شہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں انصاف کایادگار واقعہ

مدینہ منورہ واقعہ17 فروری 2017 رات گیارہ بجے کا ہے۔رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک مسجد سے تقریباًایک کلومیٹر دور اوور ٹیک کرتے ہوئے ایک گاڑی دوسری گاڑی کو ٹکرمارتی ہے۔دونوں گاڑیا ں رُک جاتی ہیں۔مشیتِ خداوندی غالب رہتی ہے اور دونوں گاڑیاں الحمدللہ بڑے حادثے سے محفوظ رہتی ہیں۔ ڈرائیورز معاملے کی نوعیت دیکھنے کے لیے نیچے اترتے ہیں۔
پتہ چلتاہے کہ ٹیک اوور کے دوران ٹکر مارنے والی گاڑی چالیس سالہ سعودی شہری کی ہے اور ٹکرکھانے والی گاڑی نوجوان پاکستانی کی ہے۔سعودی شہری واویلا شروع کردیتا ہےکہ قصور اُس کانہیں بلکہ پاکستانی کا ہے اور پاکستانی شہری کوبرابھلا کہہ کرالزام لگاتاہے کہ اس نے اسے کلب(کتا)کہہ کر پکارا ہے۔پھرغصے میں سعودی شہری اپنی گاڑی سے لکڑی نما چیز نکال کر پاکستانی شہری کو مارنے کی کوشش بھی کرتاہے۔
اس دوران چلتے روڈ پر ہر گاڑی رُک جاتی ہے اور کچھ لوگ نکل کر سعودی شہری کو روکنے کی ہمت کرتے ہیں۔سعودی شہری چلاکر پاکستانی شہری سے کہتاہے کہ “میں سعودی ہوں میرا سر تم سے اونچاہے”۔پاکستانی شہری پولیس کو فون کرتاہے۔پولیس کچھ دیر بعد موقع پر پہنچ جاتی ہے۔سعودی شہری پولیس کے سامنےمسلسل شور مچاتاہےکہ اسے کلب(کتا)کہاگیاہے۔وہ جانتے نہیں کہ میں سعودی ہوں میرا سراونچاہے۔
پولیس اہلکار غصے سے سعودی شہری سے مخاطب ہوتاہے کہ۔سعودی ہوتو کیا ہوا،قانون کی نظر میں سعودی اورغیر سعودی سب برابر ہیں،اپنی آواز نیچی کرو۔بعدازاں پولیس اہلکار دونوں فریقین کی بات سن کر سعودی شہری کو قصوروار ٹھہراتا ہے اوراسے حکم دیتا ہے کہ چاہےتو وہ پاکستانی شخص سے معافی تلافی کرلے یا پھرقانون کے مطابق مقدمے کا سامناکرنے اور سزا بھگتنے کے لیے تیارہوجائے۔
چالیس سالہ سعودی شہری کو اپنی غلطی کا احساس ہوتاہےاور وہ پولیس اہلکاراور پاکستانی شہری کے سامنےڈپریشن،ذہنی ٹینشن اور تھکاوٹ کا عذر پیش کرکے معاف کرنے کی درخواست کرتاہے۔پولیس اہلکار پاکستانی شہر کو اختیار دیتا ہے کہ وہ چاہے تو اسے اللہ کی رضا کے لیے معاف کردے یا پھر اپنا حق اُس سے لے لے۔نوجوان پاکستانی شہری اپنے ساتھ موجود دوستوں سے مشورہ کرتاہے اور اُسے اللہ کی رضاکے لیے اس شرط پر معاف کرنے پر تیار ہوجاتاہے کہ وہ آئندہ کسی کے ساتھ بداخلاقی اورتعصب پر مبنی رویہ اختیار نہیں کرے گا۔سعودی شہری وعدہ کرتاہے اور پاکستانی شہری سے مصافحہ کرکے رخصت ہوجاتاہے۔
ایک طرف شہر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیش آنے والا انصاف پر مبنی عبرت انگیزیہ یادگار واقعہ ہے،دوسری طرف ہمارے ہاں آئے روز سامنے آنے والے وہ واقعات ہیں،جن میں پولیس ،تھانہ،کچہری،عدالتوں اور وکیلوں کے ذریعے ناحق پھانسی پر چڑھنے والے اور سالہا سال سے جیلوں میں بے قصور سڑنے والے لوگ ہیں۔مذکورہ واقعےمیں قصور سراسر سعود ی شہر ی کا تھا،جس میں بدویانہ مزاج ،ذہنی ڈپریشن وٹینشن اور جہالت بھی شامل تھی۔لیکن قانون کی طاقت دیکھئے کہ سعودی شہری باوجود بھاگنے کا موقع پانے کے جائے وقوعہ پر رک جاتاہے۔اگرچہ حیلے بہانے اور چرب لسانی کے ذریعے سارا قصور پاکستانی شہری پر ڈالنے کی بھی کوشش کرتاہے۔
مذکورہ واقعے سے سعودی عرب میں قانون کی بالادستی کو ایک دوسرے زاویے سے بھی دیکھا جاسکتاہے کہ پولیس جائے وقوعہ پرپہنچ کراپنے ہم وطن سعودی شہری کی ناحق طرفداری کرتی ہے،رشوت لیتی ہے،نہ اسے بچانے کے لیے پاکستانی شہری پر کوئی دباؤ ڈالتی ہے۔بلکہ پاکستانی شہری کے سامنے اپنے ہم وطن شہری کو ڈانٹ پلاکر غلطی کا احساس کرواتی ہے اوراسے پاکستانی شہری سے معافی مانگنے یا اس کا حق دینے پر مجبور کرتی ہے۔جب کہ ہمارے ہاں اولاً اس قسم کے واقعات میں عموما ًگاڑی کو ٹکرمارنے والا بھاگنے کی کوشش کرتاہے،یااگر پکڑا بھی جائے تو پولیس،تھانہ کچہری اورعدالتی سسٹم کی سست روی اور کاہلی اکثرمظلوم کو انصاف دلوانے میں حائل ہوجاتی ہے۔غور کیا جائے توہمارے ہاں آئے روز ٹریفک حادثات اور دوران سفر کتنے ایسے واقعات پیش آتے ہیں جن میں لوگوں کی حق تلفی کی جاتی ہےاورلوگوں کا مالی نقصان بلکہ کبھی توجانی نقصان تک کیا جاتاہے،لیکن شاید ہی کبھی کسی مظلوم کو اس کا حق دلوایاگیاہو۔

راقم مذکورہ واقعہ کا عینی شاہد ہے بلکہ اس سے ملتے جلتے ایک اور واقعے میں بھی راقم نے سعودی انتظامیہ اورپولیس کا رویہ دیکھا کہ باوجود سعودی شہری کے قصوروار ہونے کے پولیس نے بغیرکسی تاخیر کے فورا ًاجنبی مقیم کو اس کو حق دلوایا ۔ہمارے ہاں عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ سعودی عرب میں قانون صرف سعودیوں کے لیے ہے،اجنبیوں کےمعاملےمیں سعودی قانون ہمیشہ خاموش رہتاہے۔راقم مذکورہ واقعے اور اس قسم کے دیگرواقعات اورتجربات و مشاہدات کی روشنی میں اس قسم کے اعتراضات کو محض غلط فہمی کانتیجہ سمجھتاہے۔ورنہ حقیقتاًیہاں قانون کی نظر میں جرم کرنے والے سب برابر ہیں،چاہے سعودی ہو یاپاکستانی یاکوئی اور۔

مدینہ منورہ کی ہائی کورٹ میں موجودپاکستانی ترجمان برادرم شیخ سمیع الرحمٰن صغیرسے جب اس حوالے سے بات ہوئی تو ان کابھی یہی کہنا تھا کہ سعودی عرب کے قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔اجنبی مقیمین کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ انہیں یا تو عربی زبان نہیں آتی یاپھر انہیں قانون کے مطابق اپنا حق لینے کا طریقہ نہیں آتا ۔ورنہ عام طور یہاں ہر مظلوم کو بروقت اور فوری انصاف مہیاکیاجاتاہے۔یادرہے برادرم سمیع الرحمن صغیر اردو بولنے والوں کوانصاف دلوانے اورعدالتی معاملات میں رہنمائی بھی کرتے ہیں۔
مذکورہ واقعے کے بعد بھی جب پولیس اہلکاروں سے راقم کی بات ہوئی تو ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ مظلوم کودیکھتے ہیں اور اسے اس کا حق دلواتے ہیں،چاہے وہ کوئی بھی ہو اور ظالم کابغیر کسی رعایت کےبھرپور طریقے سے محاسبہ کرتے ہیں چاہے وہ سعودی ہی کیوں نہ ہو۔
مذکورہ واقعے میں جب پاکستان نوجوان شہری سے راقم نےاپنے حق سے دستبردار ہونے کی وجہ دریافت کی تو ان کابھی یہی کہنا تھا کہ زندگی میں اونچ نیچ اورکمی کوتاہی ہرانسان سے ہوتی رہتی ہے۔لیکن ان غلطیوں پر اصرار یا غلطی کرنے والے کے معافی مانگنے کے باوجود اسے معاف نہ کرنے پر اصرار کرنا اچھا نہیں ہوتا،بلکہ ایسے مواقع پر ہمیں صبر کادامن تھام کر عزیمت پرعمل کرناچاہئے اور باہمی محبت والفت قائم رکھنے کے لیے درگزر سے کام لینا چاہئے اور میں نے یہی سوچ کرسعودی شہری کو معاف کیا۔دیکھا جائے توصبراور درگزر ہی ایسی دوصفات ہیں جن کے ذریعے باہمی محبت اوربھائی چارگی کوفروغ دیا جاسکتاہے،لیکن اس کے ساتھ قانون کی بالادستی بھی بے حد ضروری ہے،بالخصوص عادی مجرموں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت برتنے سےلازمی اجتناب کرناچاہئے،کیوں کہ یہی لوگ معاشروں کوظلم وفسادات اور بدامنی کاشکار بناتے ہیں۔

شہر ِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیش آئے نصیحت آموز مذکورہ واقعے اور سعودی عرب کے نظام ِانصاف سے وطن عزیز کے قانون نافذ کرنے اورانصا ف مہیا کرنے والے اداروں کوبھی ضرور سبق لینا چاہئے کہ ایک ایسا ملک جہاں ایٹم بم ہے،نہ ایٹمی فوج اور نہ جدید جنگی آلات بنانے اور جنگ لڑنے والے بہترین دماغ ،لیکن پھر بھی وہاں کی عوام نہ صرف پرامن اور پرسکون رہتی ہے،بلکہ جب چاہے جیسے چاہے جہاں چاہے ظالم سے اپنا حق لے کر اسے کیفرکردار تک بھی پہنچاسکتی ہے۔دوسری طرف ہم ہیں کہ ایٹم بم،بہترین فوج اور زبردست خفیہ اداروں کے ہوتے ہوئے بھی ہرروز بم دھماکوں میں ناحق عوام کی لاشیں اٹھانے پر مجبور ہیں۔افسوس درافسوس یہ ہے کہ گزشتہ پندرہ سالوں سے ہمارے یہ ادارے دہشت گردی کے اس ناسور پر قابو پاسکے ہیں،نہ عوام کو پرامن ماحول فراہم کرسکے ہیں۔

Avatar
محمد عمرفاروق
I Am Muslim, I Am Not A Terrorist

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *