سیلوٹ عاصمہ: لندن میں اک نشست

پیر بارہ فروری کو مُکالمہ اور پاکستان سولیڈیریٹی کیمپین کے زیراہتمام “جولیا اینڈ رانا سولسٹرز” کے دفتر میں معروف قانون دان محترمہ عاصمہ جہانگیر کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد کیا گیا۔ تقریب کی میزبانی کرتے ہوئے انعام رانا نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد مایوسی سے نکل کر یہ پیغام دینا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کی لیگیسی قائم رہے گی اور انصاف، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے کوششیں  کی جاتی رہیں گی۔ انھوں نے کہا کہ اس موقع پر یہ تقریب اس لیے بھی اہم ہے کہ سوشل میڈیا پر شدت پسندوں کے برپا کیے ہوئے  طوفان کے سامنے ایک موثر جواب پیش کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ غلط فہمی دور کرنا ہو گی کہ حقوق اور انصاف کے لیے آواز اٹھانا ہمیں کمتر یا اینٹی پاکستان بناتا ہے۔ بلکہ یہ ہمیں بہتر پاکستانی بناتا ہے اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ یہ روایت قائم رکھیں گے۔
معروف صحافی جناب انور سن رائے نے نشست کی صدارت کرتے ہوئے  عاصمہ جہانگیر کی یادیں تازہ کیں اور اس بات پہ زور دیا کہ آواز اٹھانا جاری رکھا جائے۔ انھوں نے مایوس ہونے سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے  کہا کہ ہمیں مزید عاصمہ جہانگیر پیدا کرنا ہوں گی۔
معروف صحافی جناب ثقلین امام نے کہا عاصمہ جہانگیر جدوجہد کا استعارہ ہے۔ وہ مٹی میں دفن نہیں ہوں گی بلکہ ان کی سوچ اور کردار ہمارے ذریعے زندہ رہے گا۔ اپنی یادیں تازہ کرتے ہوے وہ آبدیدہ ہو گئے۔
پاکستان سولیڈیرٹی کیمپین کے کنوینر جناب عاصم علی شاہ نے بطور سیاسی کارکن عاصمہ کی یادیں تازہ کیں اور سیاسی کارکنوں کے لیے ا ن کی حمایت کو یاد کیا۔ آپ نے زور دیا کہ جو خلا عاصمہ کی وجہ سے پیدا ہوا وہ ہم  سب کو مل کر بھرنا  ہے اور مایوسی سے گریز کرنا ہے۔ معروف قانون دان جناب طاہر زیدہ واسطی نے بطور وکیل عاصمہ جہانگیر کے کردار پر روشنی ڈالی۔ آپ نے کہا کہ میں کئی مقدمات میں عاصمہ جہانگیر کا مخالف وکیل تھا مگر ہمارا یہ اختلاف کا تعلق اس قدر شائستہ تھا کہ آج مجھے دکھ ہے کہ  اب مجھ سے   شائستہ مخالفت کرنے والا کوئی نہیں رہا۔
صحافی اور اینکر جناب اشتیاق گھمن نے سوشل میڈیا پر ہونے والی بدتمیزی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے  اس بات پر زور دیا کہ عاصمہ کے پیغام اور ان کی جدوجہد کو جاری رکھا جائے۔ معروف وکیل جناب مزمل مختار نے عاصمہ کی انسانی حقوق کی جدوجہد پر روشنی ڈالی۔ محترمہ ماہ رخ سلطانہ نے کہا کہ عاصمہ ہم عورتوں کے لیے ایک حوصلے کا باعث اور رہنما تھیں جنھوں نے ہمیشہ ہمیں معاشرے میں برابر کا کردار ادا کرنے اور برابر کے حقوق کا مطالبہ کرنے کا حوصلہ دیا۔ معروف سیاسی کارکن اکرم قائم خانی نے زور دیا کہ عاصمہ جن جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے لیے کام کرتی رہیں، دیگر لوگ اس پرچم کو تھام لیں۔
صحافی و مصنف محترم تنویر افضال نے عاصمہ جہانگیر کی انسانی حقوق کی جدوجہد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان کی جدوجہد ایک روشن خیال پاکستان کے لیے تھی جو ہم سب کا خواب ہے۔ طالب علم رہنما اجدان خان نے آبدیدہ ہوتے ہوئے  کہا کہ آج میں یہاں اس لیے آیا ہوں کہ میری ماں مر گئی ہے کیونکہ جیسے پشتون جرگے میں عاصمہ نے ہماری حمایت کی، وہ ہمیں اپنی ماں جیسی لگی۔
اس موقع پر دیگر مقررین میں راؤ مستجاب، امان اللہ خان، فیصل ولی شاہ، بئرسٹر طارق سعید و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کے اختتام پر عاصمہ جہانگیر کو سیلوٹ پیش کیا گیا۔

تقریب کی مکمل وڈیو اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے۔
https://www.facebook.com/mukaalmateam/videos/891279714366937/

 

Save

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”سیلوٹ عاصمہ: لندن میں اک نشست

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *