’عاصمہ جہانگیر کس کی ایجنٹ تھیں ؟۔۔رعایت اللہ فاروقی

مذہب اور نظریے کے باب میں حق اور حق گوئی بکثرت استعمال ہونے والے الفاظ ہیں۔ خود خدا نے اپنی کتابوں میں انسانی شعور کو مخاطب کیا ہے اور قرآن مجید میں تو وہ قدم قدم پر اسی جانب متوجہ کرتے ہوئے بکثرت غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ وہ صرف دعوت ہی نہیں دیتا بلکہ کبھی سوال اٹھاتا ہے ’’تم غور و فکر کیوں نہیں کرتے ؟‘‘ اور کبھی پوچھتا ہے ’’کیا تم غور و فکر نہیں کرتے ؟‘‘

اب اگر غور کیجئے تو حق کے معیارات انسانوں میں مختلف ہیں اور ہر حق کسی نہ کسی شعور کی قبولیت سے اپنا وجود رکھتا ہے۔ حق کا حق یہ ہے کہ جب اس کا کوئی معیار سمجھ آجائے تو پھر اس کے لئے نتائج کی پروا کیے  بغیر ’’حق گوئی‘‘ کرتے ہوئے جان لڑا دی جائے۔ تاریخ ایسے باہمت لوگوں کو مرد حر اور اصحاب عزیمت کے نام سے یاد رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :  سیلوٹ عاصمہ: لندن میں اک نشست

عاصمہ جہانگیر بھی غور و فکر کرنے والی شخصیت تھیں۔ انہیں بھی شعور بہت سے امور ’’حق‘‘ کی صورت دکھاتا۔ انسانی تاریخ میں اختلاف ہر حق سے ہوا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کے سمجھے ہوئے کئی حق بھی ایسے ہیں جن سے مکمل اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ وہ انہی عظیم الشان انسانوں میں سے تھیں جو اپنے سمجھے ہوئے حق کے لئے جان لڑا دیا کرتے ہیں۔ یہ ان کی اسی ادا کا کرشمہ ہے کہ مجھ سا کٹر رائٹ ونگر بھی ان کی رحلت کے صدمے کو پوری شدت کے ساتھ محسوس کر رہا ہے۔ میں اس صدمے سے اس لئے دوچار ہوں کہ جس طرح مجھے یہ یقین میسر ہے کہ میرا سمجھا حق درست اور عاصمہ جہانگیر کا غلط تھا اسی طرح مجھ کو یہ یقین بھی حاصل ہے کہ عاصمہ نے اپنے ’’غلط حق‘‘ کے لئے جس طرح جان لڑائی اس طرح تو میں اپنے درست حق کے لئے بھی نہ لڑا سکا۔ وہ شاید ہمیں حق تو نہ سکھا سکیں لیکن حق کے لئے جد و جہد اور اس کے لئے زندگی وقف کرنے کا اعلیٰ ترین معیار ضرور سکھا گئیں ہیں۔

ان کے ہاں حق کا معیار بہت ہی حیران کن تھا۔ کبھی انہیں حق یوں نظر آ جاتا کہ بھارت سے دشمنی نہیں بلکہ دوستی ہونی چاہیے،  اس حق سے وابستگی کے اظہار کے لئے وہ اپنے وطنی بیانیے کی پروا کیے بغیر باہیں پھیلائے دلی اور ممبئی پہنچتیں تو گمان گزرتا کہ یہ تو ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ ہیں۔ ابھی اس نتیجے کو مستحکم ہی کر رہے ہوتے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے حقائق اقوام متحدہ کو رپورٹ کرکے حیران کر دیتیں۔ کبھی ان کا شعور انہیں حق اس شکل میں دکھا دیتا کہ پاکستان کے مذہبی طبقات ہی فساد کی جڑ ہیں۔ یہ سمجھ آتے ہی وہ ملا کے خلاف بھی ’’کلمہ حق‘‘ بلند کر دیتیں اور جب ایسا ہوتا تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے کہ یہ بھارت نہیں امریکہ کی ایجنٹ ہیں اور جو کہہ رہی ہیں یہ ’’یہودی سازش‘‘ ہے۔ ابھی اس نتیجے کو بھی مستحکم نہ کر پائے ہوتے کہ وہ ’’امریکہ کا جو یار ہے، غدار ہے ! غدار ہے !‘‘ کے بینر تلے سڑک پر نکل آتیں اور کہتیں ’’غاصب یہودیو ! فلسطین کو خالی کرو !‘‘ ہم پھر انگلیاں منہ میں دبا لیتے اور اپنے اخذ کردہ نتیجے کو خود ہی رد کرنے پر مجبور ہو جاتے۔ کبھی ان کا شعور انہیں آمریت باطل کی شکل میں دکھا دیتا اور وہ اس کے خلاف نکل آتیں، تب وہ ہمیں ایک ’’حق پرست‘‘ نظر آنے لگتیں، ابھی ان کی حق پرستی کے پوری طرح قائل بھی نہ ہوئے ہوتے کہ وہ محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف کلمہ حق بلند کر دیتیں، تب وہ ہمیں یکایک جمہوریت دشمن نظر آنے لگتیں لیکن ابھی یہ سوچ بھی پختہ نہ ہوئی ہوتی کہ وہ محترمہ کی اسی حکومت پر شب خون کے خلاف بھی سڑک پر آجاتیں اور ہمارا شعور پھر انگشت بدنداں ہوجاتا۔ کبھی ان کا شعور انہیں حق اس شکل میں دکھا دیتا کہ اسامہ بن لادن دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے، یہ سمجھ آتے ہی وہ اسامہ بن لادن کے خلاف بھی علم بلند کر دیتیں یوں ایک بار پھر ہمارا شعور کہتا، اس عورت کو امریکہ کا ایجنٹ سمجھنا درست ہی تھا مگر وہ دوسری بار ہم سے یہ نتیجہ یوں چھین لیتیں کہ اسی اسامہ بن لادن کے بیوی بچوں کی آزادی کے لئے یہ کہتے ہوئے آواز بلند کرتی نظر آجاتیں کہ ’’اسامہ بن لادن کے بیوی بچوں کا کیا قصور ؟‘‘۔ کبھی ان کا شعور انہیں حق یوں باور کرا دیتا کہ لال مسجد والے غلط ہیں، ان کا سدباب ہونا چاہیے  ورنہ ملک میں ملائیت کا راج ہو جائے گا۔ تب ہمارا شعور انہیں جنرل مشرف کے ایجنٹ کے طور پر دکھانا شروع دیتا، ابھی ہم انہیں ٹھیک سے مشرف کا ایجنٹ بھی نہ سمجھ پائے ہوتے کہ وہ اسی لال مسجد پر ہونے والے فوجی ایکشن کے خلاف حرکت میں آجاتیں۔ ایک دن وہ شور بلند کر دیتیں کہ ’’گڈ طالبان، بیڈ طالبان کی تفریق غلط ہے، سب ہی بیڈ طالبان ہیں‘‘ ہمارا شعور کہتا یہ تو اس نظریے کی ہی دشمن ہیں کہ ہر جگہ اچھے اور برے دونوں ہی طرح کے لوگ ہوسکتے ہیں مگر وہ انہی طالبان کے لاپتہ افراد کے لئے آواز بلند کرکے ہمیں سکھا دیتیں کہ ظلم بیڈ ہوتا ہے چاہے طالبان کریں یا طالبان کے خلاف ہو۔

یہ بھی پڑھیں :  مشال یوسفزئی کے قاتل کون؟۔۔رشید یوسفزئی

عاصمہ جہانگیر کے حق و ناحق کے اسی حیران کن معیار نے مجھے ساری زندگی اس الجھن میں ڈالے رکھا کہ یہ عورت کسی کی ایجنٹ ہے تو ضرور مگر وہ ہے کون جس کی یہ ایجنٹ ہے۔ وہ زندہ رہیں تو میں اس امید سے جڑا رہا کہ جلد یا بدیر وہ قوت ظاہر ضرور ہوگی جس کی یہ ایجنٹ ہیں اور یقیناًایک نہ ایک روز یہ عورت رنگے ہاتھوں پکڑی جائے گی۔ وہ 11 فروری 2018ء کو اس دار فانی سے کوچ کرتے ہی رنگے ہاتھوں میرے شعور کی پکڑ میں آگئیں۔ میں انہیں کسی ملک، پہلے سے موجود کسی نظریے اور کسی انسانی گروہ کے ایجنٹ کے طور پر تلاش کرتا رہا مگر ایسا کچھ نہ تھا، وہ صرف اور صرف اپنے شعور کی ایجنٹ نکلیں۔ انہوں نے ایک نئے نظریے کی بنیاد رکھی ہے۔ اس نظریے کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی ملک، پہلے سے موجود نظریے یا انسانی گروہ کا ایجنٹ بنا جائے گا تو پھر اس کا قیدی بننا پڑے گا۔ اس کے صحیح کو تو صحیح کہنا پڑے گا مگر ظلم یہ ہو جائے گا کہ اس کے غلط کو بھی صحیح ماننا پڑے گا۔ قدم قدم پر یہ دیکھنا ہوگا کہ جس گروہ سے میری وابستگی ہے اس کا موقف کیا ہے ؟ یوں مذہبی ہوئے خواہ لبرل اپنے گروہ کے موقف کا درست اور غلط کی تمیز کے بغیر ساتھ دینا پڑے گا۔ جبکہ صحیح ایسی چیز ہے جو غلط لوگوں میں بھی نظر آ سکتی ہے اور غلط وہ چیز ہے جو صحیح لوگوں سے بھی ظاہر ہو سکتی ہے لہذا کسی گروہ کا نہیں بلکہ ’’صحیح‘‘ کا ساتھ دیا جائے خواہ یہ کہیں بھی نظر آجائے۔

یہ سطور لکھ رہا ہوں تو عاصمہ جہانگیر کا جسد خاکی اپنی تدفین کا ابھی منتظر ہے۔ اس عورت نے قبر میں اترنے سے پہلے پہلے ہم سب کو ایک بہت بڑا سبق سکھا دیا ہے اور یہ اسی سبق کا حاصل ہے کہ جو سوال ساری زندگی ان کی حیات سے جڑا رہا وہ بھی ان کے ساتھ ہی دفن ہو جائے گا، اب کوئی نہیں پوچھے گا کہ عاصمہ جہانگیر کس کی ایجنٹ تھیں ؟

رعایت اللہ فاروقی
رعایت اللہ فاروقی
محترم رعایت اللہ فاروقی معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹین بلاگرز میں سے ہیں۔ تحریر کے زریعے نوجوان نسل کی اصلاح کا جذبہ آپکی تحاریر کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”’عاصمہ جہانگیر کس کی ایجنٹ تھیں ؟۔۔رعایت اللہ فاروقی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *