خالق کا سراغ ۔۔ڈاکٹر طفیل ہاشمی

کائنات اور اس میں موجود اشیاء کی تخلیق کے اسباب کی نقاب کشائی کوانٹم تھیوری اور نطریہ ارتقاء کے ذریعے ہو گئی ہے. کچھ سائنس دان یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تخلیق سے تمام پردے سرکا دئیے ہیں اور پس پردہ کسی خالق کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ تمام نتائج سائنسی فارمولوں کے رہین منت ہیں،کل ہم یہ کہتے تھے کہ زمین سے روئیدگی اللہ کی تخلیق ہے، آج ہمیں اس کیمیائی عمل کا مکمل ادراک ہے جس کے نتیجے میں زمین نباتات پیدا کرتی ہے۔ دن اور رات کے ادلنے بدلنے، ہواؤں کے چلنے، بارشیں برسنے اور سمندروں میں جہازوں کے دوڑنے اور فضاؤں میں مشینوں کے تیرنے کے اسباب سے ہم نہ صرف واقف ہیں بلکہ بے شمار چیزیں ہم خود ایجاد کرتے ہیں۔۔۔ لہذا خدا کے وجود کے تمام دلائل قصہ پارینہ ہوگئے. لیکن اس ساری بحث میں جو چیز نظر انداز ہو جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جن فارمولوں کے تحت یہ سب کچھ ہوتا ہے وہ فارمولے کس نے تخلیق کیے اور وہ کیوں ہمیشہ یکساں نتائج دیتے ہیں اور کیوں اس کے برعکس نتائج نہیں دیتے. پانی کا نشیب کی طرف بہنا ایک نیچرل phenomenon ہے، اسے کس نے تخلیق کیا اور ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ گاہے ایسا ہو گاہے اس کے برعکس ہوجائے۔

یہ بھی پڑھیں :  فلیٹ ارتھ حقیقت یا افسانہ؟ ۔۔ محمد شاہزیب صدیقی/قسط6

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جدید سائنس نے اسباب کے بے شمار پردے ہٹا دئیے ہیں لیکن وہ سوال جو پہلے بعد کے درجوں کے بارے میں تھا ٹھیک وہی سوال اولین معلوم سبب کے بارے میں اسی شدت سے موجود ہے۔انسان ایک طرف Nothingness سے مادے کی تخلیق نہیں کر سکتا دوسرے وہ متعین phenomenal circle سے باہر نہیں جا سکتا.
اللہ کا تعارف یہ ہے کہ اس نے ایک تو مادہ تخلیق کیا اور دوسرے سانچے، رجحانات اور phenomenal circle بنا دئیے جنہیں قرآن نے سنت اللہ کہا اور الا لہ الخلق والأمر میں الأمر سے تعبیر کیا.اللہ انسانوں کی قوت تخلیق کو رد نہیں کرتا بلکہ تبارک اللہ احسن الخالقین کے الفاظ سے انسانوں کے حسن تخلیق کو سراہتا ہے.۔

یاد رہے کہ معجزات، کرامات، استدراج، وغیرہ میں سے کوئی شے اس سانچے سے باہر نہیں ہوتی معجزہ ، کرامت، سحر اور شعبدے قانون فطرت کے استعمال کے بارے میں علم کی مختلف سطحیں ہیں، ان میں سے کوئی شے قانون فطرت کے خلاف نہیں ہے
البتہ عام لوگ التباس فکری کا شکار ہو جاتے ہیں،جو لوگ قانون فطرت کے استعمال کے بارے میں علم کی مختلف سطحوں سے آگاہ نہیں ہوتے وہ یا تو معجزات و کرامات کا انکار کر دیتے ہیں،یا انہیں خرق عادت قرار دیتے ہیں اور لا تبدیل لخلق اللہ میں ایسی تاویلات کرتے ہیں جو ما لا یرضی بھا قائلہ کے زمرے میں آتی ہیں۔

مولانا مناظر احسن گیلانی کی رائے یہ ہے کہ معجزہ میں سنت اللہ تبدیل نہیں ہوتی بلکہ طویل process کو Speed up کرکے فوری نتائج حاصل کر لئےجاتے ہیں مثلاً بجائے اس کے کہ درخت کی شاخ کو جانور کھاتا، اس کا گوشت چڑیا کھاتی، اسکے انڈے سانپ کھاتا اور اس کی نسل سے سانپ پیدا ہوتا جو طویل پراسیس کے نتیجے میں درخت کی شاخ سے ہی پیدا ہوا اسی پراسیس کو Expedite کرکے شاخ کی چھڑی کو سانپ بنا دیا گیا ۔

ڈاکٹرطفیل ہاشمی
ڈاکٹرطفیل ہاشمی
استاد، ماہر علوم اسلامی، محبتوںکا امین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *