مشال یوسفزئی کے قاتل کون؟۔۔رشید یوسفزئی

 جنوری 1989 کی بات ہے،ذوالفقار علی بھٹو کے وزیر اطلاعات مولانا کوثر نیازی پیپلزپارٹی سے علیحدہ ہو گئے تھے اور پاکستانی سیاسی روایات کے مطابق پیپلز پارٹی کی ہمہ تن مخالفت میں سرگرم تھے۔ اسی سال بے نظیر حکومت نے لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کے عہدے  سے ہٹا کر کور کمانڈر ملتان کے عہدے پر بھیج دیا جبکہ اس کی  جگہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شمس الرحمن کلو کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کیا گیا۔ حسین حقانی کے مطابق اسی دوران جنرل حمید گل نے بے نظیر کی حکومت گرانے اور ان  کے  قتل کی باقاعدہ منصوبہ بندی شروع کی تھی۔ بے نظیر بھٹو کے خلاف عوامی جذبات کی آگ بھڑکانے کے دوسرے حیلوں بہانوں کے ساتھ حمید گل نے ایک نئے واقعے کا سہارا لیا۔

انگریزی ناول نگار سلمان رشدی کی ناول شیطانی آیات Satanic Verses تازہ تازہ امریکہ و یورپ میں چھپی تھی  اور اسلامی دنیا میں اس کے خلاف ہنگامہ برپا تھا، مولانا کوثر کی پروپیگنڈہ مہارتیں عوام، حکومت اور انٹیلی جنس سب کے علم میں تھیں ، جنرل حمید گل نے شیطانی آیات کی ایک کاپی حاصل کرکے خفیہ طور پر مولانا کوثر نیازی کو بھیج دی، تقریباً اسی دوران بے نظیر بھٹو کی کتاب دختر مشرق Daughter of the East امریکہ  سے شائع ہوئی تھی۔ جنرل حمید گل کی نگاہ اس حقیقت تک پہنچ گئی تھی کہ امریکہ میں سلمان رشدی کی کتاب اور بے نظیر بھٹو کی کتاب کا پبلشر ایک ہی ہے۔ ایران سے امام خمینی کا فتویٰ  آیا تھا اور پاکستان میں مولانا کوثر نیازی نے اردو میں قلم اٹھایا تھا کہ جنرل حمید گل نے مولانا کو یہ پیغام دیا کہ، ” بھٹو صاحبہ کی کتاب اور سلمان رشدی کی کتاب کا پبلشر ایک ہی ہے۔ مزید مولانا صاحب آپ خود  سمجھدار  ہیں۔ صرف یہ بات عوام کے نوٹس میں لائی جائے کہ دونوں کا پبلشر ایک ہے  اور یہ کام آپ سے بہتر کوئی اور انجام نہیں دے سکتا”۔

ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل کا حکم ہو، کوثر نیازی کا قلم و دماغ ہو، بینظیر اور رشدی کا پبلشر ایک ہی ہو اور عوام پاکستانی ہو۔۔ توقیامت بپا  کرنے کے لئے مزید کیا درکار ہوگا؟۔۔ مولانا نے لکھا اور عوام نے قیامت مچائی۔۔

12 فروری 1989 کو مملکت خداد اد کے عوام نے اسلام آباد میں امریکی انفارمیشن سروس کی عمارت پر حملہ کیا اور عملے کا محاصرہ  کر لیا ، امریکہ اور بینظیر کے خلاف ملک بھر میں جلسے جلوس ہوئے  اور بی بی صاحبہ توہین رسالت کی مرتکب قرار پائیں ۔

مردان میں، مشال شہید کی جائے شہادت میرے گھر سے نسبتاً طویل چہل قدمی کے فاصلے پر ہے۔ اس کی  شہادت کے واقعے   کا براہ راست اثر ہمارے اوپر رہا ہے۔ یہ بحث چند سطور بعد۔۔۔۔۔پہلے کچھ ذکر ایک ذاتی واقعہ  کا۔۔۔

مردان  خیبر پختون خوا  کا دوسرا بڑا شہر مانا جاتا ہے، بدمت کے آثار قدیمہ، پشتون کلچر، پشاور اسلام آباد سے تقریباً یکساں فاصلے کے ساتھ مردان سیاسی طور پر بھی کافی اہمیت کا  حامل ہے۔ یہاں بین الاقوامی و ملکی سطح کے سرمایہ کاروں کے ساتھ اسی سطح کے سمگلر بھی سکونت پذیر ہیں۔ 7 سال قبل کی بات ہے’راقم ایک سرمایہ کار دوست کے ساتھ ایک مقامی سیاسی لیڈر اور بین الاقوامی سطح سمگلر کے حجرے پر گیا ،حجرے کے ایک کمرے میں ایک ایک باقاعدہ لیبارٹری بنی  ہوئی تھی، کچھ خوبرو نوجوان جمع تھے۔میڈیکل تجربے کا  حامل ایک اوباش  شخص   انگوٹھے کے برابر مسلسل کئی کیپسول سامنے رکھے شہد کے پیالے میں گیلے  کرکے، جس نوجوان کی باری تھی اس کو نگلنے کے لئے  دیتا، نوجوان کی آنکھیں تکلیف کے باعث ابھری   ہوئی تھیں  ،جب وہ ایک کیپسول نگل جاتا تو میڈیکل تجربے والا بدمعاش، دوسرا کیپسول جلد نگلنے کے  لئے اس کو کافی غلیظ الفاظ میں برا بھلا کہتا کہ وقت ضائع ہو رہا  ہے، جلدی کرو۔۔ فلائٹ کے لئے  ائرپورٹ  بھی جانا  ہے!!۔۔ یہ کیپسول ہیروئن کے تھے اور یہ نوجوان اونے پونے دام  پہ اپنے پیٹ میں عرب  ممالک ہیروئن سمگل کرنے والے   گروہ کے رکن تھے ۔

بین الاقوامی تعلقات رکھنے والے ہمارے علاقے کا   یہ سمگلر، لیڈر اور سماجی شخص  ہیروئن کی آمدنی سے سالانہ میلاد شریف  بھی منعقد کراتا     ہے اور درجنوں لوگو ں کو  ثواب کی غر ض سے    عمرہ و حج  کے لیے بھی بھیجتا ہے۔

مشال شہید کی  شہادت کے بعد یہ شخص اس  کے قاتلوں کی  رہائی کے لئے  تن من دھن  کی پروا کیے بغیر متحرک ہوا ۔ سنا ہے گزشتہ روز دو  بکرے حجرہ لائے تھے اور جیسے ہی مشال شہید کیس کے کچھ “غازی رہا ہوئے تو شکر خداوندی میں انہیں  ذبح کیا گیا”۔

عصر کے وقت میں اپنے ڈرائنگ روم میں سابق مقامی ناظم کے ساتھ بیٹھا تھا کہ مقامی مسجد میں اعلان شروع ہوا،” غازیان ختم نبوت کے  استقبال کے لئے  جو مومنین موٹروے انٹرچینج تک جانا چاہتے ہیں تو چوک تک آجائیں ، حاجی صاحب نے لے جانے کے لئے  گاڑیوں کا بندوبست کیا ہے۔” ،آج نماز مغرب کے بعد ایک اور مولوی جس کے  علمی ذخیرہ کو راقم زکوٰۃ میں بھی نہیں لیتا، شہید مشال کے خلاف زہر اگلتا رہا ” میں ان مشالیوں کو مناظرے کا  چیلنج دیتا ہوں”۔ اول فول، اور خرافات کا  چیلنج کون قبول کرسکتا ہے؟

ایک دوسرے مولوی نے راقم کی  طرف اشارہ  کیا   تو ہم نے جواب بھیجا کہ “جناب ہم نہ مشال شہید کی  طرح تنہا و بے دست وپا ہیں اور نہ ہی ہم کوئی عیسائی ہیں کہ آپ ایک منہ سے تھپڑ ماریں گے اور ہم دوسرا منہ آپ کے سامنے کردیں  گے۔ ہم مسلمان ہیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔”بعد از عشاء مولوی اتفاقاً سامنے آیا تو راستہ بدلتے ہوئے ڈر کے مارے نالی میں گر گیا۔

پاکستانی مولوی اپنی  جارحیت میں ہوش  و حواس کھو بیٹھا ہے اور جب دیوانہ آرام سے نہیں بیٹھتا تو ہوش مند کو جارحیت اختیار کرنی پڑتی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ پاکستانی ہوش مند  دیوانوں کو عقل و دلیل کی  طاقت کے  ساتھ لاٹھی کے زور سے بھی  ہوش میں لائیں۔ مشال شہید کے قاتلوں میں اکثریت چرس پینے والوں اور دوسرے منشیات کے عادی  اور ذہنی فتور اور ذہنی اذیت پرستی میں مبتلا لوگوں کی ہیں، لیکن ان سب کے ساتھ  ساتھ مشال کا  قاتل کون ہے؟ جنرل حمید گل اور اس کا پیدا کردہ مذہبی جنونی نظام، یہ معاشرہ، میں اور آپ!

رشید یوسفزئی
رشید یوسفزئی
رشید یوسفزئی ایک ایسا طالب علم ہے جس کی پیاس مزید بڑھتی جاتی ہے۔ چھ زبانوں کے ماہر رشید وقت سے بہت آگے سوچتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”مشال یوسفزئی کے قاتل کون؟۔۔رشید یوسفزئی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *