اب تو رحم کرو!

لندن والوں کا کام تو جیسے بس کارکنوں کو جوتے پڑوانا رہ گیا ہے۔ مسلسل ثابت ہو رہا ہے کہ 23 اگست کا اقدام درست تھا، مگر اب بھی کچھ عاقبت نااندیشوں کو سبز باغ دکھائی دے رہے ہیں۔ الطاف حسین اور اس کے بیرون ملک بیٹھے ہمنوا اردو بولنے والوں کی انتخابی قوت کو محض اپنی انا کی بھینٹ چڑھا کر تقسیم کرنے کے درپے ہیں۔ نوشتہ دیوار پڑھنے سے انکاری ان لوگوں کو نجانے کب سمجھ آئے گی کہ ان کی اپنی حماقتوں کی بدولت کم از کم مستقبل قریب میں تو ان کے لئے کوئی سیاسی اسپیس نہیں بچی ہے، سو کیا ہی اچھا ہو کہ یہ کچھ عرصہ(اور کیا ہی اچھا ہو کہ ہمیشہ کے لئے)سیاست سے ریٹائرمنٹ لے کر مار کھاتے غریب کارکنوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کر دیں۔ خود تو انہوں نے پاکستان واپس آنا نہیں، جو یہاں موجود ہیں ان پر تو رحم کریں! باہر بیٹھ کر منہ کے فائر کرکے اپنے تئیں نشان حیدر کے حامل بنے ان بہادروں کی بزدلی اہلیان کراچی پر اب حد سے زیادہ گراں ہو چکی ہے۔ اگر یہ واقعی اپنی نیتوں میں مخلص ہیں تو حالات کا رخ پہچان کر اہلیان کراچی کی انتخابی قوت کو تتر بتر کرنے سے گریز کریں۔ ایک دفعہ اگر یہ مینڈیٹ ہاتھ سے نکل گیا تو دوبارہ یہ قوت کبھی مجتمع نہیں ہو سکے گی۔ یا تو اب بس کردیں یا پھر وطن واپس آکر کارکنوں کے ہمراہ کھڑے ہو کر مردانہ وار مقابلہ کریں۔ الطاف حسین بھی انسان ہے جسے اور کچھ نہیں تو ایک نہ ایک دن طبعی موت تو آکر رہے گی۔ کیا آپ اس دن تحریک کا بوریا بستر لپیٹ کر اسے ختم کردیں گے؟ اگر نہیں تو پھر اس وقت اسے خدا بنانے کا کیا جواز ہے؟ کیوں اس کے بارے میں آپ یہ فرض کر بیٹھے ہیں کہ اسے موت کا مزہ نہیں چکھنا! جس شخص کو اب ہر بے وقوفی کے بعد ذہنی دباؤ کا عذر لنگ تراشنا پڑتا ہو، وہ یقیناً کسی طور اب تحریک کی قیادت کا اہل نہیں ہو سکتا۔ مسلسل اپنی اور قوم کی مٹی پلید کروانے کے بجائے اب اسے رہی سہی عزت بچا کر ریٹائر ہو کر اپنے علاج اور ذہنی سکون پر توجہ دینی چاہیے۔
یہ80اور90کا زمانہ نہیں ہے جب آپ کی کرشماتی خطابت لوگوں کو آپ کی اندھی تقلید پر مجبور کر دیتی تھی، نہ ہی اردو بولنے والوں کی موجودہ نسلوں نے وہ لسانی تعصب اور فسادات دیکھے ہیں جن کا اگلی نسلوں نے بذات خود مشاہدہ کیا تھا۔ اب آپ اپنے موجودہ ووٹرز سے اس نظریاتی وابستگی کی توقع نہیں کر سکتے جیسا کہ80اور90کی دہائیوں میں آپ کو میسر تھی۔ موجودہ نسل آپ کی کرشماتی خطابت سن کر نہیں، آپ کے بے وقوفانہ بیانات، اقدامات اور انا پرستی کا دفاع کرتے بڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو رابط کمیٹی پاکستان کے اعلان لاتعلقی کے بعد جب پارٹی کی تنظیم نو کرنا پڑی تو مقامی سطح پر اکا دکا کے علاوہ صرف80،70سالہ بزرگوں کی حمایت میسر آسکی جو آپ ہی کی طرح ماضی کی رومانیت میں جی رہے ہیں۔ نوجوان اور ادھیڑ عمر طبقے کی غالب اکثریت آپ کی جد و جہد کی قدر کرنے کے باوجود آپ سے لا تعلق ہی رہی۔ نجانے کیوں آپ اس نوشتہ دیوار کو پڑھنے سے انکاری ہیں، یا پھر آپ کے خود غرض مشیر، جنہیں لندن میں بیٹھ کر مفت میں ہیرو بننے کا چسکا لگ چکا ہے، آپ کے اور اس حقیقت کے درمیان اس واسطے کھڑے ہیں کہ کہیں ان کی مفت کی روٹیاں بند نہ ہو جائیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس وقت بھی آپ کے یہ بزرج مہر مودی کو پکارنے کی تاویلیں تراش رہے ہوں گے تا کہ رات کو میڈیا پر ٹالک شوز میں بیٹھ کر اپنی دم توڑتی سیاسی زندگی کو توجہ کی آکسیجن فراہم کرسکیں، بنا یہ سوچے کہ ریاست، جس کی فی الحال آپ اور آپ کے ٹٹؤں تک رسائی مشکل ہے، آپ کی حالیہ حماقت کا غصہ یہاں موجود پہلے سے ہی پس رہے کارکنوں پر نکالے گی۔ آپ کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ بدقسمتی سے اب بھی ’’منزل نہیں رہنما‘‘ نامی لالی پاپ چوسنے والے آپ کو میسر آجاتے ہیں، مگر قوم کی عمومی حالت مزید بدتر ہوجائے گی۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ اپنی جدوجہد کا قوم سے مزید کتنا خراج وصول کرنا چاہتے ہیں؟
خدارا اس دم توڑتی مجتمع سیاسی قوت کو سانس لینے دیں، اسے اپنی انا کی بھینٹ چڑھا کر منتشر نہ کریں۔اگر آپ نے قوم کے لئے جدوجہد کی ہے اور قربانیاں دیں ہیں تو بدلے میں قوم نے بھی آپ کو فرش سے عرش تک پہنچایا ہے۔ گزشہ 20سال سے آپ کو بغیر کسی نفع کے پال کر آپ کے اس احسان کا ہی بدلہ چکا رہی ہے۔ اللہ کے واسطے اب ان کے خلوص اور محبت کا مزید امتحان نہ لیں! اس قوم نے آپ کو روحانی باپ کہا تھا۔ کیا کوئی باپ اپنی ناکامیوں اور مشکلات کا انتقام اپنی ہی اولاد کو مشکل میں ڈال کر لیتا ہے؟یقین کریں آپ کی روحانی اولاد اب بالغ ہو گئی ہے! خدا کے لیے اب اسے اپنے پیروں پر چلنے دیں اور خود کو سبکدوش فرما کر ریٹائرمنٹ کی زندگی کا مزہ لیں۔ یہ قوم ابھی اتنی کم ظرف نہیں ہوئی ہے کہ آپ کو بھوکا مرنے کے لئے چھوڑ دے گی، مگر فی الحال وقت آپ سے اعلیٰ ظرفی کا متقاضی ہے!

محمد احسن سمیع
محمد احسن سمیع
جانتے تو ہو تم احسنؔ کو، مگر۔۔۔۔یارو راحلؔ کی کہانی اور ہے! https://facebook.com/dayaarerahil

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”اب تو رحم کرو!

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *