سوشلزم اور مذہب۔۔مکرم حسن بلوچ

کمیونزم ایک فرانسیسی لفظ کامن سے نکلا ہے،یعنی اجتماعی دسترس۔ جب معاشی وسائل کمیونٹی کے کنٹرول میں ہو تو یہ کمیونزم ہے۔
سوشلزم بھی ایک فرانسیسی لفظ سوشل سے نکلا ہے۔ جب ذرائع آمدن کے استعمال کا اختیار سوسائٹی کے پاس ہو تو یہ سوشلزم ہے،یعنی سوشلزم اور کمیونزم اپنے مفہوم میں ایک ہی اصطلاح ہے, محض الفاظ الگ ہیں ۔

سوشلزم یا کمیونزم کی اصطلاح کارل مارکس کی ذہنی اختراع ہے۔ بنیادی طور پر کمیونزم (یا سوشلزم) کیپیٹلزم یعنی سرمایہ دارانہ نظام کے رد یا ردِ عمل کے طور پر سامنے آیا۔ کمیونزم یا سوشلزم کا فلسفہ یہ ہے کہ: معاشرے (ملک یا ریاست) کی آمدنی, ذرائع آمدنی اور معیشت پر تمام لوگوں کا مشترکہ حق ہے۔ یعنی تمام وسائل تمام لوگوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔ ان وسائل پر تمام ہی لوگ مشترکہ حق تصرف رکھتے ہیں۔

tripako tours pakistan

جہاں تک کمیونزم اور سوشلزم کا فرق ہے تو جیسا کہ بیان کیا گیا کہ اپنے اصل میں یہ دونوں اصطلاحات ایک جیسا ہی مفہوم لئے ہوئے ہیں۔ تاہم جب 1917 میں روس میں سوشلسٹ انقلاب آیا تو وہی سے کمیونزم اور سوشلزم کی الگ الگ باتیں سامنے آئیں۔

کارل مارکس نے اپنے مقالے (بعد میں کتاب) میں لکھا تھا کہ دنیا سے سرمایہ دارانہ نظام کے مکمل خاتمے تک سوشلزم سے بھی کیپٹلزم کے کچھ اثرات و اوصاف جڑے رہیں گے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اثرات کا معاشی سیاسی ریاستی نظام سے یک دم قلع قمع ممکن نہیں۔ مثلاً  کارل مارکس کا کہنا تھا کہ: سوشلسٹ نظام قائم ہونے کے بعد بھی ایک عرصے تک ملازمتوں میں طبقاتیت قائم رہے گی۔ ہنر مند لیبر اور انٹیلکچوئلز کو عام مزدور کی نسبت اچھی تنخواہ اور مراعات ملا کریں گی۔ یعنی جو زیادہ اچھا کام کرے گا اتنا ہی اچھا صلہ ملے گا۔ اسی کو مارکس نے بورژوا رائٹس کا نام دیا۔

اور اسی نظریہ کو لیکر روس میں لینن نے سوشلزم اور کمیونزم کو الگ الگ کر کے پیش کیا۔ لینن نے نچلے طبقے یعنی عام مزدوروں کے نظام معیشت کو سوشلزم کا نام دیا جبکہ اسی نظام کے بالادست طبقے (انٹیلیکچولز/ ہنرمند یعنی بڑی تنخواہوں والے) کے لئے کمیونزم کہنا شروع کیا۔ یعنی لینن نے کارل مارکس کے خیالات کی اس طرح تفہیم کی کہ سوشلزم اس نظام کی ابتدائی شکل ہے۔ سرمایہ داروں کے استحصالی نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے کسی بھی ریاست میں “مشترکہ وسائل اور مشترکہ حق تصرف” کے نظریے پر مبنی نظام قائم ہو گا تو یہ سوشلزم کہلائے گا ، تاہم سوشلسٹ نظام میں کیپٹلزم کا کچھ اثر رہے گا, طبقاتی نظام کچھ حد تک رہے گا۔ مگر ایک دن آئے گا کہ سوشلسٹ نظام خالص ہو گا, سرمایہ دارانہ نظام کے تمام جراثیم کی بیخ کنی ممکن ہو سکے گی اور ہر آدمی کا وسائل پر برابر حق ہو گا, محنت کا برابر صلہ ملا کرے گا تو یہ سوشلزم کی معراج ہو گی اور یہی حقیقی سوشلزم کہلائے گا یعنی کمیونزم کہلائے گا۔ کمیونزم میں ذرائع آمدنی اور نظام معیشت و حکومت کلی طور پر مزدور طبقے کے ہاتھ میں آئے گا۔ اب یہاں یہ نکتہ باآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ ہر کمیونسٹ سوشلسٹ ہوتا ہے مگر ہر سوشلسٹ کمیونسٹ نہیں ہو سکتا۔

المختصر یہ کہ “مشترکہ وسائل, برابر حق تصرف” پر مبنی نظام کی ابتدائی شکل سوشلزم اور انتہائی شکل کمیونزم کہلائے گی۔ اب یہاں کچھ لوگ سوشلزم کیمونزم کو مذہب مخالف جانتے ہیں وہ سوشلزم سیکولرازم کو ایک ٹھہراتےمار کسزم اور لبرل ازم باہم  نظریات نہیں ہیں ، در حقیقت وہ مخالف نظریات ہیں۔

لبرلز کا مقصد مذہب کا خاتمہ ہے ، بنیاد پرستی نہیں مذہب کو۔ مارکسسٹوں کا مقصد اس مذہبی قوتوں کے مقصد اور مادی بنیاد کو ختم کرنا ہے۔ لبرلز غریب مذہبی لوگوں سے نفرت کرتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور ہم ان مذہبی لوگوں کی وجوہات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہم غریب عوام کی معاشی زنجیروں کی نشاندہی کرتے ہیں جو عوام کے ذہنوں کو اس قدامت پسندی کے تختہ پر باندھتے ہیں۔ غریب لوگوں کے لئے ، کچھ بھی نہیں سے بہتر ہے۔ اگر وہ دوائی نہیں خرید سکتے ہیں تو ، وہ کم از کم شفا یابی کے لئے دعا کر سکتے ہیں۔ لبرلز یہ نہیں سمجھ سکتے کہ معاشرے میں مختلف طبقوں کے لئے مذہب کے مختلف معنی ہیں۔

آپ کو مارکسٹ ہونے  کے لئے ملحد نہیں ہونا پڑے گا ، ہم اچھے طبقاتی جنگجوؤں کے لئے اپنے دروازے بند نہیں کرتے ہیں۔ اگر آپ کو یقین ہے کہ:

سرمایہ داری کو ختم کرنا ہوگا ،
محنت کش طبقے کو ایسا کرنے میں ایک تنظیم کی ضرورت ہے ،
ملک و وطن کو بیرونی سامراج کے چنگل سود کے چنگل سے چھڑا نا چاہے تو
پھر ہماری صفوں میں آپ کا استقبال ہے۔

کچھ احمقوں کا خیال ہے کہ اسلامی دنیا میں سوشلزم غیر عملی اور ناممکن ہے
یہ مفروضہ نہ صرف منطقی بنیاد پر ہی غلط ہے بلکہ تاریخی حقائق کا مسخ ہونا بھی ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی صاحب نے فرمایا تھا کہ ہمارا سیاسی نظام مغربی طرز کا ہوگا اور اقتصادی نظام اشتراکی ہوگا مولانا بھاشانی مولانا محمد علی جوہر یہ سب حضرات اشتراکیت کے خواہاں تھے اسکے علاوہ 20 ویں صدی میں ، اسلامی دنیا میں ایران اور انڈونیشیا کی طرح دنیا کی کچھ سب سے بڑی کمیونسٹ جماعتیں تشکیل دی گئیں۔ یہاں تک کہ 1960 اور 70 کی دہائی کے پاکستان میں بھی ، اشتراکی نظری اجنبی خیال نہیں تھا۔