• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بابے رحمتے کی ڈائری – خاکی تاریخ میں سیاہ پیوند۔۔معاذ بن محمود

بابے رحمتے کی ڈائری – خاکی تاریخ میں سیاہ پیوند۔۔معاذ بن محمود

صبح خوب گھبراہٹ رہی۔ نری بدہضمی۔ سر میں ایسا درد جیسا بریڈلے کوپر کو فلم ہینگ اوور میں ہوا۔ میں بسیار خوری کا عادی نہیں۔ کل رات بس دوستوں نے “زبردستی” کر ڈالی۔ وہ کئی تھے میں اکیلا۔ بابا افتخار چوہدری بتلاتا ہے کہ سیاہ بوٹوں کے ٹھڈے دہائی بعد کی ٹھنڈ میں ماضی بعید کی یاد سے تڑپا ڈالتے ہیں۔ تقریب نجی تھی مگر بوٹ ہی بوٹ موجود تھے۔ مجھے حکم تھا کہ پہنچ جاؤں۔ خاکیوں میں سیاہ پیوند کی تک نہیں بنتی مگر سوچتا ہوں عزت ٹانگ کے میل جیسی ہی تو ہے۔

مجھے کوئی بھی جرنیل لفٹ کرانے سے گریزاں تھا حالانکہ ٹی وی چینلز پر انہی کے ہرکارے صبح دوپہر شام میری مدح سرائی میں لگے رہتے ہیں۔ مجھے بلڈی سویلین کی سرگوشیوں میں اپنا آپ ایک بوجھ محسوس ہورہا تھا۔ اتنے میں ایک بوٹ والا بدتمیزی کے ساتھ مجھ سے مخاطب ہوا “اؤئے بابا رحمتاں تو ای ایں؟”۔ میں نے مثبت جواب دیا تو بولا “چل فیر چیف تینوں یاد کر رہیا اے”۔ میں نے پوچھا چیف تو میں ہوں۔ سپاہی قہقہے مار کر بولا “آہو، اوہ لوہار دا منڈا وی اے ہی سمجھ رہیا سی، وڑ اندر”۔

اندر پہنچا تو مرشد پاک حضرت جری بہادر باجوہ صاحب سپہ سالار اعظم بنانا ریپبلک آف بھوٹان ایک خوبصورت صوفے پہ کپتان کے ساتھ براجمان تھے۔ میں نے پیر چھوئے اور حکم سے ان کے حکم کی بابت استفسار کیا۔ فرمانے لگے “وہ فائل پڑی ہے اٹھا لے، ابھی JAG سے آئی ہے، بغیر کسی تحریف کے چھاپ دے کل”۔ میری نظر برف والی چائے پر تھی جو بغیر کسی ملاوٹ خالص گلاس میں پڑی تھی۔ نظریں ہٹائے بغیر “بہتر جناب” بول کر اٹھ کھڑا ہوا۔ خدا جرنیل کو ابن لوہار کی عمر بھی لگائے، برف والی چائے کا پیگ بنا کر ہاتھ میں پکڑا دیا اور بولا، “پی لے، خوشی کی خبر ہے”۔ بس یہیں سے سامان سر درد استعمال کر بیٹھا۔ ساتھ ہی ایک برتن میں بڑے کے پائے رکھے تھے۔ جی خوب للچایا۔ جرنیل بھانپ گیا اور مزید حقائق بیان کر کے پائیوں کی فضیلت بڑھا ڈالی۔ “بنی گالا سے آئے ہیں، بہت ہی مبارک کہ میری نئی بھابی نے اپنے نئے ملازم کے ہاتھوں سے بنوا کر بھیجے ہیں”۔ یہ سن کر کپتان شرما کر زمین پہ دیکھنے لگا۔ یہاں سے میں نے پائے منڈنا شروع کر دیے۔ بہت ہی لذیذ پکے تھے۔ جہاں میں ہاتھ روکتا عزت مآب جرنیل مجھے زبردستی کھلاتا۔ یہاں تک کہ میں رج گیا۔ ولایتی ٹھنڈا حلق میں انڈیلا تو زندگی کے پوشیدہ اسرار کھلنے لگے۔ اسی حالت میں جرنیل سے پوچھا فیصلہ کیا سنانا ہے۔ جرنیل بولا لوہار کو لوہا کوٹنے پہ لگانا ہے۔ یہ سن کر کپتان کا چہرہ سہاگ رات سے پہلے والی دلہن کی چمک سے دمک اٹھا۔

میں نے جرنیل کو دیکھا، ایک نظر کپتان پر ڈالی اور سوچنے لگا کہ قدرت نے خاکی تاریخ پر ایک اور سیاہ پیوند لگوانا میرے ہاتھ سے لکھ ہی ڈالا تو اب کیا کر سکتے ہیں۔ فی الحال گھبراہٹ ہے، بدہضمی اور بریڈلے کوپر والا سر کا درد۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *