بلوچ، ثقافت و بغاوت۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

کیا آج ہم لوگ بلوچستان کا سفر ایسے ہی سکون اور اطمینان سے کر سکتے ہیں جیسے ہم ملتان سے لاہور جا رہے ہوں؟ اگر نہیں تو پھر ایسا کیوں ہے؟ کیا بلوچستان کسی شجرِ ممنوعہ کا نام ہے؟ کیا ہم بلوچستان کو زیرِ بحث نہیں لا سکتے؟ کیا بلوچستان کا ذکر کرنا غیراسلامی یا کوئی غیرسنجیدہ موضوع ہے؟ کہیں بلوچستان کو زیرِ بحث لانا کوئی ایک “نان ایشو” ہے؟ یا پھر بلوچستان پہ بات کرنا واقعی ریاست مخالف پیرایہ ہے؟ اگر میرے سوالات غیر ضروری ہیں تو پھر مجھے اِس بات کا جواب چاہیے کہ ہم بلوچستان کے کسی شہر کی طرف عازمِ سفر کیوں نہیں ہوسکتے جیسے ہم فیصل آباد سے اسلام آباد کا دورہ کرتے ہیں؟ آخر کیوں اور آخر کب تلک؟

کیا یہ بات غلط ہے کہ سنگلاخ بلوچستان درحقیقت پاکستان، ایران اور افغانستان سمیت پورے خطے کے سیاسی وجود پر رستا ہوا زخم بن چکا ہے؟ کیا بلوچستان میں مسلح بغاوت اور فوجی آپریشن آج بھی جاری نہیں ہیں؟ کیا قیام پاکستان کے بعد سے ہی بلوچستان انتشار اور سرکشی کا محور و مرکز نہیں ہے؟ کیا بلوچستان سے اجتماعی قبروں کی آنے والی خبریں غلط ہیں؟ کیا کراچی اور بلوچستان سے بلوچ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد نہیں ہوتیں؟ کیا اٹھارہ ہزار لاپتہ بلوچوں کا معاملہ اِس نظام اور اِس ریاست پہ سوالات نہیں اٹھاتا؟ کیا فرقہ وارانہ منافرت کا منافع بخش کاروبار ہزارہ اور شیعہ آبادی سمیت تمام بلوچوں اور پشتونوں کی زندگی کو عذاب نہیں بنا رہا ہے؟ کیا ایرانی مُلا اشرافیہ اور آلِ سعود کی بادشاہت بلوچستان کی آگ میں تیل نہیں اُنڈیل رہے ہیں؟ کیا علاقائی اور دوسری عالمی طاقتوں نے بلوچستان کی سرزمین کو پراکسی جنگ سے برباد نہیں کیا ہوا؟ کیا امریکہ، چین، روس اور بھارت کے سامراجی گدھ بلوچستان کی لوٹ مار کے لئے ریاست اور قوم پرست قیادت میں شراکت دار ڈھونڈتے نظر نہیں آتے ہیں؟

مجھے دو مارچ کو منائے جانے والے “بلوچ کلچر ڈے” نے اِس موضوع پہ قلم اٹھانے پہ مجبور کر دیا ہے. سروں پہ بلوچ پگڑی سجا کر یا بلوچ روایتی لباس زیب تن کرنے سے یا پھر بلوچوں کی روایتی داڑھی مونچھوں سے “بلوچ کلچر ڈے” منایا گیا. حتی کہ کبھی امریکی قونصل خانے کا  عملہ یہی حلیہ اپنا کر “بلوچ کلچر ڈے” مناتا تو کبھی کسی یونیورسٹی کے طلباء ایسا ایک تہوار منا لیتے ہیں. روایتی رقص پیش کرکے یا پھر کسی بلوچی سُر گیت پہ تلوار بازی کرکے “بلوچ کلچر ڈے” منایا جاتا ہے؟

اگر دومارچ کو بلوچ کلچر ڈے کی بجائے “بلوچ رائٹس ڈے” منایا جائے تو کیا یہی جوش و خروش نظر آئے گا؟ کیا یہ ننگی منافقت کا مظاہرہ نہیں ہے؟ کیا یہ بلوچستان کے جلتے ہو حالات کے ساتھ شرمناک حد تک مذاق نہیں ہے؟ میں ذاتی طور پر خوشیاں منانے اور رنگ بانٹنے کا مخالف نہیں ہوں مگر منافقت کا کسی طور بھی قائل نہیں. ایک طرف آگ کا ایندھن بنایا جا رہا ہے اور دوسری طرف مُردہ جسموں پہ پگڑیاں و روایتی لباس سجانے کی کوشش کی جارہی ہے. ایک طرف چہروں کو آنسوؤں سے تَر کیا جارہا ہے اور اُسی لمحے اُنہی چہروں پہ غازہ مَلا جا رہا ہے. ثقافتی رنگ بکھیریے مگر حقیقت میں، جھوٹ موٹ میں نہیں. ایک طرف نسل کُشی اور لوٹ مار کا بازار گرم ہو اور لگے ہاتھ بلوچ کلچر ڈے کا ڈھونگ بھی رچا لیا گیا!

ماضی میں ملکی توانائی کی ضروریات کا ایک تہائی فراہم کرنے والی سوئی گیس کا معاملہ بلوچ عوام میں محرومی اور رنجش کے جذبات کی بڑی وجہ رہا ہے. لیکن علاقے میں معدنیات کے حوالے سے لگائے جانے والے نئے تخمینوں نے سامراجی قوتوں کی ہوس اور نتیجے میں ہونے والی خون ریزی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ کیا سینڈک پر قابض چینی کارپوریشن پندرہ ہزار ٹن روزانہ کے حساب سے کچ دھات نہیں نکالتی رہی ہے؟ لیکن کیا منصوبے کے ریونیو میں صوبائی حکومت کا شیئر صرف دو فیصد نہیں تھا؟ مجھے اِس بات کا بھی جواب دیجیے کہ کرپٹ معیشت، سیاست اور ریاست میں اُس دو فیصد کا کتنا حصہ بلوچ عوام تک پہنچا ہو گا؟ کیا معدنیات کی کان کنی کے دوسرے منصوبے اِسی صورتحال کا شکار نہیں ہیں؟ کیا پاکستانی عوام اور بلوچستانی عوام کے لئے انتہائی فائدہ مند ریکوڈک منصوبہ جہاں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ٹن خالص تانبے اور دو کروڑ دس لاکھ اونس سونے کی موجودگی کا تخمینہ لگایا گیا، دو طرفہ کشیدگی اور بلوچ اشرافیہ کے داخلی تضادات کو مزید بھڑکانے کا سبب نہیں بن رہا؟

جس بلوچ ثقافت کا دِن جوش و خروش سے منایا گیا، اُسی ثقافت کے امین کے عوام اتھاہ محرومی، غربت اور بیروزگاری کی ذلتوں سے دوچار ہیں۔ سب سے زیادہ معدنی  ذخائر رکھنے والے اس خطے کے سماجی اعشارئیے سب سے پست ہیں۔ بلوچستان میں زندگی ایک سزا سے کم نہیں ہے. اصلاحاتی پیکج، آئینی ترامیم اور ثقافتی دن منا کر عوام  کو فریب دینا بند ہونا چاہیے. جس خطے میں سامراجی قوتوں کو لسانی، قومیتی اور فرقہ وارانہ تعصب اور نفرت کے بیج بونے کی کُھلی آزادی ہو وہاں بغاوتیں پنپتی ہیں، ثقافتیں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ دیتی ہیں!!

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *