ایم این اے شاہد خٹک متوجہ ہو۔۔۔عارف خٹک

SHOPPING

حالیہ انتخابات میں جہاں پی ٹی آئی نے سارے صوبے میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے دیئے۔ وہاں ضلع کرک جیسا علاقہ جو سابقہ دور حکومت میں پی ٹی آئی کا گڑھ تھا۔ مگر یہاں پر پارٹی دونوں صوبائی نشستوں پر بڑی بُری طرح سے ہار گئی۔
بجائے اس کے کہ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماء اور صوبائی رہنماء الیکشن میں اپنی جیت پر جشن منائیں۔ان کو اس بات پر سوچنا ہوگا  کہ کرک جیسے ضلع میں ان کی ناکامی کی بنیادی وجوہات کیا ہیں۔
میرے نزدیک پرویز خٹک جیسے کرپٹ وزیراعلی کےحد سے زیادہ عمل و دخل نے اس ضلع کو جہاں برسوں پیچھے دھکیل دیا، وہاں نظریاتی کارکن کا پس منظر میں جانا بھی بہت بڑی وجہ تھی۔
پچھلےپانچ سالہ دور حکومت میں جہاں عمران خان کے دعوؤں کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔وہاں کرک میں بدترین طرز حکومت، بدترین طرز سیاست، کرپٹ بلدیاتی نمائندوں کو پارٹی کے جھنڈے تلے چھپانا، پانی کے پریشر پمپ بیچنا اور وزیراعلی کےساتھ مل کر گیس رائلٹی کا بدترین کرپشن عروج پر تھا۔ بلا مُبالغہ پچھلا دور حکومت کرک کی تاریخ میں تحریک انصاف کا تاریک ترین دور حکومت کہا جاسکتا ہے۔

بجائے اس کے،کہ پارٹی کی مرکزی قیادت اس سے سبق سیکھتی۔ انھوں نے ملک قاسم جیسے کرپٹ نمائندے کو پھر ٹکٹ سے نوازا۔فرید طوفان جیسی کمزور شخصیت جس نے ہر پارٹی کی ٹوپی سر پر سجانے کی ایک مثال قائم کی ہے۔اس کو منظر عام پر لانا اہل کرک اور نظریاتی کارکنوں کی ناقابل معافی تذلیل تھی۔
ایسے مایُوس کن حالات میں شاہد خٹک جیسا غریب اور پڑھا لکھا بچہ سامنے آیا۔ حالانکہ اس کے مقابلے میں مرکزی قیادت کا خالد قُلی خان جیسے بیرونی سرمایہ کار کو ٹکٹ دینے کا ارادہ تھا۔ لیکن کارکن میدان میں آگئے،اور سوشل میڈیا کےتوسط سے پریشرائز ہوکر ٹکٹ مجبوراً شاہد خٹک کو دینا پڑا۔

شاہد خٹک کو جہاں نظریاتی کارکن نے خوش آمدید کہا۔وہاں باقی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بھی اس غریب تعلیم یافتہ نوجوان کو دلوں میں جگہ دی۔ورنہ شاہد خٹک جیسے غریب نوجوان کا کرک جیسی  روایتی سیاست میں الیکشن لڑنا مُشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی تھا۔ نوجوانوں کو شاہد خٹک میں اپنا آپ دکھائی دینے لگا۔ شاہد خٹک کو جہاں نظریاتی کارکن کا ووٹ ملا۔وہاں اُسے بڑی تعداد میں ن لیگ، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی اور اے این پی کا بھی کافی ووٹ ملا۔ لہٰذا 25 جولائی کو شاہد خٹک ایک تاریخی اکثریت سے کامیاب ہوگیا۔ مگر اسی ضلع میں پی ٹی آئی کو دونوں صوبائی سیٹوں پر شرم ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔اور عمران خان کا حالیہ جلسہ بھی ان دونوں سیٹوں کو نہیں بچا سکا۔ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ شاہد خٹک کی وجہ سے پی ٹی آئی کو مرنا نہیں پڑا۔
شاہد خٹک کی جیت کے پیچھے ایک سوچ کارفرما ہے کہ لوگوں کو ایم این اے نہیں چاہیے۔ان کو رہنماء چاہیے،جو ان کا مقدمہ لڑ سکے۔جو ان کے مسائل کو محسوس کرکے اُن کے حل کے لئے کوششیں کرے۔یہ لوگوں کا ہی اعتماد تھا کہ آج شاہد خٹک جیسا غریب لڑکا قومی اسمبلی میں بیٹھنے کے قابل ہوا۔ شاہد ایک رول ماڈل بن چکا ہے،کرک کے مایُوس لوگوں کیلئے۔ لہٰذا شاہد نے اب خود کو ثابت کرنا ہوگا۔ان کو کرک میں چھوٹے ڈیم بنانے ہوں گے۔ انفراسٹرکچر پر کام کرنا ہوگا۔ نئے ہسپتال بنانے ہوں گے۔اور اس کے لئےاپنے ارد گرد پڑھے لکھے نوجوانوں کی ایک ٹیم بنانی پڑےگی۔جو اتنا مشکل کام بھی نہیں ہے۔

میں نے ذاتی حیثیت میں شاہد خٹک کو ان الفاظ میں مُبارک باد دی کہ اپنا اور کرک کا مُستقبل اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔چاہیں تو لوگوں کو نوکریاں دلوانے میں وقت صرف کریں۔ لوگوں کے خلاف سازشیں کروائیں۔ پارٹی کو خوش کریں،یا اپنے غریب رشتہ داروں کو نوازیں۔جو بھی آپ کی مرضی مگر ہر غلط قدم اُٹھانے سے پہلے یہ یاد رکھیے گا کہ گاؤں دریش خیل کی اُس بہن کو روز قیامت کیا جواب دیں گے۔ جس کی شام کو زچگی متوقع تھی  اور دردِزہ میں مُبتلا تھی۔مگر پھر بھی وہ دو کلومیٹر پیدل چل کر پولنگ سٹیشن آئی کہ میں نے شاہد خٹک کو ووٹ دینا ہے۔کیونکہ بچپن سے لے کر آج تک سر پر مٹکے رکھ کر پانی بھرتے بھرتے میں اب تھک چکی ہوں۔روزِ حشر اُس بچی سے بھی نظر ملانی ہوگی ۔جو کئی کلومیٹر دُور گندے جوہڑ سے گھر والوں کے پینے کے پانی کے لئے خوار ہوتی پھری۔اُن بیماروں کو بھی جواب دینا ہوگا۔جو علاقے میں علاج کی مُناسب سہُولیات نہ ہونے کے باعث ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔کیوں کہ دُور دراز کے ہسپتالوں میں جانے کی اُن کی حیثیت نہیں ہوتی۔

SHOPPING

ان سب لوگوں نے آپ سے بُہت توقعات وابستہ کررکھی ہیں۔اب یہ آپ پہ مُنحصر ہے کہ سچائی اور ایمان داری کے راستے پر چل کر اپنی دُنیا و آخرت سنوارتے ہیں۔یاضمیر کی آواز کو سُلا دینے کے بعد اپنے پیش رو لیڈران کی طرح رُسوائیاں سمیٹتے ہیں۔

SHOPPING

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ایم این اے شاہد خٹک متوجہ ہو۔۔۔عارف خٹک

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *