ناک کی ایک سائیڈ بندکیوں ہوجاتی ہے؟۔۔۔۔ضیغم قدیر

سردیوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے ناک کی اک سائیڈ بند ہو جاتی ہے۔اور پھر اس سائیڈ کو دوبارہ نارمل حالت میں لانے کے لیئے ہم کو جو جَوکھم اُٹھانے پڑتے ہیں اُن سے آپ سب لوگ بخوبی واقف ہیں۔لیکن اک سوال پیدا ہوتا ہے کہ  ہمارے ناک کی اک سائیڈ اکثر کیوں بند ہو جاتی ہے؟

اس بات کا جواب دینے سے پہلے بتاتا چلوں کہ پچاسی فیصد لوگ اک نَتھے سے سانس لیتے ہیں اور ہر چار گھنٹوں کے بعد نَتھے خودکار نروس سسٹم کی مدد سے اپنی سائیڈ بدل لیتے ہیں۔یہ سائیڈ بدلنے کا پیٹرن شخص کی پوزیشن پہ بھی منحصر ہوتا ہے۔
۱۸۹۵ میں ناک کے سپیشلسٹ ایک جرمن ڈاکٹر نے انکشاف کیا کہ ہمارا ناک یہ سایئڈ بدلنے کا سارا کام ایک خاص قسم کے ٹشو سے حاصل کرتا ہے اور یہ ٹشو ارکٹایئل ٹشوکے نام سے جانا جاتا ہے یہ ٹشو مردوں کے ’پِینس‘ میں پایا جاتا ہے۔ارکٹایئل ٹشو کی تفصیل میں جا یئے بغیر یہ بتاتا چلوں کہ ا ِس ’نیزل‘ سایئکل میں ایک نتھنے کا ارکٹایئل ٹشو سوجھ کراسکا رستہ بند کر دیتا ہے جبکہ وہیں دوسرے نتھنے کا ٹشو سکڑ کر دوسرے نَتھے کا رستہ کھول دیتا ہے۔

سائیکلک فنکشن کے علاوہ جب آپ ایک سایئڈ پہ ۱۲ سے ۱۵ منٹ تک لیٹے رہتے ہیں توجس سائیڈ پہ آپ لیٹے ہوتے ہیں اُس سائیڈ کے نَتھنے کا ارکٹَایئل ٹشو سُوجھنا شُروع ہو جاتا ہے جسکے نتیجے میں ہماری ناک کی وہ سائیڈ بند ہو جاتی ہے۔جبکہ دوسری سائیڈ کا نتھا کُھل جاتا ہے۔اور پِھر جب آپ سائیڈ بدلتے ہیں تو یہ سائیکل اُلٹ چلتی ہے اور دُوسری سائیڈ بند ہو جاتی ہے۔
نتھا = ناسٹرل

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *