متشدد معاشرتی رویعے

یوں تو انسانی تاریخ اپنی ابتدا سے لے کر متشدد داستانوں سے بھری پڑی ہے لیکن اس کے باوجود بھی اس میں ایسے ادوار ضرور گزرے ہیں جنہیں پرامن یا کسی حد تک کم از کم تشدد کا زمانہ کہا جاسکتا ہے. اگر ہم قصہ آدم کی بات کریں تو وہاں بھی ہابیل اور قابیل کے درمیان تشدد کی ابتدا ملتی ہے. جہاں کہیں بھی اگر انسانی شعور نے تشدد کی مذمت اور مخالفت کی ہے اور اسے روکنے کی کوشش میں بھی تشدد کا ہی راستہ اختیار کیا ہے. اگر ہم مجموعی انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو تشدد کا عرصہ امن کے عرصے کے مقابلے میں زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں کہا جا سکتا.
سوال یہ ہے یہ تشدد کیوں ہوتا ہے اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں جو انسان کو انفرادی یا مجموعی طور پر اپنے ہی جیسے انسانوں کے لئے متشدد بنا دیتا ہے. کچھ ماہرین کی رائے سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں.
مایوسی اور پریشانی.
کچھ لوگ اس لئے متشدد ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ظلم، تعصب، احساس تنہائی یا غربت کا شکار ہوتے ہیں یا پھر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں بالکل بے اختیار ہیں.
ہجوم کا اثر.
جب لوگ ہجوم میں جمع ہوتے ہیں مثلاً کوئی کھیل تماشا دیکھنے کے لئے تو اکثر وہ ایسے غلط عمل کرجاتے ہیں جنہیں وہ عمومی طور پر نہیں کرتے اس کی وجہ پر ایک ماہر نفسیات لکھتے ہیں (سوشل سائیکالوجی) کہ ہجوم میں لوگ اپنے معیار کو اکثر بھول جاتے ہیں اور جب انہیں اکسایا جائے تو وہ جلد ہی تشدد کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں ہجوم میں لوگ کٹھ پتلی کی طرح عمل کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اس کے لئے جوابدہ نہیں ہونگے.
نفرت، تعصب اور حسد.
نفرت اور حسد احساس محرومی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور تعصب عدم مساوات و انصاف کی وجہ سے. نفرت اور حسد جیسے جذبات کے حاوی ہونے پر بھی انسان متشدد ہوجاتا ہے.
منشیات کا استعمال.
نشہ آور اشیاء کا استعمال نہ صرف جسمانی اور ذہنی صحت کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے بلکہ نفسیاتی مسائل کا بھی شکار بناتا ہے. ان کے استعمال سے دماغ کے ان حصوں پر اثر پڑتا ہے جس سے انسان اپنے آپ پر قابو رکھتا ہے. ایسے فرد کو آسانی سے تشدد پر اکسایا جا سکتا ہے.
سماجی اور ریاستی عدم انصاف.
اگر ریاستی سطح پر جرائم کو کنٹرول کرنے پر عوام میں عدم اطمینان ہو تو اس کا اثر سماجی سطح پر نہایت ہی تباہ کن ہوتا ہے نتیجتاً افراد قانون کو ہاتھ میں لینا شروع کردیتے ہیں جس سے مزید تشدد کی فضا قائم ہوتی ہے اور فساد پھیلتا ہے.
مذاہب کا عمل دخل.
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ دنیا کے تمام مذاہب امن و امان کا درس دیتے ہیں لیکن انسانی تاریخ بھی گواہ ہے کہ انسانیت میں تشدد سب سے زیادہ مذہب کے نام پر ہوا ہے. یہ مشاہدہ ہے کہ جب بھی کسی مذہب کا ہادی اپنے لوگوں کو تعلیم اور تربیت کے بعد ان میں نہ رہا تو اس کے پیروکاروں نے اپنے مذہبی نظریات کو تشدد کے زور پر دوسروں پر مسلط کیا ہے. تشدد کا عنصر عموماً متعدد مذہبی فکر رکھنے والے افراد کے درمیان دیکھا گیا ہے جب باہمی نظریات کا فرق، سوچ کی سمت، علمی و معلوماتی ذخیرے کا فرق واضح ہو. مذہبی معاملات میں قائل ہونے کا امکان انتہائی کم ہوتا ہے اور تشدد کے بھڑکنے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں.
گھریلو تربیت.
متشدد یا معتدل فرد کی شخصیت کی تعمیر میں اس کی ابتدائی تربیت یعنی گھریلو تربیت کا بہت عمل دخل ہوتا ہے. اگر گھر کا ماحول والدین اور دوسرے افراد سے درمیان تناؤ کا شکار ہے تو اس کا اثر بچوں پر انتہائی منفی ہوتا ہے. اس میں احساس محرومی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے. بچوں کی گھریلو تربیت ہی انہیں معاشرے میں نفرت اور محبت کے معیار سکھاتی ہے. ایک پر اعتماد کو پہلا اعتماد اپنی گھریلو مثبت تربیت سے ہی مل سکتا ہے کہ آگے چل کر معاشرے میں عدم تشدد کی راہ اختیار اور ہموار کرتا ہے.

غیر معیاری تعلیمی اور طبقاتی تقسیم.
تشدد کا راستہ ہموار کرنے میں معاشرے میں غیر معیاری تعلیم اور طبقاتی تقسیم کا بہت زیادہ عمل دخل ہے ایک معاشرہ جس میں طبقاتی بنیاد پر غیر معیاری اور مختلف تعلیمی نظام ہوں وہاں قابلیت کا قتل ہوتا ہے اور اقرباء پروری پروان چڑھتی ہے جس کے نتیجے میں محروم افراد میں بغاوت اور تشدد ردعمل کے طور پر پیدا ہوتا ہے.

اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں پچھلی چند دہائیوں سے لوگوں تشدد کا رویہ اپنی انتہاؤں کو چھوتا ہوا نظر آتا ہے ہے.
اس رویہ میں ہر طبقے کے لوگ شامل ملتے ہیں اور ہر شعبہ زندگی میں کسی نہ کسی شکل میں نظر آتا ہے. چند تازہ مثالیں ہمارے سامنے ہر وقت موجود ہیں جو وقتاً فوقتاً نئے گل کھلاتی رہتی ہیں. قانون کا شعبہ جس سے ملک کا سب سے باشعور طبقہ وابستہ ہے یعنی وکلاء برادری کی جانب سے متشدد رویہ جس کے شکار عام لوگ تو ہیں ہی سب سے بڑھ کر قانون نافذ کرنے والا ادارہ یعنی پولیس اور عدالت نشانہ بنے ہیں. اساتذہ کے معزز ترین پیشے سے وابستہ افراد بھی اس تشدد زدہ ماحول میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں. حالیہ مثال ینگ ڈاکٹرز کے متشدد رویے کی ہمارے سامنے ہیں. اس کے علاوہ طالب علموں کی طرف سے مذہبی جماعتوں، سیاسی گروہوں، صوبائیت اور لسانیت کے پرچار کی آڑ میں تشدد کی کارروائیاں ہمارے معاشرے میں جابجا ملتی ہیں. تشدد کی بدترین شکل مسلح دہشت گردی ہے جس سے ہماری ایک نسل کو واسطہ پڑ رہا ہے جو متعدد سول فوجی آپریشن کے بعد کسی حد تک کم ہوئی ہیں لیکن ختم ہونے پر ابھی بہت سے سوالیہ نشان ہیں.
تشدد چاہے انفرادی ہو یا گروہی کسی بھی معاشرے میں ایک ناسور کی طرح ہوتا ہے. اس معاشرے کے اہل فکر و نظر لوگ گھٹن کا شکار ہو کر مریض بن جاتے ہیں. ایسے معاشروں میں خوشی اور مسرت کے اظہار کی سوشل تقریبات جیسے، ثقافتی میلے، موسیقی کے شوز، قومی تقریبات اور کھیلوں کے مقابلے ختم یا نہ ہونے کے برابر ہوجاتے ہیں. لوگ عدم تحفظ کا شکار ہونے لگتے ہیں، ملکی حالات کی وجہ سے معیشت تباہی کا شکار ہوجاتی ہے. لوگوں کا حب الوطنی کا جذبہ ماند پڑ جاتا ہے اور جب اس طرح کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے تو ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایسے معاشرے اور معاشرت کی حامل ریاست کا مستقبل کیسا ہوگا.

انسانیت کا المیہ رہا ہے کہ ایک انسان ہی دوسرے انسان سے عدم تحفظ کا شکار رہا ہے اسی وجہ سے سب سے زیادہ سرمایہ کاری انسانیت کے تحفظ کی بجائے اس کی تباہی پر کی گئی ہے جنگ و جدل اور مہلک ہتھیاروں کی تیاری اور دوڑ اس کی بدترین مثالیں ہیں.

ترقی یافتہ اقوام کی پالیسی اور انسانیت کا مجموعی شعور اب یہ نتائج اخذ کرچکا ہے کہ انسانیت کی فلاح و بقا عدم تشدد کے رویہ میں ہی ہے اپنے جینے کا حق ہم تبھی تسلیم کروا سکتے ہیں جب ہم دوسروں کے جینے کے حق کو تسلیم کریں. یہاں میں اپنی ذاتی رائے بھی دینا چاہوں گا کہ عالمی سطح پر انسانیت کے درمیان عدم تشدد کی پالیسی اسی وقت موثر اور کارگر ہوسکے گی جب وسائل کو بھی جینے کے حق کی طرح ہر کسی کے لئے بنیادی حق تسلیم کیا جائے. اس کا بہترین طریقہ عالمی باہمی تجارتی تعلقات و تعاون ہے.

محمدمنشاء طارق
محمدمنشاء طارق
چوہدری محمد منشاء طارق ورک، مقیم ابوظہبی متحدہ عرب امارات. تعلق اسلام آباد پاکستان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *