اقوامِ عالم سنجیدہ ہو!

دنیا میں اس وقت جتنے بھی مقبوضہ علاقے ہیں ان میں سرفہرست دو ایسے ہیں جن کی وجہ سے کسی بھی وقت بڑی جنگ ہوسکتی ہے۔ پہلا مسئلہ قبلہ اول بیت المقد س اور اسرائیلی صیہونی ریاست اور دوسرا مسئلہ کشمیر ہے۔اسرائیل جسے چیدہ چیدہ طاقت ورممالک کی حمایت حاصل ہے جس کے بل بوتے پر وہ فلسطینیوں کے خلاف محاذ کھولے رکھتا ہے اور معصوم و نہتے فلسطینیوں کو گولیوں سے بھون رہاہے۔کشمیر میں ہندوستان قیام پاکستان سے لے کر اب تک اپنی سرتوڑ کوشش کے باوجود کشمیریوں کو رام کرنے میں ناکام ہوچکاہے۔اسرائیل کی جدید ترین تربیت و ٹیکنالوجی سے لیس ہوکر بھی بھارتی سرکار کشمیریوں کو پاکستان کے حق میں نعرے لگانے اور حق خودارادیت مانگنے سے روک نہیں پارہی۔پچھلے کئی ماہ سے کشمیری عوام ہرروز بھارتی ظلم وستم کا نشانہ بننے کے ساتھ ساتھ کرفیو کا سامنا کررہی ہے۔اسرائیل جہاں فلسطینی علاقے میں دنیا بھر سے یہودی لاکر آباد کررہاہے وہیں ہندوستان بھی کشمیر کے علاقے میں ہندو آباد کرکے مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔فلسطین میں یہودی آباد کاری کے خلاف22دسمبر2016ءکو سلامتی کونسل میں ایک قرارداد منظور کی گئی۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں یہ قرارداد2334کے عدد کے ساتھ یاد رکھی جائے گی۔ یہ قرارداد ایک ایسے وقت میں منظور ہوئی ہے جب امریکا میں حکومت تبدیل ہو رہی ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں بھی سلامتی کونسل کی قرارداد کوغیرمعمولی اہمیت دی گئی ہے۔اگرچہ ماضی میں بھی اقوام متحدہ کے فورم پر اسرائیل کے خلاف قراردیں منظور ہوتی رہیں ہیں لیکن عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے صیہونی ریاست بے لگام ہوچکی ہے اور فلسطینیوں کے خلاف نت نئے انسانیت سوز طریقے آزما رہی ہے۔
بھارت مقبوضہ کشمیر میں برہان مظفر وانی شہید ؒ کی شہادت کے بعد سے لے کر اب تک ہزاروں کشمیریوں کو شہید کرچکا ہے جبکہ ہزاروں کی تعداد زخمی ہے اور پیلٹ گن کے استعمال سے جن کشمیر یوں کی بینائی ہمیشہ کے لئے ان سے روٹھ گئی،وہ علیحدہ ہیں۔صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے اسلام آباد میں برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کے لئے کی جانے والی قانون سازی ختم کروانے کے ساتھ اسرائیلی طرزکی غیرقانونی آبادیاں قائم کرنے کا سلسلہ بندکرایا جائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو روکا جائے۔گزشتہ کئی ماہ سے اہل کشمیر حق خودارادیت کے لئے پُرامن طریقے سے پرزور احتجاج کررہے ہیں جسے روکنے کے لئے ہندوستان کشمیریوں کو گولیوں سے بھون کر،نوجوانوں کو پیلٹ گن سے اندھا کرکے اور فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کررہاہے۔یہودی بستیوں کی چند روز قبل امریکی وزیر خارجہ جان کیری مذمت کرچکے ہیں اور ایسی تعمیرات کو مسئلہ فلسطین کے حل میں ایک زبردست رکاوٹ قرار دے چکے ہیں۔رکاوٹوں کو دور کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟
طاقت کے نشے میں اندھے ہوکر صہیونی وہندو ریاست دنیا بھر کے امن کو خطرات سے دوچارکررہے ہیں۔حریت پسندوں کو دہشت گردوں سے جوڑ کر انہیں پابند سلاسل کیا جا رہا ہے۔ نہتے لوگوں پر تشدد کے نت نئے طریقے آزمائے جارہے ہیں۔دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش تماشائی کی صورت میں محو تماشا ہیں۔ ہرجگہ مسلمان کٹ رہا ہے اور پھرالزام بھی مسلم پر لگ رہاہے۔ ایلان کردی و برمی شو حیات جیسے کئی مسلمان بچے ساحلوں پر اوندھے پڑے عالمی ضمیر کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔برما میں گاؤں کے گاؤں جلائے جارہے ہیں۔شام کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ہے۔یمن میں حوثی قبائل مسلمانوں کو تختہ دار پر لارہے ہیں اور مکہ مکرمہ پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔پوری دنیا میں مسلمان ہی ظلم وستم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ایسے میں جان کیری جیسی امریکی شخصیت کا بیان اور اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف قرارداد کو ’حسن ظن‘ کے ترازو میں رکھتے ہوئے بہتری کی امید تو رکھی جاسکتی ہے لیکن مسائل اپنی جگہ ہنوز قائم ہیں۔ان کے لئے ٹھوس اقدامات اور اقوام عالم کو سنجیدگی اختیار کرنی ہوگی تاکہ دنیا میں امن قائم ہوسکے۔

محمد عتیق
محمد عتیق
"سعودی عرب کے اردواخبار "اردونیوز" میں کالم لکھتے ہیں اور کالم نگاروں کی تنظیم پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری ہیں ۔فیصل آباد سے تعلق ہے ۔تعلیم ابھی جاری ہےویسے ایم ۔اے کی ڈگری پاس رہتی ہے اور مزید ڈگریوں پر کوشش جاری ہے ۔" فیس بک رابطہ https://www.facebook.com/AtiQFsd01 ؎ قلم اٹھتا ہے تو سوچیں بدل جاتی ہیں اک شخص کی محنت سے ملّتیں تشکیل پاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *