نواز شریف کی سیاست۔۔طارق احمد

میرے ایک دوست ہیں۔ یہاں کنسلٹنٹ ڈاکٹر ہیں۔ جس دن سپریم کورٹ نے نواز شریف کو پارٹی صدارت کے لیے نااہل قرار دیا اور پچھلی تاریخوں سے ان کے فیصلے بھی منسوخ کر دیے۔ مجھے ان کا فون آیا، خاصے غصے میں تھے  اور اسی غصے میں ان کی فون کال ڈیڑھ گھنٹے تک طویل ہو گئی ۔ ان کی گفتگو کا لب لباب یہ تھا۔ نواز شریف اور مسلم لیگ ن کی حکومت با لکل ہی لیٹ گئی ہے۔

میں نے پوچھا۔ ۔ اچھا چلیں آپ بتائیں نواز شریف اور حکومت کیا کریں ؟ کہنے لگے، ردعمل دیں!

ججوں کے کنڈکٹ کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لائیں۔ نئے قوانین بنائیں۔ کم از کم کوئی تھوڑی بہت قوت کا مظاہرہ تو کریں۔ اس طرح تو حکومت بالکل ختم ہو جائے گی۔ یاد رہے، ہمارے یہ دوست نواز شریف کے ناقد رہے ہیں۔ ہماری دوستانہ محفلوں میں ہمیشہ نوازشریف کی مخالفت کرتے ہیں۔ میرے اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف کے سخت خلاف ہیں۔ لیکن آج فون پر مجھ سے زیادہ سخت زبان استعمال کر رہے تھے، کہنے لگے، آپ کا موقف اب درست لگنے لگا ہے۔ اگلے دن ایک اور دوست میری جانب چلے آئے۔ وہ جی پی ڈاکٹر ہیں، بہت پریشان تھے  اور پاکستان کی سلامتی کے متعلق فکر مند تھے۔ ان کی پریشانی کا سبب بھی یہی بات تھی کہ ادارے ملک کے تحفظ اور یکجہتی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

میرے فیس بک ان باکس اور وٹس ایپ میں روزانہ ایسے بےشمار میسجز آ رہے ہیں۔ جن میں لوگ اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ کئی  دوست تو جذباتی حد تک پہنچ جاتے ہیں اور اداروں کے ساتھ ایک بار کھلی لڑائی کی تلقین شروع کر دیتے ہیں۔ اسلام آباد گھیراؤ کی بات کرتے ہیں  اور ٹکرا جانے کی انقلابی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ خاص طور پر پرو اسٹیبلشمنٹ عناصر پر غصے کی شدت بھی بڑھ رہی ہے۔

ایک شخص نے کہا، نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ کے آگے لیٹ جانے کی پالیسی ہی غلط تھی۔ انہیں کیا حاصل ہوا۔ نکال تو پھر بھی دیے گئے۔ میں یہ ساری باتیں سنتا ہوں، ردعمل پڑھتا ہوں  اور سچی بات ہے، غصہ مجھے بھی آتا ہے۔ ردعمل میں انقلابی خیالات اٹھتے ہیں  لیکن پھر عقل و دانش کام آتی ہے۔
سوچتا ہوں  اگر آج سے تین چار سال پہلے نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے سامنے نہ لیٹے ہوتے  اور انہوں نے راحیل شریف کی عملی حکومت کو چیلنج کیا ہوتا  تو کیا ہوتا۔ ان کی حکومت پلٹا دی جاتی، عمران خان کا طوطی بول رہا تھا۔ کرپشن اور دھاندلی کے الزامات زوروں پر تھے۔ حکومت کے ابتدائی سال تھے۔ ٹکے کا کام نہ ہوا تھا۔ تمام پروجیکٹس ابھی کاغذات میں تھے۔ کچھ بھی ہاتھ نہ آتا۔ ملک کا نقصان الگ ہوتا۔ پہلے ہی جنرل مشرف کے چکر میں ملکی ترقی کے چودہ سال ضائع ہو گئے۔ چناچہ یہ پالیسی بنائی گئی۔ سر کو نیچے کریں  اور کام میں لگے رہیں ، وقت گزاریں، وقت خود فیصلہ کرے گا۔ اور اب دیکھیں وقت فیصلہ کر رہا ہے۔ حکومت نے جیسے تیسے اپنی مدت مکمل کر لی ہے۔ پراجیکٹس مکمل ہو چکے ہیں۔ باقی مکمل ہونے کے قریب ہیں۔  گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ پر تقریباً  قابو پایا جا چکا ہے۔

یاد رہے جب ن لیگ کی  حکومت آئی تھی۔ اٹھارہ  اٹھارہ  گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی۔ کارخانوں کو پوری بجلی اور گیس مل رہی  ہے   ورنہ آئے روز ہڑتالیں ہوتی تھیں۔ پاکستان پر عملی طور پر طالبان کا ہولڈ تھا، روز دھماکے ہوتے تھے۔ سی پیک پر کام آگے بڑھ گیا، موٹر ویز بن رہیں،ائیر پورٹس بن رہے،میٹرو بس اور اورنج ٹرین تیار ہیں ۔ گویا تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اتنا کچھ بنا لیا گیا۔ اگر ٹکرا جاتے تو کچھ نہ بن پاتا  اور یہی وہ کامیابی ہے۔ جو اسٹیبلشمنٹ اور نواز مخالف کیمپ کا خوف بن گیا اور جس کا مقابلہ کرنے کے لیے عدالتی کندھے استعمال کیے جا رہے ہیں، خوف یہ تھا ، نواز شریف اگلا الیکشن بھی جیت رہا ہے۔

چنانچہ اسے نااہل کیا گیا۔ پارٹی صدارت سے ہٹایا گیا  اور اب انہی میگا پروجیکٹس سے کرپشن نکالی جا رہی ہے۔ یعنی خود تو کچھ نہ کر سکے، دکھ یہ ہے کہ  انہوں نے کیوں کر لیا۔ شاید کچھ مزید خلاف فیصلے بھی آئیں۔ شاید نوازشریف کو جیل میں ڈال دیں  لیکن اب دیر ہو چکی۔ اب جو بھی فیصلہ آ رہا ہے، بیک فائر ہو رہا ہے، گواہ بھاگ رہے ہیں ، اسٹیبلشمنٹ اور ادارے ایکسپوز ہو ر ہے  ہیں۔

نوازشریف کے لیے ہمدردی کا ووٹ بڑھ رہا  اور یہ صرف ہمدردی کا ووٹ نہیں۔ نواز شریف کا ووٹ کی حرمت اور عوام کے حق حکمرانی کا بیانیہ مقبول ہو رہا۔ نواز شریف کے ڈٹ جانے اور سرنڈر نہ کرنے پر عوام اسے پسند کر رہے۔ لوگ مان رہے، ن لیگ حکومت نے کام کیے ہیں، لوگ سمجھ رہے کہ  نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، لوگوں کو شعور آ رہا۔۔ ادارے اور نواز شریف مخالف سیاسی کیمپ اور میڈیا کیا کھیل کھیل رہا ہے۔

دوسری جانب عمران خان کا بیانیہ دم توڑ چکا ہے، کے پی کے حکومت کے پاس الیکشن میں بیچنے کو کچھ نہیں، اپوزیشن تتر بتر ہو چکی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ خوف کے عالم میں غلط فیصلے کروا رہی ہے   اور یہ سب کچھ وقت نے ثابت کیا ہے، وقت نے فیصلہ کیا ہے۔ نوازشریف کی پالیسی درست تھی۔ نواز شریف مخالف جو مرضی کہہ لیں، جتنا مرضی پروپیگنڈا کر لیں، جتنا مرضی خوش ہو لیں۔ ٹھٹھہ کر لیں،  سٹکر بازی کر لی! حقیقت یہی ہے جو بیان کر دی ہے۔

رہا سوال نواز شریف کی نااہلیت کا  تو یہ نااہلی جنرل مشرف نے بھی کروائی تھی۔ چودہ سال کی قید بھی ہوئی  تھی۔ نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بن گیا تھا۔ چند ماہ کی بات ہے، نئے فیصلے ہو جائیں گے۔ ملکی و علاقائی و بین الاقوامی حالات اور عوامی شعور یہ فیصلے کروائے گا۔ ہم سول سپریمیسی کے دور میں داخل ہو رہے ہیں!!

طارق احمد
طارق احمد
طارق احمد ماہر تعلیم اور سینیئر کالم نویس ہیں۔ آپ آجکل برطانیہ میں مقیم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *