گیدڑ سنگھی ۔۔۔صاحبزادہ محمد امانت رسول

 بددیانت معاشروں میں انسان کو اس کی محنت اور اہلیت کے مطابق کبھی کچھ نہیں ملتا ،محنت کی جگہ نا جائز ذرائع اور اہلیت کی جگہ چاپلوسی اور تعلقات ہر عہدے اور مقصد کے حصول کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ معاشرے کا عام چلن ایسا قرار پا تا ہے کہ حقدار محروم اور نا حقدار سب کچھ لے اڑتا ہے ۔ایسے معاشروں میں اپنے مقاصد کے حصول کےلیے ہر وہ طریقہ اختیار کیا جا تا ہے جس کی اجازت نہ دنیا کا کوئی دھرم دیتا ہے اور نہ ہی انسانی عقل و منطق۔دنیا کا کوئی دھرم بھی کسی کا حق چھیننے ،جھوٹ ،دھو کہ دہی اور بددیانتی کی اجا زت نہیں دیتا ۔دنیا کے کسی بھی مذہب میں ظلم و زیادتی کی اجازت نہیں ہے ۔اسلام نے خاص طور پر معاملات ومعاشرت کی بنیاد ہی عدل پہ قائم کی ہے ۔جس سے ہر ظلم و زیادتی کا قلع قمع ہو جا تا ہے ۔

بد دیانت معاشروں میں حقو ق کی عدم دستیابی کے باعث تو ہم پرستی ،تعویز گنڈے اور گیدڑ سنگھی جیسے تصورات عام ہو جا تے ہیں ۔انسان کی تشنہ خواہشات جب جائز طریقے سے تمام نہیں ہو تیں تو وہ اپنے آپ کو کمزورخیال کر تا ہے ،محنت و کوشش کے باوجود نا کامی توہمات کو جنم دیتی ہے اور وہ کوشش کر تا ہے ،دم درود یا تعویز گنڈے سے اپنی خواہش کو پورا کرے ۔اس کے بعد درگاہوں،خانقاہوں اور پیر خانوں کا سفر شروع ہو تا ہے ،ایسا نہیں کہ یہ سفر اس کا کا میابی اور کامرانی کا سفر کہلا تا ہے بلکہ یہ سفر یقین کی محرومی سے شروع ہو کر توہمات اور شکوک و شبہات پہ منتج ہو تا ہے۔ ترقی اور حصولِ مقاصد کے اس سفر کو مختصر کر نے والے دعوؤں میں سے ایک دعویٰ “گیدڑ سنگھی”بھی کہلا تا ہے ۔

اس کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ یہ جس کے پاس ہو کامیابی ،دو لت ،شہرت اس کے قدم چو متی ہے ۔اگر چہ اس پر بھی اتفاق نہیں ہے کہ”گیدڑ سنگھی”ہے کیا؟لیکن اس کے بیو پاری وہ لوگ ہو تے ہیں جنہیں ایک وقت کی روٹی میسر نہیں ہو تی، فاقے ان کا مقدّر ہوتے ہیں ۔ یہی حال ان لو گوں کا بھی ہے جو لو گو ں کو مستبقل کی خبر دیتے ،اُن کے حالات کے بارے میں بتا تے ہیں لیکن اپنے مستقبل اور حالات سے بے خبر بھوک و افلاس کی زندگی بسر کر رہے ہو تے ہیں ۔توہّم کا یہ عالم ہے کہ لو گ واقف حال ہو کر بھی ان سے جا کر اپنے حا لات کی خبر لیتے اور ان کی پیشگوئی پہ یقین کرلیتے ہیں۔ انسان دوخواہشوں کے درمیان سفر کر تا ہے ،جو حاصل نہیں،اس کے حصول کی خواہش،جو حاصل ہے ،اس کے ہمیشہ رہنے کی خواہش۔اس سارے سفر میں مذہب کی مہیا کر دہ ہدایت انسان کو موجود خواہش اور حصولِ خواہش میں ہمیشہ حدود آ شنا رکھتی ہے۔

انسان مذہب کے تابع رہے تو خواہشات اس کے تابع رہتی ہیں۔اگر مذہب شعبدہ بازی اور کرامات گری کی صورت اختیار کر ے تو اسے ہر طرح کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا لیا جا تا ہے۔تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ کا فرق یہاں آ کر ختم ہو جا تا ہے جب وہ اعلیٰ تعلیم کے بعد اقتدار و دولت کے حصول کے لیے کسی وظیفہ خوار سے وظیفہ پوچھنے جاتا ہے یا ایسی گیدڑ سنگھی کی تلاش میں سنیاسی اور جو گی کے در کی خاک چھانتا ہے تو اس سوچ اور رویے سے اندازہ ہو جا تا ہے کہ وہ کس حد تک عملی زندگی کا ادراک رکھتا اور جائز و نا جائز کے فرق کے ساتھ آگے بڑھنے کاعزم رکھتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں بلا تفریق تعلیم و درجہ ،اکثریت اسی توہّم کا شکار ہے کہ ہماری راہ میں نظام کی خرابی اور معاشرتی بگاڑ سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں روحانیت،تعویزات اور گیدڑ سنگھی سے دور کی جا سکتی ہیں ۔اس لیےوہ اخلاق و کردار کی اصلاح کی طرف توجہ دینے کے بجائے اس طرف تو جہ دیتے ہیں کہ کسی روحانی با با سے رابطہ کر کے اپنا مسئلہ حل کر لیا جائے یا کسی صوفی کو مستقل اپنے گھر میں ٹھکانہ دے دیا جا ئے تا کہ گھر سے منحوس سائے ختم ہو جا ئیں ۔اس رجحان کی بنیادی وجہ محدود ہی نہیں،لامحدود خواہشات کی تکمیل کی ہوس ہے ورنہ مسلمان کتاب اللہ سے ہی رابطہ رکھے ۔اسے پڑھے اور سمجھے تو ایسی قباحت و خرافات سے جان چھوٹ سکتی ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود ہے اور نہ ہی اصل..

صاحبزادہ امانت رسول
صاحبزادہ امانت رسول
مصنف،کالم نگار، مدیراعلیٰ ماہنامہ روحِ بلند ، سربراہ ادارہ فکرِ جدید

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *