جماعت اسلامی پاکستان/حصّہ اوّل۔۔حبیب عزیز

مورخہ 26 اگست 1941 کو متحدہ ہندوستان کے شہر لاہور میں مولانا مودودی(رح) کی دعوت پر 75 لوگ جمع ہوئے اور ایک ایسی سیاسی و دینی جماعت کی داغ بیل ڈالی جسے آگے چل کر ساری دنیا اور بالخصوص نوزائیدہ ریاست پاکستان میں مذہبی اور دینی فکر کی اساس بننا تھا۔26 اگست جماعت اسلامی کا یوم تاسیس ہے۔
جماعت اسلامی پاکستان کی تاریخ کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔1947 سے لیکر 1979 مولانا مودودی کی رحلت بلکہ میاں طفیل محمد صاحب کی امارت کے اختتام تک پہلا دور۔
دوسرا دور قاضی حسین احمد ( رح) کی ولولہ انگیز قیات کا دور اور تیسرا دور سید منور حسن مرحوم سے لے کر آج تک۔
مولانا مودودی کے دور میں جماعت اسلامی سیاسی جماعت کے بجائے علمی، فکری، تحقیقی اور تحریکی جماعت کے طور پر نظر آتی ہے۔گوکہ اس دور میں جماعت اسلامی کے سیاسی کام بھی بہت بڑے بڑے تھے مگر اس دور کی جماعت نہ عوامی جماعت تھی اور نہ صحیح معنوں میں سیاسی جماعت تھی۔
26 مئی 1957 کو جماعت اسلای پاکستان کا دستور منظور کیا گیا۔اس سے قبل مختصر تاسیسی دستور نافذ العمل تھا۔مولانا مودودی مرحوم عملا 1972 تک جماعت کے امیر رہے۔اس کے بعد 1979 اپنی وفات تک وہ فکری راہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔
1947 سے 1979 تک جماعت اسلامی کی سیاسی و ملی سرگرمیوں میں فتنہ قادیانیت  کی بیخ کنی کرنے میں مولانا کی تحریروں اور جماعت کے کارکنوں کی جدوجہد کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔
پاکستان کے آئین کی اساس قرار داد مقاصد ہے جس میں اللہ تعالی کی حاکمیت اعلیٰ  کو اولیت دیتے ہوئے اسلامی دفعات کو دستور کا کہیں جزوی اور کہیں مکمل حصہ بنایا گیا۔یہ قرار داد تمام مکاتب فکر کے 31 جید علما کے 22 نکات کی بنیاد پر منظور ہوئی تھی۔مولانا مرحوم بھی ان جید علما میں شامل تھے۔جمہوری جدوجہد میں جماعت اسلامی مولانا کے دور میں پیچھے  نہیں رہی۔ایوب خان کی آمریت کے خلاف مادر ملت فاطمہ جناح کی تحریک میں سب سے نمایاں کردار جماعت اسلامی کا تھا۔
1973 کے متفقہ آئین کی منظوری میں پروفیسر غفور احمد مرحوم کی کوششوں کو کون بھول سکتا ہے۔یہ 1973 کا آئین ہی جس نے اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود پاکستان کو آج تک اللہ کے فضل وکرم سے متحد و سلامت رکھا اور تاقیامت یہ ملک قائم رہے گا۔انشاءاللہ۔
مولانا مودودی کی فکری اور علمی کاوشیں اس قدر اعلیٰ پائے کی ہیں کہ آج ایک عام مسلمان بھی بلاواسطہ اپنے دین و مذہب کا مطالعہ کرکے خود کو سدھار سکتا ہے۔بین الاقوامی طور پر ان کاوشوں کو خراج عقیدت شاہ فیصل ایوارڈ کی صورت میں دیا گیا۔ایک خالص عرب ملک ایک عجمی عالم کو اس کے علم کی وجہ سے ہی ایسا خراج عقیدت پیش کرسکتا ہے۔
عالمی اسلامی تحاریک میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی جماعت اسلامی اپنے پہلے دور میں جماعت اسلامی ہند ، اخوان المسلمون، اور بعد میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔فلسطین ، کشمیر، افغانستان ، شمالی افریقہ کی تحاریک آزادی اور دیگر تمام جگہوں پر جہاں مسلمان نہیں بھی تھے مثلا ً ویت نام وغیرہ جماعت اسلامی کا موقف اور حمائیت ان ملکوں کے عوام کے ساتھ تھی اور آزادی کی تحاریک کی پشت پر تھی۔

مولانا مودودی نے جس نہج پر اپنی جماعت کی بنیاد کھڑی کی تھی وہ وہی نہج تھی جس بنیاد پر پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔اس راستے میں مشکلات کے ساتھ ضرور غلطیاں بھی ہوئیں مگر بنیاد کو الزام نہیں دیا جاسکتا۔یہاں ایک طبقہ یہ بھی کہتا ہے کہ مولانا مرحوم اور جماعت قیام پاکستان کی حامی نہیں تھی۔بہر طور تاریخی اعتبار سے یہ بات درست ہے کہ جماعت اسلامی اس وقت قیام پاکستان کی حامی نہیں تھی۔اس بات کی توجیع اور تشریح خود مولانا مرحوم نے اس طرح کی کہ” مسجد بناتے وقت یہ اختلاف ہوسکتا ہے کہ مسجد ابھی نہیں بننی چاہئیے یا اس جگہ نہیں بننی چاہئیے لیکن جب مسجد بن گئی تو بن گئی۔اب اس کو آباد کرنا اور اس کی حفاظت کرنا سب مسلمانوں پر فرض ہوگیا۔

tripako tours pakistan

یعنی جماعت کی نظر میں یا اس کے بانی کی نظر میں پاکستان کی حیثیت مسجد جیسی ہے۔قیام پاکستان کے وقت نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ علما  اسلام کی ایک بہت بڑی تعداد مختلف نظریہ سوچ رکھتی تھی لیکن پاکستان بننے کے بعد پاکستان کی ہر مذہبی تنظیم نے چاہے اس کا تعلق کسی بھی مکتبہ فکر سے ہو اس وطن کی حفاظت کی اور اپنے دل ودماغ میں وطن کی محبت کو اولیت دی۔علماہ دین کے اس وقت کے نظریئے کو قائد اعظم کے قیام پاکستان کے بعد کے ایک جملے سے بھی تقویت ملتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا ” میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں”۔۔

ابھی تک ہم بات کر رہے ہیں جماعت اسلامی کے پہلے دور کی۔تحریر کی طوالت کے خوف سے بہت سارے تاریخی واقعات مختصر یا حذف کرنے پڑ رہے ہیں۔مولانا مودودی اوردیگر جید عماہ اکرام کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا جائے تو ایک طرف ان میں ادب و احترام کا رشتہ نظر آتا ہے اور دوسری طرف علمی معاملات پر اختلاف نظر آتا ہے۔خاص کر ایک کتاب خلافت وملوکیت پر دیگر علما  اکرام کا موقف انتہائی شدید ہے۔بہرحال اسلامی تاریخ میں اختلاف علما کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔یہ اختلاف ہی ہے جس کی وجہ سے فقہ وجود میں آیا۔لیکن ایک عام مسلمان کسی فقہ کو غلط یا جھوٹا کہنے کی جرات نہیں کرسکتا۔علما  کے درمیان اختلاف امت کے لیے بہتر اس لیے ہوتا ہے کہ اس سے امت بہت کچھ سیکھتی ہے۔مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ اختلاف نچلے لیول پر عوام الناس میں جگہ بناتا ہے۔علم کی کمی اور کبھی کبھی تعصب کی وجہ سے ایسے اختلاف وبال بن جاتے ہیں جن سے امت کا بہت نقصان ہوتا ہے۔

مولانا کی زندگی کے آخری دور میں ایک طرف کراچی جیسے بین الاقوامی اور انتہائی پڑھے لکھے شہر نے اپنی قیادت مکمل طور ہر جماعت اسلامی کے ہاتھ میں دی ہوئی تھی تو دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی اپنے عروج پر تھی۔بھٹو کی شکل میں قوم کو پہلا عوامی لیڈر ملا تھا۔حکمران جماعت کی کچھ اپنی غلطیوں کچھ اپوزیشن حکومت کے درمیان تلخیوں اور کچھ بین الاقوامی طاقتوں کی وجہ سے ملک میں سیاسی تلخی بہت اونچے مقام تک پہنچ چکی تھی۔ایسے میں حکومت مخالف تحریک کا آغاز ہوا۔پاکستان قومی اتحاد کے نام سے 9 اپوزیشن جماعتوں نے ایک الائینس بنایا جس کی قیادت ائیر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کے ہاتھ میں تھی۔جماعت اسلامی اس اتحاد کی نمایاں ترین جماعت تھی۔بعد میں کیسے اور کس طرح یہ اتحاد تحریک نظام مصطفے میں بدلا یہ بات تاریخ کے پردوں میں پنہاں ہے۔حکومت مزاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور ہوئی ۔حکومت اور اپوزیشن ایک معائدے کے قریب پہنچ چکے تھے کہ بقول مولانا کوثر نیازی” لائن کٹ گئی”۔

صدر ضیاء الحق مرحوم کا دور شروع ہوا۔اس ابتدائی دور میں صدر ضیاء الحق مرحوم کی کابینہ میں جماعت اسلامی کی شمولیت کا فیصلہ ایسا فیصلہ تھا جسے تاریخ آج تک معاف نہیں کرسکی۔پاکستان پیپلز پارٹی ایک سیکیولر جماعت تھی اور آج بھی ہے۔مگر پاکستان کی اس وقت کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو راندہ درگاء قرار دینا اور لیفٹ ونگ کو اسلام دشمن ملک دشمن قرار دینا ایسی سیاسی غلطیاں تھیں جن کا خمیازہ پوری قوم نے بھگتا۔
(جاری ہے)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *