زندہ رہنا چاہتے ہیں؟۔۔گل نوخیز اختر

ڈاکٹرصاحب کی باتیں سن کر میرے ہوش اڑ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ زندگی چاہتے ہو تو روٹی سے پرہیز کرو کیونکہ روٹی کھانے سے چربی بڑھتی ہے جس سے موٹاپا ہوجاتاہے اور موٹاپا سو بیماریوں کی جڑ ہے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے اُن سے پوچھا کہ پراٹھا کھا لیا کروں؟ وہ چلا اُٹھے’’پراٹھا۔۔۔یعنی کولیسٹرول‘ شوق سے کھاؤ لیکن ہارٹ اٹیک کے لیے تیار رہنا۔‘‘ میں نے ایک جھرجھری سی لی ’’ڈاکٹر صاحب پھر نان کھا لیا کروں؟‘‘ انہوں نے میز پر مکا مارا’’نان کھاؤ تاکہ نان سٹاپ موت آئے‘‘۔ میں نے کنپٹی کھجائی’’آلو مجھے بہت پسند ہیں ‘ ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟‘‘۔ بے چینی سے پہلو بدل کر بولے’’آلو دماغ کو بے چین کرتے ہیں‘ جلدی ہضم نہیں ہوتے اور برین ہیمرج کا باعث بن جاتے ہیں‘‘۔
ڈاکٹر صاحب انتہائی پڑھنے لکھنے والے بندے بھی ہیں‘ ہر وقت کسی نہ کسی ریسرچ میں گم رہتے ہیں لہذا ان کی باتیں غور سے سننا بڑا ضروری تھا۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھ رہا تھا جسے مفت میں اتنے قابل ڈاکٹر کے مشورے سننے کا موقع مل رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے بتایا کہ گوبھی‘ مولی ‘ شلجم اور اروی کھانے سے خاص طور پر احتیاط کرنی ہے کیونکہ اس سے گیس ہوجاتی ہے۔ گھی یا آئل میں پکی کوئی چیز ہرگز نہیں کھانی کیونکہ اچھے سے اچھا آئل بھی دل کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ پھلوں کا جوس بھی ذیابطیس کا مرض لاحق کرسکتا ہے جس کے بعد زندگی انتہائی تیزی سے کم ہونے لگتی ہے۔بازار کی چیزیں مثلاً سموسے‘ پکوڑے‘ پیزا‘ برگر‘ شوارما‘ گول گپے‘ دہی بڑے وغیرہ کو دور سے بھی نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ یہ ایسے مصالحوں سے تیار کیے جاتے ہیں جو صحت کے لیے نہایت مضر ہیں۔چاولوں کو خیر باد کہہ دینا چاہیے کیونکہ چاول کینسر کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔انڈوں کی تاثیر گرم ہوتی ہے لہذا دور ہی رہیں تو اچھا ہے‘ کھانا بھی پڑے تو زردی کے بغیر کھانا چاہیے ۔ میں نے حسرت سے پوچھا’’ڈاکٹر صاحب دس روپے کے انڈے میں سے زردی بھی نکال دیں تو باقی کیا بچے گا؟‘‘۔ اطمینان سے بولے ’’انڈے میں کچھ بچے نہ بچے لیکن تم ضرور بچ جاؤ گے‘‘۔

یہ بھی پڑھیں : مجھے آج تک پتا نہ چلا ، میں کون ہوں ؟۔۔۔راجندر سنگھ بیدی
ڈاکٹر صاحب نے تنبیہ کی کہ ٹینڈے کھانے سے بلڈ پریشر لو ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے چکر آسکتے ہیں اوربندہ جسمانی کمزوری کا شکار ہوسکتا ہے۔بھنڈیوں کی وجہ سے پِتا متاثر ہوسکتا ہے۔برائلر چکن کے تو پاس بھی نہیں پھٹکنا چاہیے کیونکہ مرغیوں کو جوخوراک دی جاتی ہے اس میں سٹیرائڈز ہوتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے زہر قاتل ہیں۔دیسی مرغی کو بھی پرے ہی رکھنا چاہیے کیونکہ اس کا گوشت جلدی نہیں گلتا اور اکثر اوقات معدے میں گڑبڑ کر دیتا ہے۔میں نے جلدی سے پوچھا’’دالیں کھانی چاہئیں؟‘‘۔ کڑک کر بولے’’کچھ عقل کرو‘ دالیں ٹھیک طریقے سے صاف نہیں کی جاتیں اور ویسے بھی یہ زیادہ تر بادی ہوتی ہیں اور خوراک کی ضروریات کو صحیح طریقے سے پورا نہیں کرتیں۔دالیں کھانے والے افراد ذہنی طور پر بہت کمزور رہ جاتے ہیں اوران میں سوچنے سمجھنے اورفوری فیصلہ کرنے کی صلاحیتیں معدوم ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔میں نے سہم کر پوچھا’’ڈاکٹر صاحب چاکلیٹ کے بارے میں تو سنا ہے کہ دماغ کو بہت فریش رکھتی ہے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے دانت پیسے’’دماغ کو تو فریش رکھتی ہے لیکن ہزار اور مسائل کی ماں ہے‘ چاکلیٹ کھانے سے شوگر لیول اچانک بہت زیادہ بڑھ جاتاہے‘ دانتوں کی خرابی کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں اورپیٹ خراب ہوجاتاہے۔
اللہ جانتا ہے مجھے ڈاکٹر صاحب اپنے حقیقی محسن لگے۔ میں آج تک یہ سب ’الابلا‘ کھا کر خوش ہوتا رہا کہ اچھی چیزیں کھا رہا ہوں لیکن ڈاکٹر صاحب کے بروقت مشوروں نے مجھے ہوشیار کردیا تھا۔میں نے تہیہ کر لیا کہ جن چیزوں کے بارے میں ڈاکٹر صاحب نے ہوشیار کیا ہے وہ اب کبھی استعمال نہیں کروں گا۔ میں نے جیب سے قلم نکالا اور پاس پڑے ہوئے ایک پیڈ پر ڈاکٹر صاحب کے قیمتی مشورے نوٹ کرنے لگا۔۔۔!!!
ڈاکٹر صاحب نے آگاہ کیا کہ ساگ کی تاثیر بھی انتہائی گرم ہوتی ہے اور یہ بلڈ پریشر ہائی کرسکتا ہے جس سے فالج کا خطرہ اچانک بڑھ سکتا ہے۔بینگن معدے میں بیٹھ جاتے ہیں ۔گاجر پیٹ درد کا باعث بنتی ہے۔کولڈ ڈرنکس کی وجہ سے السر ہوسکتا ہے۔مکھن سے دل کی شریانیں بند ہوسکتی ہیں‘ آئس کریم سینے کے درد کا باعث بن سکتی ہے۔ کسی بھی قسم کا حلوہ ‘ کیک یا مٹھائی طبیعت میں بوجھل پن پیدا کردیتی ہے۔چھوٹا گوشت انتڑیوں کا بیڑا غرق کر دیتا ہے‘ بڑا گوشت اعصابی نظام کے لیے خطرہ ہے۔پالک کی وجہ سے بواسیر کا مرض لاحق ہوسکتا ہے‘گھیا توری جوڑوں کے درد کا باعث بنتی ہے۔سری پائے خشکی کا باعث بنتے ہیں۔کالے یا سفید چنے نیند کی خرابی کا باعث بن سکتے ہیں۔چائے تولیدی نظام کی قاتل ہوتی ہے‘کھیرا ‘ خربوزہ اور تربوز ذرا سی لاپرواہی سے ہیضے کا باعث بن سکتے ہیں۔ آم جسم میں خارش پیدا کردیتاہے ‘ مٹر قبض کا موجب ہے‘ مالٹے سے زکام ہوتا ہے ‘ٹھنڈا پانی ہڈیوں کو کمزور کرتاہے‘ نمکین چیزیں تیزابیت پیدا کرتی ہیں ۔
اُس روز ڈاکٹر صاحب نے پورے دلائل کے ساتھ بتایا کہ لگ بھگ ہر کھانے والی چیز کو نہ کھانا ہی صحت مند زندگی ہے۔ میں نے بمشکل آنسو ضبط کرتے ہوئے کہا’’ڈاکٹر صاحب! بچپن میں جب ہمارے سکول میں ماسٹر صاحب رزلٹ اناؤنس کرتے تھے تو وہ ہر کلاس میں تشریف لے جاتے تھے اور بمشکل ایک منٹ میں ہاتھ میں پکڑا کاغذ پڑھتے ہوئے اعلان کردیتے تھے کہ فلاں فلاں بچہ فیل‘ باقی سب پاس۔ میرا خیال ہے آپ بھی ایسا ہی کریں اورلمبی لسٹ کی بجائے چھوٹی لسٹ بتادیں یعنی خطرناک چیزیں گنوانے کی بجائے مجھے صرف اتنی خوشخبری سنا دیں کہ کیا کھانا چاہیے؟‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے کچھ لمحے توقف کیا‘ غور سے میری طرف دیکھا‘ پھر عینک درست کرتے ہوئے بڑی متانت سے بولے’’ہر اچھی چیز کھاؤ‘‘۔۔۔

Advertisements
julia rana solicitors

یہ بھی پڑھیں : ٹیکسیاں ۔۔قربِ عباس/افسانہ
میری ہچکی بندھ گئی’’ یہی تو پوچھ رہا ہوں، اچھی چیز کون سی ہے؟‘‘۔انہوں نے لاپرواہی سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی’’بھئی دلیہ کھاؤ‘ کیلے کھاؤ ‘ گرم پانی پیو اور مزے سے جیو‘‘۔ میں نے بے بسی سے باہر کے دروازے کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا’’ڈاکٹر صاحب اجازت ہو تو ایک چھوٹا سا لطیفہ سنا دوں‘‘۔ ڈاکٹر صاحب چونک اٹھے‘ لطیفہ ؟ کیسا لطیفہ۔۔۔سناؤ؟؟‘‘۔
میں آگے کو جھکا۔۔۔’’ایک دفعہ ایک مراثی ڈاکٹر کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میرا سر بہت درد کرتا رہتا ہے۔ ڈاکٹر نے مراثی کا بلڈ پریشر چیک کیا‘ پھر ہاتھ پکڑا اور نبض چیک کرتے ہوئے بولا’’مراثی تمہارا بلڈ پریشر تو بہت ہائی ہے‘ میری مانو‘ کریلے گوشت چھوڑدو‘‘۔ مراثی نے یہ سنتے ہی کچھ دیر سوچا ‘ پھر اطمینان سے بولا’’ڈاکٹر! میرا ہاتھ چھوڑ دو۔۔۔‘‘
لطیفہ سنتے ہی ڈاکٹر صاحب چلائے’’وہ ڈاکٹر ٹھیک کہہ رہا تھا‘ کریلے گوشت سے فشار خون بلند ہوجاتاہے۔۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply