خودکشی حرام ہے۔۔سانول عباسی

تمام مسلمانوں سے درخواست ہے آپ چاہے کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں انسانی جان انتہائی قیمتی ہے اور اس کا نعم البدل کچھ بھی نہیں اور جو مسلمان احتیاط نہیں کرے گا اس کی موت خودکشی تصور ہو گی اور اسلام میں خودکشی حرام ہے اور اس وبا کے دور میں اگر کوئی مسلمان بےاحتیاطی کی وجہ سے ہلاک ہوتا ہے تو وہ شہید نہیں بلکہ اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنا قتل کیا ہے اور اس کی وجہ سے کسی اور کی جان پہ بن آتی ہے تو اس کا وبال بھی اس شخص پہ ہو گا جس کی بےاحتیاطی کی وجہ سے ایک تندرست انسان بیماری یا کسی انتہائی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے۔

آفت کے دنوں میں عام حکم ساقط ہو جاتے ہیں اور آجکل ایک وبا کی شکل میں آفت ہمارے سروں پہ منڈلا رہی ہے تو عام حکم کی بجائے آفت سے بچتے ہوئے فرائض ادا کیے جائیں، نمازیں مسجدوں میں ادا کرنے کی بجائے گھروں میں پڑھیں اور مسجدوں کے منتظمین اس بات کے پابند ہیں کہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے مسجدوں کو اذان کے فورا ًبعد لازما بند کر دیں اگر ایسا نہیں کرتے تو وبال کے لئے تیار رہیں اللہ رب العزت کو انسان بہت عزیز ہے اور جن لوگوں کی لاپروائی سے انسان پہ کڑا وقت آئے گا ان کے لئے سخت وقت آ کے رہے گا۔

وہ لوگ جو سماج پہ اثر انداز ہو سکتے ہیں یا ان کی بات کچھ لوگوں پہ اثرکرتی ہے تو وہ اتنے ہی زیادہ جوابدہ ہیں جو جتنی بڑی شخصیت کا مالک ہے اتنا ہی وہ جوابدہ بھی ہے اور اگر اس کے جذباتی پن کی وجہ سے اگر سادہ لوح انسانوں پہ کوئی آفت ٹوٹتی ہے تو وہ دنیا میں تو شاید بچ جائے اگرباضمیر ہوا تو دنیا میں بھی نہیں بچے گا اور بےضمیر آخرت میں ضرور اس ظلم کا صلہ پائے گا ۔

ہمارا عمومی رویہ انتہائی غیرذمہ دارانہ ہے ہمارے لئے سنجیدہ سے سنجیدہ معاملہ بھی  ہمارے  اس رویے کی نذر  ہو جاتا ہے اور جب اس رویے کی وجہ سے کوئی آفت ہمارے سر پہ پڑتی ہے تو تب ٹسوے بہانا ہمارا عمومی ردعمل ہے مگر تب لکیر پیٹنے کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا وقت ہاتھ سے نکل جائے تو ہاتھ ملنے سے واپس نہیں پلٹتا تو بہتر ہے کہ ہم اپنا رویوں میں تبدیلی لائیں اور غیر ضروری اور وقت بےوقت کے مزاح سے جان چھڑا کے زندگی کو اعلی ٰاخلاقی اطوار کے مطابق گزاریں ۔

اجتماعات سے مکمل گریز کریں جہاں تک ممکن ہو کم سے کم صرف انتہائی ضرورت کے تحت گھروں سے باہر نکلیں اپنے اردگرد اجنبیوں پہ نظر رکھیں اپنی اپنے خاندان اور سماج کی بہتری اسی میں ہے کہ انتہائی احتیاط کی جائے۔

خدارا اپنے آپ کو بچائیں انتہائی سنگین صورتحال ہے۔

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *