کافی، دانش گھر اور فرضی سفر۔۔ انعام رانا

اسلام آباد ایک خاموش شہر ہے اور خاموشی کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ جب کبھی اس شہر جانا ہوا تو یونہی لگا جیسے کائنات ٹھہر گئی ہے، خیر لاہور سے جانے والے کو ہر شہر میں کائنات ٹھہری ہوئی ہی لگتی ہے۔ اس بار تو لندن سے آیا تھا سو خاموشی کچھ مزید گہری تھی اور  راولپنڈی، اسلام آباد کے سنگم پر بحریہ ٹاؤن فیز فور میں دیوار بھی مجھ سے بات نہیں کرتی تھی۔ جی زیادہ گھبرایا تو باہر نکلا اور چلتے چلتے اک کافی شاپ نظر آئی، “کافی پلینیٹ”۔ سوچا چلو اور کچھ نہیں تو کافی تو بات کرے گی اور برازیل کے جنگلوں کی کچھ کہانی سنائے گی سو اندر داخل ہو گیا۔

کاؤنٹر پہ اندازہ ہوا کہ بہت ورائٹی ہے مگر اپنی پسندیدہ latte کے آڈر پہ ہی اکتفا کیا اور نظر بیٹھنے کے لیے دوڑائی۔ اک حسین خواب کی مانند سجی کافی شاپ نے لندن کی یاد دلا دی۔ خیر بیٹھے ہوئے، اور ادھر ادھر دیکھتے دس منٹ گزر گئے تو احساس ہوا کہ اک کپ کافی بنانے کو یہ وقت کچھ زیادہ ہے۔ ویٹر کو بلا کر کہا بھول گئے کیا؟
بولا نہیں صاحب کافی تو بن گئی البتہ ہماری مالکن ڈیکوریٹ کر رہی ہیں۔
اتنے میں دوسرا ویٹر کافی لے آیا۔ دیکھا کہ بھوری کافی پہ سفید جھاگ سے اک مختصر تحریر لکھی ہوئی ہے اور عنوان ہے “لینا کے خطوط”۔
ویٹر سے کہا ،بھائی تو دوسری کافی لا، اتنی دیر میں اس والی کی تحریر پڑھ لوں، ویسے بھی جنت سے آئے خط کو پینے کا حوصلہ نہیں پڑتا۔ پاس میں اک قہقہہ گنگنایا، اک مامتا بھرا چہرہ، بولتی آنکھیں بے اختیار ہنستی تھیں، معلوم ہوا لینا حاشر ہیں۔ کچھ شرمندہ ہوا کہ یوں منہ بھر کر بول دیا تھا مگر انھوں نے کپ آگے سے اٹھاتے ہوئے کہا، آپ تو اپنے قبیل کے لگتے ہیں، آئیے منڈلی میں بیٹھیں۔

اب منڈلی تو سمجھ نا آیا۔۔ جب کہ کپ اٹھ چکا تھا تو میں بھی پیچھے ہی چل پڑا۔ رستے میں اک ٹیبل پہ لینا رکیں۔ اک صاحب، دانشور صورت، انتہائی سنجیدگی سے گھمبیر آواز میں اک کسٹمر کو سمجھا رہے تھے کہ “ڈبل ایکسپریسو” پینے کے آداب کیا ہیں، اس کافی کے بینز کس ملک سے درآمد ہوئے، سردیوں گرمیوں میں اس خطے کا موسم کیا ہے اور کسٹمر نے اس ایکسپریسو میں سفید چینی ڈال کر کیسے کافی کا بیڑہ غرق کر لیا ہے۔ خوفزدہ سی کسٹمر نے لجاجت سے معذرت کی اور آئندہ ایسی غلطی نہ دہرانے کی یقین دہانی بھی ۔ صاحب نے ویٹر سے کافی ضائع کر کے نئی “ڈبل ایکسپریسو” لانے کا حکم دیا تو لینا نے ان کی بانہہ تھام کر رخ میری جانب موڑا۔ یہ لینا کے شوہر اور اس بزنس کے مشیر اعلی، پروفیسر حاشر بن ارشاد تھے۔

اب ہم تینوں ہی کچھ دور اس کافی شاپ کے سب سے مصروف حصے میں پہنچے جہاں واقعی اک منڈلی جمی تھی۔ سب سے پہلے نظر اک بےتحاشہ وجود پہ پڑی۔ صوفہ، اگر کوئی تھا، تو اس وجود کے نیچے گم تھا اور کم از کم مجھے نظر نہیں آیا۔ سامنے کچھ چھ سات ملک شیک کے خالی گلاس تھے اور کچھ خالی پلیٹیں۔ صاحب اک بڑی سی کاپی اور اک ملک شیک کا گلاس توند پہ رکھے دھڑادھڑ کچھ لکھ رہے تھے۔ لینا نے سرگوشی کی کہ بہت معروف رائٹر ہیں۔ لینا حاشر کسی کے بارے میں کچھ بھی کہہ سکتی ہیں، اتنا اندازہ تو اب ہو ہی چلا تھا۔

بیٹھا تو مجھے تعارف کروانے کو کہا گیا۔ عرض کی کہ پیشے سے وکیل ہوں اور لندن سے اک کیس میں پیش ہونے آیا ہوں۔ اتنے میں دائیں جانب سے سگریٹ کا مرغولہ اور شاید اسی میں سے آواز آئی کہ جو معاشرہ اپنا وکیل تک باہر سے بلانے پر مجبور ہو اس کا بیانیہ ازسر نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ اک صاحب کہ ہلکی ہلکی داڑھی تھی، دھویں کے بادل اور نظر کی عینک کے پیچھے سے مجھے دیکھتے تھے۔ حاشر نے فوراً کہا، یہ فرنود عالم ہیں، ہمارے دوست، دانشور ہیں۔
اختلاف کی جرات و گنجائش ہی کہاں تھی سو مسکرا کر ہاتھ ملایا۔
سامنے ہی اک حسین و وجیہہ مگر اداس مرد بیٹھا تھا۔ فرنود بولے یہ ہمارے ید بیضا ہیں، اس “کافی پلینیٹ” کے تیسرے پارٹنر، ویسے نام ظفر ہے مگر بیانیہ بدلنے کے لیے نام بدلنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔
مگر یہ اداس کیوں ہیں؟ ۔۔فرنود بولے کہ کچھ عرصہ ہوا دل نے بغاوت کی تھی اور سگریٹ پہ پابندی ہے، سو اب یہ میرے سگریٹ اور میں اس کی فین لسٹ دیکھ کر اداس ہوتے رہتے ہیں۔

صاحبو! اب یہ بتانے کی تو ضرورت بھی نہیں کہ لینا و حاشر کے یہ تیسرے پارٹنر بھی دانشور اور لکھاری ہی تھے۔ میں نے جو ان کی طرف دیکھا تو بولے یہ بات نہیں، اداس ہوں کہ معاشرتی تفاوت اور پنجاب کی بالادستی کا یہ عالم ہے کہ کوئٹہ سے آ کر مجھے اسلام آباد میں کافی شاپ بنانی پڑی جبکہ کوئٹہ میں ڈھنگ کی ایک بھی کافی شاپ نہیں۔ عرض کی کہ آپ کوئٹہ ہی میں بنا لیتے کہ کوئی تو پہلا قدم اٹھاتا، بولے مگر وہاں کوئی کافی پیتا ہی نہیں۔

حاشر نے موضوع بدلنے کو کہا بھئی انعام صاحب آپ کو کچھ کھانا بھی چاہیے، ہمارا “وجاہت مکس” ٹرائی کیجیے۔ ہونق ہو کر پوچھا تو بولے بھئی “ہر قسم کی سبزی” کو ملا کر “ویجی پاسٹری” ہے جس کو ہم نے اپنے استاد وجاہت مسعود کے نام ڈیڈیکیٹ کیا ہے۔ اتنے میں اک دہقانی آواز آئی کہ “میری لیے اک وڈا “وقار شیک ” اور آدھا کلو “رامش فرائی” بھی منگوا لو، مضمون بس آخری پیرے پہ ہے”۔ آواز بے تحاشا وجود سے نکلی تھی۔ “وجاہت پیسٹری” کے بعد “وقار شیک” اور “رامش فرائی” کے متعلق اچنبھا کم ہی تھا کہ یقیناً ملک شیک اور فرنچ فرائز کا نام مزید دانشوران و مفکرین پہ ہو گا۔
کافی شاپ میں سب سے زیادہ آڈر اسی منڈلی کی ٹیبل پہ تھے اور ویٹر کو شاذ ہی کسی اور ٹیبل پہ جانے کا موقع ملتا تھا۔ دوران گفتگو کسٹمر بھی زیادہ تر کافی کے ساتھ ان میں سے کسی مفکر کا آٹوگراف لینے کو پاس آتے اور فلسفہ، مذہب، سماجیات، لبرلزم، بیانیہ اور ہر نوع کی دانش سے کافی کی تلخی کم کرتے۔

مجھے سویرے جلد عدالت جانا تھا تو اجازت چاہی اور ویٹر کو بل لانے کے لیے کہا۔
بس اتنا کہنا تھا کہ لگا جیسے کچھ گناہ کر دیا ہو۔ بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے لینا نے کہا، اب آپ بل دے کر ہماری محبت کی توہین کریں گے؟
حاشر خلا میں گھورتے تھے اور فرنود بولے، دوست بنائیے، دولت فقط سرمایہ دارانہ نظام کا ہتھکنڈا ہے اور ہمیں روایات اور روایتی بیانیہ کا اسیر بناتی ہے۔
سب نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا کہ مجھے شاید چوری کا کھانا کھاتے ہوئے پکڑے جانے پر کم شرمندگی ہوتی۔ سب سے مسکرا کر اجازت چاہی اور نکلنے کو تھا تو پلٹ کر ید بیضا سے کہا، “یوسفی صاحب کا صبغے اینڈ سنز پڑھا ہے آپ نے؟” ظفراللہ مزید اداس سے نظر آنے لگے!!

نوٹ: محترم حاشر ارشاد، لینا حاشر سے بہت احترام کا رشتہ ہے اور یدبیضا سے محبوبانہ(جس میں اتار چڑھاؤ تو ہوتا ہے مگر تعلق مزید خوبصورت اور پائیدار ہوتا رہتا ہے)۔ ان تینوں نے مل کر راولپنڈی  بحریہ ٹاؤن فیز فور میں “کافی پلینٹ” نام کی اک خوبصورت جگہ بنائی ہے۔ اگر آپ اسلام آباد، راولپنڈی  و گرد و نواح میں پائے جاتے ہیں تو اس جگہ ضرور جائیے کہ مجھے یقین ہے اس سے بہتر کافی اور دانش  گرد و نواح میں کم ہی اک جگہ موجود ملے گی۔ ایڈریس:   کافی پلانٹ ،سوک سینٹر ،فیز 4 ،بحریہ ٹاون ۔ راولپنڈی

میرا یہ مضمون ان تینوں، فرنود اور اک “بے تحاشا وجود” سے میری محبت ہے اور ان کے کاروبار کے انٹروڈکشن کے لیے میری اک کوشش۔ دعا ہے اللہ تینوں کو اس کاروبار سے مالی آسودگی و اطمینان عطا فرمائے۔ آمین۔

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کافی، دانش گھر اور فرضی سفر۔۔ انعام رانا

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *