احساسِ زیاں۔۔محمد منیب خان

 قصور کی معصوم کلی زینب کے قاتل کی گرفتاری اور پھر سزا سے لے کے عمران خان کی شادی اور نوا زشریف کی پارٹی صدارت سے نااہلی تک۔۔ کتنے ہی واقعات ایسے گزرے کہ جن کے بارے بارہا سوچا ‘ قلم اٹھایا جائے۔ لیکن جب بھی اسی خیال اور سوچ کے تحت فراغت پا کر کچھ لکھنے کا ارادہ کیا تو لفظ نہ ملے۔ واقعات اتنے شدید تھے کہ میں فوری رائے قائم کرنے والے لفظوں سے محروم ہو چکا تھا۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا لکھا ہوا کوئی لفظ وقتی جذبات کے زیر اثر ہو۔ سو میں چپ رہا۔

زینب کا قاتل پکڑا گیا لیکن اس کے سینتیس اکاؤنٹس کی خبر دینے والے آج تک کسی فورم پہ ان اکاؤنٹس کی تفصیلات پیش نہ کر سکے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ عوام الناس آج بھی ان کے پروگرام بڑی شد و مد سے دیکھ رہی ہے۔ کیوں؟ اس کا جواب ٹی وی سکرینوں پہ گھنٹوں سیاسی دھینگا مشتی دیکھنے والوں سے پوچھنا ہوگا۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ اس منظر نامے پہ بھلا کوئی ذی شعور کیا تبصرہ کرے اور کیونکر کرے؟

ان سینتیس اکاؤنٹس کی انڈر ڈویلپنگ سٹوری ابھی چل ہی رہی تھی کہ سب سے بڑی عدالت کے معزز منصفین نے حکمران جماعت کے لیڈروں کو دھڑا دھڑ توہین عدالت کے نوٹس نہ صرف دیے بلکہ کسی معافی کو بھی قبول نہ کیا اور سزا سنا دی۔ لیکن اس بار سزا سننے والے نے یہ نہیں کہا “نوٹس ملیا ککھ نہ ہلیا”۔ یہ توہین عدالت کی سزا بھی شاید  آ جا کے صرف سیاستدانوں کے لیے ہی باقی رکھی گئی ہے ورنہ تو چاہے کوئی لاہور ہائیکورٹ پہ حملہ کر دے تو عدالت اس کو طلب نہیں کرتی۔ معلوم ہوا کہ بار ایک بڑی طاقت ہے۔(یاد رہے کہ اس “بار” سے مراد وکیلوں کا گروہ یا جماعت ہے)۔

خیر وہ سزا توہین عدالت کی سنائی گئی اور ٹھیک سنائی گئی لیکن یہاں پہ لوگ ماضی قریب میں ایسی ایسی توہین کے مرتکب بھی ٹھہرے ہیں کہ اگر ان کے کار ہائے نمایاں دیکھے جائیں تو سیاستدانوں کی توہین عدالت “بونی” محسوس ہوگی۔ بحرحال عدالت نے توہین کا فیصلہ کرنا ہے اور ان کے نزدیک توہین جو ہے وہی ہے سو اب آپ بتائیے کہ اس پہ کوئی صاحب علم بھلا کیا تبصرہ کرے اور کیونکر کرے؟

بنچ اور بار کے تذکرے سے یاد آیا کہ حالیہ دنوں میں بنچ اور بار یا یوں کہنا چاہیے  کہ قانون کی دبنگ آواز منوں مٹی تلے جا سوئی۔ عاصمہ جہانگیر سے نظریاتی اختلاف کے باوجود میں یہ کہوں گا کہ وہ باوقار اور لڑنے والی خاتون تھیں۔ میرے بزرگوں نے مجھے ایک بنیادی تعلیم دی ہے کہ کسی کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اس کی برائی نہ بیان کرو اسی لیے میں سب دوستوں سے بھی گزارش کرتا رہا اور کرتا ہوں کہ جو اللہ کے حضور پیش ہو چکا ہو اس کا معاملہ اس کے سپرد کر دینا چاہیے۔ لیکن یہاں پہ لوگوں نے باقاعدہ محاذ سنبھالے۔ اور بات کو یوں شروع کیا کہ “اللہ جس کو چاہے معاف کر دے لیکن۔۔۔۔۔۔” جی ہاں لیکن کے بعد اصل کہانی شروع کی جاتی رہی ،گویا  ایک رسمی جملہ کہنے کے بعد شاید باقاعدہ خدا کو بھی ہدایت جارہی کی جاتی تھی کہ اس کو بخشنا نہیں۔ جب اس بات پہ یقین ہے کہ رب جس کو چاہے معاف کر دے تو جس انسان پہ گمان بھی ہو کہ اس کے دل میں رائی برابر ایمان ہے اس کی مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔ اور یہ پروپیگنڈا کہ عاصمہ کی شادی قادیانی سے ہوئی تھی عجیب و غریب درفتنی تھی کیونکہ حامد میر اپنے کالم میں یہ لکھ چکے ہیں کہ عاصمہ جہانگیر کا نکاح مولانا مودودی نے پڑھایا تھا تو کیا مولانا مودودی اس وقت اتنے بے خبر تھے؟ یقیناً نہیں! بس اس وقت فیس بک کی عدم دستیابی کی وجہ سے جھوٹ کو پھیلنے میں وقت لگتا تھا۔ اب جس کا باپ مولانا مودودی کے معتقدین میں شامل ہو اس شخص کی اولاد کا دینی فکر سے دور ہونا میرے  نزدیک ہم جیسے دین پسندوں کے کردار اور طریقہ کار پہ بھی سوالیہ نشان ہے۔

اس سے مراد صرف اتنی ہے کہ ہمیں خو احتسابی کا در کھولنا چاہیے۔ خیر عاصمہ کے جانے سے اب یہ ہوا کہ جمہوریت شکن اداروں کے خلاف ایک دبنگ آواز ہمیشہ کےلیے خاموش ہو گئی ۔ عاصمہ جہانگیر پہ فتوے ابھی جاری و ساری تھے کہیں سے عمران خان کی شادی کی تصاویر میڈیا پہ آ گئی۔ میں عمران خان کا بد ترین ناقد ہونے کے باوجود سمجھتا ہوں کہ شادی اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں ایک نوجوان بیوہ کسی سے شادی کر لے تو سارا محلہ باتیں کرتا ہے  ،حالانکہ یہ حق شریعت نے اس کو دیا ہے سو ایسے سماج میں پانچ نوجوان بچوں کی والدہ کا تیس، پینتیس سالہ رفاقت ختم کر کے کسی دوسرے شخص سے شادی کرنا ضرور ایک خبر تھی۔ اتنی لمبی رفاقت تو مغرب میں بھی ختم ہو تو ایک خبر ہو گی۔ لیکن ہم اکثر چیزوں کو اپنے رسم و رواج کے تناظر میں دیکھتے ہیں ،اور اسی  تناظر میں یہ ایک معیوب بات تھی۔  اس پہ بہت سی باتیں کہی گئیں اور بہت سے جملے لکھے گئے۔

لوگ ابھی شادی کے چٹکلوں میں مصرف تھے کہ بڑی عدالت نے ایک بار پھر بڑا فیصلہ دیا۔ اور نواز شریف کو پارٹی صدرات سے نااہل کر دیا۔ یہ بڑا فیصلہ کتنا بڑا اور تاریخی ہے کاش کہ  عاصمہ جہانگیر حیات ہوتی تو وہ بتاتی کہ دنیا کے  قانون کی تاریخ میں اتنے تنگ نظر فیصلے کبھی بھی آزادانہ نہیں ہوتے۔ ان کے محرکات کچھ اور ہوتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر زندہ ہوتی تو بتاتی کہ مقننہ یعنی پارلیمنٹ کا کام قانون سازی ہے۔جبکہ سپریم کورٹ اگر کسی قانون کو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم دیکھے تو وہ یا تو اس کو واپس مقننہ کو بھیجے یا اس کو ختم کر دے لیکن یہاں پہ نہ صرف قانون ختم کیا گیا بلکہ جس دوران یہ قانون پاکستان کے آئین کے مطابق موجود تھا اس دوران کے فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دے کے دانستہ ہیجانی کیفیت پیدا کی گئی۔

مجھے یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ جہاں پارٹی ٹکٹ ہوتے ہوئے بھی ایم پی ایز کی بولی لگائی جاتی ہے وہاں آزاد امیدواروں کے لیے کیمپئن کرنا مشکل جب کہ ہارس ٹریڈنگ آسان ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں قانون اور آئین سے کیا غرض ؟ ہم تو کسی قانون آئین کے ساتھ نہیں ہیں ہم تو سب اپنی اپنی سیاسی شخصیات کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم نے انہی کو آئین و قانون مانا ہے اس لیے کچھ لوگ اس فیصلے پہ خوش ہیں اور کچھ بہت خوش۔

لیکن عوام کو سوچنا چاہیے کہ اگر ان کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے تین سو بیس ایم این اے کوئی قانون نہیں بنا سکتے تو کیا ہی بہتر ہو کہ سب کو گھر بھیج کے مقننہ ہی ختم کر دی جائے۔ اور اگر ایک گروہ ایسا حکومت کرنے کے لیے سامنے بھی آیا تو قوم کا کچھ حصہ اس کے ساتھ ہوگا کیونکہ اب ہم سے احساس زیاں چھن چکا ہے۔ اب ہم فائدے  کا کوئی سودا نہیں کرتے اور نقصان پہ پچھتاتے ہیں لیکن کئی سالوں کے بعد۔۔۔۔!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *