سائنسی ترقی اور لمبی عمر ۔۔فاروق قیصر

اکثر شام کو ہم سب دوست بیٹھے اپنے اپنے بچپن کو یاد کر رہے ہوتے ہیں اور ہمارے قریب بیٹھے ہمارے بچے ہمیں عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے حیرت سے ہماری باتیں سنتے ہیں۔ انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم باتوں باتوں میں کن چیزوں کا ذکر کرتے ہیں جو آج کل نہیں ملتیں؟ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آج کل مہنگے داموں بکنے والا دودھ وہ نہیں جو ہمارے زمانے میں ہوتا تھا تو وہ حیرت سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کے زمانے میں دودھ کالے رنگ کا ہوتا تھا؟ ہم انہیں بتاتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں دودھ خالص ہوتا تھا، آج کل کی طرح اس میں پانی یا کیمیکل کی ملاوٹ نہیں ہوتی تھی۔ اسی طرح آٹے میں برادہ، مرچوں میں اینٹوں کی گیری اور چائے کی پتی میں کالا رنگ اور چنوں کے چھلکے نہیں ملائے جاتے تھے۔

بچے پوچھتے ہیں اگر یہ سب ملاوٹیں صحت کے لیے نقصان دہ ہیں تو پھر ہم مر کیوں نہیں جاتے؟ ہم انہیں بتاتے ہیں یہ بھی کوئی زندگی ہے؟ یہ تو شرمندگی ہی شرمندگی ہے۔ وہ پھر حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ وہ تو یہی سمجھتے ہیں اور لوگ بھی یہی کہتے ہیں کہ انسان نے بڑی ترقی کر لی ہے؟ ہم ان سے کہتے ہیں کہ ہمارے خیال میں انسان نے کوئی ترقی نہیں کی، اور بقول اشفاق احمد صاحب کے، ترقی صرف ماحول نے کی ہے۔ بندہ تو ویسے کا ویسا ہی ہے۔ وہ اتنی ہی روٹی کھاتا ہے جتنی کہ پہلے کھاتا تھا۔ اتنا ہی سوتا ہے اتنا ہی جاگتا ہے اور جسے وہ ترقی کہتا ہے وہ اس کی ترقی نہیں اس کے علوم جاننے کی ترقی ہے۔ وہ سائنس کی ترقی سے چاند پہ تو جا پہنچا ہے مگر خود اپنی خود غرضی سے باہر نہیں نکل سکا۔ وہ ایٹم بم بنا کر خود ہی اس سے ڈر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہم انہیں اپنی لکھی ہوئی وہ شاعری بھی سناتے
ہیں جس کے بول یہ ہیں کہ
انسان بھی ترقی کیا خوب کر رہا ہے
بیماریوں سے اپنی جھولی کو بھر رہا ہے
پھیلا ہوا دھواں ہے آلودگی فضا میں
کیوں شور بڑھ رہا ہے کیوں غور گھٹ رہا ہے
چڑیوں کی چہچہاہٹ جھرنوں کی گنگناہٹ
ان سب کو کھا گئی ہے انجن کی گڑ گڑاہٹ
بارود کا ہے بادل بیماریوں کی ہے بارش
جنگل کو قتل کرنے کی ہو رہی ہے سازش
اوزون ختم کر کے کینسر سے مر رہا ہے
انسان بھی ترقی کیا خوب کر رہا ہے
ایٹم بنا کے خود ہی ایٹم سے ڈر رہا ہے

بچے کہنے لگے، یہ نظم تو ہماری کورس کی کتاب میں بھی ہے۔ ہم نے کہا، کتاب میں تو بہت کچھ لکھا ہوتا ہے ہم اس پہ عمل کہاں کرتے ہیں؟ انسان نے عقلی ترقی ضرور کی ہے مگر اخلاقی طور پہ وہ ویسا کا ویسا ہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ اس نے قدرت کی دی ہوئی چیزوں کو تبدیل تو کیا اس کی شکل بھی بدل ڈالی مگر وہ ان کو تخلیق نہیں کر سکے۔ انسانوں نے پانی کا ذخیرہ کرنا اور ڈیم بنانے کا کام تو کر لیا مگر پانی نہ بنا سکے۔ بادلوں کی رفتار سے موسم کا حال تو پیشگی دریافت کر لیا مگر موسم بنا نہ سکے۔ جراثیم اور بکٹیریا پہ تو قابو پا لیا مگر زندگی اور موت پہ قابو نہ پا سکا۔

در حقیقت انسان ایک عمدہ کاپیئر تو ہے مگر کچھ بھی تخلیق نہیں کر سکتا۔ وہ بیماریوں کو اپنے نالج سے کچھ عرصے تک ٹال تو سکتا ہے مگر ختم نہیں کر سکتا۔ اﷲ نے اس کو طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا، اس کو بھوک اور ذائقہ دیا تا کہ وہ زندہ رہ سکے۔ اس کو رزق مہیا کر کے دینے کا وعدہ نبھایا ورنہ کھاتا کیا اور زندہ کیسے رہتا؟۔ انسان گندم چاول اور اجناس تو بو کر کاٹ لیتا ہے مگر انہیں تخلیق نہیں کر سکتا۔ اسے اشرف المخلوقات بنانے کے لیے اسکے لیے پھل پیدا کیے تاکہ اگر اجناس نہ ملے تو پھل کھا کر زندہ رہ سکے، پھل نہ ملے تو جانور کھا لے اور جانور نہ ملے تو مچھلی کھا لے۔ اﷲ نے انسان کو عقل سے اس لیے نوازا کہ وہ اسے استعمال کر کے دوسرے انسان کی فلاح و بہبود کا کام کر سکے۔ انسان کو دھاتیں دیں تاکہ وہ ان سے اپنی زندگی آسان بنائے، لوہے سے کاٹ سکے اور سونے چاندی کے استعمال سے مہذب زند گی بسر کر سکے۔ ہم نے انہیں دھاتوں سے زندگی بچانے سے زیادہ دوسروں کی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی۔ دھات سے بندوق پستول بنایا تا کہ جنگلی جانوروں سے بچا جا سکے اور پھر اسی بندوق پستول سے جانوروں سے زیادہ ڈاکے مارنے شروع کر دیے، دوسرے انسانوں کو ختم کرنا شروع کر دیا۔

آج ہم انسانوں نے وہی کام پھر شروع کر دیا ہے جس سے ہمیں منع کیا گیا، جس کی وجہ سے انسانوں کی بربادی کی پیش گوئیاں کی گئیں۔ ہم نے سائنس میں ترقی تو کر لی مگر اخلاقی طور پہ پس ماندہ ہو گئے۔ ان ترقیوں میں سب سے آگے اکیسویں صدی کا پہلا حیرت انگیز سائنسی کارنامہ ((DNA یعنی انسانی جسم کے جینیاتی کوڈ کو، ڈی کوڈ کرنا اور حیات کی تشکیل کا سراغ لگانا ہے۔ اس حیرت انگیز دریافت کی بدولت اب نا صرف انسانی بیماریوں کے بارے میں پیشگی علم ہو جائیگا بلکہ بیماریوں کی روک تھام اور علاج آسان ہو جائے گا۔

اس نئے علم سے جہاں کرۂ ارض کی میڈیکل سائنس کو فائدہ ہو گا وہاں ہمارے کرۂ ارض میں اس دریافت کی بدولت بہت سوں کا کاروبار بیٹھ جائے گا۔ مثلاً، اب ووٹر ووٹ دینے سے پہلے کسی سیاسی امیدوار کی ڈی این اے رپورٹ سے پیشگی پتا لگا لے گا کہ بندہ قوم کے ساتھ کتنا مخلص ثابت ہو گا؟ کون کونسی بیماری میں مبتلا ہے، یا ہونے والا ہے۔ انشورنس کمپنیوں اور نجومیوں کا کاروبار بھی متاثر ہو گا کہ قرضہ دینے والے قرضہ دینے سے پہلے معلوم کر لیا کریں گے کہ قرض دار قرضہ واپس کرنے تک زندہ بھی رہے گا یا نہیں؟۔ کوئی بعید نہیں کہ کل کا انسان بیماریوں پہ قابو پانے کے بعد اتنی لمبی عمر پا جائے کہ تنگ آ کر اﷲ سے موت کی دعائیں مانگنا شروع کر دے۔

ہو سکتا ہے کہ کل کو آپ کسی کے گھر کے سامنے شامیانے لگے دیکھیں اور پوچھ بیٹھیں کہ اس گھر میں خوشی کیسی ہے؟ تو آپ کو ہنستے ہوئے یہ جواب ملے کہ اﷲاﷲ کر کے بابا جی نے پونے تین سو سال کی عمر میں وفات پائی ہے۔ بچے کی پیدائش اور شادی بیاہ کے موقع پہ گانے بجانے والے فنکاروں کے رزق میں بھی اضافہ ہو گا کہ اب  انہیں کسی کی وفات پہ بھی فنکشن مل جایا کرے گا۔ البتہ غریب بندوں کو لمبی عمر پانے سے الٹا نقصان ہو گا کہ انہیں مزید سو دو سو سال مہنگائی اور غربت میں سسک سسک کے جینا پڑے گا۔

باپ کے جلد از جلد مرنے اور اس کی جائیداد پانے والے خواہش مند لواحقین کو لمبے انتظار کی زحمت اٹھانا پڑے گی۔ زندگی کی طوالت سے تنگ آ کر کچھ لوگ روڈ ایکسیڈنٹ، دریا میں ڈوبنے، ریل کی پٹڑی پہ لیٹنے کی حسرت لیے گھر سے نکلا کریں گے۔ اور تو اور وکیلوں کو لوگ زیادہ سے زیادہ فیس دے کر التجا کیا کریں گے کہ وہ کسی نہ کسی طرح کوشش کر کے معمولی سزا کے مجرم کو کم از کم پھانسی کی سزا دلوا کر اس کی جان لمبی عمر سے چھڑا دیں۔ گورکن اور کفن فروش تو جینیاتی کوڈ کی دریافت سے فاقہ کشی پہ مجبور ہو جائیں گے۔

لمبی عمر پانے کے حوالے سے ایک واقعہ مشہور ہے کہ کسی گاؤں میں ایک سیاح نے ایک بچے سے اس کی عمر پوچھی تو بچے نے ایک سو دس سال بتائی۔ سیاح نے اسے مذاق جانتے ہوئے قریب کھڑے ایک بڑے بچے سے اسکی تصدیق چاہی تو بڑا بچہ بولا، ’’یہ ٹھیک کہہ رہا ہے، میں اس کا نانا ہوں اور میری عمر دو سو سال کے لگ بھگ ہے‘‘۔ سیاح کی حیرت دیکھتے ہوئے بچہ بولا، ’’ہمارے گاؤں میں تقریباً ہر بندے کی عمر سو برس سے زیادہ ہی ہے، ہمارے ہاں پچھلے پچاس سال میں کوئی فوت نہیںہوا‘‘۔ اتنے میں قریب سے ایک جنازہ گزرا تو سیاح نے پوچھا، ’’تم تو کہہ رہے تھے کہ اس گاؤں میں کوئی فوت نہیں ہوتا تو پھر یہ جنازہ کس کا ہے؟‘‘ بچہ بولا، ’’مرنے والا ہمارے گاؤں کا نہیں، یہ بیچارہ ایک ڈاکٹر تھا جو شہر سے روز گار کی تلاش میں یہاں آیا اور بیروز گاری سے تنگ آ کر اس نے آخر کار خود کشی کر لی‘‘۔

بشکریہ جہان پاکستان!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *