے دینے دیتے ہیں۔‘‘
’’اونچی مسجد والے حافظ اختر کو کیا دیتے ہیں؟‘‘ پینو نے پوچھا۔
’’ایک ایکڑ زمین دی ہے کاشت کرنے کے لیے۔۔۔شماہی (چھ ماہ) پندرہ سے بیس ہزار کی فصل بیچ لیتا ہے خرچے نکال کر۔‘‘ مولوی اسلام دین نے کرخت لہجے میں جواب دیا تھا۔
’’اور اس مسجد والے اپنے مولوی کو کیا دیتے ہیں؟‘‘
’’چھ ہزار مہینہ۔۔۔ پر اس مولوی کی پوری تنخواہ بچ جاتی ہے۔۔۔ ساری تنخواہ بھکر اپنے گاؤں بھیج دیتا ہے۔۔۔کھانا نمبردار کے گھر سے آجاتا ہے۔‘‘ مولوی اسلام دین نے رشک سے بتایا۔
’’ پر ہے تو بیوی بچوں سے دور ہی۔۔۔ مولوی جی تم اور حافظ اختر ٹھیک ہو۔ اپنے بیوی بچوں کے پاس اپنے پنڈ میں۔‘‘ مولوی اسلام دین کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری اور کہنے لگا:
’’حافظ اختر کے کیسے بچے۔۔۔ ویسے دم درود کے خلاف بولتا ہے اور خود تعویذ لے کر آیا ہے اولاد کے لیے۔۔۔ پر رہے گا نامراد ہی۔‘‘
’’نا ۔۔۔نا مولوی جی۔۔۔! ایسی باتیں نہیں کرتے۔۔۔ اللہ اس کی بیوی کی بھی گود بھر دے۔۔۔ اُس بھاگن کو بھی اولاد کی خوشی نصیب ہو۔‘‘ پینو نے دعا دی محبت سے۔۔۔خلوص سے۔۔۔ اپنے بیٹے کا ماتھا چومتے ہوئے۔
’’ایک نمبر کا منافق ہے۔۔۔ اور تم دعائیں دے رہی ہو۔‘‘ مولوی اسلام دین نے سخت لہجے میں کہا۔
’’مولوی جی۔۔۔! مجھے سمجھ نہیں آتی تم سب مولوی ایک دوسرے کے اتنے خلاف کیوں ہو۔۔۔ سب کے سب غریب چھ ہزار سے اوپر کسی کی تنخواہ نہیں اور دشمنی سات پشتوں تک کرتے ہو وہ بھی بغیر وجہ کے۔‘‘ پینو نے زور زور سے ہنسنا شروع کر دیا۔ مولوی اسلام دین نے دیکھا تو حیرت سے پوچھا:
’’کیا یاد آ گیا تجھے آدھی رات کو؟‘‘
’’پا رشید کو جس دن اپنا بٹیرہ لڑوانا ہوتا وہ صبح ہی بھابھی باوی کو بول کر جاتا اسے کچھ کھلانا مت۔۔۔ بھوکے بٹیرے زیادہ لڑتے ہیں۔ وہی حال مولویوں کا ہے۔۔۔سارے فرقوں کے مولوی مرتے بھوکے ہیں پر لڑنے سے باز نہیں آتے۔۔۔ ایک دوسرے کو کافر، مرتد، مشرک، گستاخ سب کچھ کہہ ڈالتے ہیں۔۔۔تنخواہ کا حساب لگاؤ تو سب کی چھ ہزار نکلے گی۔‘‘
’’اب ایسی بات بھی نہیں ہے۔۔۔ میرا دوست ہے قاری شبیر ساتھ والے گاؤں میں امام مسجد ہے۔۔۔ اُسے ہر ماہ اجمل باجوہ سعودی عرب سے پورے آٹھ ہزار روپے اس کے اکاؤنٹ میں بھیجتا ہے۔‘‘ مولوی اسلام دین نے تفاخر سے بتایا۔
’’بڑی چھال (چھلانگ) ماری مولوی جی۔۔۔! چھ ہزار سے سیدھا آٹھ ہزار تک۔۔۔ ہاں یاد آیا وہ تمھارے ویزے کا کیا بنا؟‘‘ پپنو نے طنز سے کہا۔
فٹے منہ حافظ عدیل تیرا اُس وقت سیاپا (مصیبت) ڈالا ہوا تھا۔۔۔ مولوی صاحب جلدی سے اپنی تصویریں اور پاسپورٹ کی کاپی بھیج دو۔۔۔اب کہتا ہے مولوی صاحب داڑھی چھوٹی کروا کر نئی تصویریں بھیجو۔ یہاں پر مولویوں کی داڑھی چھوٹی چھوٹی ہوتی ہے۔‘‘
’’مولوی جی پاسپورٹ پر جو چار ہزار لگا ہے وہ میں نے بھابھی باوی سے اُدھار پکڑا، اس فصل پر واپس دینے کا وعدہ ہے جس طرح بارشیں ہو رہی ہیں لگتا ہے چاول کی فصل ویسے ہی گل جائے گی۔ مولوی جی کہیں سیلاب ہی نہ آ جائے۔‘‘ پروین نے فکرمندی سے کہا۔
’’اللہ کرے ہڑ (سیلاب) آجائے سب کی فصلیں بہہ جائیں۔ علامہ اقبال نے صحیح کہا تھا:
جس کھیت سے مولوی کو میسر نہ ہو گندم
اس کھیت کو بہا دو……‘‘
’’مولوی جی اب شعر بھی غلط پڑھ رہے ہو۔‘‘
’’تو۔۔۔ صحیح پڑھ دے پینو بیگم۔۔۔!‘‘ مولوی اسلام دین نے طیش سے کہا۔
’’اگر میں اس قابل ہوتی تو اس کلخانہ پنڈ میں تمھارے ساتھ نہ ہوتی۔‘‘
’’تو کر لیتی مٹھو ویلڈر کے ساتھ شادی۔‘‘ مولوی اسلام دین نے اپنی بیوی کو طعنہ دیا۔
مولوی اسلام دین دکھنے میں بہت خوب صورت تھا۔ کالے سیاہ گیسو، سفید رنگت، نورانی چہرہ، اسی خوبصورتی کی وجہ ہی سے پروین نے مٹھو ویلڈر کی بجائے مولوی اسلام دین سے شادی کی تھی۔
’’مولوی جی میں اپنے کامی کو مولوی کبھی نہیں بننے دوں گی۔‘‘
’’پینو۔۔۔ پینو۔۔۔ تجھے ہزار دفعہ کہا ہے کامی مت کہا کر اس کا نام کامران اسلام ہے پورا نام لیا کر۔‘‘
’’مولوی جی آپ جو پینو۔۔۔پینو کرتے رہتے ہو میرا نام بھی پروین سلطانہ ہے۔‘‘
’’تجھے تو شروع ہی سے تیرے گھر والے پینو کہتے ہیں۔‘‘
’’مولوی جی۔۔۔! تم تو پروین کہا کرو۔ تمھارا نام اسلام دین ہے سارے لوگ مولوی اسلامو کہتے ہیں کئی تو مولوی لنگڑا بھی کہتے ہیں۔ میری زبان جل جائے اگر مولوی جی کے علاوہ کبھی اس میں سے کچھ نکلا ہو۔‘‘ پروین نے شکوہ کیا۔ مولوی اسلام دین کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اُبھری۔ اس نے پروین سے آنکھیں چار کیں۔
’’پروین سلطانہ۔۔۔! غصہ تھوک دو، کامران سویا ہوا ہے تم آجاؤ میری چارپائی پر۔‘‘
پروین مسکراتے ہوئے مولوی اسلام دین کے ساتھ لیٹ گئی۔
اسلام دین اور پروین ڈھیلی چارپائی پر سیدھے لیٹ گئے چھت کی طرف منہ کر کے اور اپنے کچے کوٹھے کی ٹپکتی ہوئی چھت کو دیکھنے لگے۔ اُن دونوں کا غصہ وقتی طور پر ٹھنڈا ہو گیا۔ وہ غصہ جو غربت کی وجہ سے اُن دونوں کی شخصیت کا حصہ بن گیا تھا۔
’’اللہ بہتر کرے گا۔۔۔ ان شاء اللہ اگلی برسات سے پہلے ہم اپنا کچا کوٹھا پکا بنا لیں گے۔‘‘ مولوی اسلام دین نے چھت سے ٹپکتے ہوئے پانی کو دیکھ کر پروین کو تسلی دی۔ تھوڑی دیر وہ دونوں بچوں کی طرح ایک دوسرے کو پانی ٹپکنے والے مقامات کی نشاندہی کرواتے رہے۔
’’اب تم کامران کے ساتھ جا کر سو جاؤ۔‘‘ مولوی اسلام دین نے کروٹ لیتے ہوئے کہا۔ پروین اٹھی اور اپنے بیٹے کے ساتھ جا کر سو گئی۔
رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ بارش ہلکی ہو چکی تھی۔ مولوی اسلام دین اور پروین کچے کوٹھے میں سو گئے۔ فجر کی اذان دینے کے لیے جب ہومیو پیتھک ڈاکٹر سعید چھتری لے کر گھر سے نکلا۔ مولوی اسلام دین کی گلی میں سے گزرتے ہوئے وہ زور سے چیخا۔۔۔ چلّایا ۔۔۔کوٹھا گر گیا۔ مولوی اسلامو کا کوٹھا گر گیا۔۔۔ گر گیا۔ ڈاکٹر سعید روتے ہوئے چیخ رہا تھا کہاں مر گئے ہو محلے والوں۔ مولوی اسلامو کا کچا کوٹھا گر گیا۔۔۔
مولوی اسلامو کا کچا کوٹھا۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *