فلیٹ ارتھ حقیقت یا افسانہ؟ ۔۔ محمد شاہزیب صدیقی/قسط6

(فلیٹ ارتھرز کے 200 اعتراضات کے جوابات پر مبنی سیریز)

اعتراض 80: چیمبر نےفروری 1985ء کو اپنے رسالے میں لکھا کہ انہوں نے بحر ہند میں سفر کے دوران 200 میل دُور بحری جہاز کو دیکھا، جس کی تصدیق بعد ازاں یمن میں عدن کے مقام سے ایک اور شخص نے بھی کی۔
جواب: فلیٹ ارتھرز کے تقریباً تمام اعتراضات آج سے 150 سال سے بھی زیادہ پُرانے رسالوں پر مبنی ہیں ۔ ہم نے پچھلی قسط میںmirages کو تفصیل سے سمجھا ہے اس کے علاوہ یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ نظر آنے والی چیز mirage ہے یا حقیقی ہے ، مذکورہ واقعہ بھی mirages کا شاخسانہ ہے، یاد رہے mirages تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک mirage ایسی قسم کا بھی ہے جس دوران دیکھنے والے کو یوں معلوم ہوتاہے کہ زمین جتنی دُور جارہی ہے اتنی بلند ہوتی جارہی ہے ۔آج کے دور میں پوری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ mirage حقیقت ہے اور ان کا اظہار گرمی و سردی میں زیادہ ہوتا ہے، یہ بات کچھ سو سال پہلے تک انسان صحیح طرح نہیں سمجھ پایا تھا جس کی وجہ سے ایسے اعتراضات پُرانے رسالوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں مگر جدید رسالوں میں فلیٹ ارتھرز ایسے اعتراضات نہیں ڈھونڈھ پاتے۔

یہ بھی پڑھیں :  کائنات کی پہلی کہکشاں۔۔محمد شاہزیب صدیقی

اعتراض 81: جنوبی فرانس میں Dunkerque نامی روشنی کا مینار موجود ہےجو 28 میل دُور محض 10 فٹ کی بلندی سے بھی باآسانی دِکھائی دیتا ہے۔

اعتراض82: نیوزی لینڈ میںPort Nicholson کا روشنی کا مینار 35 میل دُور سے بھی نظر آجاتا ہے۔

اعتراض83: ناورے میں Egero کا روشنی کا مینار 28 میل دُور سے دِکھائی دیتا ہے۔

اعتراض84: مدراس کے ساحل پر موجود روشنی کا مینار 28 میل دُور سے دکھائی دیتا ہے۔

اعتراض85: Cordonan میں موجود روشنی کا مینار 32 میل دُور سے دِکھائی دیتا ہے۔

اعتراض86: Cape Bonavista میں موجود روشنی کا مینار 35 میل دُور سے دِکھائی دیتاہے۔

اعتراض87: بوسٹن میں St. Botolph’s Parish Churchسے متصل روشنی کا مینار 40 میل دُور سے دِکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :  کافی، دانش گھر اور فرضی سفر۔۔ انعام رانا

اعتراض88: انگلینڈ میں Isle of Wight میں موجود روشنی کا مینار 42 میل دُور سے دِکھائی دیتا ہے۔

اعتراض89: جنوبی افریقہ میں Cape L’Agulhas میں موجود روشنی کا مینار 50 میل دُور سے دِکھائی دیتا ہے۔

اعتراض90: مشہورِ زمانہ Statue of Liberty جو کہ نیویارک میں موجود ہے 60 میل سے بھی باآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔

اعتراض 91: مصر کی سعید بندرگاہ پر موجود 60 فٹ کا روشنی کا مینار 58 میل دُور سے دِکھائی دیتا ہے۔

اعتراض92: سٹار سبرگ میں واقع The Norte Dame Antwerp spireچرچ کا مینار 150 میل سے بھی دِکھائی دیتا ہے۔

اعتراض 93: ڈبلن (آئرلینڈ) میں St. George نامی ایک آبی راستہ ہے، فیری پر سفر کرتے ہوئے جب مسافر اس راستے کے درمیان میں پہنچتے ہیں تو آگے Holyhead کا گھاٹ اور پیچھے Poolberg کا روشنی کا مینار دونوں دِکھائی دیتے ہیں حالانکہ دونو ں کا فاصلہ فیری سے اُس وقت 30 میل ہوتا ہے۔
جواب81 تا 93: مذکورہ میناروں کے اتنے فاصلے سے نظر آنے کی وجہ بھی mirage کاظہور ہونا ہی ہے ۔ کسی بھی اچھے کیمرے کے آگے polarization filter لگا کر mirage کو ختم کیا جاسکتا ہے۔لیکن چونکہ فلیٹ ارتھرز mirage کو حقیقت نہیں مانتے اس ایسے اعتراضات اٹھاتے نظر آتے ہیں۔جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مشہورِ زمانہ جہاز ٹائی ٹینک بھی mirage کی وجہ سے ہی دھوکہ کھاکر حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔اس کے علاوہ mirage کی عجیب و غریب قسم Fata Morgana کو گوگل پر سرچ کرکے دیکھیے جن سے mirage کو باآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔

اعتراض94: انگلینڈ میں پورٹ سماؤتھ سے Isle of Wight کو اگر دیکھا جائے تو وہ 22 میل لمبا جزیرہ ہے ، اگر زمین واقعی خمدار ہوتی تو اس جزیرے کے کناروں کو 80 فٹ تک خمیدہ ہونا چاہیے تھا مگر وہ تو سیدھا نظر آتا ہے۔

اعتراض95: Isle of Manکے نزدیک ڈگلس بندرگاہ کو کسی بھی صاف دن دیکھا جاسکتا ہے۔ 50 میل ویلز ساحل بھی وہاں سے نظر آتا ہے جو کہ بالکل سیدھا ہے۔ زمین گول ہوتی تو اس میں خم ہونا چاہیے تھا۔

یہ بھی پڑھیں :  سائنسی ترقی اور لمبی عمر ۔۔فاروق قیصر

اعتراض96: William Carpenter اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اگر ہم رات کو Chesapeake کی خلیج میں جائیں تو ہمیں جزیرہ شارپ کی روشنیاں اسٹیمر سے ایک گھنٹہ پہلے ہی دِکھائی دینے لگ جاتی ہیں۔اگر ان روشنیوں کو ہم اسٹیمر کی گرل کی مدد سے متوازن کرکے دیکھیں تو یہ سیدھی لکیر کی مانند لگیں گیں، اگر زمین گول ہوتی تو ان روشنی کی لکیروں کو کنارے سے bend ہوجانا چاہیے تھا۔
جواب: قسط نمبر 5 میں موجود اعتراض نمبر 61 کا جواب ملاحظہ کیجئے۔

اعتراض97: ناسا اور جدید فلکیات کہتی ہے کہ زمین سپن کررہی ہے اس کے ساتھ سورج کے گرد گھوم رہی ہے اور سورج ہماری کہکشاں میں گھوم رہا ہے ، کہکشائیں ایک دوسرے سے دُور جارہی ہیں۔ اگر یہ سب سچ ہے تو کیا وجہ ہے کہ اتنی زیادہ حرکتیں ہمیں معلوم نہیں ہوتیں، نہ انہیں کبھی کسی نے دیکھا ، نہ سنا، نہ محسوس کیا اور نہ ہی پیمائش کرکے ثابت کیا؟
جواب: ہم شروع والے اعتراضات میں سمجھ چکے ہیں کہ frame of reference کے باعث ہم زمین کی حرکت محسوس نہیں کرپاتے۔یہ سچ ہے کہ زمین سپن کررہی ہے اور سورج کے گرد بھی گھوم رہی ہے، سورج سپن کررہا ہے اور ہماری کہکشاں میں موجود بلیک ہول کے گرد بھی گھوم رہا ہے، ہماری کہکشاں سپن کررہی ہے اس کے علاوہ دوسری کہکشاؤں سے دور move بھی کررہی ہے۔ یہ تمام ڈیٹا ہمیں پلک جھپکنے میں حاصل نہیں ہوا، اس کے پیچھے بہت ریاضتیں، بہت محنتیں ہیں۔ فلیٹ ارتھرز شاید ابھی تک یہی سمجھتے ہیں کہ سائنسدانوں نے علم میں ترقی اُن کی طرح بند کمروں میں بیٹھ کر خیالی پلاؤ کھا کے کرلی جو کہ بالکل غلط ہے۔ کیپلر equation، نیوٹن equation ، theory of relativity، proper motion، ستاروں کی حرکت اور دیگر کئی مساواتیں/مشاہدات ہیں جن کی بنا پر آج ہم اِن تمام حقائق سے واقف ہیں اور ان سب کی پیمائش بھی کرپارہے ہیں۔

اعتراض98: قطبی ستارہ ہمیشہ شمال میں کیوں دِکھائی دیتا ہے؟ اس کے علاوہ ناسا اس کے متعلق کہتا ہے کہ 323 سے 434 نوری سال اس کا زمین سے فاصلہ ہے ، ناسا اس کا فاصلہ accurate کیوں نہیں بتاتا کیا وجہ ہے؟
جواب: قطبی ستارہ ہمیشہ شمال میں اس خاطر رہتاہے کیونکہ یہ دیکھنے کے لحاظ سے زمین کے axis point کے قریب واقع ہے ۔ ناسا اس کا فاصلہ 400 سے 460 نوری سال کے درمیان بتاتا ہے۔ اس میں فرق اس خاطر ہے ہمیں معلوم ہے اتنی دُور موجود ستاروں کی exact پیمائش بہت مشکل کام ہے اس میں غلطی کا امکان ہوسکتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بھی accuracy آرہی ہے۔

اعتراض 99: قطبی ستارہ صرف شمال میں نظر آنا چاہیے ، یہ 20 ڈگری جنوبی طول بلد تک دیکھا جاسکتا ہے۔ایسا کیوں؟
جواب: یہ اعتراض جھوٹ پر مبنی ہے، قطبی ستارہ خط استواء سے ایک ڈگری جنوب بلد تک دیکھا جاسکتا ہے اس سے آگے نہیں دیکھا جاسکتا.

اعتراض100: جیسے زمین کے جنوب میں کچھ جگہوں سے شمال میں موجود قطبی ستارہ اور اس کے ارد گرد کے ستارے نظر آتے ہیں ویسے انہی مقامات سے جنوبی قطب کی جانب موجود ستارے نظر آنے چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوتا،جس سے معلوم پڑتا ہے کہ زمین گول نہیں بلکہ فلیٹ ہے ۔
جواب: الحمدللہ! خوش قسمتی سے ہم 100ویں اعتراض تک پہنچ چکے ہیں لیکن فلیٹ ارتھرز مسلسل تمام حقائق کا انکار کرتے دِکھائی دے رہے ہیں۔ بہرحال یہاں بھی اعتراض جھوٹ پر مبنی ہے۔
جاری ہے!

قسط نمبر 5 میں موجود اعتراضات کے جوابات پڑھنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجئے شکریہ
https://www.mukaalma.com/2160

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”فلیٹ ارتھ حقیقت یا افسانہ؟ ۔۔ محمد شاہزیب صدیقی/قسط6

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *